Afsana 049 کیا تمہیں محبت ہے؟ از آمنہ خورشید احمد

کیا تمہیں محبت ہے؟
از آمنہ خورشید احمد (امریکہ)

"محبت کو سمجھنا آسان نہیں"۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے سوچا۔۔۔۔۔"اور اصل محبت کو پانے میں اکثر ہم جلد بازی کر بیٹھتے ہیں اور اپنی راہ کھوٹی کر بیٹھتے ہیں۔۔۔۔"

************

سکول کے لان میں بیٹھے گپیں مارتے ہوئے اچانک ثمینہ نے ایمن سے سوال کیا "کیا تمہیں کسی سے محبت ہے؟"

ایک لمحے کو ایمن چونکی مگر پھر بہت اطمینان سے جواب دیا،"ہاں کیوں نہیں، امی سے ابو سے اور اپنی بہنوں سے۔۔۔۔ ۔"

"اوہ میں اس محبت کی بات نہیں کر رہی۔۔۔۔میں تو اصلی محبت کی بات کر رہی ہوں۔" ثمینہ نے جھلّا کر کہا۔

"میرے خیال میں تو یہی اصل محبت ہے۔" ایمن نے اطمینان سے جواب دیا۔

اس سے پہلے کہ ثمینہ محبت کے فلسفے پر کچھ اور علمیت جھاڑتی، گھنٹی بج گئی۔

**************

ایمن کو ثمینہ کی باتیں عجیب لگا کرتی تھیں مگر آج وہ خواہ مخواہ ہی ا سکی بات کے متعلق سوچے گئی کہ "کیا مجھے کسی سے محبت ہے۔۔۔۔ یا ہو سکتی ہے۔"

**************

ثمینہ کو آرام سے کسی بات کا پیچھا چھوڑنے کی عادت نہیں تھی، سو دو چار دن کے بعد وہ پھر ایمن کے ارد گرد تھی اپنے پرانے سوال کے ساتھ۔۔۔۔۔

"ارے بھئی مجھے اس قسم کی لغو باتوں میں پڑنے کا شوق نہیں۔۔۔۔"ایمن نے پست سے لہجے میں ٹالنے کی کوشش کی۔

ثمینہ کو اندازہ ہوا کہ وہ ایمن کو اپنی لائن پر لانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔۔۔۔۔

"آخر کوئی تو ہو گا،۔۔۔۔ کوئی کزن،۔۔۔۔۔کالونی میں کوئی لڑکا۔۔۔۔۔"۔ ثمینہ کو اپنے ساتھ کے لئے کوئی چاہئے تھا جو اس جیسی سوچ رکھتا ہو۔۔۔۔۔

ثمینہ کی بات پر ایمن خاموشی سے گھاس کے تنکے نوچنے لگی۔۔۔۔"کون ہو گا۔۔۔۔کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔"۔

ثمینہ نے ایمن کی حالت بھانپتے ہو ئے تاک کر تیر چھوڑا، "کیا خالہ کا بیٹا ہے۔۔۔۔"۔

"ہائیں۔۔۔۔"،ایمن چکرا کر رہ گئی۔ "نہیں تو۔۔۔۔۔"۔اس کے لہجے سے گھبراہٹ نمایاں تھی۔

*****************

ثمینہ جیسے لڑکیاں تو وقت سے پہلے ہی سب کچھ بھگتا چکی ہوتی ہیں اور اپنی ذہنی عیاشی کے لئے ایسی باتیں کرتی اور مگر ایمن کو اس نے الجھا دیا۔

گھر آ کر بھی ایمن اپنے سب کزن کے بارے میں سوچتی رہی اور پھر اس کو بڑی خالہ کے بیٹے سعد کا خیال آیا۔

"یہ میں نے پہلے کیوں نہ سوچا۔۔۔۔" ایمن کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔اس گرمیوں میں خالہ ان کے پاس رہنے آئی تھیں اور وہ اور سعد اکثر کیرم ، لوڈو، تاش وغیرہ کھیلتے تھے۔ پڑھتے بھی مل کر ہی تھے۔۔۔۔ دو سال ہی تو بڑا تھا سعد اس سے۔۔۔۔
۔

"اس بار جب خالہ کا فون آئے گا تو میں ضرور اس سے بات کروں گی۔۔۔۔" ایمن نے مطمئن ہو کر سوچا اور سونے کیلئے لیٹ گئی۔

************

صاف ستھرے ذہن تک شیطان کی رسائی ہو گئی تھی۔۔۔۔برائی ویسے بھی تیزی سے پھیلتی ہے۔۔۔۔ایمن نیک شریف ماں باپ کی اولاد تھی۔۔۔۔حد سے تو نہیں بڑھی مگر اب اس کی باتوں میں سعد کا بہت ذکر آنے لگ گیا۔

