Afsana 047 محبت خواب کی صورت از نامعلوم

محبت خواب کی صورت

"ارے اب سمیٹ بھی لو گھر کو اور کتنا وقت لو گی ،فلائٹ کا ٹائم تو پانچ بجے کا تھا ۔اب تو 6 بجنے کو ہیں۔بس آتے ہی ہوں گے وہ اسے لے کر۔ اری او صفیہ کھانا تیار ہے نا اور وہ عطیہ کہاں ہے اس نے کمرا تیار کروایا کہ نہیں۔" برآمدے میں بیٹھی ہوئی دادو نے ایک طائرانہ نگاہ پورے گھر پر ڈالی۔

آج پورے 8 سال بعد ان کا پوتا اکبر علی وطن اپنے پیاروں کے پاس واپس آ رہا تھا۔ ثریا خاتون کے تین بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے احمد علی اور رقیہ علی کا ایک ہی بیٹا تھا ،اکبر علی جو اپنے والدین کے ساتھ امریکہ میں ہی رہائش پذیر تھا۔
ارسلان علی اور صفیہ بیگم کے دو بچے تھے بڑی بیٹی زوہا ،اور اس سے 2 سال چھوٹا اسد۔
رحمان علی اور عطیہ خاتون کے تین بچے تھے ،سب سے بڑا اسجد ،اس سے 4 سال چھوٹی پری وش ،اور اس سے 2 سال چھوٹا بیٹا باقر۔
اکبر علی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اور ملازمت شروع کرنے سےپہلے پاکستان کا ایک چکر لگانا چاہتا تھا۔وہ شروع ہی سے دادو کے بہت قریب رہا تھا۔ تعلیم کے اس عرصے میں اس نے دادو سمیت سب کو بہت مس کیا۔ اب ملازمت میں پڑتا تو پھر سے فارغ ہوتے سال بیت جاتے۔اس لیے دوبارہ مصروف ہونے سے پہلے وہ ایک مرتبہ سب سے ملنے پاکستان آ رہا تھا۔
ڈور بیل بجی تو اسد بھاگتا ہوا داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔ اور یقیناً آنے والا وہی تھا جس کی منتظر ہر نگاہ تھی، مگر ایک نگاہ ایسی تھی جو بہت خاص تھی ۔ ۔ جو یہ دیکھنے کے لیے بے چین تھی کہ اب وہ کیسا دکھتا ہو گا۔

اکبر علی نے اندرداخل ہونے سے پہلے دروازے کی دہلیز کو ہاتھ بڑھا کر چوما، اور اندر آ کر ایک گہرا سانس لیا جیسے وہ اس گھر کی فضا کو اپنے اندر تک اتار رہا ہو۔ ۔ اندر آ کر دادو کی ڈھیروں دعائیں سمیٹیں اور گھر کے تمام افراد سے ملا۔
حسب عادت آج بھی زوہا کو چاچی جان کی طرف سے خاص ہدایات تھیں کہ وہ کوئی کھلتا ہوا رنگ پہنے اور اپنے اسٹائل میں کٹے ہوئے شانوں تک آتے بال کھول رکھے۔
جبکہ دوسری طرف پری وش کو آج پھر سے اس بات کا احساس دلایا گیا کہ اس کی گہری گندمی رنگت کسی بھی طور سنوار لینے سے نہیں سنورنے گی لہٰذا وہ ایسی کوئی کوشش بھی نہ کرے۔ پری وش اب ان باتوں کی عادی ہو چکی تھی اس لیے ایسی باتیں اب اس کا دل دکھانے کا سبب نہیں بنتی تھیں۔ مگر اس کی ماں کے دل کو اب بھی ایسی باتوں کی عادت نہ ہوئی تھی۔
 
