Afsana 054 اندھیرے کی روشنی از سیّد جرار علی

اندھیرے کی روشنی
از سیّد جرار علی (ویانا، آسٹریا)

انتظار کی کچھ گھڑیاں کاٹنی بہت ہی مشکل ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر اُس وقت جب آپ کو اپنے لیے سنائے جانے والے کسی ایسے فیصلے کا انتظار ہو جس پر آپ کی آنے والی زندگی کا دارو مدار ہو۔

فی الوقت ایسے ہی ایک انتظار کا سامنا مجھے بھی تھا۔دل مضطرب نے نہ خود چین پایا نہ مجھے چین آنے دیا۔آنے والے لمحے میری زندگی میں بہت معنی رکھتے تھے،جن سے مجھے زندگی کی راہوں کا انتخاب کرنا تھا۔بالآخر میرا انتظار ختم ہوا۔اور مجھے اپنے نام کی ایک آواز سنائی دی " آپ کو اندر بُلایا گیاہے “

میں نے محسوس کیا کہ مجھ سے پہلے میرے دل نے قدم بڑھا دئیے ۔میری زبان پر دعاؤں کا ورد جاری تھا۔میں نے کانپتے ہاتھ سے دروازہ کھولا۔ بڑی گرم جوشی سے میرا استقبال کیا گیا۔میں نے فکر سے بھاری ہوتے قدم اندر رکھے،تو مجھ سے کہا گیا"ہیلو ینگ مین ! پلیز ہیوو آ سیٹ “ میں نے سامنے والی کُرسی سنبھالی ۔اور خاموش نگاہوں نے اپنے مخاطب کو دیکھنے لگا۔ کمرے میں اس وقت بس میں اور وہ موجود تھے۔ وہ اپنے سامنے ایک فائل رکھے بغور اس کا مطالعہ کر رہا تھا ۔میں اس کے چہرے کے تاثرات سے بہت سے اندازے لگا رہا تھا۔

کمرے میں اس وقت دو ہی آوازیں تھیں ایک دیوار پر لگی گھڑی کی،اور دوسری آواز میرے دل کی دھڑکن کی تھی۔جتنی باآواز گھڑی کی ٹک ٹک تھی اتنی ہی با آواز میری دھڑکن تھی۔ ایک انتظار کے اوپر ایک اور انتظار ۔ ان دو آوازوں کے سحر کو ایک تیسری آواز نے توڑا ۔

" ہممم۔۔۔ “

اس تیسری آواز کے سُنتے ہی میرے دونوں ہاتھوں کی گرفت کرسی کے بازوؤں پر مضبوط ہو گئی۔ڈاکٹر آرنلڈ نے گفتگو کا آغاز کیا۔

"سوری مسٹر علی ! آپ کی جو رپورٹس میرے سامنے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے تو میں کوئی حوصلہ افزا بات آپ سے نہیں کہہ سکتا، یہ درست ہے کہ زندگی اور موت صرف اور صرف خُدا کے ہاتھ میں ہے ۔ہم تو صرف اسے بچائے رکھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق آپ لیو کیمیا کے موذی مرض میں مبتلا ہیں ،اور جس اسٹیج پر اس وقت آپ ہیں میں اس کے متعلق کچھ زیادہ تسلی بخش الفاظ کا استعمال نہیں کر سکتا۔ البتّہ دوائیوں کے اور کیمو تھراپی کے ذریعے ہم پوری کوشش کریں گے کہ آپ زندگی کے زیادہ سال جی سکیں،کچھ نئے طریقہ علاج بھی آزمائیں گے ۔مگر حتمی طور پر کچھ بھی کہنا بہت مشکل ہے۔بہتر تو اللہ جانتا ہے کہ کسی کی کتنی زندگی ہے۔لیکن آپ کے پاس زندگی جینے کا وقت کافی محدور ہے۔میں صرف اتنا کہوں گا کہ دوائیوں کے ساتھ ساتھ آپ کو قوت ارادی بھی اس علاج کے لیے اپنانی ہو گی۔قوت ارادی ہی ایسی بڑی بیماریوں کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہوا کرتی ہے،اسے ہمیشہ ساتھ رکھیے گا۔ہوپ فار دی بیسٹ“

لفظوں کا ایک سونامی تھا جو آیا اور گزر گیا۔ میرے وجود کے ساحل پر جو کچھ بھی تھا وہ بہہ گیا اور میں ایک چٹان کی مانند اپنی جگہ کھڑا رہا۔

