Afsana 050 تیری محبت کو سلام از ناز حسین

تیری محبت کو سلام
از ناز حسین (کراچی، پاکستان)
(رائزنگ مون)

امی بہت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دیں ناں
ننھا علی ماں کے ساتھ چلتے ہوئے بھوک سے بیقرار تھا اسی لیے بار بار کھانے کا تقاضا کررہا تھا۔
ہاں بیٹا بس ابھی تھوڑی دیر میں نانو کا گھر آجائے گا ناں تو پھر کھانا کھلاؤں گی۔
عالیہ نے معصوم سے علی کو تسلی دی ۔ کل پھر احمد کو کام نہیں ملا تھا روز کی دہاڑی والے کام کا یہی حال تھا کسی دن کام مل جاتا اور کسی دن سارا دن خوار ہونا پڑتا مگر ضرورتیں تو یہ نہیں جانتیں ناں اور سب سے بڑی ضرورت بھوک تو بالکل بھی نہیں کہ آج کام نہیں ملا تو آج کھانا نہیں کھایا جائے۔ پیٹ تو کھانا ہر حال میں مانگتا ہے اور چھوٹے بچے کا ساتھ ہو تو اور مصیبت۔
تین بھائیوں کی اکلوتی بہن عالیہ کی شادی ماں باپ نے اپنے حساب سے تو بہت سوچ سمجھ کر کی تھی مگر واہ ری بیٹیوں کی قسمت، شادی کے شروع کے چار سال تو بہت ہی اچھے گزرے مگر پھر ایک دم سے زندگی دکھوں کے بھنور میں لپٹتی چلی گئی اور احمد کا بنا بنایا کام ٹھپ ہوگیا ایسے میں ڈھائی سالہ علی کی بڑھتی ہوئی ضرورتیں پریشانی میں اضافہ کا باعث بنتیں۔ احمد پوری کوششوں میں تھا کہ کہیں سے کوئی مستقل بنیادوں پر کام بن جائے مگر قسمت کو ابھی ان لوگوں کا امتحان مقصود تھا اسی لیے بے پناہ کوششوں کے باوجود کام کسی صورت بن کر نہیں دے رہا تھا۔ آج پھر عالیہ کو ماں کے گھر جانا پڑا تھا کئی دن سے احمد کو کچھ کام نہیں ملا تھاتو آج گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا اور ایسے وقت میں سوائے ماں باپ کے عالیہ کے کون کام آسکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون ہے۔
دروازہ کھولیں امی میں ہوں عالیہ ۔
ارے عالیہ کیسی ہو بیٹا۔
ٹھیک ہوں امی اور آپ سنائیں کیسی ہیں
بس بیٹا جی رہے ہیں اور تم سناؤ احمد کے کام کا کچھ بنا
نہیں امی لگے ہوئے تو ہیں مگر ابھی تک تو بس کچھ نہیں ہوا دعا کریں اللہ پریشانی کے یہ دن کاٹ دے۔
چلو تم پریشان نہ ہو اللہ بہتر کرے گا۔ اور علی کیسے ہو بیٹا،
نانو نانو مجھے کھانا کھانا ہے امی کھانا دیں ناں نانو کا گھر بھی آگیا۔
کیا مطلب عالیہ ابھی تک تم نے علی کو کھانا نہیں کھلایا دوپہر کے چار بجنے والے ہیں اور بچہ بھوکا ہے کچھ خوفِ خدا کرو
امی نے عالیہ کو ڈانٹتے ہوئے پوچھا۔
میلا پالا علی کیا کھائے گا ابھی نانو کھلائے گی۔
نانو میں نے پڈنگ کھانی ہے امی تو بناتی ہی نہیں ہیں۔
ارے میرے جان پڈنگ کھانی ہے ابھی بنواتی ہوں۔ عالیہ جاؤ علی کے لیے پڈنگ بناکر لاؤ۔
امی مت بگاڑیں اس کی عادتیں مجھے بہت پریشان کرے گا:
عالیہ نے دکھی لہجے میں ماں کو کہا

جاؤ عالیہ جو کہا ہے وہ کرو معصوم بچے کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا گلا کم سے کم میں نہیں گھونٹ سکتی جاؤ پڈنگ بنالو۔ کل ہی تمھارے بھائی مہینے کا سودا لائے ہیں سب کچھ کچن میں رکھا ہوگا اور ساتھ میں تھوڑے سے نوڈلز بھی بنا لینا۔ اور تم نےبھی کچھ کھایا ہے کہ نہیں رنگ دیکھو ایک دم پیلا پھٹک ہورہا ہے۔ اپنے لیے بھی کھانا نکال لاؤ
امی بھابھیاں کہاں ہیں۔ عالیہ نے کچھ گھبرا کر ماں سے پوچھا

عالیہ ابھی تمھارے ماں باپ زندہ ہیں اور تم اپنے ماں باپ کے گھر ہو کسی کی فکر مت کرو اور تمھاری بھابھیاں ابھی سو رہی ہوں گی تم جاؤ اور پریشان مت ہو۔
عالیہ اب کیسے بتاتی کہ ماں کی ڈانٹ کبھی بھی اس کو پریشان نہیں کرتی کیونکہ اس میں پیار تھا فکر تھی مگر بھابھیوں کی نظروں میں جھلکتا تمسخر اس کو پشیمانی کے گہرے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے اگر معصوم علی کا ساتھ نہ ہوتا تو کبھی بھی اپنی پریشانیوں میں ماں باپ کو تنگ نہ کرتی مگر اولاد کی محبت انسان کو کہاں کہاں مجبور کراتی ہے یہ صرف ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے

