Afsana 055 لگن لاگی تم سے من کی لگن از ساحرہ

لگن لاگی تم سے من کی لگن
از ساحرہ (ورجینیا، امریکہ)

حوریہ نے اپنا سیل فون بند کر کے پرس میں رکھا اور جلدی جلدی اپنی شاپنگ مکمل کرنے لگی تاکہ اپنے شوہر سہیل کے آنے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جائے۔
اس کی شادی اب سے پانچ سال پہلے پچیس سال کی عمر میں گھر والوں نے اپنی مرضی سے سہیل سے کر دی تھی جو کہ ایک بہت کامیاب بزنس مین تھا اور ان پانچ سال میں حوریہ نے شاید پانچ مہینے بھی اپنے شوہر سہیل کے ساتھ ٹھیک سے نہیں گزارے تھے۔ وہ اکیلا ہی ہر وقت ملکوں ملکوں اپنے کام کے سلسلے میں گھومتا رہتا اور جب بھی حوریہ ساتھ جانے کی ضد کرتی تو ہر بار اگلی دفعہ کا جھوٹا وعدہ کر کے بہلا پھسلا کر اکیلا ہی چلا جاتا اور وہ دل مسوس کر اس کو جاتا دیکھتی رہتی . دن کے وقت بوڑھی ساس کے ماضی کے قصے سنتی اور نوکروں سے کام کروایا کرتی یا پھر کبھی کبھار اپنے والدین کے گھر چکر لگا لیتی مگر ساری ساری رات اپنے بیڈروم میں لگے پردوں کے پھول گنا کرتی۔

پھر کبھی بالکل اچانک اسی طرح سہیل ایک دو ہفتے کے لئے گھر آ جاتا تو زندگی میں گویا ہلچل سی مچ جایا کرتی تھی۔ اس وقت کھانا پکانے کا تو وقت نہیں تھا اس لئے باہر سے ہی سہیل کی پسند کا کھانا خرید لائی۔ گاڑی میں بیٹھنے لگی تو گجرے والے نے اپنا گجروں بھرا ہاتھ گاڑی کے اندر ڈال دیا ۔ اس کی گاڑی موتیا اور گلابوں کی خوشبو سے مہک اٹھی۔ وہ مسکرا دی ذہن میں کئی خوبصورت اور خوش آئند منظر گھومنے لگے اور اس نے گجرے بھی خرید لئے۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

ساٹھ سالہ شفیق ساغر نے شدت جذبات سے کانپتے ہاتھوں سے وہسکی کا ایک گھونٹ بھی لئے بغیر جام کو سائیڈ میں رکھا اور بہت بے قراری سے اپنا کمپیوٹر آن کر دیا۔

اب سے سات دن پہلے تک وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان مانتا تھا۔ دو پیارے پیارے بیٹوں اور انتہائی نیک اور خدمت گزار بیوی کے ہوتے ہوئے اسے زندگی سے بظاہر کوئی گلہ نہ تھا سوائے اس کے کہ کاش اس کی بیوی دیکھنے میں ایک عام سی گھریلو عورت کی بجائے بہت خوبصورت اور پڑھی لکھی ہوتی ۔ اس کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر نہ صرف ملکی حالات پر سیر حاصل تبصرے کر سکتی بلکہ اس کے فلاسفر ٹائپ دوستوں کو بھی محفل میں اپنے علم سے حیرت زدہ کر دیا کرتی تو وہ خود کو کتنا خوش قسمت سمجھتا۔
شفیق کی بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا تھا۔ فریدہ خاتون بہت ہی سیدھی سادھی مڈل پاس اور اس کی کزن ہونے کی وجہ سے زبردستی اب سے چالیس سال پہلے اس کی زندگی کا حصہ بنا دی گئی تھی۔ اس وقت وہ خود بھی چونکہ بیس سال کا ہی تھا تو انکار یا احتجاج جیسے لفظ سے قطعی ناواقف تھا۔

