06 - اسلامائیزیشن آف لاز از سلمان سلو

جب یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ ہمارا قانون،ہماری معیشت،ہماری سیاست یا ہماری زندگی کا ہر پہلو اسلام کے سانچے میں ڈھلنا چاہیے ، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ڈھلنا چاہیے؟

یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں سیکولر تصورات اس دنیا کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں اور یہ بات تقریبا'' پوری دنیا میں بطور ایک مسلم حقیقت مان لی گئی ہے کہ کسی ریاست کو چلانے کا صحیح نظام سیکولر سسٹم ہے۔۔۔

ہم اپنی زندگی کو کیوں اسلامائیز کرنا چاہتے ہیں؟ اور ہم ملکی قوانین کو کیوں اسلام کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں؟ جبکہ دین کی تعلیمات تو چودہ سو سال بلکہ بیشتر ہزار ہا سال پرانی ہیں۔۔۔

سیکولر نظام حکومت میں،عقل،تجربے اور مشاہدے کو آخری حد قرار دے دیا گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معیار کتنا مضبوط ہے؟ کیا یہ معیار اتنا مضبوط ہے کہ قیامت تک آنے والی انسانیت کی رہنمائی کرسکے؟کیا یہ معیار تنہا عقل کے بھروسے پر،تنہا مشاہدے اور تجربے کے بھروسے پر ہمارے لئے کافی ہوسکتا ہے؟

علم کے حصول کے لیے اللہ تعالٰی نے انسان کو ذرائع سے نوازا ہے۔۔۔
انسان کو تین ذرائع علوم دیئے گئے ہیں۔۔
{1} حواس خمسہ
{2} عقل
{3} وحی

حواس خمسہ میں ہر ایک کا مخصوص دائرہ کار ہے۔اس دائرہ کار سے باہر وہ ذریعہ کام نہیں کرتا۔آنکھ دیکھ سکتی ہے مگر سن نہیں سکتی۔کان سن سکتا ہے مگر سونگھ نہیں سکتا۔۔۔۔اس لیے کہ کان اس کام کے لئے نہیں بنایا گیا۔۔اگر کوئی شخص کہے کہ کان نہیں دیکھ سکتا اس لیے بےکار چیز ہے تو اسے ساری دنیا احمق کہے گی۔۔ایک مرحلہ پر جا کر ان پانچوں حواس خمسہ کی پرواز ختم ہوجاتی ہے اس موقع پر اللہ تعالٰی نے ایک اور ذریعہ عطا فرمایا ہے اور وہ ہے ''عقل'' جہاں پر حواس خمسہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں وہاں پر عقل کام آتی ہے مثلا'' میز کو دیکھ کر یہ بتایا جاسکتا ہے کہ میز کا رنگ کیا ہے؟ ہاتھ سے چھو کر معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ سخت لکڑی کی ہے مگر اس بات کا علم کہ یہ میز وجود میں کیسے آئی؟ یہ بات نہ تو آنکھ دیکھ کر بتا سکتی ہے نہ کان سن کر اور نہ ہاتھ سے چھو کر ، اس موقع پر عقل رہنمائی کرتی ہے کہ یہ کسی بڑھئی نے بنالی ہے یعنی جہاں پر حواس خمسہ نے کام کرنا چھوڑ دیا وہاں عقل کام آئی اور اس نے رہنمائی کر کے ایک دوسرا علم عطا کیا۔۔۔۔۔

حواس خمسہ{دیکھنا،سننا،سونگھنا،چھونا ،چکھنا} کی طرح عقل بھی ایک حد تک انسان کو کام دیتی ہے اس حد سے آگے اس عقل کو استعمال کرنا چاہیں گے تو عقل صحیح جواب نہیں دے گی۔۔۔
جہاں عقل کی پرواز ختم ہو جاتی ہے وہاں اللہ تبارک و تعالٰی نے انسان کو تیسرا ذریعہ علم عطا فرمایا اور وہ ہے ''وحی الہی'' آتی ہے اس جگہ پر عقل کو استعمال کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کے کام کے لئے کان کو استعمال کرنا۔کان کے کام کے لئے آنکھ کو استعمال کرنا۔۔۔اس کے ہزگز یہ معنی نہیں کہ عقل بے کار ہے۔۔نہیں بلکہ وہ کارآمد چیز ہے بشرطیکہ آپ اس کو اپنے دائرہ کار میں استعمال کریں۔۔اگر اس کے علاوہ استعمال کریں گے تو ایسا ہی ہوتا کہ کوئی شخص کان اور آنکھ سے سونگھنے کا کام لے۔۔۔۔۔

اسلام اور سیکولر نظام حیات میں یہی فرق ہے کہ سیکولر نظام میں علم کے پہلے دو ذرائع استعمال کرنے کے بعد رک جاتے ہیں اور اسلام یہ کہتا ہے کہ ان دو ذرائع کے آگے تمہارے پاس ایک ذریعہ علم اور بھی ہے اور وہ ہے ''وحی الہی''

آج کل ''عقل پرستی'' کا بڑا زور ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کو عقل کی میزان پر پرکھ کر اور تول کر اختیار کریں گے لیکن عقل کے پاس ایسا کوئی لگا بندھا ضابطہ اور اصول نہیں ہے جو آفاقی حقیقت ''یونیورسل ٹروتھ'' رکھتا ہو۔۔

