Afsana 051 حریص محبت ازشمسہ اکرام

حریص محبت
از
شمسہ اکرام،

لاہور، پاکستان۔

محبت پاکیزگی ہے لیکن جب یہ پاکیزگی کی حدوں سے نکلنے لگے تو محبت کے حصار سے بھی آزاد ہو جاتی ہے۔باقی بچتا ہےتعلق۔۔۔نفس اور خواہش کا تعلق۔۔اور دونوں تعلق ہی بے لگام ہیں۔انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں کہ احساس بھی باقی نہیں رہتا حصے آتا ہے تو افسوس اور ملا ل اور دونوں کا ہی کوئی مداوا نہیں
محبت بندگی ہے،اس میں تن کا قرب مت مانگ
کہ جسےچھو لیا جائے اس کی عبادت نہیں ہوتی
اس نے بو سیدہ سے دروازے پر کوئی تیسری بار دستک دی تھی تب ہی اک سترہ ، اٹھارہ سال کی لڑکی نے دروازہ کھولا۔میرا نام ملیح ہے۔۔۔ڈاکٹر ملیح احمد۔۔۔،آنے والے نے اپنا تعاروف کروایا۔آئیے۔۔۔،اس نے اک مسکان کے ساتھ انھیں اندر آنے کا رستہ دیا۔اندر داخل ہوتے ہی ڈاکٹر کو ابکائی آنے لگی۔گھر کیا تھا چھوٹا سا صحن اس کے بھی ایک کونے میں کچن نما کچھ بنا تھا۔ زرا فاصلے پر نل جس کی زمیں پانی گرنے سے سبز رنگ کی ہو چکی تھی۔اور بالکل سامنے ایک کمرہ۔کہ اس کی دیواریں اس قدر سیلن زدہ تھیں کہ بو کے تیز بھبھکوں کی وجہ سے اک لمحے بھی وہاں کھڑا ہونا محآل تھا۔ڈاکٹر نے اک نظر سامنے کھڑی لڑکی پر ڈالی جو کہیں سے بھی اس گھر کا حصہ نہیں لگ رہی تھی۔آپ کو فون میرے ڈیڈ نے کیا تھا۔۔۔، آرکٹیکٹ عرفان آفریدی نے۔۔،اس کا انداز ایسا تھا جسے کہہ رہی ہو کہ آپ بھاری فیس کی فکر ناں کریں۔ڈاکٹر نے شرمندہ ہوتے ہوئے مریض کے بارے پوچھا۔وہ اسے لیے اندر چلی آئی اور بد رنگ کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا جو مریضہ کے پاس رکھی تھی۔
میں نے ان کی کیس ہسٹری پڑھی ہے ان کی حالت ایسی نہیں کہ ان کو گھر میں رکھ کے ٹریٹمنٹ دی جائی۔۔۔،وہ بیٹھے بنا بولے۔اندازعجلت بھرا تھا۔
آپ فیس کی فکر نہ کریں۔۔۔لڑکی کو لگا کہ وہ اسی لیے ٹال مٹول رہے ہیں۔
اگر ان کو ہاسپٹل لے جایا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔۔۔،وہ مریضہ کی نبض چیک کرتے ہوئے بولے۔
نہیں آئی نےمنع کیا ہے کہ ان کو کسی صورت ہا سپٹل نہ لے جایا جائے۔
کمال ہے یہ کیا حماقت ہوئی یعنی جان چلی جائے لیکن وصیت پوری ہونی چاہیے۔۔،ملیح کے لحجے میں سختی در آئی۔اس نے سر جھٹکتے ہوئے مریضہ کا چہرہ اپنی جانب کیا اور دوسرے ہی لمحے ان کے بے دلی سے چلتے ہاتھ پھرتی سے حرکت میں آئے تھے۔
وقت چاہے کتنی ہی چہروں پے دھول کیوں نہ مل دے لیکن کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جن پر وقت کتنی ہی دھول کیوں نہ ڈالے وہ اپنی پہچان،اپنا اصل نہیں کھوتے۔برسوں جس شخص کو ڈھونڈا وہ اب ملی بھی تو کس حال میں۔۔۔،انو میری جانب دیکھو۔۔۔دل نے شدت سے نیم بےہوش وجود کو پکارا تھا۔
اسے آئے تین گھنٹے سے زیادہ ہو گئے تھے۔اسے جو اک لمحہ یہاں کھڑے ہونا عذاب لگ ہرا تھا اب اطمینان سے مریضہ کے سرہانے بیٹھا اس کے ہوش میں آنے کا منتظر تھا۔یہ آپ کی کیا لگتی ہیں۔۔۔،دل میں اودھم مچاتا سوال زبان پہ آیا تھا۔
آئی ہیں میری،انہوں نے مجھے پالا ہے ۔۔۔وہ محبت سے آئی کو دیکھنے لگی۔
ان کے رشتے دار۔۔،
معلوم نہیں یہ تیس سال سے ہمارے ہاں کام کرتی ہیں ان کا بیٹا ہے جو اسلام آباد ہوتے ہیں میں نے فون کر دیا تھا بس شام تک آجائیں گے۔۔۔ لفظ بیٹا پر ملیح کی سانسیں رکی تھی۔انہیں نہیں معلوم کہوہ اور کیا بول رہی ہے بس دماغ لفظ بیٹا پر اٹک گیا تھا۔

