ڈرائیور اناڑی گاڑی بیچاری از بابر ندیم

ڈس اور چھن کی آواز ایک ساتھ آنے پر میں نے مڑ کر دیکھا
گاڑی ایک برگد کے درخت سے ٹکرا کر رُک چکی تھی۔گاڑی کا بیک ونڈ اسکرین کا شیشہ ٹوٹ کر بکھر چُکا تھا ۔صورتحال کو سمجھنے میں مجھے کچھ سیکنڈ لگے،میرے کانوں میں ملی جلی آوازیں آ رہیں تھیں۔
کمال ہے اتنا چوڑا درخت نظر نہیں آیا
?سر،آپ کو اتنا بڑا درخت نظر نہیں آیا
ایک حوالدار نے بے یقینی کے عالم میں پوچھا
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ھی نہیں۔ہم نے جواب دیا.‘‘سر! زندگی میں کبھی کبھی پیچھے مڑ کر بھی دیکھ لینا چاہیے‘‘، شکل سے فلسفی نظر آنے والے صوبیدار نے داڑھی کُھجاتے ہوئے فلسفہ بگھارا
گاڑی بیک کرنا ہمارے لئے ہمیشہ ہی پرابلم رہا ہے۔سارا مسئلہ ہمارے پائوں اور گردن کے درمیان باہمی ربط یعنی کوآرڈینیشن کا تھا۔گاڑی اسٹارٹ کر کے ہم بیک گئیر لگاتےاور ایکسلیٹر پر پائوں دباتے اور جتنی دیر میں پیچھے مڑ کر دیکھتے گاڑی ڈس کر چُکی ہوتی ۔ہم نے بہت کوشش
کی کہ ہم ایکسلیٹر پر پائوں دبانے سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن پیدائشی طور پر مجھ میں کوئی خامی تھی کہ میں جیسے ہی بیک گئیر لگا کر پیچھے گردن گُھمانے کا ارادہ کرتا پائوں خود بخود ایکسیلیٹر پر دب جاتا۔
ایک دن ہم نے ٹھان لی کہ آج ہم ہر حال میں گردن پہلے پیچھے گُھمائیں گے اور ایکسیلیٹر پر پائوں بعد میں دبائیں گے۔احتیاطا” گاڑی ہم نے ایسی جگہ کھڑی کی ہوئی تھی جہاں گاڑی کہ پیچھے کُچھ نہ ہو تاکہ گاڑی کا کسی چیز سے ٹکرانے کا اندیشہ ہی نہ رہے۔ہماری گاڑی میں حسب توقع ہینڈ بریک کام نہیں کرتی تھی اس لئے میری عادت تھی کہ گاڑی کو پہلے گئیر میں کھڑا کرتا تھا تاکہ کسی ڈھلوان کی وجہ سے گاڑی آگے یا پیچھے نہ لڑھک پڑے۔میں نے ذہن میں یہ دہراتے ہوئے کہ گردن تیزی سے پیچھے گُھمانی ہے اور پائوں بعد میں دبانا ہے۔گاڑی کا دروازہ کھولا ,کلچ دبا کر چابی گُھمائی گاڑی اسٹارٹ کی تیزی سے گردن پیچھے گُھمائی اور کلچ چھوڑتے ہوئے ایکسیلیٹر پر پائوںدبا دیا ،تمام ایکشنز حیران کن طور پر بہترین ہوگئے سوائے اس کے کہ ہم بیک گئیر لگانا بھول گئے۔گاڑی فرسٹ گئیر میں تھی ۔سامنے دیوار تھی اور ہم پڑی تیزی سے گردن گُھما کر پیچھے دیکھ رہے تھے ،ڈس کی آواز آئی اور ہم آفس پہنچتے پہنچتے ہوسپٹل پہنچ گئے۔ہسپتال میں موجود ہمارے کُچھ کرم فرمائوں نے بتایا جس وقت ہمیں لایا گیا ،ہمارے منہ سے بے ربط جملے نکل رہے تھے ،ہم کبھی کہتے گردن پہلے گُھمانی ہے،پائوں بعد میں دبانا ہے اور کبھی کہتے گردن پہلے دبانی ہے پائوں بعد میں گھمانا ہے۔
بات گاڑی کے درخت سے ٹکرانے کی ہورہی تھی ۔
اگلے دن تک ایکسیڈنٹ کی خبر پوری یونٹ میں پھیل چکی تھی ،مجھ کو عادی مجرم سمجھتے ہوئے کسی نے ہمدردی ظاہر نہیں کی،ہر کوئی گاڑی کی مزاج پُرسی کررہا تھا۔ہماری شامت اعمال کے اس دن سنٹرل ٹی بریک تھی
اور تمام آفیسرز بمعہ کمانڈنگ آفیسر ٹی بار میں موجود تھے۔کمانڈنگ آفیسر نے حسب معمول گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا
کیا خبریں ہیں?
