Afsana 053 میرا سایہ از دانیہ

میرا سایہ
از دانیہ

بچپن سے لڑکپن تک کوئی دن مجھے تو نہیں یاد کہ ایسا گیا کہ عالی میرے ساتھ نہ ہو۔۔۔میں جب بھی اپنے ماضی میں جھانکتا ہوں مجھے اپنا ہاتھ کبھی خالی نظر نہیں آیا ہمیشہ اس ہاتھ پر عالی کا قبضہ ہوتا ہے ۔۔عالی میرا خالہ زاد بھائی اور دوست بقول خود اسی کے کہ اس نے مجھے ہمیشہ اپنا چھوٹا بھائی اور دوست مانا ہے اور باقی سب کا بھی یہی ماننا ہے اور میں ، میں عالی کو کیا سمجھتا ہوں یہ کبھی کسی نے پوچھا ہی نہیں۔۔۔

عالی مجھ سے تقریبا" ڈیڑھ سال پہلے خالہ کی گود میں آیا اور خالہ کی گود اس سے پہلے ہی خالی نہ تھی بلکہ اچھی خاصی بھری ہوئی تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اب مزید اس میں جگہ ہی نہ تھی ۔۔یعنی عالی صاحب میری طرح اکلوتے نہیں تھے بلکہ چار بہنوں اور دو بھائیوں کے بھائی ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔۔۔ٌپھر بھی دل نہ بھرا اور مجھے بھی اپنا ہی بھائی ماننے پر مصر
تھے۔۔۔

مجھے وہ دن تھوڑا تھوڑا سا یاد ہے جب خالہ نے اپنے چھوٹے لاڈلے کو اسکول میں داخل کروایا ۔ اُس کا نیا بیگ نیا یونیفارم آیا جس کو میں نے بھی خاصی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا تھا مگر جب اس کو استعمال کرنے کی یعنی اسکول جانے کی باری آئی تو عالی صاحب نے انکار کر دیا۔۔اسکول جانے سے نہیں اکیلے اسکول جانے سے ۔ وہ پیر پٹخ پٹخ کر رونے لگا

"مجھے تیمور کے ساتھ اسکول جانا ہے ۔ تیمور بھی اسکول جائے گا"

اور اس کے رونے پر میرے ابا جی کو اتنا پیار آیا کہ فورا" بول پڑے

"ہاں بھئی بچے کی عمر ہی کیا ہے اگلے سال چلا جائے گا اسکول ۔۔اچھا ہے تیمور بھی اکیلا نہیں ہو گا "

یوں عالی صاحب اتنے بڑے ہو کر اگلے سال میرے ساتھ اسکول جانے لگے ۔ اور اس طرح وہ اور میں شروع سے ہی ایک ہی جماعت میں رہے ۔ مجھے بھی عالی کے ساتھ کی عادت پڑ گئی ۔ اس کی موجودگی میں میرا کوئی اور دوست بھی نہ بن سکا ۔ جیسے ہی کوئی بچہ مجھ سے دوستی کرنے آگے بڑھتا عالی فورا" بیچ میں آ جاتا
"تیمور کا بیسٹ فرینڈ میں ہوں۔ اسے کسی اور دوست کی ضرورت نہیں"

گھر ،اسکول ،کھیل کا میدان ہر جگہ وہ میرے ساتھ ساتھ ہی رہتا ۔ پڑھائی میں اس کا دماغ مجھ سے کہیں زیادہ تیز تھا ۔ حساب کے سوالات وہ منٹوں میں حل کر لیتا ۔ اور اس کے بعد مجھے بھی دوبارہ سمجھا دیتا ۔ بلکہ صرف حساب ہی کیوں سائنس ،جغرافیہ ،انگریزی ہر چیز میں ہی وہ مجھ سے بہتر تھا۔ میں امتحانات میں بمشکل پاس ہو رہا ہوتا اور وہ جماعت میں اول یا دوئم ہوتا ۔ نویں جماعت میں تو میری حیرت کی کوئی انتہا ہی نہ رہی جب اس نے سائنس نہ پڑھنے کا اعلان کیا۔ سائنس نہ پڑھنا میری تو مجبوری تھی کہ ٹیچرز نے کم نمبر آنے پر مجھے کامرس گروپ دے دیا تھا مگر عالی تو اس سال دوئم نمبر پر آیا تھا۔ گھر میں سب کے
سمجھانے پر اُس نے کہا