سعد نے بھی اس کی باتوں سے شاید یہ بھانپ لیا تھا اور ویسے بھی وہ لڑکا تھا۔۔۔۔اگلی گرمیوں کی چھٹیوں کی ملاقات میں دونوں کے رویے فرق تھے۔۔۔۔ہر انداز اور ہر بات سے ایک دوسرے کے لئے پسندیدگی جھلکنے لگ گئی تھی۔

****************

ایمن کے کالج پہنچنے تک سعد نے کارڈ دینے میں پہل کر کے اپنی محبت کا اظہار بھی کر دیا۔ ایمن کے پاس اب سوچنے کے لئے سعد کے سوا کچھ نہیں تھا۔

سعد بڑی خالہ کا اکلوتا بیٹا تھا اور خالہ اکثر کہتی تھیں کہ میں اس کی شادی جلدی کر دوں گی۔ ایمن یہ سن کر مطمئن ہو جاتی تھی۔۔۔۔بظاہر کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی۔

سعد کے باہر جانے کی وجہ سے کچھ دوری آ گئی مگر پھر بھی ایمن مطمئن تھی۔ کبھی کبھی اندر سے پشیمان بھی ہوتی کہ اگر امی ابو کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا۔ کبھی اسے لگتا کہ امی کو پہلے سے ہی پتا ہے۔بہت سی بے سروپا باتیں اسکے ذہن اور دل میں آتی رہتیں۔

***************

امی فون پر کسی سے تیز لہجے میں بات کر رہی تھیں جب ایمن نے گھر میں قدم رکھا۔

"کیا ہوا امی۔۔۔۔" ماں کی افسردہ شکل دیکھ کر ایمن نے پوچھا۔

"کچھ نہیں۔۔۔۔" امی نے فوراً چہرے کے تاثرات بدلے "تمھاری بڑی خالہ کا فون تھا۔۔۔۔وہ سعد کے لئے تمھارے ماموں کی امبر کا رشتہ مانگ رہی ہیں۔" امی نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔

"تمہارے ماموں نے تقریباً ہاں کر ہی دی ہے۔۔۔۔دسمبر تک شادی ہو جائے گی۔" وہ شاید سب کچھ ایک ہی بار میں کہہ دینا چاہتی تھیں۔

ایمن کو لگا جیسے سب کچھ رک گیا ہو۔۔۔۔ مگر یہ صرف چند لمحوں کی بات تھی۔۔۔۔نہ ہی چھت گری نہ ہی دل بند ہوا۔۔۔۔

مگرایمن بہت دن تک افسردہ رہی اور اپنے کمرے میں جاکر آنسو بہاتی رہی۔ امی نے اسے کہا تو کچھ نہیں مگر ایک دو بار لپٹا کر اسے پیار کیا۔ ایمن اکثرسوچتی کہ یہ کیسی محبت تھی۔۔۔۔

سعد کی شادی پر جانے سے پہلے امی نے اس سے صرف اتنا کہا کہ "مجھے پتا ہے ایمن میری سمجھدار بیٹی ہے۔۔۔۔" اس ایک جملے نے ایمن کو جتنا شرمندہ کیا شاید ہی وہ کبھی ہوئی ہو۔ دل میں سوچا "اگر سمجھدار ہوتی تو پانی پر گھر بناتی۔۔۔۔" ایک دشمن نما دوست کے کہنے میں آکر اپنے صاف ستھرے ذہن کو آلودہ کیا۔۔۔۔اور ماں باپ کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔

**************

شادی کے موقع پر اس کے ابو اور تایا میں لمبی چوڑی باتیں ہوتی رہیں۔ واپسی پر اسے پتا چلا کہ تایا جی نے اپنے بیٹے نصر کیلئے اس کا رشتہ مانگا ہے۔ ابو نے ایمن کی رضامندی جاننے تک کا وقت مانگا تھا۔

ایمن کے لئے یہ صورتحال بہت اچانک تھی۔ شادی پر سعد کی خوشی اس سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ اس کے کسی انداز سے کوئی ملال ، کوئی پچھتاوا نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایمن اپنا بھرم رکھتے رکھتے کئی بار ڈگمگائی مگر اسے اپنی انا بہت عزیز تھی۔

اس رشتے میں بظاہر کوئی برائی نہیں تھی۔ نصر انجینئر بن رہا تھا اور اس کا مستقبل روشن تھا۔ ایمن نے فیصلہ والدین پر چھوڑ دیا اس شرط پر کہ وہ ایم اے ضرور کرے گی۔