********************************
کب بھیج رہے ہو اپنے والدین کو میرے گھر۔۔،انوش اس کے برابرگاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی۔
کم آن انو۔۔،تم پر ہمیشہ شادی کا جنون ہی کیوں سوار رہتا ہے۔۔۔،ملیح جس کا موڈ اس وقت اور ہی داستان کے موڈ میں تھا اس کی بات سے جی بھر کے بدمزہ ہوا۔
ایسی بات نہیں ہے ملیح اب تو ہمارا ہاؤس جاب بھی ختم ہو گیا ہے اور مما کو آج کل میری شادی کا بھوت سوار ہے۔۔،وہ حقیقتا پریشان تھی۔
اپنی مما سے کہہ دو کہ تم میری امانت ہو اور میں ہی تمہیں لے کے جاؤں گا۔۔،اس نے پیار سے اس کے گال چھوئے۔انوش کو ہمیشہ کی طرح اس کا چھونا برا لگا۔اس کی خاموشی اس کے غصے کی گواہ تھی۔
کیا ہوا۔۔،وہ گاڑی چلاتے ہوئے بولا۔وہ جواب دیئے بنا باہر دیکھنے لگی۔انو تم لڑکیوں کو شادی کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے۔اس کا انداز مزاق اڑانے والا تھا۔
بات شادی کی نہیں ہوتی۔بات رشتوں کی ہوتی ہے۔۔۔انسان کی محبت چاہے کتنی ہی پاکیزہ کیوں نہ ہو ہمارے معاشرے میں اہمیت صرف شرعی اور قانونی بندھن کی ہوتی ہے۔۔۔،اس نے دل کی بھڑاس نکالی۔
۔او۔۔تو تمھارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رشتہ ناجائز ہے۔۔ اس نے اک جھٹکے سے گاڑی روکی گاڑی کے ٹائر بری طرح چرچرائے تھے۔
ناجائز نہیں تو جائز بھی نہیں۔۔وہ چڑی بیٹھی تھی۔
جب اعتبار نہیں ہوتا تو ہر دوسرے دن ملنے کیوں آتی ہو۔۔۔،وہ بھی تلخ ہوا۔انوش کچھ نہ بولی۔تمھاری نظر میں صرف جسم کے رشتوں کی اہمیت ہے دل کے رشتے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔،
میں نے ایسا کچھ۔۔۔
چپ بلکل چپ۔۔۔آئندہ ہم نہیں ملیں گے۔۔۔اس نے کہہ کے گاڑی سٹارٹ کی اور پھر انوش کے گھر جا کے روکا۔انوش نے اک نظر اس کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھا۔اور اتر آئی ملیح نے اک بھی نگاہ اس پہ ڈالے بنا گاڑی زن سے لے گیا۔انوش کی نگاہیں کتنی ہی دور تک اس کی گاڑی کا تعاقب کرتی رییں