"سائنس پڑھنے میں کیا رکھا ہے ڈاکٹر یا انجینئر بنو اور بعد میں نوکری کے لئے جوتیاں چٹخاؤ ۔ میں کامرس پڑھوں گا تاکہ بعد میں ایم بی اے وغیرہ کر سکوں"

اس طرح وہ اور میں پھر ساتھ ہو گئے ۔۔لیکن جانے کیوں مجھے عالی سے الجھن ہونے لگی تھی ۔ مجھے اپنی ذات عالی کے کہیں پیچھے نظر آتی تھی ۔ ہر جگہ جہاں میں اور وہ ہوتے سب لوگوں کی توجہ اس کی جانب ہو جاتی چاہے وہ گھر ہوتا یا درسگاہ۔ گھر میں وہ ہر ایک سے اٹیچ تھا ہر ایک کے کام آتا کہ خودبخود تعریفیں سمیٹے جاتا اور پڑھائی میں سب استاد اس کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے۔ میں یہ سب دیکھ کر اندر ہی اندر گھٹن کا شکار ہوتا رہتا۔ مانا وہ میرا اچھا دوست ہونے کا دعویٰ کرتا تھا لیکن مجھے اپنے اندر اس کے لئے ایسے کسی احساس کی موجودگی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔خیر انٹر کرنے کے بعد عالی نے یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کا ارادہ کیا۔ چاہتا تو میں بھی یہی تھا مگر انٹر میں نمبر کم آنے کی وجہ سے مجھے داخلے کی امید نہیں تھی ۔

پھر میں نے اور عالی نے معاشیات کے شعبہ میں اپلائی کیا ۔ مجھے تو اس شعبہ میں اپنے داخلے کے امکانات صفر نظر آتے تھے کہ میرے نمبر ہی اتنے نہ تھے ۔ عالی نے ہی کہیں کسی دوست کو ڈھونڈ ڈھانڈ کے سفارش لگوائی اور میرا نام بھی میرٹ لسٹ میں آ گیا۔

یونیورسٹی کا پہلا دن ۔ میری خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہ تھا۔ اس دن میں اندر سے تھوڑا ڈرا ہوا بھی تھا ۔ ریکگنگ کے اتنے بے شمار قصّے سنے تھے کہ دل کسی کو بھی اپنی جانب دیکھتے کانپ سا جاتا لیکن عالی کو ایسا کوئی ڈر خوف نہ تھا۔ وہ خود اعتمادی سے چلا جا رہا تھا اور ہم شعبہ میں پہنچ گئے ۔ وہ سب جو سنا تھا ایسا کچھ نہ ہوا ہماری کلاس ہوئی ۔سب کا تعارف ہوا ۔ میں نے بھی لرزتے دل اور کانپتی زبان سے اپنا تعارف کروا دیا۔ لڑکیوں کے ساتھ پڑھنے کا ہمارا پہلا تجربہ تھا ۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا میں نے عالی سے ذکر کیا تو وہ ہنس پڑا ۔۔
"یہاں سب پڑھنے آتے ہیں ۔ لڑکا لڑکی کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تم بھی آرام سے رہو"

سبیکا ہماری کلاس فیلو تھی۔ اور شاید پہلی لڑکی بھی جس نے میری کزنز کے علاوہ مجھ سے بات کی ۔ اُس دن میں اکیلا ہی یونیورسٹی آیا تھا کیونکہ عالی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔ اور شاید اتفاق سے اس دن اس کی فرینڈ بھی غیر حاضر تھی ۔ میں لائبریری کی طرف جا رہا تھا کہ اس نے مجھے روک لیا
"تیمور ! کیا آپ لائبریری جا رہے ہیں "
"جی" میں نے اثبات میں سر ہلایا
"اصل میں آج میری فرینڈ بھی نہیں آئی کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتی ہوں " میں نے کہا "کیوں نہیں " اور ہم دونوں ساتھ چلنے لگے ۔ راستے میں وہ ہی زیادہ تر بات کرتی رہی اور میں ہوں ہاں میں جواب دیتا رہا لائبریری تک پہنچ کر میری جھجک بھی اچھی خاصی دور ہو چکی تھی ۔۔ہم دونوں نے وہاں کافی ٹائم گزارا اسائمنٹ بھی کیا اور ہلکی پھلکی بات چیت بھی کرتے رہے ۔ واپسی میں کینیٹین میں چائے پی اور گھروں کا رستہ لیا۔