کچھ عرصے بعد جب اسی سادہ سی بیوی کی سنگت سے زندگی بہت سہل ہو گئی اور پیارے پیارے دو بیٹے گود میں آئے تو گھر خوشیوں سے مہک اٹھا ۔ تب اس نے فریدہ خاتون کے سارے قصور معاف کر دیئے اور اپنا دھیان آئیڈیل بیوی سے ہٹا کر اپنا مستقبل بنانے میں لگا دیا۔
اب جب کہ شادی کو چالیس برس گزر چکے تھے اور وہ دادا بھی بن چکا تھا ۔ اس مقام تک آنے میں اس کی سادہ لوح اور ان پڑھ بیوی کا بہت ہاتھ تھا۔ ہمیشہ اس کے بلندی پر جانے کی وجہ بنی تھی۔ پھر بھی کبھی کبھی وہی خوبصورت آئیڈیل بیوی والا خیال چپکے سے دماغ میں آ جاتا تو وہ اپنی بےوقوفی پر مسکرا دیتا۔

آج جب کہ وہ کراچی کا بہت بڑا وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی محبِ وطن شعلہ صفت کالم نگار بھی تھا۔ لوگ اس سے بہت ڈرتے تھے اور کہتے تھے اس کے قلم سے الفاظ نہیں شعلے نکلا کرتے ہیں جو سامنے والے کو پل میں جلا کر بھسم کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کبھی کسی سے نہیں ڈرتا تھا کسی کے سامنے نہیں جھکتا تھا یہاں تک کہ مسلسل کامیابیوں نے اسے اتنا مغرور بنا دیا تھا کہ اب شاید اسے خدا کے سامنے سر جھکانے کی بھی فرصت نہیں ملتی تھی۔

جب شفیق ساغر نے اپنے ادیب دوستوں کے ساتھ شراب اور سگریٹ پینا شروع کیا تھا تو فریدہ خاتون اور بچوں نے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ان کی ایک نہ سنی گئی۔ یہ بری عادت پختہ سے پختہ ہوتی چلی گئی اور اب تو یہ حال تھا بیٹے خود شراب کی پرانی بوتل ختم ہونے سے پہلے نئی لا دیتے تھے کیونکہ بغیر شراب کے وہ کسی زخمی شیر میں بدل جایا کرتا تھا۔ ویسے بھی شفیق نے کبھی کسی کے سامنے نہیں پی تھی اور بہت ہی کم قریبی دوستوں کے علاوہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ شراب بھی پیتا ہو گا۔ صرف رات کو سونے سے پہلے اور کالم لکھتے وقت پینا اسے ضروری لگتا تھا۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

جب سہیل ڈھیر سارے بیگ اٹھائے گھر میں داخل ہوا اور حوریہ پر نظر پڑی تو ایک ٹک اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔ پھر بہت بےتابی سےآگے بڑھ کر اس سے ملا اور بولا

" حوریہ تم شادی کے پانچ سال بعد بھی نئی نویلی دلہن نظر آتی ہو۔ اپنی خوش نصیبی پر جتنا بھی ناز کروں کم ہے ۔ میں خود بھی اب ذیادہ دیر تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا۔""

حوریہ بہت غصے سے خود کو چھڑاتے ہوئے پیچھے ہٹی اور روٹھے لہجے میں بولی

"تو گویا اب کی بار بھی مجھے ساتھ لے کر نہیں جاؤ گے؟"

خوشی سے دمکتے گالوں پر جیسے مایوسی کی رات پھیلنے لگی اور پھر سے لمبی جدائی کے خیال نے اس کو جیسے خوابوں کے طلسم سے نکال کر زمین پر پٹخ دیا۔
"ارے نہیں نہیں میری جان ایسی بات نہیں ۔ میں بہت جلد خود پاکستان میں سیٹ ہونے والا ہوں بس کچھ مہینے اور انتظار کرنا ہو گا ۔

"چلو اب جلدی سے کھانا نکالو۔ باقی باتیں کھانے کی میز پر۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے سخت بھوک لگی ھے اور تمھیں تو علم ھے ہی میں بھوک برداشت نہیں کر سکتا اور کھانے کے بعد کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بس بس بس" حوریہ کی گالوں پر گلال اتر آیا اور وہ جلدی سے اس کی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی۔
"
دونوں نے مل کر بہت خوشی خوشی کھانا کھایا اور اس کے فوراً بعد سہیل چینج کرنے بیڈروم میں چلا گیا جب کہ حوریہ کی ساس کا فون آ گیا جو ان دنوں اپنی بہن کے گھر میں تھیں، جسے سننے میں اسے پندرہ منٹ لگ گئے۔