********************************

پھر کتنے ہی بہت سارے دن گزر گئے۔بات کوئی اتنی بڑی بھی نہ تھی۔لیکن ملیح بری طرح خفا تھا۔وہ اس کی کوئی بھی بات سننے کو تیار نہ تھا۔
وہ ایسا ہی تھا شقی القلب انسان۔ذرا ذرا سی بات پر خفا ہو جانے والا۔بلا کا انا پرست اور ضدی۔ان سب کے باوجود انوش کو اس سے محبت تھی۔محبت کا دعوی تو وہ بھی کرتا تھا لیکن وہ محبت میں کسی حد کا قائل نہیں تھا جب کہ انوش محبت میں حد توڑتے جذبات کی قائل نہ تھی۔
اور یہی وجہ دونوں کے درمیان اکثر بدمزگی کا باعث بنتی۔ہر بار انوش کو ہی منانا پڑتا اب بھی وہ اسے کتنے ہی فون کر چکی تھی لیکن اس نے ایک بھی ریسیو نہ کیا۔بلکہ ہاسپٹل بھی نہیں آرہا تھا۔اس لیے انوش کی پریشانی بجا تھی
کہاں ہو تم۔۔۔،آخر اس نے فوں ریسیو کر لیا ۔۔۔۔،انوش نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
آؤ پھر بتاتا ہوں۔خلاف معمول وہ نرمی سے بولا۔
اور وہ اس سے ملنے چلی آئی۔یہی اس کی بڑی غلطی تھی۔محبت میں انسان کب کچھ دیکھتا ہے۔محبت تو خود میں اعتبار ہوتی ہے پھر بے اعتباری کیسی وہ سوچتی لیکن وہ بھول گئی تھی کہ محبت اور انسانون کے الگ الگ تقاضے ہوتے ہیں۔
دروازہ ہلکا سے دھکیلنے پر ہی کھلتا چلا گیاا۔اس نے اندر آ کے حنا (ملیح کی بہن) کو پکارا۔
آجاؤ انو۔۔۔،ملیح کے کمرے سے آواز آئی۔
کیا گھر پہ کوئی نہیں ہے۔وہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی پوچھ رہی تھی۔
نہیں۔۔۔ابھی مما اور حنا بازار گئی ہیں۔وہ نقاہت سے بولا۔انوش کو اپنی حماقت پے جی بھر کے غصہ آیا۔
باہر کیوں کھڑی ہو۔۔۔،اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔انوش کو عجب بےچینی نے گھیرا تھا۔وہ پلٹ جانا چاہتی تھی ملیح جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی اس کے کمرے میں نہیں آئے گی تب ہی اس نے نہ اٹھنے کی ایکٹنگ کی۔
انو یقین مانو اس وقت میں اٹھ نہیں سکتا اور بے ضرر شے بھی ہوں۔۔۔،اس کے یوں کہنے پہ انوش نے چونک کے اسے دیکھا۔وہ کبھی بھی ملیح کو ملنے سے نہیں گھبرائی پھر کیوں آج اس کے دل کی دھڑکنیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں اس کے باوجود وہ ان بے یقین دھڑکنوں کو نظر انداز کرتے اندر چلی آئی۔
بیٹھو۔۔۔،اس نے بیڈ کے کنارے اس کے لیے جگہ چھوڑی۔وہ بیڈ پر بیٹھنے کے بجائے قریب پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔
کیا ہوا تمھیں۔۔
تمھاری جدائی نے بے حال کر دیا ہے۔۔۔۔وہ بے دھڑک بولا۔انوش کے کان کی لویں تک سرخ ہوئی تھیں۔تم کیسی ہو۔۔،وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
انوش کی آنکھیں بھر آئیں۔"کیا ہوا تمھیں۔۔۔"وہ پرییشانی سے بولا۔"اوکے پلیز رونا مت میری وجہ سے تمھیں پریشانی ہوئی۔۔۔"اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔
اٹس اوکے.،انوش نے اسے اٹھنے سے روکا۔اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا اس کو کھانسی جو شروع ہوئی تو رکنے میں نہ آئی۔
انوش نے پانی کا گلاس ملیح کی طرف بڑھایا۔ملیح نے پانی پکڑنے کی بجائے اس کی کلائی کو تھام لیا۔اور اپنے اوپر جھٹکا دیا۔۔انوش اس کی حرکت پر بری ظرح گھبرائی ۔اس سے پہلے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا انوش نے اس کی کلائی پر بے حد زور سے کاٹا۔وہ
اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا ابھی وہ تلملا ہی رہا تھا کہ انوش پھرتی سے اس کے حصار سے نکل کے بھاگی تھی۔اس کی ایک جوتی اور بیگ وہیں رہ گئے۔یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس نے دروازہ لاکڈ نہیں کیا تھا۔وہ گاڑی میں بیٹھی اور زن سے گاڑی لے اڑی۔اس نے اپنے پیچھے ملیح کو چلّاتے سنا تھا۔ وہ ا س قدر خوفزدہ تھی کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ کس جانب جا رہی ہے۔اس نے انجان لیکن پر رونق جگہ جا کے گاڑی روکی۔اپنی بے بسی اور ملیح کی بے وفائی پر اسے ٹوٹ کے رونا آیا۔اور وہ شدت سے رو دی