رات کے کھانے کے لیے سب ٹیبل کے گرد اکٹھے ہونے شروع ہوئے۔ اکبر جب ہاتھ دھونے کی غرض سے کچن سے منسلک واش بیسن تک آیا تو بے اختیار اس کی نگاہ کچن میں کام کرتی پری وش پر پڑی۔ وہ کتنے انہماک سے ارد گرد سے لا تعلق اپنے کام میں مصروف تھی۔اس نے اپنے وجود کو ہر طرف سے ایک بڑی سی چادر میں سمیٹ رکھا تھا۔ اس کے لمبے دراز بال دوپٹے کے نیچے سے سلیقے سے بندھی چٹیا میں بہت سمٹے سمٹے سے اس کی سلجھی طبیعت کی عکاسی کرتے تھے۔ وہ پہلی ہی نظر میں کتنی پاکیزہ سی لگی تھی۔
کھانے کی میز پر یہاں وہاں کی باتیں ہونے لگیں،اور بعد میں بہت ہی حساس موضوع زیر بحث آ گیا۔

صفیہ چاچی،" اکبر اب تو تمہاری پڑھائی مکمل ہو گئی ہے آگے کے کیا ارادے ہیں؟"
اکبر نے مسکرا کر کہا،"چچی جان بس اب یہاں سے واپس جا کر جاب میں جُت جاؤں گا۔"
صفیہ چاچی اپنے اصل مقصد کی طرف آئیں۔ "ارے شادی وادی کا ارادہ کب ہے؟ ابھی تو عمر بھی بہت مناسب ہے وقت کے بعد کیا کوئی کام اتنا اچھا نہیں لگتا"۔
ارسلان علی نے بیگم کو ٹوکا۔"تم کیا آتے ہی اس غریب کے پیچھے پڑ گئی ہو۔ ابھی وہ مہینہ بھر یہیں ہے یہ باتیں اطمینان سے بھی ہو سکتی ہیں"۔
اسد نے بھی ٹانگ اڑانی ضروری سمجھی۔"اکبر بھائی یہ بتائیں کہ آپ لو میرج کریں گے کہ ارینج؟"۔
اس سے پیشتر کے اکبر کوئی جواب دیتا باقر نے فوراً کہا۔ "لو از بلائنڈ اکبر بھائی۔ذرا سنبھل کر، سوچ سمجھ کر"ساتھ ہی اس نے اپنی دائیں آنکھ دبا لی۔
"محبت سوچ کر کہاں ہوتی ہے؟" اکبر نے جملے کی ادائیگی کے ساتھ اس جانب دیکھا جہاں زوہا اور پری وش بیٹھیں تھیں۔ زوہا کا چہرہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کھلتا ہوا چاند ہو اور اس کے مقابل میں بیٹھی پری وش کسی خاموش سیارے کی مانند لگ رہی تھی۔

دن ایسے ہی گزرتے گئے۔ زوہا نے اکبر کے قریب رہنے کی ہر ممکن کوشش کی،اپنے اچھے اخلاق اور ملنسار طبیعت کی وجہ سے جلد ہی اس کی اکبر سے بہت اچھی دوستی ہو گئی۔ دونوں ہر پل ساتھ دکھتے۔ہنستے بولتے،ہر بات پر ایک دوسرے سے گھنٹوں بحث کرتے۔
پری وش کو یقین تھا کہ حُسن کی خوبصورتی اس بار بھی ہمیشہ کی طرح سیرت کی پاکیزگی سے سبقت لے جائے گی۔ ۔ یہی دستورِ دُنیا تھا، ہے اور رہے گا۔ ۔ ۔اس نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ دل کو تنبیہہ کی۔