جب وہ دل میں ہزاروں ارمان اور بے شمار جدائی کے قصے سہیل کو سنانے کے لئے بیڈروم میں داخل ہوئی تو سہیل پہلے ہی گہری نیند سو چکا تھا۔ اسے شدید دھچکہ لگا۔ گو کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا پھر بھی اپنی اس تذلیل اور ناقدری پر اس کا دل جیسے چیخ چیخ کر ماتم کرنا چاہتا تھا مگر لب خاموش رھے۔ لاکھ ضبط کرنے پر بھی آنکھوں کے کٹورے چھلک ہی گئے ۔ عورت پن کا سارا غرور جیسے خاک میں مل گیا تھا ۔ ہاتھوں میں پہنے ہوئے گجرے اسکا مذاق اڑانے لگے ۔ وہ بےبسی اور ذلت کے احساس سے جیسے زمین میں دھنستی چلی گئی۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

کمپیوٹر کے کھلتے ہی شفیق ساغر نے بہت بےتابی سے شامِ بہار کا نام ڈھونڈنا شروع کیا۔ وہ پچھلے دو سالوں سے اس کے ہر کالم کو نا صرف بہت باریک بینی سے پڑھتی بلکہ انتہائی عالمانہ رائے بھی دیا کرتی تھی۔ اس کی رائے نا صرف بہت مدلل اور نپی تلی ہوتی بلکہ جامعیت کے تمام پہلو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی تھی۔ کبھی کبھی تو ایسی تنقید کرتی یا ایسے نقاط نکالتی کہ وہ خود بھی دنگ رہ جاتا۔شروع شروع میں وہ باقی مداحوں کی طرح اس کا تبصرہ چیک کرتا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ شام بہار کا نام اور مقام جیسے کچھ بدل سا گیا تھا۔

اب تو کئی مہینوں سے لگتا تھا الٹا وہ خود شامِ بہار کا مداح بن چکا تھا۔ اکثر کالم تو وہ اب وہ صرف لکھتا ہی اسی لئے تھا کہ اس بارے میں شامِ بہار کا نظریہ جان سکے۔
وہ اس کی زندگی میں واقعی جیسے بہار بن کر چھا گئی تھی۔ حالانکہ وہ شادی شدہ تھی اور ہر وقت اس کو بتاتی رہتی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوشگوار زندگی بسر کر رہی ھے۔ بس اپنے شوہر کی حد سے بڑھی مصروفیات کے باعث خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی ھے اور زندگی میں بہت کمی سی لگتی ہے۔

شفیق ساغر ایک بہت منجھا ہوا کامیاب وکیل تھا۔ دوسروں کی کمزوریوں کو اپنے مفاد میں بدل لینا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کمال تھا۔ اس نے شامِ بہار کے اپنے شوہر سے مظبوط رشتے میں ایک چھوٹی سی دراڑ تلاش کر لی تھی اور یہی وہ پوائنٹ تھا جسے بنیاد بنا کر اپنے حق میں سب سے بڑی دلیل ثابت کر کے اس پر اپنے خوابوں کا نیا تاج محل سجانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
اس بات کا احساس ہوئے تو اسے بہت مہینے ہو چکے تھے کہ وہ شامِ بہار کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکا ھے۔

وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اب کتنا بھی چاہے اس ذلت و رسوائی سے خود کو بچا نہیں پائے گا۔ پہلےتو اپنی اکڑ میں اس نے تو کبھی خدا کے سامنے بھی سر نہیں جھکایا تھا مگر اب ایک عورت کے قدموں میں ذلیل و خوار ہونا جیسے اس کا مقدر ٹھہر گیا تھا۔
وہ پچھلے کئی مہینوں سے الجھا الجھا رہتا ۔ شامِ بہار کے ساتھ پوری پوری رات چیٹ کرتا رہتا۔ اس کا بہت خیال رکھتا۔ اس کے نام اپنی دو کتابیں بھی کر چکا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کیسے دل کا حال بیان کرے۔ ساری راتیں جاگتا ۔ ایک پل نہیں سو پاتا تھا۔ کچھ سجھائی نہ دیتا کہ شامِ بہار تک کیسے اپنے جذبات پہنچائے۔