علی کے لیے پڈنگ بناتی عالیہ اپنی سوچوں میں مگن تھی کہ منجھلی بھابھی ،نمرہ کے لیے فیڈر بنانے کو کچن میں آگئیں
ارے عالیہ تم کب آئیں اور یہاں کیا کررہی ہو
راشدہ بھابھی میں بس تھوڑی دیر پہلے ہی آئی تھی تو امی نے بتایا آپ سو رہی ہیں علی پڈنگ کی ضد کررہا تھا تو سوچا تھوڑا سا خود ہی بنا دوں۔
ارے میں کہاں سوتی ہوں وہ تو بس سارا کام کرنے کے بعد دو گھڑی کمر سیدھی کرنے لیٹی تھی اور تم کہاں کچن میں لگی ہو مجھے بول دیتی میں علی کو پڈنگ بنادیتی۔ اور یہ دوسرے چولہے پر کیا چڑھایا ہے ہمممم نوڈلز اچھا یہ بھی علی ہی مانگ رہا تھا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منجھلی بھابھی نے کچن میں نظریں گھماتے ہوئے ایسے لہجے میں کہا کہ عالیہ شرمندہ ہوگئی۔
نہیں وہ تو بس امی نے کہا تھا تو میں !!!!!!!
ارے تو میں کچھ کہہ تھوڑا ہی رہی ہوں تمھارے بھائی کاگھر ہے جو مرضی کرو۔ ہم کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے۔
منجھلی بھائی یہ کہتی چلتی بنیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
فرحت اور شیریں تک خبر رسانی کا کام راشدہ نے بخوبی سر انجام دیا اب تینوں سر جوڑے بیٹھی تھیں۔
ارے راشدہ، شیریں میری تو سمجھ نہیں آتا عالیہ کا کروں کیا آئے روز چلی آتی ہے اور ہماری ساس صاحبہ ہیں بیٹی کی محبت میں بیٹوں کی پریشانی نظر ہی نہیں آتی ہے کل بھی تمھارے بھائی صاحب اتنا پریشان تھے کام کی طرف سے۔ سب کو نظر آتا ہے مگر ان ماں بیٹی کو نظر نہیں آتا اب کوئی کب تک کسی کو بھرے ان کا تو آئے روز کا تماشا ہے۔
بڑی بھابھی کی زبان زہر اگلتے سمے کسی بات کا لحاظ نہیں کر رہی تھی
ہاں نا دیکھیں بھابھی آپ تو جانتی ہیں میری شادی کو ابھی چار پانچ سال ہوئے ہیں سمیر کی تو پرائیوٹ جاب ہے پرائیوٹ جاب کا کیا بھروسہ اب اگر ہم دوسرں کا بھگتان ہی کرتے رہے تو اپنا کیا بنائیں گے۔
شیریں نے بھی خودساختہ مظلومیت کا پرچار کیا۔

ارے بھئی خدا لگتی کہوں ہمارے بچوں کی ضرورتیں اپنی بہت عالیہ کا کہاں تک کریں گے آج آجائیں عاصم بات کرتی ہوں ہم اپنے بچوں کے کھانے کے لیے منگوا کر رکھتے ہیں اور وہ عالیہ بی بی آتی اور اس فتنہ کو سارا کچھ کھلادیتی ہیں ہمارے بچوں کو تو کچھ ملتا ہی نہیں ہے۔ اور اوپر سے ہماری ساس صاحبہ بیٹی کو بھی کچھ نہ کچھ بھرتی رہتی ہیں
راشدہ میں فرحت اور شیریں سے کچھ زیادہ ہی شعلہ بیانی تھی ۔ اسی لیے ذرا بلند آواز میں بولی۔
علی کو کھانا کھلا کر عالیہ ابھی برتن رکھ کر کچن سے آ ہی رہی تھی کہ لونگ روم سے بھابھیوں کی باتیں سنائی دیں سب کچھ کئی دفعہ سنا ہوا ہونے کے باوجود دل کو ٹھیس سی لگی اور دو آنسو پلکوں کی نوک پر ٹک سے گئے اتنے میں عالیہ کو اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا تو ایک دم مڑ کر دیکھا ماں کھڑی بےبسی سے عالیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔
دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھ رہے تھےمگر کہنے کو کچھ الفاظ نہ تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
اچھا امی میں جارہی ہوں دعا کیجیے گا اللہ مشکلیں آسان کرے۔
ماں سے ہاتھ ملا تے ہوئےعالیہ نے کہا تو ایک دم مٹھی میں کچھ ہونے کا احساس ہوا
مٹھی کھولی تو کچھ روپے خاموشی سے ماں نے اس کے ہاتھ میں تھما دیئے تھے۔ عالیہ نے ماں کو محبت سے دیکھا اور اس کی آنکھ ماں کی محبت پر ڈبڈبا سی گئی
ہاں بیٹا خیر سے جاؤ اللہ کرم کرے گا فی امان اللہ۔
عالیہ ماں کے گھر سے جاتے ہوئے صرف یہ سوچ رہی تھی یہ مائیں کیسی ہوتی ہیں بناء کچھ کہے سب کچھ سمجھ جاتی ہیں بنانے والے نے ان کو کس مٹی سے گوندھا ہے کہ صرف دینا ہی دینا ان کو آتا ہے مخلص بے لوث دنیا کی سب سے سچی محبت صرف ایک ماں کی محبت ہے۔ ماں میری ماں تیری محبت تیری عظمت کو سلام۔