کاکا ریوڑی از دلپسند سیال

کاکا ریوڑی میرے بچپن کا دوست ہے۔بہت ہی مخلص ،سادہ مزاج اور ہنس مکھ ،بڑی سے بڑی بات بھی ہنس کا سہہ جاتا ہے،کسی کے مذاق کا برا نہیں مناتا۔

مجھے اپنا گرو مانتا ہے،اور میری ہر بات پر کیوں،کیا،کس لیے،جیسے سوال کیے بغیر عمل کرتا ہے۔میری ہر سوجھی شرارت پر فورًا عمل کرگزرتا ہے اگر پکڑا جائے تو فورًا میرا نام بتا دیتا ہےکہ ۔مجھے دلپسند نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔

کاکا ریوڑی کے نام سے آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ریوڑیاں بناتا ہے یا ریوڑیاں بہت شوق سے کھاتا ہے نہیں جی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔
اس کا اصل نام تو فیاض ہے مگروہ پورے گاؤں میں کاکا ریوڑی کے نام سے مشہور ہے۔اب تو گاؤں والے اس کااصل نام ہی بھول چکے ہیں۔

اس کے سب رشتے دار اور جاننے والوں نے اسے رشتہ نہیں دیا اس کی ہم عمر کی سبھی لڑکیاں اسے کاکا(بھائی)کا خطاب دے کر پیا دیس سدھار گئیں۔اس کے بعد کاکا نے ہرجوان ہونے والی لڑکی کو اس امید پر کھلایا پلایا اور اس کے گھر والوں کی خدمت کی کہ شاید اس سے شادی ہوجائے مگر عین وقت وہ لڑکی اسے کاکا کہہ کر کسی اور کی ڈولی بیٹھ جاتی اور وہ کاکا کا فرض نبھاتے ہوئے ڈولی کو کاندھا دیتا اور دعوت ولیمہ کھا کر کہتا ”واہ قورمہ لاجواب تھا۔‘‘
اس طرح وہ گاؤں میں کاکا مشہور ہوگیا۔

ایک روز کاکا جی ملنگوں کے ڈیرے پر چلا گیا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر بھنگ پی لی۔
نشے میں دھت وہ گھر جارہا تھا کہ اس کی نظر زمین پر بکھری بکری کی مینگنیوں پر پڑی تو انہیں چن چن کر جیبیں بھرنے لگا کسی نے وہاں سے گزرتے ہوئے اس سے پوچھ لیا کہ کاکا یہ کیا کر رہے ہو تو کاکا جی بولے کسی بچے نے ریوڑیاں گرا دی ہیں وہ چن رہا ہوں ۔اس شخص نے یہ بات پورے گاؤں میں پھیلا دیا اور اس طرح کاکا کےساتھ ریوڑی کی پخ لگ گئی اور وہ کاکا ریوڑی کے نام سے مشہور ہوگیا۔

کاکا ریوڑی کا قد ساڑھے چار فٹ۔رنگ سانولا۔آواز بہت بھاری۔ایک آنکھ میں تھوڑا سا نقص ہے۔ اگر وہ کسی چیز کو غور سے دیکھے تو آنکھ ایسے جھپکنے لگتی ہے جیسے آنکھ مار رہا ہو۔
آنکھ میں نقص بلی کے پنجا مارنے سے ہوا ۔دراصل ہوا یوں کہ ایک دن اسے اپنی پالتو بلی پر ایسا پیار آیا کہ اس کی ”چمی ‘‘ لینے کی کوشش کی اور بلی کو یہ گستاخی بہت ناگوار گزری اس نے پنجا دے مارا جس سے آنکھ ایسی چھبی کہ پھر ٹھیک نہ ہوئی۔

اوپر کے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ روتے ہوئے بھی ہنستا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اور اگر ہنس لے تو پھر دکان کے شٹر کی طرح اوپری ہونٹ کو انگلی سے نیچے لانا پڑتا ہے۔
آنکھ کے نقص اور اور دانتوں کی وجہ سے انجان لوگوں سے اس کی کئی مرتبہ ٹھکائی ہوچکی ہے۔کہ ہمیں دیکھ کر ہنستا کیوں ہے اور آنکھ کیوں ماری۔