وہ تو اس کو اپنا بزرگ مان کر اس سے اکثر اپنا کوئی دکھ رو لیتی تھی۔ دل کی باتیں کر لیتی تھی ۔اس بےچاری کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا عمر میں اس سے ٹھیک تیس سال بڑا ٓادمی مجنوں سے بھی ذیادہ اس کے عشق میں ڈوب کر فنا ہونے کو تیار ھے۔ خود شفیق کو بھی اچھی طرح علم تھا اگر باقی سب مسائل حل ہو بھی جائیں تو عمر کا فرق کبھی نہ ختم ہونے والا تھا۔ یہیں پر آ کر اس کی سوچ کی پرواز رک جاتی تھی۔اسی لئے وہ لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے دل کا حال شامِ بہار سے چھپانے پر مجبور تھا۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

پچھلے چند مہینوں سے وہ شامِ بہار سے اس کی تصویر کا روزانہ تقاضا کرتے کرتے جیسے پاگل سا ہونے لگا تھا۔ وہ ہر بار کوئی نا کوئی بہانہ بنا دیتی تھی۔ شفیق کا اصرار اور اس کا انکار بڑھتا رہا۔ آخر کار ایک دن اتنی ضد سے مجبور ہو کر شامِ بہار نے اپنی چند شرائط منوانے کے وعدہ پر اپنی تصویر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب شفیق کو بتایا تو وہ ان کو سنے بغیر ہی وہ مان بھی چکا تھا مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب

وہ اس کی شرطیں پڑھ رھا تھا تو ششدر رہ گیا ۔ شاید وہ اس کے لئے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی تھیں مگر شرائط نہ ماننے کی سزا اس کے تصورات سے بھی ذیادہ بھیانک تھی۔
شامِ بہار نے لکھا تھا ۔

"اگر آپ نے اس میں سے ایک بھی شرط میں ذرا سی بھی بے ایمانی کی تو بدلے میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی اور چونکہ میں خود تو آپ کو یہ سب کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتی اس لئے ھم دونوں خدا سے دعا مانگیں گے کہ ایک بے ایمانی کے بدلے میں ہم دونوں کے درمیان ایک سال کی جدائی ہو جائے اور دو کے بدلے میں دو سال کی جدائی اسی طرح ہر بےایمانی کے بدلے جدائی کے سال بڑھتے جائیں اور اگر آپ ہمیشہ میرے دوست رہنا چاہتے ہیں تو ابھی اسی دعا کے سامنے آمین لکھ کر مجھے واپس بھیج دیں گے۔

ا) پہلی شرط یہ ھے کہ آپ کبھی بھی سگریٹ اور شراب کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔

2)دوسری شرط یہ ھے کہ پوری پانچ نمازیں پڑھنے کی روزانہ کوشش کریں گے۔اور مجھے رپورٹ بھی دیں گے۔

اگر آپ نے میری یہ دونوں شرطیں مان لیں تو میں آپ کی سالگرہ والے دن تحفے کے طور پر اپنی تصویر بھیج دوں گی "

یہ سب پڑھ کر شفیق دم بخود بیٹھا رہ گیا۔ اب کیا ہو گا؟
یہ سوچ سوچ کر اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ نہ تو وہ شراب کو چھوڑ سکتا تھا نہ ہی بہار کو دیکھنے کا واحد موقع گنوا سکتا تھا۔ نہ جھوٹا وعدہ کر سکتا تھا کہ اسے اسی وقت آمین لکھ کر وہی میل واپس بھیجنا تھی اور نہ ہی جدائی کی سزا اٹھا سکتا تھا اور سخت حیران تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر زندگی میں پہلی بار خدا کے سامنے جھکتا بھی تو کیونکر؟ صرف اس لئے کہ ایک عورت نے اسے اتنا مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

