Afsana 020 یوں بھی ہونا تھا از مریم اکرام

،، یوں بھی ہونا تھا،،
از مریم اکرام (قطر)

مجھے نھیں پتا کہ میں کتنی دیر سڑکوں کی خاک چھانتا رہاہوں ،ہاں اتنا پتا ہے کہ سورج میرے سامنے سے

،میری پشت پر آ چکا تھا اور اب میرے دل کی ہی طرح ڈوب رہا تھا۔فرق یہ تھا کہ کل یہ سورج پھر ایک نئ امنگ سے نکلے گا۔اور میرا دل ۔۔۔دوبارہ کبھی پوری جاں سے نھیں دھڑکے گا۔۔کیوں کہ آج اسکے جینے کی امنگ دم توڑ گئ تھی۔۔پر سانسیں کبھی امنگوں کے ساتھ نھیں ٹوٹتی ۔میں جن کے لۓ جیتا رہا تھا ،آج ان کے لۓ مر نہیں سکتا تھا۔۔۔
میں اس دنیا میں واحد شخص نھیں ھوں جس نے اپنوں سے دکھ اٹھایا ہے۔نہ وہ پہلا باپ ہوں جسکی اولاد اسکے بڑھاپے کے بوجھ سے تنگ آ گئ ہو۔۔ہاں، میں شاید وہ واحد باپ ضرور ہوں گا،جو بڑی بڑی باتیں ،کوئ بڑے حادثے ،کئ بڑے دکھ بڑی ہمت سے سہتا رہا،زنرگی کی کچھ بڑی کمیاں جو زندگی میں ہوں تو زندگی دشوار ہو جاۓ پھر بھی اپنوں کے ساتھ اور محبت سے سب کٹھانیاں آسان ہو جاتی تھیں۔لیکن آج اگر شکست دی تو میری اولاد نے،
ہر باپ کی طرح میں نے بھی اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئ کمی نھیں چھوڑی تھی'(بہر حال آج اس بات پر مجھے شک سا ہےیونہی تو حالات نے ٹھوکروں پر نہیںلا بٹھایا۔)یا پھر کچھ عمل دخل قسمت کا بھی تھا،میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میںخاور شاہ کبھی یوں لاوارثوں کی طرح پھروں گا۔میںچار بیٹوں کا باپ،آج پورے وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری اولاد شاید کل میرا سہارا بن جاۓ۔کیونکہ رشتوں کا معیار بدل گیا ہے،رشتے دل کے ھوں،احساس کے،یا پھر خون کے،خودغرضی کا زہر رگ و پے میں گھلتا جا رہا ہے۔۔میں نے اپنے بیٹے زبیر شاہ کو بہت روکا،بہت منایا جب وہ مجھے ،اپنی ماں،اپنے بھائیوں کو چھوڑ کر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ انگلینڈ جا رہا تھا،ہمیشہ کے ليے ،میں نے اسے سمجھایا تھا کہ اسکی ماں جی نھیں پاۓ گی،اسکی ماں بہت روئ تھی مگر وہ اپنے فیوچر کے لۓ کچھ زیادہ فکر مند تھا،اپنے ،اپنے بیوي بچو ں کے سامنے اسے اپنے خون کے رشتے نظر نھیں آ رہے تھے۔ پھر آخر ہمیں ہی جدائ کا درد سہنا تھا،میرا دوسرا بیٹا قطب شاہ،میرا سب سے لاڈلا بیٹا،ہر حال میں خوش رہنے اور خوش رکھنے والا،شاید خود اسے بھی نہیں پتا تھا کہ کسی موڑپر اسے دل کے ہاتھوں اپنی بہن کی خوشی بھی ہارنی پڑے گی ،وقت کے گھن چکر میں قسمت بھی ساتھ نہیں دیتی،میں نے بہت ارمانوں سے اپنے بیٹے اور بیٹی ہانیہ شاہ کا رشتہ وٹے سٹے سے اپنے بھائ کے گھر کیا تھا،دونوں ابھی پڑھ رہے تھے اسلۓ نکاح پہلے کر دیا۔۔اور یہیں سے وقت نے مات دی،میرا بیٹا بہت فرمانبردار سہی، پر کبھی کبھار دل و دماغ کا سمجھوتا نھیں ہوتا،اور اس کے ہاتھوں بھی نہیں ہو پایا دل کے سنجوگ خود سے نہیں کیے جاتے،ہو جاتے ھیں ،اور اس کے آگے فقط بے بسی ہے۔۔۔