Afsana 048 نیناں ڈس لیں گے از رضوان

نیناں ڈس لیں گے
از رضوان

کلاس روم کا ماحول کافی سیرئیس تھا۔ پروفیسر ڈاکڑ انعام انسانی ذہن کی مضبوطی اور فیصلہ سازی کے وقت اس کے اثرات کے بارے میں بڑے جوش و خروش سے لیکچر دے رہے تھے۔ اس کو محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کوئی مسلسل اسے دیکھ رہا ہے، مگر جب بھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا سب کو پروفیسر کی طرف ہی متوجہ پایا۔ وہ کچھ دنوں سے ایسا ہی محسوس کر رہا تھا مگر اس کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون ہے جو اسے ہر روز ایسے ہی دیکھتا ہے اور جب بھی وہ ان آنکھوں کو ڈھونڈے کی کوشش کرتا ہر دفعہ ناکام لوٹتا۔
*********************

بڑی مشکلوں سے ابا جان اور بھائیوں نے اس کو آگے پڑھنے اور وہ بھی بزنس کی فیلڈ میں داخلہ لینے کی اجازت دی۔ ایک مذہبی خاندان ہونے کی وجہ سے خاندان کی تقریبا ساری لڑکیاں گریجویٹ کے بعد اپنی تعیلم ختم کر دیتی اور پھر کوئی اچھا اور نیک رشتہ دیکھ کر ان کی شادی کر دی جاتی۔ مگر گل زریں خاں واحد لڑکی تھی جس نے اپنی تعلیم آگے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، اس کے اس فیصلے پر اس کو بہت سی باتیں سننی پڑی ، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہی اور آخر اپنے اباجان اور بھائیوں کو منا کر ہی دم لیا اور یوں اس کا ایڈمیشن ہو گیا۔

آج یونیورسٹی میں اس کا پہلا دن تھا، تھوڑی سے گھبرائی ہوئی تھی، اوپر سے پورے برقعہ میں دوسری لڑکیوں میں فورا پہچانی جاتی تھی۔ اور جو بھی اس کے پاس سے گزرتا اس کو ایک دفعہ عجیب نظروں سے ضرور دیکھتا۔

پنجاب یونیورسٹی کے آئی بی اے ڈیپارٹمنٹ میں کلاسز کمبائن تھیں ۔ ایک طرف لڑکوں کے ڈیسک تھے اور درمیانی راستہ پھر دوسری طرف لڑکیوں کے ڈیسک تھے۔
کلاس کے سب لڑکے اور لڑکیاں اپنے اپنے کالجز سے بہت اعلیٰ نمبر لے کر آئے تھے ۔ اور ان سب کی ذہانت تک زیادہ ٹپکتی جب وہ پروفیسر سے کوئی سوال کرتے ۔

کچھ دن تو آپس میں تعارف ایک دوسرے سے جان پہچان میں ہی گزر گئے۔ اور ایسا تھا بھی ضروری اب دو سال ان کے ساتھ رہنا تھا تو سب سے علیحدہ تو نہیں رہا جا سکتا تھا۔جس طرح ہر کلاس میں بہت سی شرارتی اور ہنس مکھ لڑکیاں اور لڑکے ہوتے ہیں اس طرح اس کی کلاس میں بھی بہت سے ایسے تھے۔

مگر شاید وہ سب سے جدا تھا۔ شروع میں تو اسے وہ بہت اوچھا اور لاپرواہ قسم کا لڑکا لگا، جو شاید ڈیپارٹمنٹ میں پڑھنے نہیں گپیں لگانے آتا ہے ۔ مگر آہستہ آہستہ وہ پوری کلاس کے سامنے آتا گیا۔ جب بھی پڑھائی کا معاملہ ہوتا تو وہ انتہائی سیرئس ہوتا اور پروفیسر سے اس طرح کے سوال کرتا کہ چند لمحوں کے لئے تو پروفیسر بھی حیران رہ جاتے اس کے سوالوں پر مگر جب بھی فری ٹائم ہوتا وہ ایسے بن جاتا جیسے 15 سال کا کوئی ابالی سی عمر کا نوجوان اور ایسے کھلکھلا کر ہنستا اور اپنی باتوں سے پوری کلاس کو ہنسے پر مجبور کر دیتا۔