کیپٹن جو کہ ایجوٹنٹ کی ڈیوٹی کررہا تھا کہنے لگا ،"سر خبریں بڑی گھمبیر ہیں"
کیا مظلب?
سر میجر صاحب نے گاڑی ایک بار پھر درخت کو مار دی۔
کمانڈنگ آفیسر نے حیرت بھرے انداز میں میری طرف دیکھا اور پوچھا
درخت کو چوٹ تو نہیں آئی۔
پھر خود ہی کہنے لگے ،ابھی پچھلے ہفتے آپ نے ایک درخت کو گاڑی ماری تھی،یہ آپ درختوں کو گاڑی مارتے ہیں یا درخت اتنے سٹوپڈ ہیں کہ خواہ مخواہ آپ کے راستے میں آجاتے ہیں۔
ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔کیپٹن نے دوبارہ موشگافی کی
سر! آپ نے غور نہیں کیا ،آجکل یونٹ میں لگے درخت کتنے سہمے سہمے رہتے ہیں ،سر اب تو یہ عالم ہے کہ میجر صاحب گاڑی سٹارٹ کرتے ہیں تو گاڑی کے پیچھے والے درخت دائیں بائیں ہونے لگتے ہیں ،تاکہ اپنا بچائوں کر سکیں
آفیسرز کو تو موقع اور بندہ چاہیے مزاق اڑانے کیلئے ہم سمجھ گئے آج ہماری باری ہے ،خیر کوئی بات نہیں جب ہمیں موقع ملا تو ادھار بمع سود واپس کر دینگے۔
ایک اور کیپٹن نے لقمہ دیا ،سر خدا جھوٹ نہ بلوائے،میں نے خود اپنی گنھگار آنکھوں سے دیکھا ہے کہ سر جیسے ہی گاڑی لے کریونٹ سے باہر نکلے تو یونٹ کے تمام درخت سجدے میں گر گئے کہ خدایا تیرا شکر ہے آج تو بچ گئے کل کی کل دیکھیں گے۔
میجر جو کہ سیکنڈ ان کما نڈ کی ڈیوٹی کر رہے تھے بولے سر سنا ہے "خانم ڈرائیونگ اسکول "والوں نے میجر صاحب کی خدمات ڈیمانسٹریٹر کے طور پر مانگی ہیں ۔
کمانڈنگ آفیسر نے حیرانگی سے پوچھا وہ کیوں ?
وہ اپنے طلبا کو ڈیمانسٹریشن دکھانا چا ہتے ہیں ۔خانم ڈرائیونگ اسکول والوں کی جوہر شناسی پر ہمیں خوشگوار سی حیرت ہوئی تاہم تغافل برتتے ہوئے ہم نے پوچھا
وہ کیوں?