********************************

ایسی چپ اور بے یقینی اس کے حواسوں پر سوار ہوئی وہ جو شادی کے نام پر بدک جایا کرتی تھی اس نے خود کو حالات کے دھارے چھوڑ کر ڈوبنے کا تماشہ دیکھا اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ اس کی شادی کس سے ہو رہی ہے۔کبھی کبھی کچھ لمحے انسان سے اس کے سارے یقین اور اعتبار کو چھین لیتے ہیں۔اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا دل میں ارمان جیسے مر گئے تھے،کسی کی چھیڑ خانی نے اس کے دل میں کوئی ہلچل نہیں مچائی تھی۔جذبات ایسے ٹھنڈے تھے کہ نئے رشتے کے نرم گرم احساسات نے بھی ان کو نہیں پگھلایا تھا۔tcsسے جب اس نے اپنا بیگ اور جوتا موصول کیا تو احساس ندامت سے اس کی روح تک رو دی تھی۔

اس نے سوچا تھا کہ شادی ہو گی تو ماضی بھی دفن ہو جائے گا لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔اس کا ماضی اس کا حال بنا اس کے سامنے تھا اس کی شادی اس ملیح احمد سے ہوئی تھی جس نے اس کی زندگی سے اعتبار اور یقین کو بے یقینی کی سولی چڑھایا تھا۔
جی پارسا بی بی کیسا لگا میرا سرپرائز۔۔۔،وہ دلہن بنی انوش کو دیکھتے ہوئے بولا۔
انوش کے جسم سے جان نکلی تھی۔محبت کا یہ روپ بھی ہوتا ہے اسے آج احساس ہوا۔جب دل نہیں چاہتا تب دعائیں کیوں قبول ہوتی ہیں۔۔وہ خدا سے شکوہ کرنا نہیں چاہتی تھی پھر بھی اس کے دل میں شکوہ آگیا۔اور خدا سے شکوے جیسی دعا نے فورا قبولیت کی سند لی تھی۔ملیح نے اسے طلاق دے کر اس کی پارسائی کو ایسا داغدار کیا تھا کہ فرشتے بھی کانپ اٹھے تھے۔سارے قبول و ایجاب چھین کے اسے صحرا کی اس تشنگی کے حوالے کیا تھا کہ آنے والی نسلیں بھی محبت سے توبہ کر بیٹھی تھیں۔ محبت کے نام پہ وہ ایسی لوٹی کہ بن باس سزا کاٹی نامحرم بنا کےمحرم کی طرح رات گزاری۔ اس کی ہر ہر فریاد رات کی تاریکی میں ایسے ڈوبی کہ پھر تمام عمر اسے صبح کا تارہ نہ ملا۔۔جانے کیسی اس کے اندر بدلے کی آگ لگی تھی کہ صبح ہوتے ہی وہ اپنی بات سے مکر گیا۔کوئی بھی انوش کی بات ماننے کو تیار نہ تھا سب اس سے ثبوت مانگتے اور کوئی ثبوت ہی تو اس کے پاس نہ تھا۔جب رشتے بے اعتبار کرنے لگیں تو پھر اعتبار کہیں سے نہیں ملتا۔