گل زریں خاں بہت ریزرو قسم کی لڑکی تھی اور اس نے کبھی ایسے ماحول میں ٹائم نہیں گزارا تھا، اور وہ بہت ہی سیرئس نیچر کی لڑکی تھی ، باوجود اس کے بھی وہ کبھی کبھی اس کی باتوں پر بے اختیار ہنس دیتی، مگر برقعہ میں ہونے کی وجہ سے کسی کو ظاہر نہیں ہوتا تھا۔

*********************

آج پھر وہ بہت شدت سے محسوس کر رہا تھا کہ کوئی اس کو دیکھ رہا ہے ، جب اس نے ترچھی نظر سے لڑکیوں کی سائیڈ پر دیکھا پھر ناکام لوٹا مگر اس کو اتنا اندازہ ضرور ہو گیا تھا کہ اگر اس کو کوئی دیکھ سکتی ہے تو وہ پچھلی دو لائنوں میں بیٹھی لڑکیوں میں سے ہو سکتی ہے۔ مگر کون اس نے ایک نظر ان پر دوڑائی اور پہلی نظر میں اس برقعہ والی کو تو ریجکٹ کر دیا کہ یہ نہیں دیکھ سکتی اور پھر اس کو دو لڑکیوں پر شک ہوا کہ شاید ان میں سے ایک ہو گی۔ اور اس کا شک تب تھوڑا سا پختہ ہوا جب ان کو بھی اپنی طرف متوجہ پایا، مگر پھر اس نے جلدی سے اپنی آنکھیں دوبارہ وائٹ بورڈ کی طرف مرکوز کر دی۔ مگر اس کا ذہن پھر بھی اسی بات پر اٹکا ہوا تھا کہ کون ہے جو اس کو اس طرح ڈسڑب کر رہی ہے۔

*********************

گل زریں خاں کچھ دنوں سے کافی پریشان اور الجھی الجھی سی رہتی اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ وہ جب بھی کلاس میں ہوتا تو وہ بے اختیار اس کو دیکھنے پر مجبور ہو جاتی ، اس نے بہت دفعہ کوشش کی کہ وہ اسے نہ دیکھے مگر بار بار کوشش کے بعد بھی وہ ناکام ہو جاتی۔ وہ جدھر جاتا اس کی نظریں اس کا پیچھا کرتیں۔

وہ ایسی تو نہیں تھی ، اس نے تو کبھی لڑکوں کو ایک نظر نہیں دیکھا تھا، مگر کیوں اس کے معاملہ میں وہ بے بس تھی۔ شاید وہ اس پر حاوی ہوتا جا رہا ہے اس کی بار بار کوششوں کے بعد بھی وہ اس کے ذہن اور دل میں سرائیت کرتا جا رہا ہے۔ اور وہ اس کو روک نہیں پا رہی تھی شاید ایک نوزائیدہ محبت کا پھول اس کے دل میں کھل چکا تھا اور اس کو یہ بھی پتہ تھا کہ یہ یک طرفہ ہے کیونکہ کبھی گل زریں نے اسے اپنی طرف متوجہ نہیں پایا، کبھی اس نے گل زریں سے بات بھی نہیں کی اس کے باوجود وہ اس کو دیکھنے اور اس کو سوچنے پر مجبور تھی۔

جس دن وہ ڈیپارٹمنٹ میں نہ آتا سارا دن بے چین رہتی اس سے خیالوں ہی خیالوں میں لڑتی اور نہ آنے کی وجہ پوچھتی ، کبھی اس کو یہ خیال آتا کہ کہیں بیمار نہ ہو گیا ہو، کبھی سوچتی کہیں راستے میں کوئی ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو، یہ سوچ کر وہ بے اختیار اس کی صحت کی اس کی سلامتی کی دعا مانگنا شروع کر دیتی۔

*********************

ایسے سلسلہ چلتا گیا ، سمسٹر گزرتے گئے تقریبا تمام اسٹوڈنٹ ہی اچھے مارکس میں آگے بڑھتے گئے اور ہمیشہ کی طرح وہ اس بار بھی کلاس کے ٹاپ اسٹوڈنٹ میں آیا۔