سیکنڈ ان کمانڈ کہنے لگے
To give them very good sample of
ہم نے بیتاب ہوتے ہوئے پوچھا
آف کیا
very bad driving
اس سے زیادہ انسلٹ کروانے کی ہم میں برداشت نہیں تھی ۔ہم بھی میدان میں کود پڑے،بولے
سر پچھلے ہفتے سیکنڈ ان کمانڈ ہمارے گھر گئے تھے ،واپسی پر میں ان کو سی آف کرنے کے لیے ان کی گاڑی تک ان کے ساتھ چلا اچانک ان کو زمین پر نہ جانے کیا نظر آیا یہ ایک دم جھکے اور زمین سے کُچھ اٹھالیا ،ان کی مُٹھی بند تھی میں نے کہا دکھائیں کیا اٹھایا ہے ،کہنے لگے "کُچھ نہیں ،کچھ نہیں "۔مجھے شک ہوا،کوئی بھت قیمتی چیز ہاتھ لگ گئی ہے ،اس لیے بتا نہیں رہے ۔پھر میری طرف پیٹھ کی اور رازدانہ انداز میں مُٹھی کھول کر دیکھا،پھر لا حول ولا پڑھ کر جلدی سے جو کُچھ مُٹھی میں تھا پھینک دیا ۔میں بڑا حیران ہوا ۔میں نے پوچھا سر اتنے شوق سے تو اٹھایا تھا،کیا تھا،آپ نے پھینکا کیوں
کہنے لگے کچھ نہیں کچھ نہیں
مین نے اصرار کیا تو کہنے لگے
یار تمھارے علاقے میں لوگ تھوکتے بھی ایسے ہیں کہ لگتا ہے" اٹھنی "پڑی ہوئی ہے
پورا ٹی بار قہقہوں سے گونج اٹھا۔
انٹرنیٹ سے پڑھے ہوئے لطیفے نے ہماری عزت بحال کر دی۔
اس سے پہلے میرے پاس جو گاڑی تھی وہ کافی ضعیف الطبیعت تھی ۔اس کی حالت دیکھ کر خدا یاد آتا تھا یا نیلامی کا وہ اشتہار جس میں لکھا ہوتا ہے "ایک گاڑی جہاں ہے،جیسی ہے کی بنیاد پر نیلام کی جائے گی"
ہماری گاڑی بھی ہزراروں روپیہ خرچ کروانے کے باوجود ویسی کی ویسی تھی نہ تو اس کے رنگ و روپ میں کوئی فرق آیا تھا نہ چال چلن میں
ایک بار ہماری گاڑی دو تین ماہ ٹھیک ٹھاک چلتی رہی ،تو ہم مکینک کے پاس لے گئے ۔مکینک نے ہمیں دیکھتے ہی کہا ،میجر صاحب آپ پریشان لگ رہے ہیں
پھر گاڑی خراب ہو گئی ?
ہم نے کہا نہیں تو !
مکینک بولا پھر کیوں پریشان ہیں ?
اس لیے کہ اب تک خراب نہیں ہوئی ،ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔
ہمارے ایک پڑوسی آفس جاتے ہوئے کبھی کبھار لفٹ مانگ لیا کرتے تھے ۔ایک دن ان کو تیز قدموں سے آفس جاتے ہوئے دیکھا تو ان کے پاس گاڑی روک کر کہا
آئیں بیٹھیں میں ڈراپ کر دونگا۔ کہنے لگے
شکریہ !آج آفس جلدی پہنچنا ہے اس لئے پیدل بہتر رہے گا۔
غصہ تو بھت آیا ،گاڑی اتنی بھی سست نہیں تھی ،کُچھ لوگ ہوتے ہی کم ظرف ہیں اور ان میں اکثر پڑوسی ہی ہوتے ہیں ،ہماری رائے پڑوسیوں کے بارے میں اس لئے بھی اچھی نہیں تھی کہ وہ بھی ہمارے بارے میں ایسی ہی رائے رکھتے تھے۔
دوسرا وہ ہمارے آفس جانے کا انتظار کر کے نکلتے تھے کہ کہیں مروت میں گاڑی کو دھکا نہ لگانا پڑے۔
الغرض ہماری گاڑی کی حالت اتنی خستہ ہو چُکی تھی کہ کسی کو بتاتے ہوئے شرم آتی تھی کہ یہ ہماری گاڑی ہے اس لیے ہم اپنی گاڑی پڑوس کے گھر کے سامنے کھڑی کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھیں پڑوس والوں کی گاڑی ہے۔پڑوسی ہماری اس حرکت سے سخت نالاں تھے اور ہر آنے والے مہمان کو بظور خاص بتاتے کہ یہ گاڑی نما چیز برابر والے میجر صاحب کی ہے۔