سکول وہ میرے ساتھ ہی داخل ہوا ۔ہم دونوں اکٹھے سکول جاتے تھے۔شروع میں وہ دھوتی کرتا پہن کر سکول جاتا تھا۔کئی مرتبہ استاد کے کہنے اور بعد میں دو تین مرتبہ پٹائی ہونے کے بعد مجبورًا اسے شلوار قمیض پہننی پڑی ۔اور پہلے ہی دن شلوار کے پہنچے میں پاؤں کے انگوٹھے پھنسنے سے کئی مرتبہ زمین پر گرا ۔

ماں نے اسے ناڑا باندھنا تو سیکھا دیا مگر یہ بھول گئی کہ ایمرجسی لینڈنگ میں ناڑے کے بجائے لاسٹک ضروری ہوتی ہے۔

ایک دن صبح ہم سکول جارہے تھے کہ اسے ”دونمبر‘‘ زور کی لگی تو اس نے جوش میں ناڑے کا غلط سرا
کھینچ لیا جس سے گرہ سخت ہوگئی۔
مدد کے لیے مجھے پکارا،میں نے اپنے تئیں بہت کوشش کی ،اوپر سے اس کی جلدی کرنے کی فریاد۔میں نے زور لگا کر ناڑا توڑ دیا اور شلوار کے کونے اس کے ہاتھوں میں تھما کر سامنے جوار کی فصل کی طرف اشارہ کیا۔

وہ ریس کے گھوڑے کی طرح دوڑا۔مگر رات والی چنے کی دال اپنا کام کر گئی۔وہ راستے سے ہی مرے مرے قدموں سے واپس آگیا۔
میں نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا۔واپس کیوں آگئے۔
اس نے کہا۔فصل میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔”کاروائی‘‘راستے میں ہی مکمل ہوگئی تھی۔
میں نے پوچھا”اب کیا ارادہ ہے۔‘‘
اس نے جواب دیا ”اب واپس گھر ہی جانا پڑے گا۔‘‘یہ کہہ کر گھر کی طرف چل پڑا۔
دونوں ہاتھوں سے شلوار ایسے پکڑی ہوئی تھی جیسے کوئی خزانہ چھپایا ہوا ہو۔
اور اس خزانے کی وجہ سے چل ایسے رہا تھا جیسے بطخ انڈا دینے جا رہی ہو۔
اس دن کے بعد وہ دوبارا سکول نہیں گیا۔

بیس سال کی عمر تک اس کی جب مونچھیں نہ نکلی تو بہت پریشان ہوا ۔ایک دن مجھ سے کہنے لگا۔دل بھائی ۔مونچھوں کے بغیر زنانی لگتا ہوں۔کوئی ایسا علاج بتاؤ
جس سے مونچھیں اگ آئیں۔مجھے شرارت سوجھی۔اسے مشورہ دیا کہ رات کو سوتے وقت مونچھوں پرڈی۔اے۔پی کھاد رکھ کر اوپر شاپر باندھ لینا دودن کے بعد مونچھیں اگ آئیں گی۔اور اسے فصلوں کی مثال دی کہ کس طرح ڈی۔اے۔پی کھاد کی وجہ سے فصلیں جلد اگ آتی ہیں۔یہ بات اس کے عقل لگی اور اس نے عمل کر ڈالا۔

رات بھر جلن کی وجہ سے سو نہ سکا ۔صبح اس کا منہ ڈبل روٹی بن چکا تھا۔جسے دیکھ کر مجھے کافی افسوس اور شرمندگی ہوئی۔

مگر حیرت کی بات یہ کہ دو ماہ بعد اس کی واقعی مونچھیں نکل آئیں گھنی ایسی کہ جوؤں کا پورا ریوڑ سما جائے ۔

میرا ایک تکیہ کلام ہے ”تڑکا لگا کے‘‘جو کہ ایک مزاق کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔گاؤں بھر میں میرے تکیہ کلام کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے۔اس نے بھی ایک تکیہ کلام اپنا لیا ”میں صدقے تھیواں‘‘ اور یہ تکیہ کلام اس کی زبان پر ایسا چڑھا ہے کہ بات شروع کرنے سے پہلے وہ اپنا تکیہ کلام لازمی بولتا ہے۔مرد تو مرد عورتوں کے ساتھ بھی بات کرتے ہوئے تکیہ کلام ضرور بولتا ہے۔انجان عورتوں سے کئی مرتبہ اپنے تکیہ کلام کی داد بھی وصول کر چکا ہے۔