مگر گل زریں خاں جس عذاب مسلسل میں پھنس گئی تھی اس سے فرار ممکن نہیں تھا۔ نہ وہ یہ بات کسی سے شیئر کر سکتی تھی، وہ تھی بھی کلاس کی سب سے معزز لڑکی چاہے گرمی ہو یا سردی وہ ہمیشہ ڈارک گرے کل کے فل برقعہ میں وہ یونیورسٹی آتی ابھی تک شاید کلاس کے کسی بھی اسٹوڈنٹ نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا مگر صرف دو آنکھیں جن میں ہمیشہ حیا اور پاکیزگی ہی جھلکتی رہتی۔

وہ ہر نماز میں بس اپنے خدا سے یہی دعا مانگتی کہ یارب اگر یہ میرا ہو سکتا ہے تو اس جذبے کو قائم رکھنے میں مجھے کوئی شرمندگی نہیں مگر اگر ایسا ممکن نہیں تو اس کو میرے دل و دماغ سے نکال دے۔ میں اس طرح کی سوچ لے کر جینا نہیں چاہتی ۔

ان تمام دعاؤں کوششوں کے باوجود اس جذبے میں پختگی ہی آتی گئی ۔ اور وہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ اللہ تعالی کیوں اس کی نہیں سن رہا وہ کیوں مجھے اس مصیبت سے نجات نہیں دلا رہا۔ اور پھر اس کے پاس بس آخری حل جو رہ گیا وہ صرف اور صرف اس کو چاہے جانا تھا۔

********************

آج سارا دن اس کو محسوس نہیں ہوا ، آج اس کو نہیں لگا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے لڑکیوں کی پچھلی لائنوں پر نظر دوڑائی تو کچھ کرسیاں خالی ملیں تو اس نے سوچنا شروع کیا کہ کون کون سی لڑکی آج نہیں آئی پھر اس نے جن لڑکیوں کے بارے میں خیال کیا کہ یہ آج نہیں آئی ان میں برقعہ والی گل خاں بھی تھی وہ اس کو گل زریں خاں کی بجائے صرف گل خاں کے نام سے ہی جانتا تھا کیونکہ بہت سی لڑکیوں کو اسے اسی نام سے پکارتے ہوئے سنا تھا ۔

اگلے دن کلاس میں داخل ہوتے ساتھ ہی سب سے پہلے اس نے آخری لائن کی کرسیوں کو دیکھا کچھ کرسیاں آج بھی خالی تھیں مگر آج گل خاں برقعہ میں ملبوس اپنی کرسی پر موجود تھی، اس نے جب گل کی طرف دیکھا تو وہ سر جھکائے ہوئے کچھ لکھنے میں مصروف تھی ، پھر کلاس شروع ہوئی پروفیسر نے لیکچر شروع کیا، اور آج بھی اس کو دو آنکھوں کی تپش اپنے پیچھے محسوس ہوئی اس نے جلدی سے پیچھے دیکھا تو گل خاں نقاب میں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ اسے ایسا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوئے اور پھر گل خاں جلدی سے گھبرا کر دوبارہ لیکچر کی طرف متوجہ ہوئی اور اس کے بعد اس کو دوبارہ محسوس نہیں ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

آج سارا دن اس کا دل پڑھائی میں نہیں لگا ، بس یہی سوچے جا رہا تھا کہ کیا گل خاں ہی وہ لڑکی ہے جو اسے دیکھتی ہے؟ کیا وہ مجھے پسند کرتی ہے؟ آج جس طرح اس نے اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ دیکھی وہ بالکل ایسے تھی جیسے کوئی چوری پکڑی جانے کے بعد ہوتی ہے۔

مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے ، اس نے تو اس کو دیکھا بھی نہیں نہ اس کے بارے میں کچھ زیادہ پتہ ہے ، وہ تو گل کو بس کلاس فیلو ہونے کے ناطے جانتا تھا

********************

آج ڈیپارٹمنٹ کا اینول ڈنر تھا، سینئر بیچ کو الوداعی پارٹی ،بلیک سوٹ میں آج وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا، گل نے اس کو ہمیشہ جینز میں ہی دیکھا تھا ، مگر آج کے فنکشن کی مناسبت سے اس کی ڈریس بہت اعلی تھی۔ گل نے بہت سی لڑکیوں کو اس کے بارے میں باتیں کرتے دیکھا، تو اپنے آپ ہی ایک عجیب سے جلن محسوس کی ، اور خود ہی تلملاتی رہی اور اپنی سوچوں میں ان کو بولتی رہی کہ وہ تو صرف میرا ہے ، تم سب کیوں اس کی باتیں کر رہی ہو۔