ایک بار بس اسٹاپ پر کھڑے ایک صاحب نے لفٹ لینے کے لیے اپنا انگوٹھا اٹھایا ہمارے جی میں نہ جانے کیا آئی کہ ہم نے گاڑی کھڑی کر دی ۔حالانکہ ہمیں بس اسٹاپ پر لیڈیز کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا،کالج کے زمانے کی عادتیں مشکل ہی سے چھوٹتی ہیں ۔ گاڑی قریب پہنچنے پر ان صاحب نے گاڑی کی خستہ حالت دیکھتے ہوئے ہاتھ پینچھے کہینچ لیا مگر اب دیر ہو چکی تھی ہم گاڑی ان کے سامنے روک چکے تھے ۔انہیں بادل ناخواستہ گاڑی میں بیٹھنا پڑا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی کی تعریفیں شروع کردیں اور اس وقت تک کرتے رہے جب تک گاڑی نے ہچکیاں لینی شروع نہ کردیں۔پوچھنے لگے گاڑی کو کیا ہوا ہے۔ہم نے کہا اپنی تعریفیں سن کر ہنس رہی ہے۔چونکتے ہوئے پوچھا کیا مطلب?
اس سے پہلے کہ ہم کچھ جواب دیتے گاڑی نے رک کر خود ہی اپنی اوقات دکھا دی ۔ہم نے ان صاحب سے کہا ذرا دھکا تو لگائیے گا ۔بُرا سا منہ بناتے ہوئے اترے اور دھکا لگانا شروع کر دیا لیکن گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی اخر کہنے لگے
آپ ایسا کیوں نہیں کر لیتے
ہم نے کہا۔ کیسے کیوں نہیں کرلیتے
کہنے لگے آپ گاڑی کے فرش پر جہاں بریک اور کلچ ہوتے ہیں دو بڑے بڑے سوراغ کرا لیں ہم نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ وہ کیوں
کہنے لگے تاکہ آپ سوراغوں میں سے اپنے پائوں نکال کر سڑک پر رکھ سکیں اور پائوں آگے پیچھے چلا کر گاڑی آگے دھکیل سکیں ۔میرا بچہ بھی اپنی کھلونا گاڑی ایسے یہ چلاتا ہے۔اسطرح پٹرول کی بھی بچت ہوگی اور گاڑی کی رفتار میں بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا آپکی گاڑی ویسے بھی چلتے ہوئے توڑتی ہے Sound Barrier
اس کی باتوں سے ہمیں حضرت علی کا قول یاد آگیا"ڈرو اس شخص کے شر سے جس پر تم نے کبھی کوئی احسان کیا ہو"احسان فراموشی کی انتہا دیکھو ایک تو گاڑی مین لفٹ لی اوپر سے باتیں الگ سنائیں کیا فرق پڑتا ہے اگر گاڑی میں بیٹھے کم ہیں اور دھکا زیادہ لگایا ہے۔ویگن میں ٹکٹ دے کر مُرغا بن کر جاتے تو پتہ لگتا
ایک دفعہ ہمارے ایک جاننے والے جو اسپخول کا کاروبار کرتے تھے جن کا اصل نام تو شائد ان کو بھی یاد نہیں رہا تھا۔محلے کے بچوں سے تعلقات کشیدہ ہونے کی بنا پر مرزا اسپغول کے مبارک نام سے پکارے جاتے تھے یہ نام ان کی چڑ بن چکا تھا ۔محلے کے بچے ان کو دیکھتے ہی اسپغول اسپغول چلا کر دوڑلگا دیتے ۔مرزا اسپغول چونکہ اونچا سنتے تھے اسلئے سناتے بھی اونچا ہی تھے فُل والیم full volume
میں گالیاں دیتے بچوں کے پیچھے دوڑ لگا دیتے۔محلے کے کتے جو کہ صبح سے اس صحتمندانہ ایکٹیوٹی کے انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے ،مرزا اسپغول کے گلی میں داخل ہوتے ہی اپنے کان کھڑے کر لیتے اور بھاگنے کی پوزیشن اسطرح بنا لیتے جیسے اولمپک میں اتھلیٹ دوڑنے سے پہلے بناتے ہیں مرزا اسپغول جیسے ہی بچوں کے پیچھے دوڑتے ۔کتے مرزا اسپغول کے پیچھے دوڑ لگا دیتے۔کتوں کو پیچھے آتا دیکھ کر مرزا صاحب کمال مہارت سے اپنا بھاگنے کا رخ تبدیل کر لیتے اور اچانک کسی گلی میں گُھس جاتے۔اناڑی کتے سیدھا بچوں کے پیچھے بھاگتے چلے جاتے اور مرزا اسپغول کے پیچھے وہی کتے رہ جاتے جو بہت ہی کتے ہوتے یعنی عمر اور تجربہ کے لحاظ سے مرزا کے ہم پلہ ہوتے۔اور مرزا کی چال کو سمجھنے کے قابل ہوتے ایسے کتوں سے نبٹنے کے لیے مرز ا نے جیب میں پتھر ڈال رکھے ہوتے تھے۔