اسی بے بسی میں شاید اس نےاپنا دل کسی اور کو دے دیا،بات صرف اسکی نہیں تھی اسکا اثر میری ہانیہ شاہ پر بھی ہوا،شادی تو ہو گئ مگر خوشیاں ہمیشہ کے لۓ ادھوری ر ہ گئيں۔۔۔یہ دکھ سکھ تو زندگی کا حصہ ہیں۔۔رشتوں کی کريہہ سچائ جس کے نصیب ہے اس جھیلنا ہی پڑتا ہے۔۔۔وقت کے ساتھ وجود تھک گیا تھا۔دماغ سکون مانگتا تھا جو ایک مکمل گھر کےبنا ممکن نھیں تھا،اور گھر تو ، محبت،اتفاق، اور قربانی سے بنتے ہیں،میری بد قسمتی کہ میں اس نعمت سے نوازا نہیں گیا۔
باقی دونوں بیٹوں کی بھی شادی کی۔۔اور حالات یہ تھے کہ ہم میا ں بیوی اپنے گھر میں اجنبی ہو گۓ۔جو جائیداد تھی وہ اپنی زندگی میں حصے کر ڈالے، ما سواۓ ایک مکان کےشاید یہ بھی ایک غلطی تھی جس کا احساس مجھےچند دن پہلے ہوا ہے۔۔۔جپ میری بیوی۔۔۔زندگی بھر ساتھ نبھانے والی ہمیشہ کے لۓ مجھ سے بچھر گئ،وہ ایک ستون تھی جس نے میرے گھر کو کسی نا کسی طرح با ندھے رکھا تھا،ہماری سوچ ،ایک،اور خواب ایک تھے،ہمارے دکھ سکھ ایک تھے، بےشک ان دکھوں میں ہماری اپنی اولاد کا ساتھ نہیں تھا،،میں بھی جی رہا تھا، کیوکہ وہ ساتھ تھی،تو آس تھی۔۔امید تھی کہ زندگی کے باقی دن بھی ایسے ہی گزر جائيں گے۔اولاد کی بےثباتیاں ان کی نادانیاں سمجھ کر نظر انداز کرتا رھوں گا۔۔وہ زبیر شاہ جس نے آٹھ سال سے شکل نہیں دکھائی وہ کبھی لوٹ آۓ گا۔قطب جو دو کشتیوں کا مسافر بن بیٹھا ہے،ہدایت پا جاۓ گا۔۔میری ہانیہ جو خوشی اور دکھ کے بیچ معلق ہے،اس سے چھٹکارہ پا لے گی،اولاد سے شکست کھایا ہوا شخص کبھی کسی سے نہ تو لڑ سکتا ہے اور نہ جیت سکتا ہے۔ہم اپنی باقی دو بہوؤں کے لۓ وہی تھے۔۔۔
۔ درد کی انتہا یہ تھی کہ میری بیوی کا سوئم تھا اور میری اولاد اس ایک مکان اور بچے کھچھے زیورات کے لئے لڑ رہی تھی۔کوئی زبیر شاہ کو حق دار نہیں سمجھتا تھا کیونکہ اس نے مرتے دم تک ماں کو شکل نہیں دکھائی تھی۔۔میں زندگی کا بد ترین روپ دیکھ رہا تھا۔۔کیا قیامت آ پہنچی ہے؛کیا ماں سے بڑھ کر بھی کوئی سرمایہ ہے؛کیا یہ دولت؛۔۔۔۔۔میرے اندر کوئی دکھ اور حیرت سے دم سادھے کھڑا تھا۔آج مجھے لگا کہ اب میرا یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا۔۔اگر کہیں اس اولاد کو دولت و جائیداد سے عاق کرنے کی شرعی خثیت ہوتی تو میں ایک پل نہ لگاتا۔۔پر آج مجھے اس دولت سے بھی کجھ لینا دینا نھیں تھا اسلئے میں سب چھوڑ آیا تھا،میرے آگے کیا تھا،مجھے پتا نہیں۔پر میرے پیچھے صرف اندھیرا تھا۔ میری منزل کیا ہے؛ یونہی سڑکوں کی خاک چھانتا رہوں گا جس کا کوئی انت نہیں تھا۔۔یا کوئی اولڈ ہوم؛جو بوڑھے جسموں کے لئے تو ایک نئمت ہے اور تھکے اور منتشر دماغ کے لیے تلخ سوچو ں کی آما جگاہ ہےپتا نہیں میرا نصیب کیا ہے؛؛؛؛