جس کو ساری دنیا کے مسلمان تسلیم کریں اور اس کے ذریعے وہ اپنے خیر و شر،اچھائی و برائی کا معیار تجویز کرسکیں۔مثلا'' اٹیم بم جس کی تباہ کاریوں سے تمام دنیا آج خوفزدہ اور پریشان ہے اور ایٹمی اسلحہ میں تخفیف کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔۔۔
۔''۔۔۔۔۔۔۔Encyclopedia of Britannica''
میں ایٹم بم پر جو مقالہ لکھا گیا ہے اس کو ذرا کھول کر دیکھیں۔۔اس کو شروع یہاں سے کیا گیا ہے کہ ہیرو شما اور ناگاسا کی پر جو ایٹم بم گرائے گئے اس کے ذریعے ایک کروڑ انسانی جانیں بچائی گئیں اور ان کو موت کے منہ سے نکالا گیا۔۔اس کی منطق یہ لکھی گئی ہے کہ اگر ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم نہ گرائے جاتے تھے تو پھر جنگ مسلسل جاری رہتی اور اس میں اندازہ یہ تھا کہ تقریبا'' ایک کروڑ انسان مزید مر جاتے۔۔یہ جواز ہی عقل کی بنیاد پر ہے لہذا کوئی بری سے بری بات اور سنگین خرابی ایسی نہیں ہے جس کے لئے عقل کوئی نہ کوئی دلیل اور کوئی نہ کوئی جواز فراہم نہ کرے۔۔اس لئے کہ عقل کو ایسی جگہ استعمال کیا جا رہا ہے جہاں اس کی جگہ ہی نہیں۔
اسلام یہ کہتا ہے کہ تم بے شک عقل کو استعمال کرو لیکن صرف اس حد تک جہاں تک وہ کام دیتی ہے۔۔ایک سرحد ایسی آتی ہے جہاں عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے بلکہ غلط جواب دینا شروع کردیتی ہے۔اس لئے جہاں عقل کا دائرہ کار ختم ہوجاتا ہے وہی اللہ تعالٰی نے انسان کو تیسرا ذریعہ علم ''وحی الہی'' عطا فرمایا۔۔چنانچہ یہ قرآن کریم آپ کو بتائے گا کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے؟ یہ بتائے گا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ یہ بتائے گا کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے؟ یہ سب باتیں محض آپ کو عقل کی بنیاد پر نہیں معلوم ہوسکتیں۔۔

دنیا میں کوئی شخص ایسا معیار تجویز نہیں کرسکتا جو تمام دنیا کے لیے مکمل طور پر قابل قبول ہو۔۔انسان کے پاس ''وحی الہی'' کے سوا کوئی معیار نہیں ہے جو ان اہم تصورات پر جائز حدیں قائم کرنے کا کوئی لازمی اور ابدی معیار فراہم کرسکے۔۔۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ''لاء'' کو''اسلامائز'' کیا جائے تو اس کی معنی یہی ہیں کہ سیکولر نظام نے حصول علم کی دو بنیادیں آنکھ،کان،زبان وغیرہ اور عقل اختیار کی ہوئی ہیں اس سے آگے ایک اور قدم بڑھا کر ''وحی الہی'' کو بھی حصول علم اور ہنمائی کا ذریعہ قرار دے کر اس کو اپنا شعار بنائیں اور جب یہ بات ذہن میں آجائے کہ ''وحی الہی'' شروع ہی وہاں سے ہوتی ہے جہاں عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے تو پھر''وحی الہی'' اور ''قرآن و سنت'' میں جب کوئی حکم آجائے اس کے بعد اس بنا پر اس حکم کو رد کرنا کہ صاحب اس حکم کا ''ریزن'' میری سمجھ میں نہیں آتا، احمقانہ فعل ہوگا۔۔کیونکہ وحی کا حکم آیا ہی اس جگہ پر ہے جہاں''ریزن'' کام نہیں آرہا۔۔۔۔

اب ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہم چودہ سو سال پرانے اصولوں کو آج کی اکیسویں صدی پر کیسے ''اپلائی'' کریں؟ یہ شبہ اسلامی علوم سے ناواقفیت کی بناء پر پیدا ہوتا ہے کیونکہ اسلام انے اپنے احکامات کے تین حصے کئے ہیں ایک وہ حصہ ہے جس میں قرآن کریم کی نص موجود ہے جس میں تاقیامت تبدیلی نہیں ہوسکتی۔۔دوسرا حصہ وہ ہے جس میں اجتہاد اور استنباط کی گنجائش رکھی گئی ہے اور احکام کا تیسرا حصہ وہ ہے جس کے متعلق قرآن و سنت میں کوئی حکم نہیں حکم کیوں نہیں دیا؟ اس لیے کہ اس کو ہماری عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کا اتنا وسیع دائرہ ہے کہ ہر دور میں انسان اپنی عقل اور تجربہ کو استعمال کرکے اس خالی میدان میں ترقی کرسکتا ہے اور ہر دور کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔۔۔

اس
{Islamisation of Laws}
کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو کہ ڈنکے کی چوٹ پر سینہ تان کر کسی معذرت خواہی کے بغیر،کسی سے مرغوب ہوئے بغیر یہ بات کہ سکیں کہ ہمارے نزدیک انسانیت کی فلاح کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ صرف''اسلامائیزشن '' میں ہے اس کے علاوہ کسی اور چیز میں نہیں۔