مرزا صاحب کی اسطرح محلے میں آمد کا سب سے زیادہ فائدہ ان کے گھر والوں کو ہوتا تھا ۔مرزا صاحب کی بڑی بیٹی جو کہ چھت پر چڑھ کر تاک جھانک کرنے اور اسی نوع کی دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف ہوتی ۔کتوں کے بھونکنے کی آواز سنتے ہی "ہائے اللہ ابو آگئے" کہ کر نیچے بھاگ جاتی اور چھوٹی بیٹی جلدی سے انڈین چینل چینج کر کے پاکستانی چینل لگا دیتی اور مرزا صاحب کی بیگم فورا” سر پر دوپٹہ باندھ کر چارپائی پر لیٹ کر ھائے ھائے کرنے لگتیں۔اہل محلہ نے کافی کوششیں کیں کہ مرزا صاحب اور بچوں کے درمیان تعلقات معمول پر لائیں جائیں ۔لیکن کبھی ایک پارٹی اور کبھی دوسری پارٹی اڑ جاتی ،خاص طور پر تھرڈ پارٹی یعنی کتے کسی طور اپنی یہ صحت مندانہ ایکٹیوٹی چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ویسے کتے اگر ماننے والے ہوتے تو کتے ہی کیوں کہلاتے۔
مرزا صاحب نے میرے گھر آتے ہی اعلان کیا کہ انہوں نے ہسپتال جانا ہے اور اس راستے پر گامزن ہونے کیلئے مجھ ناچیز کو ہم رکابی کا شرف بخشنا چاہتے ہیں انکار کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ انکار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔خدا بھلا کرے میری گاڑی کا جسے میں گاڑی کہتے ہوئے نجانے کیوں جھجک جاتا تھا اس گاڑی کی وجہ سے ان کا یہ سفر میرے ساتھ آخری سفر ثابت ہوا ،کیونکہ

sufferاس سفر میں انہوں نے اتنا

کیا کہ آئندہ میری گاڑی میں بیٹھنا تو درکنار میری گاڑی پر کبھی نگاہ غلط انداز ڈالنے کی بھی جرات نہ کرسکے میری گاڑی میں بیٹھتے ہی انہوں نے حسب معمول زمانے کی ناہمواریوں کا ذکر شروع کردیا اور اس وقت تک کرتے رہے جب تک سڑک کی ناہمواریوں نے ان کی توجہ اپنی طرف نہ مبذول کر لی گاڑی ایک اچھلو speed breaker
پر اتنے زور سے اچھلی کہ مرزا صاحب کا سر گاڑی کی چھت سے جا ٹکرایا مرزا صاحب نے ہمیں گھور کر دیکھا اور کہا گاڑی میں بریک نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے
ہم نے لا پرواہی سے کہا ۔اطلاع دینے کا شکریہ
تھوڑی دیر بعد ایک اور اچھلو گاڑی کی طرف بڑھتا نظر آیا،جوں جوں گاڑی اچھلو سے قریب ہورہی تھی مرزا صاحب گاڑی کی رفتار میں کوئی فرق نہ پا کر مضطرب ہو رہے تھے ،کبھی ڈیش بورڈ کو مضبوطی سے پکڑ لیتے اور کبھی دروازے کے ہینڈل کو۔آخر رہا نہیں گیا اور پوچھنے لگے کیا اس بار بھی بریک نہ لگائیے گا
ہم نے کہا" ہوتی تو پہلی بار ہی لگا لیتے"
انہوں نے بے یقینی کے عالم میں ہمیں دیکھا اور کہا "کیا بریک نہیں ہے ? گاڑی کیسے روکو گے?