آج گل زریں کے ساتھ وہ ہوا جس کی اس کو کبھی امید بھی نہیں تھی کہ وہ اس طرح اچانک پاس آگیا اس کے سامنے آ کر کھڑا آج پہلی بار ایسا ہوا کہ اس نے گل کو اس طرح دیکھا اور دونوں کا آمنا سامنا ہوا ۔ گل کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے وہ کیا بولے گھبراہٹ کے عالم میں تو اس نے جلدی سے سلام بول دیا ۔ جس کا جواب اس نے مسکراتے ہوئے دیا۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی اور گل خان کی آنکھوں میں گھبراہٹ اور دل سینے میں ایسے دھک دھک کر رہا تھا کہ جیسے ابھی باہر آیا۔

پوری رات وہ سو نہیں پائی اس کی نگاہوں اور اس کی مسکراہٹ پر بار بار جان فدا ہوتی رہی، اور وہ کرتی بھی کیا، جتنی دفعہ اس نے کوشش کی ان جذبات کو روکنے کی ہر دفعہ ناکام لوٹی ۔ اسے پتہ تھا کہ وہ اسے نہیں مل سکتا مگر پھر بھی وہ اس جذبے کو قائم رکھنا چاہتی تھی۔ اور وہ یہی دعا کرتی تھی کہ یہ جذبہ پاکیزہ ہی رہے اور وہ اس کا ہمیشہ کے لئے ہو جائے۔ اس کی سوچیں سوچیں سوچیں ۔ ۔ ۔ دن رات صرف اس کی سوچیں یہ سب کیا تھا اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

********************

آج رات وہ بھی نہیں سو پایا اسی کے بارے میں سوچتا رہا کہ وہ نقاب کے پیچھے کیسی ہو گی؟ اس کی بادامی ڈراک براؤن آنکھیں جس میں اس نے ایک ہی لمحے میں

گھبراہٹ
حیا
محبت
خلوص
اور
بے بسی دیکھی
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ گل اس سے پیار کرتی ہے۔ شاید صرف پیار ہی نہیں بے انتہا پیار کرتی ہے۔ مگر وہ تو اس سے پیار نہیں کرتا، وہ تو اس کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں ، اس نے تو اس کو دیکھا بھی نہیں پھر کیسے ایسا کوئی جذبہ اس کے دل میں ابھر سکتا ہے۔ مگر پھر بھی کچھ تو تھا کہ وہ رات کے اس پہر کلاس کی 50 لڑکیوں میں سے صرف اسی کو سوچے جا رہا تھا، ان خیالات کی گڈمڈ میں وہ نیند کی وادی میں چلا گیا۔

********************

آج گھر سے یونیورسٹی نکلتے وقت گل نے اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے نہیں دیکھے گی جو مرضی ہو جائے بس ، صرف پڑھائی کی طرف توجہ دے گی ، ویسے بھی لاسٹ سمیسڑ تھا اور ہر کوئی اپنے گریڈ کو اپ کرنے کے لئے دن رات محنت ایک کر رہا تھا مگر ایک وہ تھی کہ بس اسی کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔

مگر جونہی وہ کلاس روم میں داخل ہوا اس کی ساری ہمت دھری کی دھری رہ گئی اور اس کی آنکھیں بے اختیار اس کی جانب اٹھ گئیں ، اور آج تو اس کی نگاہیں بھی گل زریں کی طرف مرکوز تھیں، جو شاید گل کی محبت کی پہلی فتح تھی کہ آج وہ صرف اس کو دیکھ رہا ہے۔ شاید اس دل میں بھی کوئی جذبہ امڈ رہا ہے؟ شاید وہ بھی مجھے پیار کرنے لگا ہے؟ اس نے اچانک سے بہت سے سوال اپنے آپ سے کرنا شروع کر دیئے، مگر اس کے پاس ان تمام سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