ایک مرتبہ ہم دونوں اکٹھے نزدیکی قصبے میں لگا سالانہ میلہ دیکھنے گئے۔

میلہ گھومتے ہوئے وہ ایک چوڑیوں کی دکان پر رک گیا ۔مجھے خبر نہ ہوئی اور میں آگے چلا گیا۔
ایک خوبصورت عورت چوڑیاں پہن رہی تھی۔کاکا جی کو یہ منظر اتنا چھا لگا کہ غور سے ملاحظہ فرمانے لگا۔جس کے نتیجے میں آنکھ ڈمپر مارنے لگی۔

اس کے اس طرح گھورنے پر عورت نے اس کی طرف دیکھا اور حیران رہ گئی کہ یہ کون بدتمیز ہے جو ہنستے ہوئے اسے دیکھ کر آنکھ مار رہا ہے۔پہلے تو اس نے ناگواری سے منہ پھیر لیا لیکن مسلسل اس حرکت پہ وہ عورت بھنا گئی اور اسے کھری کھری سنانے لگی۔
بدتمیز،بے شرم بے حیا۔تیری کوئی ماں،بہن نہیں ہے۔بے غیرت ، پرائی عورتوں کو دیکھ کر آنکھ مارتا ہے اور ساتھ ہنستا بھی ہے۔

عورت کے اس طرح غصہ کرنے پر کاکا ریوڑی اپنے مخصوص انداز میں معصومیت سے گویا ہوا۔
” میں صدقے تھیواں! کیا پئے آہدے او تساں( کیا کہہ رہی ہیں آپ)
ہنستے ہوئے دانت اور آنکھ مسلسل ڈمپر مارنے میں مصروف۔اوپر سے تکیہ کلام کا تڑکا ”میں صدقے تھیواں‘‘ نے گویا جلتی پر پٹرول کاکام کیا۔عورت نے تو شور مچا دیا۔عورت کا شوہر جو کہ دوسری دکان پر خریداری کر رہا تھا اپنی بیوی کے شور پر لبیک کہا۔ادھر کاکا ریوڑی عورت سے پوچھ رہا ہے ۔”میں صدقے تھیواں! کہڑی گلوں کاوڑیندے پئے او( کس وجہ سےغصہ کر رہی ہو)

عورت کے شوہر نے کاکا جی کو پیچھے سے گردن پر ہاتھ جماتے ہوئے کہا” اوئے ٹیڈی اے بدماشی ! توں میڈی زال تے صدقے پیا تھیندی( اوئے تیری یہ بدماشی کہ میری بیوی پر عاشق ہورہا ہے) بس جناب کاکا ریوڑی کی ٹھکائی شروع ہوگئی اور اس کارخیر میں ایرے غیرے بھی شامل ہوگئے۔

میں جو آگئے نکل گیا تھا شور شرابا سن کر واپس آیا تو دیکھا بہت سے لوگ کاکا ریوڑی کی پٹائی کر رہے ہیں جبکہ کاکا جی کی زبان پر یہ گردان جاری ہے ۔
”میں صدقے تھیواں میکوں کیوں کٹی ویندے او‘‘ (مجھے کیوں پیٹ رہے ہو)
۔
لوگ اس بات پہ حیران کہ عجیب ستم ظریف عاشق ہے کہ اتنی مار کھانے کے باوجود بھی ہنس رہا ہے اور سب کو آنکھیں بھی مار رہا ہے۔

بڑی مشکلوں سے لوگوں کو سمجھا بجھا کر میں نے کاکا ریوڑی کی جان چھڑائی۔

کاکا جی ایک موچی کی لڑکی سےعشق فرما رہے تھے مگر وہ لڑکی اسے گھاس نہیں ڈال رہی
تھی۔کاکا جی نے مجھے کہا کہ مجھے ایسی باتیں سیکھاؤ جو عاشق اپنی معشوق سے کرتے ہیں۔میں نے اسے کچھ ڈائیلاگ سیکھا دیئے ۔

اور کاکا ریوڑی نے جاکر اس لڑکی کو یہ ڈائیلاگ مارے تو اس لڑکی نے حیرت سے کہا کاکا آج یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تو کاکا ریوڑی نے جھٹ کہا ۔مجھے دلپسند نے کہا کہ ایسے بولنا ۔دوسرے دن وہ لڑکی راستے میں ملی اور مجھ سے کہنے لگی دل جی ایسی باتیں خود کہی جاتی ہیں کسی اور سے نہیں کہلوائی جاتی۔ اور میں شرم سے بغلیں جھانکنے لگا۔