دوسرے دن میں گھر سے یہی دعا کرتے ہوئے نکلا کاش آج بھی اس کی فرینڈ نہ آئے اور عالی ! ہاں عالی بھی " میرے دل نے کہا ۔ لیکن جیسے ہی میں نے گیٹ سے باہر قدم نکالا ۔ عالی وہاں کھڑا میرا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے ہاتھ ملایا اور بس اسٹاپ کی جانب قدم بڑھا دیئے ۔ "ارے میری طبیعت بھی نہ پوچھی تم نے ۔ کیسے دوست ہو "
عالی نے کہا

"میری بلا سے چار دن اور بیمار رہ جاتے " میں نے زیر لب کہا
"ہاں اب تو ٹھیک ٹھاک نظر آ رہے ہو تو کیا پوچھتا " میں نے جیسے پتھر دے مارا۔

"چل چھوڑ اچھا ہی ہوا میں نے کل اسائنمنٹ پورا کر لیا تو بھی دیکھ لینا"

اس نے بات پوری ہی کی کہ بس آتی نظر آئی میں آگے بڑھ گیا۔

یونیورسٹی پہنچ کر بھی میں دانستہ طور پر اس سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتا رہا ۔ کلاس میں بھی الگ بیٹھا ۔ پہلی کلاس ختم ہوئی تو میں باہر نکلا۔ سبیکا اپنی دوست کے ساتھ کھڑی نظر آئی ۔ مجھے دیکھ کر مسکرائی اور اپنی فرینڈ سے کچھ کہہ کر میری جانب آئی ۔

"تیمور آپ کل اسائمنٹ کر رہے تھے یہ پانچواں سوال ہوا آپ سے " اس نے ابھی اپنی بات مکمل ہی کی تھی کہ بیچ میں عالی آ گیا
" جی سبیکا جی ۔۔یہ سوال تو بہت آسان تھا اس میں بس انفلیشن ریٹ کو چیک کرنا تھا ۔ لائیے پیپر میں آپ کو سمجھاتا ہوں" اور وہیں بیٹھ کر سبیکا کو سمجھانا شروع ہو گیا

اس وقت میرا جی چاہا کہ کاش مجھے جادو آتا ابھی کبوتر بنا کر عالی کو وہاں سے اُڑا دیتا ۔ اپنا آپ مجھے وہاں مس فٹ لگنے لگا میں وہاں سے جانے لگا تو عالی نے آواز دے کر پھر روک لیا " ارے رکو میں ساتھ ہی چلتا ہوں یہ سوال تو حل ہو ہی گیا "
سبیکا کے چہرے پر میری نظر پڑی ۔ وہ مسکرا کر عالی کا شکریہ ادا کر رہی تھی ۔ مجھے لگا میرے اند ر غصّے اور حسد کی ایک شدید لہر اٹھی ہے جو سب جلا دے گی ۔ ۔۔میں وہاں سے روانہ ہو گیا ۔
دن بھر بھی میں اس سے الگ الگ ہی رہا ۔ سبیکا سے میری ایک دو بار بات بھی ہوئی لیکن گفتگو کا محور صرف عالی کی ذات ہی رہی
"تیمور آپ بہت خوش نصیب ہیں اتنا پیارا محبت کرنے والا شخص آپ کا بھائی اور دوست ہے" سبیکا نے مجھ سے کہا