دن بہت تیزی سے گزرتے جا رہے تھے ، کہتے ہیں کسی انسان کی زندگی کا بہترین دور وہ ہوتا ہے جب ایسے جذبے دل کے اندر پھیلتے ہیں، اور اگر وہ یونیورسٹی کا دور ہو تو شاید وہ زندگی کے گولڈن دنوں میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ اس عمر میں اگر دونوں میں کوئی ایسا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو بہت زیادہ چانس ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو پا لیں گے ، کیونکہ اس کے بعد ہر ایک نے پریکیٹکل لائف میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ اور اگر ان کو اس لائف میں اپنی مرضی کا ساتھی مل جائے تو ساری عمر خوشگوار اور انہی بیتے دنوں کی یاد میں گزرتی ہے۔

گل زریں خاں کے دل میں بھی ایسی بہت سی خواہشیں تھی کچھ مہینوں بعد سب نے یہاں سے رخصت ہو جانا تھا ، سب نے واپس اپنی اپنی زندگیوں میں لوٹ جانا تھا، گل نے ان جذبات کو صرف اپنے زندگی کے ساتھی کے لئے ہی مخصوص کر رکھا تھا، وہ شادی سے پہلے محبت کی قائل ہی نہیں تھی ، مگر وہ اس کے سامنے سب کچھ ہار گئی ، اپنے تمام خواب ، اپنی تمام سوچیں ، اپنی محبت کی انتہا سب کچھ ہنسی خوشی اس کی گود میں ڈال دیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ نہ وہ اس کی زندگی کا ساتھی بنے گا اور نہ ہی وہ ان جذبوں کی قدر کرے گا۔

********************

آج آخری پیپر تھا سب لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے ہونے والے پیپروں کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، جب وہ ایک طرف کھڑی تھی تو وہ اس کے پاس چلا آیا، اور اس سے مخاطب ہو کر بولا گل آپ کے پیپر کیسے ہوئے ؟ وہ صرف اسے دیکھے جا رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں جھلکنے والے آنسو کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ پھر اس نے جب دوبارہ یہی سوال کیا تو اس نے دھیمے لہجے میں بتایا کہ اس کے پیپر نارمل ہوئے ہیں اور امید ہے وہی گریڈ برقرار رہے گا ۔

********************

جب پیر ختم ہوا تو اس نے گل سے بات کرنے کا سوچا اور اس کے پاس ایک ہی بہانہ تھا وہی پیپرز کے بارے میں پتہ کرنے کا، پھر وہ اس کے پاس گیا اس سے پیپرز کا پوچھا اور جب گل خاں نے اس سے پیپرز کے بارے میں پوچھا اور وہ ہنس ہنس کر اور لاپروائی سے بتاتا گیا۔ وہ کافی خوش تھا، اس کا تو پہلے ہی گریڈ کافی ہائی تھا۔
شاید وہ تھوڑا اور امپروو ہو جائے گا۔

پھر اچانک اس نے گل سے پوچھا،اب آپ کا آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟کیا کسی ادارے میں جاب کریں گی یا مزید تعلیم جاری رکھیں گی ؟

گل کچھ وقفے کے بعد بولی میرا خواب تو کسی گرلز کالج میں لیکچر شپ کا ہے مگر شاید ابھی تو میرے گھر والے میری شادی کر دیں گے ، اور پھر یہ میرے شوہر پھر منحصر ہو گا کہ وہ مجھے اس کی اجازت دیں گے یا نہیں۔

وہ کچھ لمحے چپ رہا اس کو دیکھتا رہا پھر اس کو وہی جملہ بولا جو سب اسٹوڈنٹ رخصت ہوتے وقت بولتے ہیں "وش یو آل دا بیسٹ فار یور فیوچر لائف" اور واپس جانے کے لئے مڑ گیا۔

********************

آج شاید گل کی آنکھوں نے اس کو آخری دفعہ دیکھا وہ جانتی تھی پھر ساری عمر کے لئے وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا، اس کا وہ جذبہ ابھی تک وہ جس کو کوئی نام نہ دے پائی وہ اسی طرح دم گھٹ کر دل کے کسی کونے میں دفن ہو جائے گا۔