ایک دن کاکا ریوڑی بہت اداس تھا میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا سب کی شادی ہوگئی صرف ہم دونوں کنوارے رہ گئے ہیں۔

میں نے کہا ۔میں نے تو خود ابھی شادی نہیں کر رہا۔تو کاکا ریوڑی کہنے لگا لیکن میں شادی کرنا چاہتا ہوں مگر کوئی رشتہ دیتا ہی نہیں ہے۔اور پھر میرے پیچھے پڑ گیا کہ کوئی ایسا مشورہ دو جس سے میری شادی ہوجائے ۔میں بہت انکار کیا مگر وہ میری جان کو آگیا۔آخر کار تنگ آکر میں اپنی جان چھڑانے کو اس سے کہہ دیا کہ ۔

اگر وہ گیڈر کی سواری کرے تو اس کی شادی ہوجائے گی۔
یہ میں نے اس لیے کہہ دیا کہ نا اس سے گیڈر پکڑا جائے گا نا وہ سواری کرسکے گا۔کاکا ریوڑی نے پوچھا گیڈر کی سواری کیوں۔

میں نے کہا وہ اس لیے کہ گیڈر کے سر پر گیڈر سنگی ہوتی ہے اور گیڈر سنگی مادہ کی ملکہ کہلائی
جاتی ہے ۔جو کنوارا گیڈر کے اوپر سوار ہوجائے تو اس سے گیڈر سنگی خوش ہوجاتی ہے ۔اور پھر کنوارے کی جلد شادی ہوجاتی ہے۔ویسے بھی عورتیں ایسے شوہر پسند کرتی ہیں جو گیڈر کا دل رکھتے ہوں۔
میری بات سن کر کاکا ریوڑی خاموش ہوگئے ۔اور میں بھی یہ بات بھول گیا۔

کئی دن کے بعد کاکا ریوڑی صبح صبح میرے گھر آدھمکے۔اور زبردستی کرکے مجھے اپنے گھر لے گئے اور میں وجہ پوچھتا رہا گیا۔

گھر پہنچ کر ایک کمرے کابند دروازہ کھولا اور مجھے اندر لے گیا ۔اور یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ اندر ایک گیڈر بندھا ہوا تھا۔گیڈر کی حالت بتاتی تھی کہ رات بھر اس سے کمھار کے گدھے جیسا کام لیا گیا ہے۔گیڈر کاکا ریوڑی کو خشمگی نظروں سے گھور رہا تھا ۔جیسے بے زبان خاموشی کہہ رہا ہو کہ شادی تیری نہیں ہوئی تو سزا مجھے کیوں۔

کاکا ریوڑی کہنے لگا ! دل بھائی آپ نے یہ تو بتایا نہیں تھا کہ کتنے دن گیڈر کی سواری کرنی ہے ۔میں ساری رات تو سواری کر چکا ہوں۔اب اور کتنے دن سواری کرنی ہے۔گیڈر کی حالت دیکھتے ہوئے میں نے کہا بس اتنی کافی ہے اب گیڈر کو چھوڑ دو ۔
جب گیڈر کو چھوڑا تو وہ اس طرح بھاگا جیسے کھوتی اپنے بچے کی طرف ۔‘‘

ٹھیک دوماہ بعد کاکا ریوڑی کی شادی ہوگئی۔

اب میں اس بارے میں کیا کہوں کہ میری عقل خود جواز ڈھونڈ رہی ہے۔

(نوٹ:- تمام کنوارے اپنی ذمہ داری پر گیڈر کی سواری کریں)

گیڈر کی سواری کی برکت تھی یا قسمت کی یاوری کہ کاکا ریوڑی کا رشتہ طے ہوگیا۔جبکہ ہر سننے والا حیران کہ یہ اچانک کیسے ہوگیا۔سبھی رنڈوے ،لنڈورے کاکا ریوڑی کے پیچھے پڑ گئے کہ ہمیں بھی وہ جادو بتاؤ جو تم نے چلایا ہے۔
میری سخت تاکید کے باوجود کاکا ریوڑی نے راز اگل دیا۔

گیدڑوں کی تو گویا شامت آگئی۔لوگوں کی بے وقت کی سواری سے وہ تنگ آگئے اور ہجرت کرنے پہ مجبور ہوئے۔