8 سال پہلے گزرے وہ پل تو شاید بچپنے کے دور کا حصہ تھے۔ وہ پل کہ جب ایک بار کرکٹ کھیلتے گیند لگ جانے پر پری وش نے رونا شروع کر دیا تھا اور اکبر کی آنکھوں میں اس کی تکلیف صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہ لمحہ کہ جب اس نے کہا کہ جس گیند نے تمہیں تکلیف دی اب میں اس سے نہیں کھیلوں گا۔اور واقعی اس کے بعد اس نے اس دن کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔
یا وہ پل کہ جب کسی گیم میں اس کا ساتھی بننے کے لیے اکبر جان بوجھ کر پوچھی گئی پہیلی کا غلط جواب دیا کرتا تھا۔ تاکہ جواب غلط ہونے پر وہ پری وش کی ٹیم کا رکن بن سکے۔
میں بھی کتنی معصوم تھی ،دل بھی کتنا نادان تھا۔ یہ سمجھ ہی نہیں پایا کہ بدلتا وقت جب تبدیلیاں لاتا ہے ان کا اثر ہر شے پر ہوتا ہے۔ ۔ ۔ دل بھی ان تبدیلیوں کا شکار ہو ہی جاتا ہے۔

سوچوں کا یہ دریا پری وش کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔اور وہ کھڑکی میں کھڑی اس ایک پل کو یاد کرتی رہی جب پہلی بار اس کے دل کو کسی کی بات اچھی لگی تھی۔کسی کا انداز اچھا لگا تھا۔
اپنی سوچوں کے بھنور میں گھری وہ کھڑکی سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔اس کی آنکھیں آسمان میں کہیں کچھ کھوج رہی تھیں۔نیچے گارڈن میں بیٹھا اکبر علی ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا جیسے اس میں کوئی وجہ تلاش کرتا ہو اسے اتنے غور سے دیکھنے کی وجہ؟ یا اس پر نگاہ کے ٹھہر جانے کی وجہ؟اسی لمحے پری وش نے بھی نیچے کی جانب دیکھا۔اور اس کی نظر اکبر علی کی نظر سے ملی۔نظروں کے اس ٹکراؤ پر پری وش بوکھلا کر رہ گئی جیسے اکبر نے اس کے دل کی ان تمام باتوں کو سن لیا ہو جنھیں وہ اکیلے میں دہرا رہی تھی۔ ۔ پری وش نے فوراً اس کی نظروں کے شکنجے سے رہائی حاصل کی اور کھڑکی سے دور ہو گئی۔ اور اکبر علی اس کے چلے جانے کے باوجود کھڑکی کی جانب دیکھتا رہا۔
"اکبر ،اکبر " عطیہ خاتون چلاّتی ہوئیں باہر آئیں۔

"جی چچی جان ؟کیا ہوا سب خیر ہے؟"، "ارے ہاں سب خیر ہے تمہاری ممی کا فون آیا ہے۔تمہیں یاد کر رہی ہیں"۔
مسکراہٹ نے چہرے کا احاطہ کیا۔ "اچھا میں جاتا ہوں ۔“
"ہیلو ، جی ممی “اکبر نے انتہائی گرمجوشی سے ان سے سلسلہ کلام جاری رکھا۔صفیہ چاچی پاس ہی صوفے پر براجمان اس کی تمام گفتگو جسے بظاہر وہ نہیں سن رہی تھیں بہت دھیان لگا کر سن رہی تھیں۔
"جی ممی آپ کی پسند واقعی لاجواب ہے،وہ مجھے بھی بہت پسند ہے،جی جی میں جلد ہی سب کو باقاعدہ طور پر بتا دوں گا۔“ اس جملے کے ادا ہوتے ہی صفیہ چاچی نے یکدم اکبر کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اور اس کی نگاہوں کو کسی کے تعاقب میں پایا۔
یہ دیکھ کر ان کی خوشی کی انتہا ہی نہ رہی کہ اس کی نگاہوں کا مرکز زوہا تھی۔ اکبر اب بھی ممی سے بات کر رہا تھا ان کی پسند کے متعلق۔اور صفیہ چاچی کا خون بڑھ رہا تھا۔کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد اس نے فون رکھ دیا۔
"ارے بیٹا کیسی رہی بات چیت، سب ٹھیک ٹھاک ہے نا؟" فون بند ہوتے ہی صفیہ چاچی نے اکبر کو دبوچ لیا۔
"جی جی چاچی جان سب اچھا ہے،ممی اس ویک اینڈ پر آ رہی ہیں پاکستان ،اس کے بعد سب اور بھی اچھا ہو گا"۔ ساتھ ہی نظر پاس سے گزرتی زوہا پر ڈالی اور مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے وہ وہاں سے چلا گیا۔
صفیہ چاچی بے تابی سے ہفتہ گزرنے کا انتظار کرنے لگیں۔ اپنے تئیں یہ خبر انہوں نے زوہا اور اپنے میاں ارسلان علی تک پہنچا دی تھی کہ اکبر ،زوہا میں دلچسپی لے رہا ہے۔
اگلی شام دادو نے اکبر کو اکیلے پا کر پھر سےشادی کا ذکر چھیڑا۔"اکبر میں چاہتی ہوں بیٹا کہ تم اپنے خاندان میں ہی شادی کرو۔اور زوہا سے تمہاری بنتی بھی خوب ہے۔پری وش تو کچھ کم گو لڑکی ہے۔اورپھر نین نقش میں بھی زوہا سے کم ہے۔“