شراب،نماز اور شامِ بہار

ان تین لفظوں نے اسے پاگل کر دیا تھا۔ ایسا لگتا تھا یہ اس کی زندگی کے بنیادی ستون ہیں اور وہ آنکھیں بند کر کے ان کے گرد چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ھے۔ وہ عجیب بےبسی سے ان شرطوں کو گھور رہا تھا۔ آج اس کو پہلی بار سمجھ میں آیا تھا کہ من کی لگن کیا چیز ہوتی ھے۔

وہ ان تین لفظوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہانپنے لگا تھا۔ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کس کو چن لے کس کو چھوڑ دے۔ پھر اس نے شامِ بہار سے کچھ دن مانگے اور آخر کار شرائط کے جواب میں آمین لکھ کر بھیج دیا کیونکہ اس کے لئے سب سے اہم اس ہستی کا دیدار تھا جس کو دیکھے بنا وہ اس کا اتنا دیوانہ تھا کہ وہ اس کے ایک اشارے پر اپنی جان بھی دے سکتا تھا۔ یہ شرطیں تو کچھ بھی نہیں تھیں۔

آج اسے نماز پڑھتے اور شراب کو چھوڑے سات دن ہو چکے تھے۔ گھر والے بالترتیب حیران ،پریشان اور اس کی اجڑی حالت دیکھ کر پشیمان ہوتے رہتے تھے مگر وہ کسی کو کچھ بتا کر نہیں دیتا تھا۔ کئی بار بے خیالی میں شراب کا پیگ بناتا مگر پینے سے پہلے اپنی قسم یاد آ جاتی تو یونہی پھینک دیتا۔

جائے نماز پر کھڑا ہوتا تو گھنٹوں کھڑا رہتا۔ سجدے میں جاتا تو اٹھنا بھول جاتا۔ کچھ سمجھ نہ آتا تھا خدا سے کیا کہے۔ کس طرح معافی مانگے۔ کس طرح اپنے گناہوں کا اقرار کرے۔
مگر شاید خود خدا کو اس پر رحم آ گیا تھا یہی وجہ تھی کہ تیسرے دن وہ پوری رات فجر کی اذان کا انتظار کرتا رہا اور صبح بہت شوق سے نماز پڑھی۔ عجیب طرح کا نشہ اس کے وجود میں چھا رہا تھا۔ یہ نشہ اور سرور شراب کے نشے سے کہیں ذیادہ طاقتور تھا۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

آج اس کی سالگرہ تھی اور پوری رات اور دن وہ دیوانوں کی طرح کمپیوٹر کھولے شام بہار کی تصویر کا منتظر تھا۔ پھر جب وہ اپنے وقت پہ آن لائن آئی تو اس کی میل کا عنوان "زندگی کا سب سے خوبصورت سال مبارک ہو"کے ساتھ اٹیچمنٹ دیکھ کر شفیق کا دل شدت جذبات سے دھڑکنے لگا۔

پتہ نہیں وہ کیسی ہو گی؟ ہزاروں وسوسے پل بھر میں ذہن سے گزرے۔ کبھی سوچتا تصویر نہ ہی کھولے۔ ایسا نہ ہو میرے خوابوں کا تاج محل دھڑام سے گر جائے کبھی سوچتا نہیں نہیں وہ بہت خوبصورت ھے میرا دل اس کی گواہی دیتا ھے ۔ پھر خود کو روک نہ پایا اور اٹیچمینٹ کو کلک کر ہی دیا۔

ایک ۔۔۔۔۔ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تین تصویر کھلنے میں کچھ وقت لے رہی تھی مگر اس کو لگتا تھا جیسے اس کی جان قدموں سے نکلتی جا رہی ہے