وہ جو رات ہوتے ہی کھیتوں میں سُر سے سُر ملاتے ہوئے پاپ سونگ گاتے تھے۔
وہ موسیقی ناپید ہوگئی۔اب تو بس رات کو کسی وقت چند ایک بوڑھے گیدڑوں کی ٹھمری میں گائی راگ ملہار سنائی دے جاتی ہے۔

لوگوں نے شاید اس ڈر سے ان بوڑھے گیدڑوں کو چھوڑدیا کہ کہیں ان کی سواری کرنے سے کوئی بوڑھی گلے نہ پڑ جائے۔

کاکا ریوڑی کی خالہ ضلع لودھراں کے ایک گاؤں میں رہتی ہے۔اس نے ہی اپنے گاؤن کے ایک گھر میں رشتہ طے کردیا۔

لڑکی کو آسیب کی شکایت تھی جس کی وجہ سے اس کی شادی نہیں ہوپارہی تھی۔ کاکا ریوڑی کو کوئی دیتا نہیں تھا۔اسے کوئی لیتا نہیں تھا۔رب نے بنا دی جوڑی۔

ہم لوگ شادی پر بہت شراتیں کرتے ہیں خاص طور پر سہ بالا کے ساتھ ۔دلہا بھی بچ نہیں پاتا تھا شرارتوں سے۔

بلآخر کاکا ریوڑی کی شادی آگئی۔میرے بہت انکار کرنے کے باوجود کاکا ریوڑی نے سہ بالا بننے پر مجبور کر دیا ۔میری نظروں کے سامنے سے وہ سارے سہ بالے گزر گئے جو میری شراتوں کا نشانہ بن چکے تھے۔گویا میری شامت بھی آیا ہی چاہتی تھی۔سہ بالا کو لڑکے والوں کی طرف خطرہ نہیں ہوتا ۔اس کی خدمت صرف لڑکی والے کرتے ہیں۔

شادی سے ایک روز پہلے کاکا ریوڑی کی خالہ بمعہ فیملی کے شادی میں شرکت کرنے آگئی۔اس کی بڑی بیٹی شنو نےآتے ہی مجھے اطلاع دیتے ہوئے کہا۔

دل بھائی ہوشیار رہیے گا ہمارے گاؤں کی لڑکیوں نے آپ کی خدمت کرنے کے لیے بہت تیاری کر رکھی ہے۔انہوں نے آپ سے سارے پرانے بدلے چکانے ہیں۔خاص طور پر لڑکیوں کی لیڈر سے بچنا جو کہ شہر میں پڑھتی ہے۔

ہمارے گاؤں آنے والی ان لوگوں کی دو براتوں کے ساتھ میں نے بہت شرارتیں کی تھیں۔اور اب کاکا ریوڑی کی مہربانی سے مجھے ان کا حساب دینا تھا۔

شنو نے یہ کہہ کر میری ہمت بندھائی کہ وہ خطرے سے بروقت خبردار کر دیا کرے گی۔
ہمارے ہاں ایک رسم ”جھمی‘‘ ہوتی ہے۔بیٹی والوں کی طرف سے لڑکے اور لڑکیاں حویلی کے دروازے میں کھڑے ہوکر لال چنریا تان لیتے ہیں۔لڑکے والے ان کے منہ مانگے پیسے اس چنریا میں ڈالتے ہیں تو وہ راستہ دیتے ہیں۔اگر کوئی براتی ان کی بےخبری میں اندر چلا جائے تو پھر وہ بغیر پیسے لیے جھمی ہٹا لیتے ہیں۔
جھمی دلہن کی بہنیں وصول کرتی ہیں۔

ہمیں بھی ”جھمی ‘‘کے لیے حویلی کے دروازے پر روک لیا گیا۔

دلہن کی بہنیں جھمی کا دس ہزار مانگ رہی تھیں جبکہ میں پانچ دے رہا تھا۔ان میں ایک خوبصورت لڑکی بہت تیزو طرار لگتی تھی زیادہ وہی بول رہی تھی ۔شنو نے اشارے سے بتایا کہ یہی محترمہ ہےجو مجھے تگنی کاناچ نچانے کے لیے سبھی لڑکیوں کی لیڈر بنی ہوئی ہے۔میں نے تنقیدی نظروں سے اسے دیکھا واقعی وہ بہت خوبصورت لڑکی تھی۔اور لیڈر بننے کے قابل بھی ۔