میں نے کہا وقت آنے پر دیکھیں گے۔
ہماری منزل قریب آچکی تھی،ہوسپٹل تقریبا” دوسو میٹر رہ گیا تھا ،سڑک ایک دیوار پر ختم ہو رہی تھی ،جیسے جیسے سڑک قریب آرہی تھی مرزا صاحب کا بلڈ پریشر ھائی ہو رہا تھا۔مرزا صاحب "جل تو جلال تو" پڑھنا شروع ہو گئے ۔
ہم نے گاڑی کو تیسرے گئیر میں ڈالا۔ رفتار تھوڑی کم ہوئی اور جب فاصلہ پچاس میٹر رہ گیا تو گاڑی کو پہلے گئیر میں لے آیا۔گاڑی کی رفتار آہستہ ضرور ہوئی مگر ابھی بھی وہ رُکنے کے موڈ میں نظر نہیں آرہی تھی،ہم نے مرزا صاحب کے اطمینان کیلئے بریک پر پائوں مارنے شروع کر دیے،لیکن گاڑی نے ہماری اس حرکت کو سنجیدگی سے نہیں لیااور اسی رفتار سے چلتی رہی ۔دیوار کو پندرہ میٹر کے فاصلے پر دیکھ کر مرزا صاحب کے چہرے پر ہوائیاں اڑُنے لگیں ان کا منہ کھلا ہوا تھا اور آیتیں پڑھنے کی کوشش میں ان کے منہ سے بے ہنگم آوازیں نکل رہیں تھیں۔میں نے اچانک ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا اور باہر چھلانگ لگا دی۔آخری لمحوں میں میں نے مرزا صاحب کی آخر جھلک جو دیکھی،وہ بے یقینی کے عالم میں مجھے گاڑی سے چھلانگ لگاتے دیکھ رہے تھے اور خشک گلے سے چیخیں مارنے کی کوششیں کر رہے تھے ،گاڑی اب برائے نام سپیڈ سے چل رہی تھی ۔میں نے گاڑی کے ساتھ دوڑنا شروع کر دیا اور جب گاڑی دیوار سے پانچ میٹر دور رہ گئی میں گاڑی سے آگے نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور گاڑی اوردیوار کے درمیان آ کر دونوں ہاتھ بونٹ پر رکھ کر گاڑی روکنے کی کوشش کرنے لگا گاڑی مجھے دھکیلتے دھکیلتے دیوار تک لے گئی اور باالآخر رُک گئی۔مرزا صاحب پر نظر پڑی وہ سکتے کے عالم میں دونو ہوتھ ہوا میں اسطرح اٹھائے ہوئے تھے ۔جیسے دیوار کو ہاتھوں سے روکنا چاہتے ہوں منہ سے چیخ مارنے کی کوشش میں خر خر کی آوازیں نکل رہی تھیں۔گاڑی کو رکتا دیکھ کر ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے گرے ۔اور کھلا منہ سلو موشن میں بند ہونا شروع ہوا فورا” گاڑی سے اترے اور سجدے میں گر گئے۔واپسی پر گاڑی میں بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا۔ہم نے سمجھانے کی لاکھ کوشش کی کہ یہ معمول کی کاروائی ہے اور ہم اس طرح گاڑی روکنے میں کافی ماہر ہو چکے ہیں ،وہ نہ مانےاور رکشہ روک کر اس میں بیٹھ گئے اور واپس رکشے پر آئےٴ ۔