اور پھر ایک جھماکے کے ساتھ وہ تصویر پوری کھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر کیا کھلی گویا پوری کائنات کی ہر چیز پر چھا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مہبوت ہو گیا اور اسے دیکھ کر جیسے سانس لینا ہی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ حسن کسی زمیں زادی کا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ آف وائٹ حریری کپڑوں کے ساتھ آف وائٹ موتیوں اور گجروں میں لپٹی ہوئی لمبے لمبے بالوں والی نازک سی لڑکی تو صرف کسی مصور کا شاہکار ہو سکتی تھی جو اس مصور نے شاید کبھی کسی حور کے تصور کو واضح کرنے کے لئے بنایا ہو گا۔

وہ خوش ہونے کی بجائے ڈر سا گیا اور رعب حسن سے خوفزدہ ہو کر بیٹھے رہنے کی بجائے با ادب کھڑا ہو گیا۔ اسی وقت اس کی نظر سامنے لگے شیشے پر پڑی تو اپنے سفید بال اور جھریوں بھرے چہرے کو دیکھ کر وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا۔ بےخبری میں زمین کا باسی ہو کر چاند پر رہنے کی تمنا کر بیٹھا تھا۔

""حور" وہ اپنے آپ میں بڑبڑایا۔ تمہارا نام اس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں ہو سکتا
اور اس نے کچھ اور سوچے بنا اسی وقت بہار کے نام یہ پیغام بھیج دیا۔

"میں خود کو اور اپنے جذبات کو تم سے چھپاتے چھپاتے تھک گیا ہوں۔ اب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہیں چھپا سکتا، تم سمجھو گی شاید میں تمھاری خوبصورتی سے متاثر ہو کر اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہوں مگر یہ سچ نہیں ہے۔ اگر تم اندھی لولی لنگڑی بھی ہوتیں تب بھی میں تمہیں تم سے ضرور مانگتا کیونکہ

محبت جنھیں ہو گئی ہو کسی سے

وہ محبت کا انجام کب سوچتے ہیں

چل پڑے ہوں چراغ محبت جو ہاتھوں میں لے کر

بیابان میں ہو گی کہ صحرا میں ہو گی

کہاں ہو گی اب شام، کب سوچتے ہیں "

یہ میل جب بہار تک پہنچی تو وہ ہکا بکا رہ گئی اور غصے سے کھولتے ہوئے پوچھا

"یہ کیسا گھٹیا مذاق ھے۔میں تصور بھی نہیں کر سکتی آپ مجھ سے اتنی گری ہوئی بات کیسے کر سکتے ہیں۔ آپ تو شاید عمر میں میرے باپ کے برابر ہیں اور ۔۔۔اور ۔۔۔۔اور آخر آپ نے یہ سب لکھنے کی جرات بھی کیسے کی۔ میں کتنا بھروسہ کرتی ہوں آپ پر اورآپ اندر سے کتنے غلیظ انسان ہیں"

یہ لکھ کر بہار نے میل وآپس بھیج دی۔

فورا ہی شفیق کی طرف سے اس کا جواب بھی آ گیا

ِ"شامِ بہار مجھ سے زیادہ کہا نہیں جائے گا۔بس اتنا سمجھ لو اگر تم مجھے نہ ملیں تو میں اسی لمحے اپنی جان دے دوں گا۔ بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ پوری زندگی بدل گئی ھے میری۔ ایک ایک پل میری نظر صرف تمہیں دیکھنا چاہتی ھے۔

پلیز اپنے شوہر سے طلاق لے کر مجھ سے شادی کر لو۔ میں جانتا ہوں تم اس کے ساتھ خوش نہیں ہو۔ اس کے پاس تمھارے لئے وقت نہیں ہے اور میرے پاس تمہارے علاوہ کچھ اور نہیں ھے۔

میں تمھاری ساری محرومیوں کا ازالہ کروں گا۔ کہکشاں تمھارے قدموں میں بچھا دوں گا۔ بہت دولت ھے میرے پاس اور وہ سب لے کر ہم دور کسی ملک میں چلے جائیں گے۔جہاں ہمیں کبھی کوئی ڈھونڈ نہ پائے گا۔ میں کبھی تم کو زمین پر پیر بھی نہیں رکھنے دوں گا،تمہارے ہر قدم کے نیچے اپنا دل رکھوں گا۔
دیکھو بہار ! اب انکار مت کرنا کہ میں عشق کے اس مقام پر ہوں جہاں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اس سے آگے صرف فنا کا سفر ہوتا ھے۔ یا تو میں مر جاؤں گا یا تمھیں مار ڈالوں گا۔ پلیزعمر کے فرق کو ہمارے راستے کی دیوار مت بننے دینا کہ بس یہی ایک چیز میرے اختیار میں نہیں ہے اور شاید میرے راستے کی سب سے بڑی دیوار بھی یہی ہے۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