ابھی ہماری تکرار جاری تھی۔کہ اچانک حویلی کےاندر کتے آپس میں لڑ پڑے۔اور ایک کتا دم دبا کر بھاگتا ہوا چھلانگ مار کر دیوار پر چڑھ آیا۔اس کا ارادہ باہر چھلانگ مارنے کا تھا ۔مگر برات کو دیکھ کر وہ گڑبڑا گیا۔ابھی وہ گومگو کی کیفیت میں تھا کہ دیوار کے قریب کھڑے مراسی نے شہنائی کا رخ اس کی طرف کرکے زور سے ”پوں‘‘کی تو کتا ڈرکر اندر کی طرف سیدھا چاولوں سے بھرے ٹب پر گرا۔گرم چاولوں نے اس کا مزاج پوچھا لیا۔۔ کتے کی درد سے کرلاتی ٹائیں ٹائیں سن کر سبھی لوگ ادھر متوجہ ہوئے ۔اور میں اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دلہے کےساتھ اندر داخل ہوگیا۔اس طرح پانچ ہزار بھی بچ گئے ۔جبکہ بےچارے بیٹی والوں کے دو دیگ چاول کتے نے چھلانگ لگا کرخراب کر دیئے۔

شادی کے موقعہ پر انسانوں کے علاوہ دو اور جاندار بھی شادی کو انجوائے کرتے ہیں ۔اور وہ جاندار ہیں۔کوا اور کتا۔دونوں بڑی دور دور سے تشریف لے آتے ہیں۔اس موقعہ پر عمومًا دوسری بستیوں کے کتوں کو شادی والوں کے کتے برداشت نہیں کرتے وقفے وقفے سے ان کاجھگڑا ہوتا رہتا ہے۔اور کوے بھی بوٹیوں ،ہڈیوں پرآپس میں لڑتے ہیں۔

گرمیوں کے دن تھے سارے براتی صحن میں لگے نیم کے درختوں کی چھاؤں میں چار پائیوں پر بیٹھے تھے۔ کوے درختوں پر جبکہ کتے چارپائیوں کے نیچے گھسے ہڈیاں چبا رہے تھے۔
کھانا کھانے کے بعد مولوی صاحب نے نکاح کی کاروائی شروع کردی ۔دولہے اور گواہوں کے دستخط اور انگوٹھے لگانے کے بعد دلہن کے والد کے آگے رجسٹر رکھتے ہوئے مولوی صاحب نے ایک خانے پر انگلی رکھتے ہوئے وہاں انگوٹھا لگانے کو کہا۔انگوٹھا لگانے کے لیے وہ جیسے ہی تیار ہوا ۔اسے چھینک آگئی۔
آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآ چھی ی ی ی ۔۔۔۔۔آآ کرتے ہوئے جیسے ہی منہ اوپر کیا اسی وقت درخت پر بیٹھے کوے نے تاک کر بیٹ کی جو سیدھی ناک کی پھنکی پر پڑی۔
اور چھی کرتے ہوئے جب منہ نیچے ہوا تو بیٹ اڑتی ہوئی سیدھی اس جگہ گری جہاں انگوٹھا لگانا تھا۔
لو جی انگوٹھا لگ گیا۔نکاح کی مبارکاں ۔یہ کہتے ہوئے مراسی نے ڈھول پر تاپ لگا دی۔باوجود کوشش کے لوگ ہنسی ضبط نہ کر سکے ۔سب سے بڑا قہقہ کاکا ریوڑی کا تھا۔

دلہن سے اقرار اور انگوٹھا لگوانے کے لیے مولوی صاحب نے مجھے ساتھ لے لیا۔
کمرا لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا۔میرا ماتھا ٹھنکا۔

مولوی صاحب نے دلہن سے اجاب وقبول کرانے لگا ۔
شمیم بنت کریم بخش آپ کو فیاض احمد ولد نیاز احمد کے ساتھ حق مہار مبلغ ایک ہزار نکاح قبول ہے تو دلہن کی طرف سے خاموشی ۔

دوسری مرتبہ بھی خاموشی رہی ۔جب تیسری مرتبہ مولوی نے کہا تو دلہن کی ماں جھٹ سے بولیں ۔”ہاں ہاں قبول ہے۔‘‘