اس کی منگنی کافی دھوم دھام سے ہوئی۔ خالہ، سعد، امبر ماموں وغیرہ سب آئے۔ ناجانے کیوں ایمن کو لگا کہ سعد یہ سب ہوتا دیکھ کر خوش نہیں ہے۔مگر ایمن نے اس کی ذیادہ پروا نہیں کی اور نہ ہی اسے بات کرنے کا موقع دیا۔

*************

ایمن کو یونیورسٹی جاتے دو ماہ کا عرصہ ہوا تھا جب ایک دن نصر اس سے ملنے یونیورسٹی آ گیا۔ ایمن کے لئے یہ کافی حیرانی کی بات تھی کیونکہ نصر نے اس سے کبھی بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

سلام دعا اور حال احوال کے بعد دونوں خاموش کھڑے ہو گئے۔ پھر نصر نے ہی بات شروع کی۔۔۔۔

"یونیورسٹی میں کیسا لگا رہا ہے۔۔۔۔"

"اچھا۔۔۔۔ڈیپارٹمنٹ میں کافی لڑکیاں ہیں جن سے میری دوستی ہے۔ اچھا وقت گزر رہا ہے۔۔۔۔" ایمن نے جواب دیا۔

"لڑکے بھی تو ہوں گے۔۔۔۔" نصر نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

ایمن کا دل ایک ثانیے کو ڈوب کر ابھرا۔۔۔۔"ہاں ہیں تو ۔۔۔۔ پھر کیا؟"اس کے لہجے میں نجانے کیوں تیزی آ گئی۔

"دوستی ہے۔۔۔۔ان سے؟" نصر کی کریدتی ہوئی نظریں اس کے آر پار تھیں۔

"تم کیسی باتیں کر رہے ہو نصر۔۔۔۔؟"ایمن نے اسے ہمیشہ کی طرح تم کہہ کر پکارا۔

" تم نہیں۔۔۔۔آپ۔۔۔۔آپ!" نصر چلایا۔ "اسی لئے مجھے پڑھی لکھی لڑکیاں اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔پتا نہیں کتنوں سے دوستی کی ہو گی۔۔۔۔بے حجاب ۔۔۔۔۔بیباک۔۔۔۔"۔ نصر نجانے کیا کچھ کہہ رہا تھا۔ اردگرد موجود اکا دکا لوگ متوجہ ہونے لگے تھے۔

ایمن گھبرا گئی اور جلدی سے ڈپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اترتی چلی گئی۔

************

ایمن کو بہت دن سمجھ نہ آ سکا کہ کیا کرے ۔۔۔۔امی کو بتائے یا نہیں۔۔۔۔ابھی تو نصر کے نام کی عادی ہی ہوئی تھی، ایک نئے تعلق کو محسوس ہی کرنے لگی تھی کہ اچانک نصر کے رویے نے اسے پریشان کر دیا۔۔۔۔ وقت خاموشی سے گزر رہا تھا کہ ایک دن اچانک پھپھو چلی آئیں۔

وہ بہت دیر اکیلے میں امی ابو سے باتیں کرتی رہیں۔ ان کے جانے کے بعد ایمن کو پتا چلا کہ تایا جی لوگوں نے منگنی کی انگوٹھی واپس کر دی ہے اور رشتہ ختم کر دیا ہے۔

************

ایمن آج کل پڑھائی میں مصروف تھی۔ فائنل قریب آتے جا رہے تھے اور اسے لگ رہا تھا کہ تیاری بالکل نہیں ہے۔

پچھلے چند مہینوں میں جو کچھ ہوا تھا، ایسا تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ایک سے اس نے محبت کی کسی کے کہنے پر۔۔۔۔ جیسے کہ واقعی کرنے سے ہو ہی جائے گی۔۔۔۔دوسرے سے اس نے انسیت محسوس کرنی شروع کی ہی تھی کہ بندھن ختم ہو گیا۔

کئی ہفتے اس نے یہ سوچتے گزارے تھے کہ اس کی چھوٹی سی غلطی کی سزا کتنی بڑی ملی۔ لوگ تو سب کچھ کر کے بھی سرخرو ہو جاتے ہیں۔۔۔۔

بہت سی فکروں میں سے ایک فکر اسے یہ بھی تھی کہ وہ چار بہنیں تھیں اور ایک بھائی جو سب سے چھوٹا تھا۔ اور ابو کی ریٹائرمنٹ میں ایک سال رہ گیا تھا۔ اس کی منگنی کے بعد چھوٹی بہن کی منگنی بھی ابو کے کسی جاننے والوں میں ہو گئی تھی۔وہ لوگ اب شادی کا تقاضا کر رہے تھے۔