یہ سب پڑھ کر شامِ بہار دم بخود بیٹھی تھی۔ یقین نہیں آ رہا تھا قسمت اس سے اتنا بھیانک مذاق کر سکتی ھے۔ پوری دنیا میں اس نے صرف ایک ہی شخص سے اپنے دل کا حال کہا تھا۔ اپنا درد بانٹا تھا۔ وہ اپنے سب سے اچھے دوست کو کھو کر کیسے جی پائے گی۔ وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے اس میل کو دیکھ رہی تھی۔ اسے کچھ احساس بھی نہیں تھا کب سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔ وہ صرف اپنے لئے غمزدہ نہیں تھی بلکہ شفیق ساغر کے من کی لگن کو بھی اتنی ہی سچائی سے جان چکی تھی اور یہی بات اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رھی تھی۔ اس کی جدائی کی صورت میں شفیق کو ملنے والا غم خود اسے اندر سے توڑ پھوڑ رہا تھا۔ کبھی کبھی خیال آتا اگر پہلے اس نظر سے نہیں سوچا تو اب سوچنے میں کیا حرج ھے۔ وہ کیوں اپنی پوری لائف ایسے شخص کے لئے برباد کرے جس کے پاس اس کے لئے وقت نہیں ہے کیوں نہ اس کو چن لے جو اس کی ایک نظر کے لئے سر تا پا التجا بنا ہوا ھے۔ وہ کافی دیر سوچتی رھی اور پھر شفیق کو ای میل بھیج دی

"کیا ہوا جو میرے میاں میرے پاس نہیں ہیں اس وقت مگر ان کی عزت اور ناموس مجھے اپنی ہر خوشی سے بڑھ کر پیاری ہے۔ کیا ہوا جو میں خوش نہیں ہوں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنی شرم و حیا طاق پر رکھ کر اپنے خاندان کی عزت سرعام اچھالوں۔ میرے خدا ،خاندان اور خاوند کے میرے طرف جو قرض بنتے ہیں ان کو نبھانے میں پوری زندگی بھی بیت گئی تو کوئی غم نہیں ہو گا۔ یہ دنیا تو آنی جانی چیز ہے ۔آپ کے بھی بچے ہیں بیوی ہے۔ ایک پورا ہنستا بستا گھر ھے۔ کیسے دل توڑ پائیں گے آپ ان سب کا؟ کتنا مان ھے ان سب کو آپ پر۔ معاشرے میں کتنا نام ھے ٓاپ کا، کتنا اونچا مقام ھے ۔سب لوگ آپ پر ہنسیں گے ۔ میں آپ کو کبھی زمانے میں نامعتبر نہیں ہونے دوں گی۔ یہ آپ سے میری محبت کا تقاضا ھے۔ اس بات کا آپ کی عمر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا سیدھا تعلق صرف آپ کے رتبے سے ھے۔

سوچیں! اگر ہم نے بھاگ کر شادی کر بھی لی اور دوسرے ہی دن ہم میں سے کوئی ایک مر گیا تو دوسرا دنیا کے کس کونے میں منہ چھپائے گا۔ زمین بھی شاید اس کو کہیں پناہ نہیں دے گی۔

آپ بھٹک رھے ہیں ۔ مجھ سے محبت کر کے اپنا راستہ کھوٹا مت کریں۔ یہ عشق تو شاید پہلی سیڑھی ھے اس اونچائی کی جہاں آپ کو پہنچ جانا ہے ایک دن۔ آپ کی منزل میں نہیں ،کچھ اور ھے۔ براہ مہربانی اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں اور میرے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت برباد مت کریں۔
اب شاید مجھے کچھ کہنے کا حق تو نہیں رہا مگر پھر بھی آخری بار کہتی ہوں میرے بعد بھی کبھی سگریٹ اور شراب کو ہاتھ نہیں لگانا اور ہو سکے تو نماز کو کبھی چھوڑنا نہیں۔ آپ نے جو مصیبت محبت کے نام پر مول لی ھے تو اب صرف خدا ہی آٓپ کو اس عذاب سے نکال سکتا ھے"