اس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔اک لمحہ لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں یا تو رکھیل بن کے ساری عمر اس کے ساتھ رہے یا۔۔۔۔۔۔اک جھرجھری نے اس کے اندر باہر انگارے بھر دیے تھے۔جو کچھ کھو چکا تھا وہ واپس نہیں مل سکتا تھا لیکن جو تھا وہ اسے بچانا تھا۔اور فیصلہ ہو گیا
چلو میری جان۔۔۔آج پھر تمھیں خود کے لیے تیار کروانے لے چلوں۔۔۔ملیح اس کے گرد باہیں ڈالتے ہوئے بولا۔انوش بدک کے پچھے ہوئی۔
اس دن مجھے اگنور نہ کرتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔شادی تو تم سے ہی کرنی تھی لیکن تم پہ تو پارسائی کا بھوت سوار تھا۔اب ساری عمر اپنی پارسائی کا ماتم کرو۔۔۔اس کی ہنسی میں ایسی شیطانیت تھی کہ انوش کا دل ڈوب کے رہ گیا۔
وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل دی،کبھی نہ پلٹنے کے لیے۔اس نے پارلر کے باہر اسے چھوڑا تھا ۔جہاں سے انوش کو آزمائش کے سفر پر نکلنا تھا۔اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یوں بے سائبانی بھی اس کا مقدر ہو سکتی ہے
وہ تو خود کو قسمت کا دھنی سمھجتی تھی۔لیکن جب رشتوں کی بے اعتنائی ہو تب قسمت کا پتہ چلتا ہے۔
راہوں کی دھول چاٹتے خود کے زخمی اور شکستہ وجود کو سمیٹتے وہ لاہور آئی تھی۔کتنے گھنٹے اس نے کھانے پینے ،سونے جاگنے کے احساس کے بنا گزارے تھے اسے خود بھی نہیں معلوم تھا۔کبھی کبھی تو قریب بیٹھے مسافروں کو اس کی موت کا شبہ ہونے لگتا تھا اس لاہور میں اس نے اپنی زندگی کے تیس سال گزارے۔ اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے کو خود سمیٹا۔ایک ڈاکٹر نے اک شخص کی اعتباری کی وجہ سے نوکرانی کی زندگی گزاری۔ اک وقت تھا جب رشتوں نے نہ اسے پناہ دی تھی نہ اعتماد تب اسے لگتا تھا کہ زندگی ختم ہو گئی ہے۔لیکن اللہ سے بڑا کون کس کا آسرا ہو سکتا ہے اسی اللہ نے اپنے بندوں کو اس کا سہارا بنا کے بھیجا۔اس کو رشتوں کے بنا جینا نہیں آتا تھا وہ ہمشہ اکیلے رہنے سے ڈرتی تھی۔لیکن ایک وقت آیا جب اس نے اپنی زندگی کے تیس سال گزارے۔بنا رشتوں کے۔بنا ان کو یاد کیے۔یاد تھا تو بس خدا یا وہ یادیں جن کو وہ بھولنا نہیں چاہتی تھی۔سزا کے طور پے یا شاید جزا کی خواہش میں۔۔۔