کیونکہ میں ایک بہادر انسان تھا اس لیے میں نے آنکھیں بند نہیں کی تھیں ،کھُلی آنکھوں سے لُٹتا ہوا قافلہ دیکھا۔ڈاکٹر آرنلڈ نے کچھ دوائیوں کی رسید کے ساتھ میری موت کا پروانہ ،میری میڈیکل فائل،میری طرف بڑھائی۔میں نے کتنا چاہا کہ میں ہاتھ بڑھا کر اس موت کے پروانے کو تھام لوں مگر میرے ہاتھ تو جیسے بے جان تھے۔

میں نے اپنے اعصاب کو مضبوط بنایا اور بڑے کرب کے ساتھ فائل اور دوائیوں کی رسید تھامی،ڈاکٹر آرنلڈ سے ہاتھ ملایا اور اس کمرے سے باہر آ گیا۔

میرے قدموں نے جیسے چلنے کے لیے کوشش کی ہو لیکن میں قدم نہ اٹھا پایا۔آج جب میں یہاں آیا تھا تو میرے پاس چلنے کو کتنے راستے تھے ،اور اب یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی نے اچانک ہی میرے قدموں کے نیچے سے تمام راستے ،تمام راہیں یکدم کھینچ لی ہوں ۔میرے پاس چلنے کو کوئی راہ نہ تھی۔

میری آنکھوں میں جیسے دنیا رک سی گئی تھی۔کانوں میں ،خیالوں میں ،اور میرے ارد گرد انہی الفاظ کی بازگشت تھی جو میں اندر سُن کر آیا تھا۔ مجھ میں مزید کھڑے رہنے کی سکت نہ تھی میں نے پاس ہی موجود کرسی کا سہارا لیا اور اس پر بیٹھ گیا۔میرے ہاتھ میں میری مختصر زندگی کا اعلان نامہ تھا۔مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں اسے موت کا پیغام کہوں ؟ یا مختصر زندگی کی سند ؟ شکوہ از خود میرے دل کی زبان پر آنے لگا،پہلے کیا کم کرب تھا حیات میں ،جو میں ایک اور اذیت میں مبتلا ہو گیا ہوں ۔اور اذیت بھی ایسی کہ جس میں لمحہ لمحہ موت ہے۔

پھر ڈاکٹر آرنلڈ کی بات یاد آئی " قوت ارادی ہی ایسی بڑی بیماریوں کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہوا کرتی ہے،اسے ہمیشہ ساتھ رکھیے گا“میں نے چھت کی جانب دیکھا ،ایک گہرا سانس لیا اور اللہ کا نام لے کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ہاسپٹل سے باہر آ کر میں نے اپنے آپ کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر کسی بے جان وجود ہی طرح پایا،جس کی چلتی ہوئی سانسیں اور دھڑکتا ہوا دل چیخ چیخ کے اس کے زندہ ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔میری نگاہیں ہنوز اس فائل پر ٹکی تھیں۔

یہ کیسی تکلیف تھی جسے میں کسی سے بانٹ نہیں سکتا۔ اپنے اُن بہت پیارے رشتوں سے بھی نہیں جو اس دُنیا میں سب سے زیادہ میرے اپنے تھے۔ ہر بار کی طرح اب بھی مجھے اکیلے ہی سہنا ہو گا۔میری حیات کے اندھیرے کچھ اور گہرے ہو گئے۔ گاڑی گھر تک کا سفر طے کیے جا رہی تھی میں میری منزل کے قریب تر ہو رہا تھا پھر اچانک دل نے کہا ایسے ہی زندگی بھی اپنی منزل کے قریب تر ہو رہی ہے اور اس زندگی کے فاصلے بھی سمٹ رہے ہیں۔جلد ہی یہ بھی اپنی منزل پر پہنچ جائے گی۔پھر مجھے اترنا ہو گا زندگی کی گاڑی سے۔ اپنی آخری منزل پر پہنچ کر میں ہمیشہ کے لیے ان غموں ،فکروں ،اور بیماریوں سے آزاد ہو جاوں گا۔

گھر آ کر میں نے خود کو ایک کمرے تک محدود کر لیا۔میں کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔میں اپنا غم ،اپنی تکلیف کسی سے نہیں بانٹنا چاہتا تھا۔ باہر رات کا اندھیرا پھیلنے لگا۔مجھے اس اندھیرے سے کیا خوف ؟ میری تو اپنی حیات میں گہرا اندھیرا تھا۔میری حالت اس وقت ایک اندھے کی سی تھی جسے دن کے اجالے یا رات کے اندھیرے میں کوئی فرق نہ دکھائی دیتا تھا ۔میرے لیے رات کے اندھیرے ہوں یا دن کے اجالے ،دونوں کی حیثیت ایک ہی تھی۔