"ارے دادو آپ اپنے پوتے پر یقین رکھیں،شادی تو میں خاندان میں ہی کروں گا ۔ہر انسان حسن پسند کرتا ہے خوبصورتی ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتی ہے،کشش رکھتی ہے۔میں تو اپنی منزل ڈھونڈ بیٹھا ہوں بس ممی کے آنے کا انتظار ہے پھر انہی کے آنے پر میں ڈکلیئر کروں گا“
ہفتہ بھی ایسے ہی پلک جھپکتے گزر گیا جیسے کہ اب تک کے بیتے ہوئے دو ہفتے گزرے تھے۔
آخر کار وہ دن آ گیا جس کا سب سے زیادہ انتظار خود اکبر علی کو تھا۔ رقیہ علی کے آنے کے بعد سب جب شام کے وقت اکھٹے ہوئے تو دادو نے اکبر سے پوچھا۔
"اب کہو لڑکے ،اس خوش نصیب لڑکی کا نام جسے تم نے پسند کیا ہے۔“گو سب جانتے تھے مگر اس کی زبان سے سننا گویا سند حاصل کرنا تھا۔
اکبر نے بنا کسی تاخیر کے کہا "پری وش “۔ یہ کہتے ہی اس نے پہلی نظر پری وش کے چہرے پر ڈالی۔جو ہکا بکا اسے دیکھے جا رہی تھی۔جیسے اپنے کانوں اور اس کے لفظوں پر رتی بھر بھی بھروسہ نہ ہو۔
دوسری جانب صفیہ چاچی اور زوہا کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا۔اکبر نے دادو کی طرف دیکھا اور سر جُھکا کر گویا ہوا۔"میں نہیں جانتا کہ پری وش میری خواہش کب سے بنی۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ کبھی کبھی ایک لمحہ کافی ہوتا ہے اپنی چاہت کے ادراک کے لیے اور کبھی کبھی سالوں ہم کسی ایک شخص کو چاہنے میں گزار دیتے ہیں مگر اپنی چاہت سے خود انجان رہتے ہیں۔ ۔ میں پری وش کو بہت پہلے سے پسند کرتا ہوں، مگر یہ پسندیدگی محبت میں کب بدلی اس بات سے میں خود بھی ناواقف ہوں۔ بس جب میں نے اپنے دل میں جھانکا تو مجھے وہاں ہر طرف پری وش ہی لکھا نظر آیا“۔
 
یہ سب باتیں سن کر پری کے لیے وہاں رکنا محال ہو گیا۔ اور وہ اٹھ کر باہر کی طرف بھاگ گئی۔ ۔