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؛

شامِ بہار نے اس میل کا جواب دینے کے بعد اپنا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لئے کلوز کر دیا اور اس کے ہونٹوں پر ہمیشہ رہنے والی ہنسی کی جگہ اداسیوں نے ڈیرے ڈال لئے، وہ ایک بار پھر سے تنہا ہو گئی۔ یہ شک تو اسے بھی اکثر ہوتا تھا جیسے شفیق کو اس سے محبت ہوتی جا رہی تھی مگر ہر بار وہ محبت سے ذیادہ اسے اس کی شفقت سمجھتی رہتی تھی۔ اٹھتے بیٹھتے اسے شفیق کی باتیں اور اس کا خیال رکھنا یاد آٓتا۔ وہ کیسے اس کے ساتھ پوری پوری رات بیٹھ کر وقت بتایا کرتا تھا کیونکہ اسے اکیلے میں نیند نہیں آیا کرتی تھی۔ وہ دونوں دنیا جہان کی باتیں کرتے اور کبھی بچوں کی طرح لڑنے لگتے۔ اسے شفیق بہت بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ سوچتی کاش اس کا شوہر بھی اس کے ساتھ ہوتا اور اس کا مزاج بھی شفیق جیسا ہوتا تو زندگی کتنی حسین ہوتی۔ شفیق کے چلے جانے سے اس کی زندگی میں دوسرا بڑا خلا پیدا ہو گیا تھا۔

اسی طرح کافی مہینے گزر گئے ۔ شفیق ساغر نے کالم لکھنے بالکل چھوڑ دیئے تھے۔ اکثر اخباروں میں اس کے ہارٹ اٹیک کی خبر چھپی تو وہ خدا کے سامنے خوب روئی ،گڑگڑائی اور شفیق کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی۔اپنے کئے پر نادم بھی ہوئی مگر اچھے کی امید پھر بھی کم نہ ہوئی ۔ پھر اس کے صحت مند ہونے کے بعد اخباروں میں لکھا ہوتا کہ وہ صاحب فراش ہو گیا ھے۔ کسی سے ملتا جلتا نہیں ھے۔ کوئی کہتا رشوت لے کر اب خاموش رہتا ھے ۔ لوگوں کے خلاف لکھنا بھی اسی لئے چھوڑ دیا ھے۔ غرض جتنے منہ اتنی ہی باتیں پڑھتی رھتی تھی۔

ایک دن جب وہ اچانک ایک چینل بدلنے لگی تو سامنے شفیق ساغر کو لمبی داڑھی میں ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنے کچھ درس دیتا ہوا پایا تو حیرت سے دنگ رہ گئی۔ اس کا چہرہ بہت نورانی لگ رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ اسلامی رنگ میں رنگ چکا تھا۔

"تو گویا تم اپنی منزل تک پہنچ گئے شفیق ساغر"

اس کو اس طرح تبلیغ کرتے دیکھ کر حوریہ دل ہی دل میں بولی اور اتنے مہینوں بعد کھل کر طمانیت سے مسکرا دی۔ اس کے دل سے سارا بوجھ ایک دم اتر گیا۔ اب وہ زیادہ آسانی سے سہیل کے ہمیشہ کے لئے پاکستان سیٹ ہونے کا انتظار کر سکتی تھی پہلے وہ اپنا ایک واحد دوست کھو کر بہت اداس رہتی تھی مگر اب وہ بہت خوش تھی۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کر کے اس نے نہ صرف بہت سے لوگوں کی عزت و ناموس بچا لی تھی بلکہ ایک بھٹکے ہوئے شخص کو اس کی منزل تک پہنچانے کی وجہ بھی بن گئی تھی۔