میں نصیب کی اس ایک اور ضرب پر بہت زخمی ہوا۔ مگر ٹوٹا نہیں ،میری ماں کہتی تھی کہ ٹوٹا وہ کرتے ہیں ،بکھرتے وہ ہیں جو کمزور ہوتے ہیں اور میں تو مضبوط انسان تھا میں کیسے بکھر جاتا؟میں نے اپنی آنکھوں کو اپنے دل کو بکھرنے کی اجازت نہیں دی۔

اپنی زندگی کے اس بند اندھیر کمرے میں بیٹھا میں موت کے لیے خود کو تیّار کرنے لگا۔میں نے سُنا تھا کہ موت کے اندھیرے زندگی کے اجالوں کو کھا جاتے ہیں مگر میری یہ زندگی کیسی زندگی تھی جس کے زندہ ہونے کے باوجود موت کا اندھیرا اس کے اجالے کو نگل گیا۔

تب ہی میری زندگی کے اس اندھیر کمرے میں ایک روشنی کا دخل ہوا۔میں جو زندگی کے اجالوں سے محروم ان اندھیروں کو گلے لگائے بیٹھا تھا اس ایک روشنی کے دکھنے پر فوراً چونکا۔ یہ کیسی روشنی ہے؟ اس کا میری زندگی میں کیا کام ؟ میں نے آگے بڑھ کر اس جگنو سے پوچھا، "کون ہو تم؟ اور میری زندگی کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کیوں بھٹک رہے ہو؟

اس نے کہا، "میں محبت کی روشنی ہوں۔" پھر وہ میری زندگی میں اپنی محبت کے تمام تر اجالے لے کر داخل ہو گئی۔ دل نے بے اختیار سوال کیا۔"کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ روشنی کو اندھیرے سے محبت ہو جائے ؟“ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

میں موت کے اس سائے میں زندگی کی رمق دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اور کسی چھوٹے سے بچے کی طرح میری نگاہیں اس روشنی کے ننھے سے وجود کے ساتھ گھوم رہی تھیں وہ جہاں جاتا میری نگاہیں اس کا تعاقب کرتیں۔پھر وہ محبت کا جگنو میری زندگی میں ٹھہر گیا۔اس کے ہونے سے میری زندگی کتنی روشن ہو گئی ۔ہر عکس واضح تھا،ہر راہ دکھائی دینے لگی، ہر دھندلا منظر شفاف ہو گیا۔ مجھے زندگی ایک بار پھر سے اچھی لگنے لگی۔اس روشنی نے مجھے بہت سے راستے دکھائے ۔اپنی ذات کے اندھیرے میں جن جن راستوں کے نہ دکھنے سے میں نے ٹھوکریں کھائیں اس جگنو نے وہ سب راستے میرے سامنے روشن کر دئیے۔اور مجھے پھر سے ٹھوکر لگنے سے بچا لیا۔

میں نے اس جگنو کو اپنی زندگی میں زندگی بنا لیا۔میں اس کے ساتھ بہت خوش رہتا ۔ہر لمحہ اس کا احسان مند رہتا کہ اس نے میری حیات کو اپنا آپ دے کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اور وہ جگنو ہنستا تو اس کی ہنسی سے میرے ارد گرد جل ترنگ بجنے لگتے۔وہ خوش ہوتا تو میرا دل بھی بہت خوش ہوتا۔وہ مجھ سے شرارتیں کرتا۔ اپنی زندگی کی طرح اپنے وجود کی تمام روشنی مجھ پر نچھاور کر دیتا۔وہ مجھے واپس زندگی کی طرف لے آیا۔

میں نے اس کے ساتھ مل کر ہنسنا سیکھا،بولنا سیکھا،میں نے اس کی قربت میں ہر خوشی پائی۔وہ میرا سب سے اچھا دوست بن گیا۔ ہم دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ،ساتھ ساتھ رہتے پھر بھی ہمیں ایک دوسرے کی طلب رہتی۔محبت کے اس جگنو سے مجھے محبت ہو گئی۔ ایک دن میں نے اُس سے پوچھا "محبت یوں بھی ہوتی ہے؟ اندھیرے کو روشنی سے؟" وہ مُسکرا دی اور بولی "شمع اور پروانے کی محبت کی داستان نہیں سُنی کبھی؟" مجھے میرا جواب مل گیا۔ میں روح تک مسرور ہو گیا۔