اور میں اب عالی سے بھاگنے لگا تھا ۔وہ مجھے اپنا سایہ لگنے لگا تھا جس سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ایک ہفتہ میرا یہی معمول رہا ۔ آخر عالی نے مجھ سے پوچھ ہی لیا
"کیا ہوا ہے تیمور ناراض ہو کیا ۔۔اتنے دن سے بڑے بدلے ہوئے لگ رہے ہو"
"نہیں تو تم کیا چاہتے ہو تمہارا دم چھلا بن کر گھومتا رہوں ہر جانب ۔ کیون میرا سایہ بن گئے ہو ۔ گھٹن ہوتی ہے مجھے تمہاری موجودگی سے ۔ بچپن سے اب تک کبھی تو اکیلا چھوڑ دو ۔ ہر جگہ میرا پیچھا کیوں کرتے ہو ۔ میری بھی زندگی ہے مجھے بھی آزادی سے جینے دو ۔ "
میں جیسے پھٹ پڑا ۔ بچپن سے لے کر اب تک جیسے لاوا سا پکتا آیا تھا میرے اندر ۔ میں وہاں سے بھاگ آیا ۔ مجھے کیا ہو رہا تھا مجھے خود علم نہیں تھا ۔ میں ایسا کیوں کر رہا تھا میں خود نہیں جانتا تھا ۔ مجھے تو غصے کے عالم میں عالی کا حیرت زدہ چہرہ بھی نظر نہیں آیا تھا اس کی بات بھی پوری نہیں سنی تھی میں نے جو وہ کہنا چاہ رہا تھا ۔ بس میں وہاں سے بھاگ آیا ۔
کچھ دن اور اسی طرح گزر گئے ۔۔پڑھائی یونیورسٹی اسی طرح چلتی رہی ۔ ایک بندے کو ناراض کیا کیا مجھے لگتا تھا ساری دنیا مجھ سے ناراض ہو گئی ہے ۔ کسی چیز میں دل نہیں لگتا تھا ۔ اس دن صبح میں تیار ہو کر یونیورسٹی جانے نکلا باہر عالی میرا ویٹ کر رہا تھا ۔ کہنے لگا
" آج یونیورسٹی کے حالات خراب ہونے کی خبر ہے مت جاؤ "۔
"میں سر عارف کی اتنی اہم کلاس مس نہیں کر سکتا ۔ تمہاری طرح ذہین نہیں ہوں میں کہ ایک دو کلاس چھوڑ بھی دوں تو فرق نہ پڑے "
میں اس کو جواب سے کر آگے بڑھ آیا ۔۔یونیورسٹی پہنچا اور کلاس میں داخل ہو کر اپنی سیٹ سنبھال لی ۔ تھوڑی دیر میں عالی بھی آ گیا "میں نے ایک طنزیہ مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھا اور لیکچر میں مگن ہو گیا
کلاس شروع ہوئے تھوڑا ہی ٹائم ہو ا تھا کہ باہر کچھ لوگوں کے بھاگنے کی آواز آنے لگی ۔ اور دور کہیں سے فائر کی بھی آوازیں آئیں
"بھاگو کلاس ختم کرو شدید گڑ بڑ ہو رہی ہے یونین کے لڑکوں نے پستولیں نکال لی ہیں ۔ جلدی گھروں کو جاؤ" باہر کسی نے چیختے ہوئے کہا ۔
"سر عارف بھی کلاس چھوڑ کر باہر نکل گئے ۔ ہم سب اپنی کتابیں سمیٹ کر نکلنے لگے۔ مجھے عالی نے آواز دی ۔
"تیمور پیچھے کے دروازے سے نکلو ۔ یونین کے لڑکے سامنے ہیں" میں سنی ان سنی کر کے آگے کے دروازے سے ہی باہر نکلا۔ ابھی کچھ قدم ہی چلا تھا کہ سامے سے لڑکوں کا گروپ آتا دکھا ۔ وہ نعرہ بازی اور فائرنگ کر رہے تھے ۔ میں نے پلٹنا چاہا مگر عالی کو اپنی جانب آتے دیکھا ۔ میں نے پھر اسی راستہ پر قدم بڑھا دیئے ۔
"تیمور ہٹو فائرنگ" عالی نے بھاگتے ہوئے آ کر مجھے دھکا دے دیا ۔ میں ایک جانب گرا ۔ عین اسی وقت گولی چلنے کی آواز آئی اور عالی زمین پر گر گیا ۔ وہ گولی جو مجھے لگنی تھی وہ اب عالی کا مقدر بن گئی تھی ۔ میرا سایہ مجھ سے ہمیشہ کے لئے چھوٹ چکا تھا