مولوی صاحب نے کہا بی بی نکاح آپ کا نہیں آپ کی بیٹی کا ہے۔آپ نے تو پہلے ہی ہاں ہاں کی ہوئی ہے۔
مولوی کی بات پر سب لڑکیاں کھل کھلا کر ہنس پڑیں۔
میں نے کہا مولوی صاحب دلہن اقرار میں سر ہلا رہی ہے کہ نکاح قبول ہے۔شکر ہے اسی وقت دلہن نے بھی چپ کا روزہ توڑتے ہوئے قبول ہے کہا۔

اس سے پہلے کہ لڑکیاں مجھے گھیرتی میں کمرے سے باہر نکل گیا۔ابھی تک تو شنو کی مہربانی اور اپنی ہوشیار سے لڑکیوں کے بہت سےوار خالی گئے تھے۔جس کی وجہ سے لڑکیاں بہت تلملائی ہوئی تھیں۔

دودھ پلائی کی رسم کے لیے دلہا اور میں دلہن کے پاس کمرے میں جا رہے تھے کہ اچانک دو لڑکے ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتے ہوئے ہماری طرف آئے ان کا انداز ایسا تھا کہ جیسے پہلا والا لڑکا دوسرے سے بچنے کے لیے بھاگ رہا ہو۔

میں غیر ارادی طور پر رک گیا اور اسی وجہ سے بچ بھی گیا۔

جبکہ کاکا ریوڑی اس لڑکے کی زد میں آگئے اور بھر پور ٹکراو سے اچھل کر نزدیک پڑی خالی دیگ میں جا گرے ۔ساڑھے چار فٹ قد اور مختصر وجود کے مالک کاکا ریوڑی دیگ میں اس طرح فٹ ہوگئے جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔

دیگ پہلو کے بل ہوکر پہیے کی طرح چل پڑی بارش کے پانی کی خاطر حویلی کے صحن میں دروازے تک کافی ڈھلوان تھی۔جبکہ دروازے کےباہر تو بہت ڈھلوان تھی۔اس سے پہلے کہ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آتا دیگ دلہے سمیت دروازے تک پہنچ گئی۔

اسی وقت حویلی کے باہر کتے آپس میں لڑ پڑے اِدھر دیگ دروازے سےباہر نکلی اُدھر اسی وقت ایک کتا بھاگتا ہوا دروازے سے گزرا اور سیدھا دیگ میں جا گھسا ۔
ایک تو دروازے کے باہر کافی ڈھلوان تھی دوسرا کتے اور کاکا جی کی پتھکاریوں نے دیگ کی چال کو مہمیز دی۔اور دیگ ڈھلوان پر اس طرح جارہی تھی جیسے موٹر کار۔

سب سے پہلے میں دیگ کے پیچھے دوڑا دروازے پر پہنچ کر دیکھا تو دیگ کافی دور جا چکی تھی اور دیگ میں کتے آواز سن کر باقی کتے بھی دیگ کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔وہ شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ کھانے سے بھری دیگ وہ اکیلا چرا کر بھاگ رہا ہے اس لیے وہ اپنا حصہ بٹورنے دیگ کے پیچھے دوڑ پڑے تھے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ دیگ آگے اس کے پیچھے کتے اور سب سے پیچھے پوری برات ۔
دیگ تھی کہ رکنے کانام نہیں لے رہی تھی۔ایک کتیا نے میرا تھن کا ریکارڈ توڑتے ہوئے دیگ کے آگے نکل کر کھڑی ہوگئی اور بھوں بھوں بھوں کرتے ہوئے دیگ کو روکنے کا کہنے لگی ۔بھلا دیگ کتے کے اختیار میں تھوڑی تھی کہ وہ بریک لگاتا۔
عین وقت پر کتیا نے آگے سے ہٹنے کی کوشش کی مگر اسے دیر ہوچکی تھی۔دیگ گولے کی طرح اس کی پچھلی ٹانگوں سے ٹکرائی اور سیدھی ہوکر رک گئی۔دیگ رکتے ہی کتا چھلانگ لگا کر دیگ سے باہر نکل کر بھاگ مگر چکر آجانے کی وجہ سے سیدھا کتیا پر گرا جو پہلے ہی ٹانگوں کی قربانی پہ نوحا کناں تھی۔
دونوں مل کر زور زور راگ الاپنے لگے۔