لیکن میں جانتا تھا کہ وہ میرے پاس ہمیشہ نہیں رہے گا۔میری طرح وہ بھی ایک مسافر ہے اسے بھی اپنی حیات کی مسافت طے کرنی ہے۔اس کا سفر جب اس اندھیرے میں پورا ہو گا تو وہ اس اندھیرے کو چیرتا ہوا باہر نکل جائے گا۔یہ بات الگ تھی کہ اس کی روشنی کی قدر اجالا اس طرح سے نہیں کر پاتا جیسے اس کی قدر اندھیرے کو تھی ۔شاید اس لیے کہ اندھیرے میں اجالے کے ملنے کی قدر اندھیروں میں بسنے والا جانتا ہے۔

میں نے شعوری طور پر اس بات کو بھُلا دیا کہ اس روشنی کو اپنا سفر پورا کر کے اپنے ایک خاص وقت پر میری زندگی سے لوٹ جانا ہے۔پھر اس کے بعد اندھیرے میرے نصیب کے ہوں یا موت کے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہو گی۔میں نے اس روشنی کو اپنی حیات کا مرکز بنا لیا۔ میں اس کے سنگ جینے لگا ۔اس نے مجھے پھر سے مضبوط انسان بنایا۔مجھ پر اپنی بہت سی روشنی کا عکس ڈالا۔میری ذات کو اجالے بخشے ۔ہم نے بہت سا یادگار وقت ایک ساتھ گزارا۔ایسا وقت جس کی یادیں باقی ماندہ حیات کو مہکانےکے لیے کافی تھیں۔میں نے اس کے ساتھ پل پل جیا۔ایسے کہ جیسے کبھی زندگی کو جینے کی خواہش کی تھی۔

میں نے اس کے سنگ رہتے ہوئے بہت سے خواب دیکھے ،ان خوابوں کو خیالوں سے حقیقت بنایا۔ایک دنیا بسائی ،اس دنیا میں ہر من پسند رشتہ ،ہر من پسند بات شامل کی۔ میں اپنی روشنی کے ساتھ اسی دنیا کا مسافر بن گیا۔ جہاں سب کچھ ہمارا بسایا ہوا تھا۔جہاں ہمارے خواب تھے ،ان خوابوں کی ناقابل یقین حقیقتیں تھیں۔

وقت گزرتا گیا،اور بالآخر روشنی کا سفر اس اندھیری دنیا میں تمام ہوا۔ خدا کا حکم تھا کہ اب وہ اس اندھیرے سے باہر چلی آئے اور اجالوں میں بسے۔میرے دل نے بھی اس کے لیے ہمیشہ یہی دعا مانگی کہ وہ سدا اجالوں میں رہے ،کبھی نصیب کا کوئی اندھیرا اسے نہ ملے۔وہ سارے اندھیرے جو اس کے نصیب ،حیات کے ہیں وہ مجھے عطا کرے اور جو اجالے میرے نصیب کے ہیں وہ اسے مل جائیں۔ مجھے اور اندھیروں سے کیا فرق پڑتا ؟ اندھے کے لیے تو شام کا اندھیرا اور گہری رات کا اندھیرا دونوں ایک برابر ہی ہوتے ہیں۔

پھر ایک دن روشنی نے مجھ سے کہا "اب میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔"
میں چاہ کر بھی اسے روک نہ پایا ،یہ بات تو تب ہی سے طے تھی جب وہ میری زندگی میں داخل ہوئی تھی تو اب میں اپنا عہد و پیماں کیسے توڑ دیتا؟ میں نے مسکرا کر اسے کہا "اتنے سب وقت کے لیے میری زندگی کو جگمگ کرنے کا ،مجھے بے حد پیار دینے کا اپنا ساتھ دینے کا بہت شکریہ۔"

روشنی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے،میری طرح اسے بھی اس ساتھ کی عادت ہو گئی تھی۔ اسے بھی اندھیرے سے محبت ہو گئی تھی۔اور اسے بھی اجالوں کی نسبت اندھیروں میں رہنا اچھا لگنے لگا تھا۔اندھیرے میں اس کے وجود کی چمک بڑھ جاتی تھی۔ وہ اس اندھیرے میں روپ لٹاتی چاندنی بن کر جتنا بھی عرصہ رہی اس عرصے نے اس کے قدموں میں بیڑیاں ڈال دیں ۔مگر وہ تو محبت تھی اور محبت قید کب کی جا سکتی ہے؟ اسے بھی اپنا سفر مکمل کرنا تھا۔اس نے جانے کے لیے قدم بڑھائے وہ جتنے قدم آگے کی طرف بڑھاتی اس سے دوگنے قدم واپس پیچھے کی طرف آ جاتی،میں جانتا تھا وہ یہ فاصلہ میرے ساتھ کے بغیر طے نہیں کر پائے گی۔میں نے آگے بڑھ کراس کا ہاتھ تھاما ،اسے چوما اور اپنی زندگی کے اس آخری لمحے سے باہر نکلنے میں اسے مدد کی۔