صفیہ چاچی سے رہا نہ گیا تو ٹوٹے لہجے میں پوچھ بیٹھیں۔ "اکبر پری میں ایسا کیا ہے کہ تمہیں اس کے سامنے زوہا کہ خوبصورتی بھی اپنی طرف مائل نہیں کر سکی۔؟“
"چچی جان ،کمی کسی میں کوئی نہیں ہوتی ،یہ تو بس اپنی اپنی نظر کی بات ہے کب کس بات میں کون سا پہلو دل کو بھا جائے۔زوہا یقیناً بہت اچھی لڑکی ہے،مگر میرے دل کو بھانے والی بس ایک پری وش ہی ہے۔اور وہ بہت خوبصورت ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کے نزدیک خوبصورتی کے معیار اور ہیں جبکہ اس دل کے نزدیک کچھ اور“
زوہا نے جلے دل سے بس اتنا کہا کہ " باقر نے ٹھیک ہی کہا تھا محبت اندھی ہوتی ہے، لو از بلائنڈ “۔

"نہیں زوہا،محبت ہی تو اندھی نہیں ہوتی،محبت کی نظر اندر تک کا وہ حسن دیکھ لیتی ہے جو چہرے پر سجی یہ آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں۔میری محبت نے پری وش کا باطن دیکھا ہے جو اس کے ظاہر سے کہیں بڑھ کر خوبصورت ہے۔بظاہر کم صورتی اندر کے حسن کو ماند نہیں پڑنے دیتی۔اندر کے حسن تک اگر کوئی نگاہ پہنچ سکتی ہے تو بس وہ واحد محبت کی نگاہ ہے۔“

دادو،ارسلان علی اور رحمان علی کے ساتھ ساتھ عطیہ خاتون بھی بہت خوش تھیں،ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور وہ اللہ کی اس مہربانی پر دل سے شکر گزار تھیں،یہ سب تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
اپنا فیصلہ سنانے کے بعد اکبر علی نے بھی باہر کا رخ کیا۔ دل میں بسا کر رکھنے والی کو براہ راست دل کے فیصلے سنانے بہت ضروری تھے۔ وہ باہر آیا تو پری وش آسمان کی جانب منہ کیے ہلکے ہلکے سسک رہی تھی۔وہ اس کی آنکھوں کی نمی کو محسوس کر سکتا تھا۔ اس نے ایک سرخ دوپٹہ اس کے سر پر اوڑھایا،پری وش کو پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت نہ تھی کہ اس کے سر کا سائبان کون ہے۔وہ اپنے دل کی تیز رفتاری سے آنے والے کا پتا بتا سکتی تھی۔ اکبر نے پری وش کے قریب ہو کر سرگوشی میں کہا۔
"میں نے اپنے دل کی مسند پر تمہیں برسوں سے بٹھا رکھا ہے پری وش ،میرا دل تمہاری اس خوبصورتی کو دیکھتا ہے جانتا ہے جو تم نے سب سے چھپا رکھی ہے۔تم سے یہ کہنے والے کہ تم خوبصورت نہیں ،سراسر جھوٹ کہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو میرا دل اتنی بے قراری سے تمہاری خواہش کیوں کرتا کہ میں صرف تمہیں اپنے نام کرنے اتنی دور سے بھاگا چلا آیا کہ کہیں تم کسی اور کو اپنا ساتھی نہ چن لو۔ تمہارا اس وقت مجھے چننا میرے لیے زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو گا۔بولو کیا تم زندگی کے اس سفر میں میرا ساتھ دو گی؟میری پری وش بن کر “
پری وش نے اپنے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور ہولے سے مسکرا اٹھی۔ اس کا دل خدا کا شکر گزار تھا۔اس ایک انجانی خوشی کے پا لینے پر جس کی صرف اور صرف اس نے تمنا کی تھی۔
٭٭٭٭