بہر حال کتینا اپنی ٹانگوں کی قربانی دے کر جہاں اپنے ایک درجن بچوں کو یتیم ہونے سے بچایا وہاں ہمارے کاکا ریوڑی کی بھی جان بچی۔

یہ تو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکوں نے یہ سب جان بوجھ کر کیا تھا دیگ وہاں جان بوجھ کر رکھی گئی تھی گرانا تو مجھے تھا ۔مگر میری خوش قسمتی اور کاکا ریوڑی کی بدقسمتی۔مگر یہ شرارت کرنے والوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ دیگ یوں فل سپیڈ چل پڑے گی۔

دو گھنٹوں کے بعد کاکا ریوڑی کے ہوش ٹھکانے آئے تو ہم دوبارا دودھ پلائی کی رسم کے لیے دلہن کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔کمرے میں ایک طرف تین کرسیاں رکھی ہوئی تھیں ۔دوسری طر رنگین پائیوں والی ایک چارپائی تھی جس پر خوبصورت سی چادر بچھی ہوئی تھی ۔

ایک کرسی پر پہلے سے دلہن بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے ساتھ والی کرسی پر دلہا بیٹھ گیا۔

لڑکیوں کی لیڈر نے بڑی خوبصورت مسکراہٹ سے مجھے نوازتے ہوئے کرسی کی طرف اشارا کرتے ہوئے پیارے بھرے انداز میں کہا ”دل ۔۔۔۔۔پس۔۔ن۔۔د ۔۔۔۔جی بیٹھیے نا۔
اس کی مسکراہٹ اور لہجے پر میں ٹھٹھک گیا۔کہ ضرور کرسی میں کچھ راز ہے۔
اس لیے بڑے اطمینان سے جاکر چارپائی پر بیٹھ گیا۔

مگر بیٹھنا غضب ہوگیا۔میں زور سے زمین پر گرا اور سر چارپائی کے بازو سے ٹکرانے سے آنکھوں کے آگے ست رنگ کے تارے ناچ گئے۔

چارپائی میں نواڑ وغیرہ نہیں تھی خالی چادرکھینچ کر باندھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے مجھے محسوس نہیں ہوا۔میں اپنے خیال سے سیانا بنا تھا ۔مگر وہ کہاوت بھول گیا تھا کہ سیانا کوا اپنی بیٹ پر بیٹھتا ہے۔

ساری لڑکیاں منہ پھاڑے ہنس رہی تھیں ۔اور وہ محترمہ اسی کرسی پر بیٹھی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔حسب توقع سب سے اونچا قہقہ کاکا ریوڑی کا تھا۔
یہ بعد میں پتا چلا کہ یہ آئیڈیا اسی محترمہ کا تھا گویا وہ انسانی نفسیات کافی حد تک جانتی تھی۔

میں اٹھنے کی کوشش کرنے لگا تو وہ لپک کر آئی اور لہجے میں شہد جیسی مٹھاس لیے بڑے پیارے
انداز میں بولی۔دل۔۔۔۔۔۔۔۔پسند جی چوٹ تو زیادہ نہیں لگی۔

میں نے کہا” دل سے پسند کرتی ہو اور دشمنی بھی کرتی ہو۔‘‘
میری بات پر سب لڑکیاں ایک بار پھر قہقہ مار کر ہنس پڑیں جبکہ وہ بری طرح جھینپ گئی۔اور شرمندہ لہجے میں بولی۔آپ کا نام ہی ایسا ہے تو اب کیا کیا جائے اور مجھے اٹھانے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
میں نے کہا ”دیکھ لو خود ہاتھ تھامنے کو کہہ رہی ہو ۔اگر تھاموں گا تو عمر بھر کے لیے۔‘‘میری بات پر اس نے فورًا ہاتھ پیچھے کر لیا اور شرم کے مارے کمرے سے بھاگ کھڑی ہوئی۔اور اس کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ سر کی چوٹ بھول کر دل کو پکڑ لیا ۔کم بخت اس کے پیچھے فرار ہونے کو پر تولنے لگا تھا۔

پچھلے دنوں میں گاؤں گیا۔ ایک دن ہم دونوں اکٹھے آموں کے باغ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کاکا ریوڑی نے کہا دل بھائی آپ بھی گیڈر کی سواری کر لیں۔گیڈر میں پکڑ لاؤں گا۔ اور میں اس کی بات پر سٹپٹا کر رہ گیا۔۔۔۔