********************************

تیس سال گزر گئے۔جس کی چاہ میں ملیح آج تک بھٹک رہا تھا وہ ملی بھی تو کس حال میں ۔۔احساس جرم نے اسے اندر تک مار دیا تھا۔وہ جو ایک بار صرف معافی کے لیے اسے ملنا چاہتا تھا اپنے سنگین جرم میں اسے معافی کی کوئی وجہ نہ ملی ۔پھر بھی وہ اسے ملنا چاہتا تھا۔اور وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے ملنے بھی چلا آیا۔
کس رشتے سے ملنا چاھتے ہیں۔۔۔راشد کے اس سوال نے اسے ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل تھا۔کوئی رشتہ ہی تو نہیں تھا اس کے پاس۔پھر بھی اس نے مشکل سے راشد کو رضامند کیا۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی یہ کوشش بےکار ہے۔انوش نے جن اجنبی نظروں سے اسے دیکھا وہ شرمندگی کے سمندر میں غرقاب ہو کے رہ گیا۔

اگر معافی مانگنے آئے ہو تو زحمت نہ کرنا۔۔نہ میں معاف کروں گی نہ تم اس لائق ہو۔۔۔اسے بولنے میں دشواری ہو رہی تھی۔
ایک بار انو۔۔۔،وہ رو دینے کو تھا۔
سات جنم بھی لو تب بھی نہیں۔۔۔، اس نے نفرت سے کہا۔
میں نے غلطی کی اس کی سزا آج تک بھگت رہا ہوں۔مجھے معاف کر کے سکون دے دو۔۔۔،وہ رو پڑا۔
۔تم نے غلطی نہیں گناہ کیا تھاجو سزا ملی وہ بھی کم ہے۔میں نے بنا جرم کے سزا کاٹی ہے۔۔اس کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔۔
انو۔۔۔۔
میں نے اپنی زندگی کے تیس سال بے حد عزت سے گزارے ہیں آخری لمحوں میں بےعزت اور بے راز نہ کرو۔۔۔وہ منت سے بولی۔ملیح کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
بس ایک بار میری سن لو۔۔۔وہ بے چین ہو کے اس کے قریب آیا۔
پہلے میری زندگی کے تیس سال مجھے لوٹا دو،مجھے میرے رشتے واپس کر دو۔۔۔،کیا تم ان لمحوں کی تکلیف کو لوٹا سکتے ہو جو میں نے تمھارا ناجائز بیٹا جنم دینے میں اٹھائی۔۔۔۔انوش کا دل سینے سے پھسلنے لگا تھا۔ملیح نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
جاؤ ملیح احمد تم غلط وقت میں آئے ہو۔میں تمھیں معاف کرنا تو دور کی بات معاف کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔اس کی آواز بند ہونے لگی تھی۔
ملیح نے شکست خوردگی سے اسے دیکھا اور پلٹ آیا۔دروازے کے بیچوں بیچ راشد نفرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ بے قرار ہو کے اس کی جانب بڑھا۔۔
دروازہ ادھر ہے۔اس کے لہجے میں زمانے بھر کی بےرخی تھی۔اک کسک اک تشنگی اور اس کی جھولی میں آن گری۔راشد تیزی سے انوش کی جانب بڑھا
ماں ۔۔۔،اس نے پہلی اور آخری بار اسے پکارا تھا ورنہ وہ تو ھمیشہ اس کے لیے بس آئی تھی۔راشد نے بےبسی سے اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو تھاما۔۔۔روح قفس کے پنجرے سے آزاد ہوچکی تھی۔وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دیا۔

********************************