وہ اس کو آخری دفعہ جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی، جب وہ جانے کے لئے مڑا تو گل نے آہستہ سے اس کا نام زندگی میں پہلی دفعہ پکارا، وہ بے اختیار واپس مڑ گیا ، وہ کچھ لمحے اس کو دیکھتی رہی، اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے جو صرف ایک ہی پیغام دے رہے تھے کہ گل خاں اس سے کتنا پیار کرتی ہے ، اسے کتنا چاہتی ہے۔ اس کا اوڑھا ہوا نقاب ان آنسوؤں سے تر تھا، پھر کچھ لمحوں بعد جب وہ بولا جی گل آپ نے پکارا تھا۔ تو وہ بولی کچھ نہیں اور روتی ہوئی گرلز سیٹنگ روم میں چلی گئی ، وہ اس کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی، وہ اس کو یہ احساس نہیں دینا چاہتی تھی کہ وہ اس کو زندگی کے ہر موڑ پر یاد کرے گی ، ایک پاکیزہ احساس کے ساتھ کہ اسے بھی کبھی کسی سے پیار ہوا تھا۔

********************

یوں یونیورسٹی کا دور ختم ہوا۔ گل خاں سے آخری ملاقات اور اس کی آنکھوں سے رواں آنسوں نے اس کو اتنا تو بتا دیا تھا کہ وہ اسے بہت چاہتی ہے۔ مگر شاید کچھ فیلنگز اس کے دل میں بھی تھیں ، مگر اتنی شدید نہیں کہ انکو کوئی نام دے پاتا۔

********************

وقت گزرتا گیا ، گل زریں خان کے فیملی اس کے لئے اچھا پڑھا لکھا لڑکا اور معزز گھرانہ ڈھونڈنے میں مصروف تھی ، تاکہ وہ جلدی سے شادی کے فرض سے بھی سبکدوش ہو سکیں۔

سنڈے کے دن گھر میں کچھ مہان آئے اس کے رشتے کے لئے ایک معزز خاتوں اور ساتھ ان کی بہو اور بیٹی، ان کو گل زریں خاں پہلی ہی نظر میں بھا گئی ، وہ تھی ہی بہت پیاری ، اور یوں گل زریں کے مستقبل کا فیصلہ بھی ہو گیا۔ مگر اس کو کوئی خوشی محسوس نہیں ہو رہی تھی ، شاید وہ اس کو اپنے دل و دماغ سے نکال نہیں پائی تھی۔

آخر اس کی فیملی نے جب اس سے رشتہ کے بارے میں رائے لی تو اس نے اپنے ہونے والے مجازی خدا کو دیکھے بغیر ہی ہاں کر دی اور اس زندگی کے باب کو جس میں کوئی اور اس کی سوچوں میں تھا دل میں تھا بند کرنے کی کوشش شروع کر دی ۔

********************

بیٹے میں نے تمھارے لئے ایک لڑکی پسند کر لی ہے اور فیملی بھی بہت اچھی ہے جیسی تم چاہتے تھے ، گھر میں سب کو پسند آئی ہے ، یہ لو اس کی تصویر دیکھ لو، چاند کا ٹکڑا ہے ماشاءاللہ ، مجھے جیسی بہو چاہے تھی بالکل ویسی ہی ہے۔

لڑکی کی تصویر دیکھتے ہوئے اک لمحے کو تو وہ اسے مانوس لگی ، اسے بھی لڑکی بہت پیاری لگی ، معصوم سی گڑیا جیسی ، نام کیا ہے اس کا، اس کی امی نے جواب دیا "زریں" بہت پیارا نام ہے۔

پھر وہ بولا امی آپ جانتی ہیں مجھے شادی کرنے میں کوئی جلدی نہیں مگر مجھے آپ سب لوگوں کی خوشی بھی بہت عزیز ہے ، اگر آپ سب کو پسند ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، یوں اس نے اپنی امی کو زریں کے لئے رضامندی ظاہر کر دی۔

********************

پھر شادی ہو گئی جس طرح عام ارینج میرج ہوتی ہے۔ ساری رسمیں پوری ہوئیں اور گل زریں خاں اپنی ماں باپ کا گھر چھوڑ کر اپنے پیا کے گھر آ گئی۔