کتنی مشکل ہوتی ہے آخری ملاقات یہ مجھ سے اور اس سے بہتر شاید کوئی نہیں جان سکتا ۔کتنا مشکل ہوتا ہے ایک آخری بار مڑ کر دیکھنا ۔ایک آخری بار سلام کرنا۔کسی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا ۔ایک آخری بار کسی کو نظر بھر کر دیکھنا۔خاص طور پر تب جب آپ کو اس بات کا یقین ہو کہ پھر کبھی غلطی سے بھی آپ کا سامنا نہیں ہو گا۔کتنا مشکل ہوتا ہے ۔لیکن اس سب کے باوجود ایک آخری ملاقات سے کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی ،کوئی جھوٹا انتظار آپ کے دل میں ڈیرے نہیں ڈالے بیٹھا رہتا کہ شاید وہ آ جانے ،شاید آج ،شاید کل۔

وہ اندھیرے کو چیرتی ہوئی باہر نکل گئی۔جس طرح اس نے اندھیرے کو چیرا اور جیسے اندھیرے کا وجود زخمی ہوا ایسے ہی اس کا اپنا بدن بھی زخمی ہوا۔ اُسکی آنکھیں چندھیانے لگیں ۔ ۔ اُسے روشنی کی عادت نہ رہی تھی۔ جتنا کرب وہ دے کر گئی اس سے کہیں زیادہ کرب وہ ساتھ لے گئی۔

بالکل ایسے ہی جیسے پانی میں چلتی ہوئی کشتی پانی کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے، اس کے آگے بڑھنے سے پانی میں زبردست قسم کا ارتعاش پیدا ہوتا ہے پانی بپھر جاتا ہے بے چین ہو جاتا ہے کتنی دیر اور کتنی دور تک اس میں ہلچل رہتی ہے مگر پھر اپنے کرب کی مدت پوری کر کے اس کی سطح پر اور زیر سطح سکون ہی سکون پھیل جاتا ہے۔اس کے وجود پر کشتی کے گزر جانے کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔اس کے قدموں کے نشان؛ اس کے وجود کا لمس؛ اس کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں کہ کبھی کوئی کشتی اس پانی کو چھو کر گزری تھی۔

مجھے بھی بہت تکلیف ہوئی اس کے چلے جانے سے،میری زندگی میں تو اب کوئی اور مقصد ہی نہ تھا۔بس وہ تھی اور اس کی یادیں۔ایک بات میرے لیے اچھی تھی کہ میری زندگی کے دن کم تھے،اس لیے میرا یہ کرب شاید جلد ختم ہو جاتا ،مگر وہ ؟ اس کا کیا؟ وہ کیسے جیئے گی؟ بہت سے سوال ایسے تھے جن کا کوئی جواب میرے پاس موجود نہیں تھا۔اس کا سفر میری زندگی کے سفر میں آنا ،اس کا اور میرا راستہ ایک ہی ہونا ، ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کےلیے محبت کا بس جانا یہ سب کچھ غیر ارادی تھا۔اگر کچھ کرنا خود ہمارے اختیار میں ہوتا تو ہم روشنی اور اندھیرے کا یہ ملاپ ہی نہ ہونے دیتے۔

اس کے جانے نے مجھے بہت بہت تکلیف دی ہاں مگر میں نے اپنی بکھری بکھری سی زندگی سمیٹ لی تھی۔میں نے جینا سیکھ لیا تھا،میں پھر سے ایک مضبوط انسان بن گیا تھا۔

اس کی یادیں اس کے جانے کے بعد روشنی کی صورت میری زندگی میں رہیں جنھوں نے موت کے خوف کو میری زندگی کے اجالے نگلنے نہیں دئیے۔میں اس کو جب بھی تصور میں لاتا ہوں دل،اور لب مسکرا اٹھتے ہیں۔دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی مجھے سوچ کر مجھے خیال کر کے ایسے ہی مسکرا اٹھتی ہو۔میں اسے مزید کوئی تکلیف دینے کا سبب نہ بنوں۔وہ جس کسی کی زندگی میں بھی رہے میری روشنی بن کر رہے ہر کسی کی زندگی روشن کرے اور خود بھی سدا ایسے ہی روشن رہے ۔آمین ثم آمین۔