ابو کے ایک کولیگ اپنے بیٹے کے لئے تیسرے نمبر والی بہن کا رشتہ مانگ رہے تھے مگر ابو اس کی شادی سے پہلے کوئی اور فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔

"اللہ میرے حال پر رحم کر۔۔۔۔" ایمن نے لمبا سانس لیتے ہوئے کتاب پر نظریں جمانے کی بے سود کوشش کی۔

"ایکسکیوز می۔۔۔۔۔مس ایمن" پاس سے ایک آواز ابھری۔

ایمن نے سر اٹھا کر دیکھا تو سینیئر کا ارمغان اس کے سر پر کھڑا تھا۔

"جی فرمائیے۔۔۔۔"ایمن نے بے زاری سے اس کی طرف دیکھا اور دل میں سوچا، "اب پتا نہیں یہ کتنی دیر سر کھائے گا۔"

"ایمن مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔"

"جی کریں۔۔۔۔" ایمن نے لٹھ ماری۔

"میں آپ کو پسند کرتا ہوں۔۔۔۔"ادھر سے بھی شاید اسی بات کا انتظار تھا۔

"جیییییییی۔۔۔۔" ایمن کی جی اتنی اونچی اور لمبی تھی کہ لائبریری میں بیٹھے لوگوں نے سر گھما کر اسے دیکھنا شروع کر دیا۔

"کیا آپ بھی مجھے پسند کرتی ہیں،آپ مجھے کل تک سوچ کر جواب دے دیں۔۔۔۔میں پرسوں ہاسٹل چھوڑ کرجا رہا ہوں۔"ارمغان جس تیزی سے آیا تھا، اسی تیزی سے چلا گیا، یہ دیکھے بغیر کہ ایمن اس کی بات سمجھ بھی پائی ہے یا نہیں۔

ایمن کا منہ بہت دیر تک کھلا رہا۔

************

"محبت کو سمجھنا آسان نہیں"۔۔۔۔۔اس نے اپنے بیٹے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے سوچا ۔۔۔۔۔ "اور اصل محبت کو پانے میں اکثر ہم جلد بازی کر بیٹھتے ہیں اور اپنی راہ کھوٹی کر بیٹھتے ہیں۔۔۔۔"

ہوسپٹل کے بیڈ پر اپنے بیٹے کو پہلی بار دیکھتے ہوئے اس نے سوچا۔۔۔۔

"مجھ سے کم فہم اور کم عقل لوگ وقت سے پہلے ہر چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ تقدیر اپنے مقررہ وقت پر سب کچھ دے دیتی ہے۔۔۔۔ جسے ہم محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں ،وہ ہمارا بے قابو نفس ہوتا ہے۔۔۔۔صد شکر کہ اللہ نے مجھ پر ہمیشہ کرم کیا اور سیدھی راہ دکھا دی۔۔۔۔ورنہ میں اس لائق تو نہیں تھی"۔ بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے اس نے سوچا۔

"اب تو بتا دو کہ مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔۔" اس نے لجاجت سے کہا۔"کہیں ایسا تو نہیں کہ اب یہ برخوردار مجھ سے بازی لے جائیں گے۔" ارمغان نے بے بسی سے کہا۔

"آپ نے تو پسند کرنے کا پوچھا تھا، محبت کا تو نہیں۔۔۔۔" ایمن نے بے نیازی سے کہا۔

"تو اس کا بھی جواب کہاں دیا تھا تم نے۔۔۔۔جواب میں کہا تھا کہ گھر کا ایڈریس تو معلوم ہی ہوگا، اگر سنجیدہ ہو تو والدین کو بھیج دو۔۔۔۔۔" ارمغان نے چڑ کر اس کے لہجے میں نقل اتاری۔

"اور میں بھی ایسا عقل کا پورا تھا کہ فوراً رشتہ لے کر پہنچ گیا۔۔۔۔اور اب پچھلے ایک سال سے محترمہ سے اقرارمحبت چاہ رہا ہوں اور یہ ہیں کہ مان کے ہی نہیں دے رہیں۔" ارمغان کی بے بسی دیکھنے والی تھی۔

"یہاں موجود ہوں، آپکے سامنے ، آپکے بیٹے کے ساتھ۔۔۔۔کیا ابھی بھی کسی اقرار کسی دعوے کی ضرورت ہے کہ مجھے آپ سے محبت ہے۔۔۔۔"