اس کے لئے سب انجان تھے ، حتٰی کے اس کا شوہر بھی ، بہت ڈری ہوئی تھی ، سہمی ہوئی تھی کہ پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں، اس کے ساتھ کیسا سلوک کریں، ان تمام سوچوں کے باوجود اب اس نے یہی رہنا تھا، یہی اس کا گھر تھا، اس کی خوشیاں اور غم اب اس گھر سے منسوب تھے وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ دروازے پر آہٹ ہوئی اس کا شوہر کمرے میں داخل ہو رہا تھا اس نے نیچی نگاہ سے اپنے شوہر کو پہلی بار دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی رہ گئی، اس کو یقین نہیں آیا کہ وہ جو سامنے تھا وہ اس کا شوہر تھا ۔ وہی جس کے لئے وہ دن رات تڑپی تھی جس کو پانے کے لئے رب کے سامنے ہزاروں سجدے کئے تھے وہ آج اس کے سامنے تھا ، وہ ہی اس کا شوہر تھا۔ وہ اتنی خوش تھی کہ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ خوشی سے پورے جہاں کو بتا دے کہ رب نے اس کو وہ دے دیا جس کے بغیر اس کی زندگی نامکمل تھی۔

********************

کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی اس نے اپنی بیوی کو ایک نظر دیکھا وہ سر جھکائے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ پھر وہ اپنی الماری کی طرف بڑھا شاید کچھ ڈھونڈ رہا تھا، کہ اچانک اس کو محسوس ہوا کوئی اس کو دیکھ رہا ہے۔ بلکہ ویسے جیسے یونیورسٹی میں دیکھتا تھا۔ اس نے جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں پر اس کی بیوی سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس نے سوچا شاید وہم ہو گا۔ وہ دوبارہ پھر سہاگ رات کا تحفہ ڈھونڈ رہا تھا جو اس نے اپنی بیوی کو دینا تھا مگر پھر وہی احساس ان دو نینوں کی تپش اپنے پیچھے محسوس ہوئی۔ وہ بے اختیار کھڑا ہو گیا۔ اور بولا "گل" یہ سن کر اس کی بیوی نے آنکھیں اٹھائیں اور شرارت سے بولی "جی" ۔

وہ پھر بولا تم گل ہو نا، میری کلاس فیلو تمھاری آنکھوں کی تپش میں نہیں بھول سکتا، مگر میری بیوی کا نام تو "زریں" ہے ، تم کیا کر رہی ہو یہاں۔

********************

گل زریں خاں کا بہت دل کیا آج وہ بھی اس سے ایسی ہی شرارتیں کرے جیسے وہ یونیورسٹی میں کرتا تھا، سب کو تنگ کرنے کے لئے مگر وہ ایسا کر نہ سکی اور اس کو بولی میرا پورا نام "گل زریں خاں " ہے۔ اور میں ہی آپ کی زندگی کی ساتھی ہوں۔ اب تو یہ دو نیناں آپ کو ایسے ہیں تنگ کرتے رہیں گے جدھر جائیں گے آپ کا پیچھا کریں گے ۔ ان سے چھٹکار اب ممکن نہیں۔ اور ان کی تپیش میں آپ کو عمر بھر جلنا ہے

********************

آج وہ دونوں بہت خوش تھے، ان کی ارینج میرج محبت کی شادی میں بدل گئی گل تو اس سے پیار کرتی ہی تھی مگر آج ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بھی اس سے بہت پیار کرتا ہے اور اس کا اظہار بھی کر رہا تھا۔ شاید گل سے پیار کا جذبہ جس کو وہ کبھی کوئی نام نہ دے سکا ابھی تک اس کے دل کے کسی کونے میں چھپا بیٹھا تھا، جو ایک لمحے میں نکل کر باہر آ گیا، اس سے بڑھ کے اس کے لئے زندگی میں کبھی کوئی خوشگوار لمحہ نہیں ایا۔ اب ان زندگی میں صرف بہاریں ہی بہاریں نظر آ رہی تھیں۔

********************

کچھ لمحوں بعد گل زریں خاں اٹھی جلدی سے وضو کر کے آئی تاکہ شکرانے کے نفل پڑھ سکے اور اس ذات کا شکر ادا کر سکے جس نے اس کے دل کی گہرائیوں میں چپھی ہوئی تمنا اور محبت کو ہمیشہ کے لئے اس سے ملا دیا۔ وہ سجدے میں روتی رہی اور اس ذات کر بڑائی بیاں کرتی رہی ۔ شاید یہی ایک طریقہ تھا اس کی بڑائی کو بیاں کرنے کا اور اس کا شکریہ ادا کرنے کا۔

*********************