01 - منگلا ڈیم(پہلا حصہ) از دلپسند سیال

منگلا ڈیم پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ڈیم آزاد کشمیر کے ضلع میرپور میں واقع ہے۔ 1967ء میں اپنی تعمیر کے وقت یہ دنیا کا پانچواں بڑا ڈیم تھا جبکہ اس وقت یہ دنیا کا بارہواں بڑا ڈیم ہے۔ اس کا نام وہاں پر موجود منگلا گاؤں کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ منگلا قبیلے کی ایک اپنی تاریخی حیثیت ہے۔ بعض تاریخی کتابوں کے مطابق منگلا گاؤں کا نام ہندوؤں کی دیوی منگلا دیوی کے نام پر رکھا گیا۔ ہندو مذہب میں منگلا دیوی کو دولت وثروت کی دیوی کہا جاتا ہے۔ اس کے پیرو کاروں نے ازراہِ عقیدت اپنے نام کے ساتھ منگلا لکھنا شروع کیا۔ انہی لوگوں نے منگلا گاؤں کی بنیاد رکھی اور پھر منگلا کہلوانے لگے۔

بعض کتابوں میں ہے، راجہ پورس کی ایک بیٹی کا نام شہزادی منگلا دیوی تھا۔ منگلا قبیلہ دراصل اسی شہزادی منگلا دیوی کی اولاد ہے اور گاؤں کا نام بھی اسی کے نام پر منگلا رکھا گیا۔ بعض تاریخ نویسوں کے مطابق یہی منگلا گاؤں ہی وہ تاریخی مقام ہے جہاں سے 326 قبل مسیح سکندراعظم نے دریائے جہلم عبور کرکے دس میل اوپر کی جانب "کھڑی" کے مقام پر راجہ پورس سے فیصلہ کن جنگ کی تھی جس میں راجہ پورس کو شکست ہوئی۔

کھڑی شریف کا قصبہ اس وقت آزاد کشمیر کے شہر میر پور میں نہر اپر جہلم کے بائیں کنارے آباد ہے اور یہ دمڑیاں والی سرکار، بابا پیر شاہ غازی اور معروف لوک داستان "سیف الملوک" کے خالق حضرت میان محمد بخش کے مزارات کی وجہ سے مشہور ہے۔

تاریخ کی مستند کتابوں میں راجہ پورس کی بیٹی شہزادی منگلا دیوی کا ذکر تو ملتا ہے لیکن اس مقام سے سکندراعظم کے دریا عبور کرنے اور کھڑی شریف میں فیصلہ کن جنگ کے شواہد نہیں ملتے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ صرف من گھڑت واقعات ہوں۔

بعض روایات کے مطابق ہندوؤں کے دیوتا کرشن مرلی دھر کے انتہائی قابل اعتماد دوست راجہ ہنومان کی اولاد جنوبی ہندوستان میں آباد ہوئی۔ 1801 سے 1899 کے درمیان راجہ ہنومان کی اولاد میں سے ایک شہزادہ منگل داس، ہجرت کرکے پنجاب کے اس علاقے میں آباد ہوگیا جو آج کل ضلع سرگودھا کہلاتا ہے۔

منگل داس بعد میں مسلمان ہوگیا اور خیرالدین نام اختیار کیا۔ اس کی مذہب کی تبدیلی نے خاندان والوں کو سخت چراغ پا کیا اور انہوں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا، ازراہ طنز اسے منگلا کہہ کر پکارنے لگے۔ خیرالدین نے بجائے برا ماننے کے منگلا کو اپنے نام کے ساتھ شامل کرلیا اور خیرالدین منگلا کہلانے لگا۔ بعد میں اسی کی اولاد منگلا کہلائی یوں منگلا قبیلے کی بنیاد پڑی۔

منگلا قبیلے کے بیشتر لوگ جہلم سے 16 کلومیٹر دور واقع چک منگلا یا منگلا ہملٹ میں رہتے ہیں۔ جبکہ ساہیوال اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی منگلا قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔

منگلا کا قلعہ مضبوط اور ناقابل تسخیر قلعوں میں شمار ہوتا تھا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق یہ قلعہ تین صدی، قبلِ مسیح تعمیر ہوا تھا۔ یہ قلعہ اس وقت بنا جب دریائے جہلم کو وتاست کہاجاتا تھا۔

قلعہ ایک چٹان کی چوٹی پر واقع ہے۔ پہاڑی کی ڈھلوان مضبوط فصیل اور تین اطراف سے دریا کے پانی نے اسے ناقابل تسخیر بنایا ہواتھا۔ اپنے وقت میں یہ ضلع راجواڑی کا مضبوط قلعہ شمار کیا جاتا تھا۔ منگلا قلعہ کی فصیل کا بڑا حصہ منہدم ہوچکا ہے۔ جو باقی بچا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فصیل کی اونچائی تقریبًا بیس فٹ کے لگ بھگ تھی۔ اس کی بچی کھچی دیواروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قلعہ باقاعدہ کسی منصوبے کے تحت نہیں بنایا گیا تھا کیونکہ ان کی برجیوں کا فاصلہ یکساں نہیں ہے۔

1900ء کے لگ بھگ ہندوستان میں آزادی کی تحریک نے نئی کروٹ لی اور انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد نے زور پکڑ لیا۔ پنجاب میں لوگوں نے ہتھیار اٹھالیے۔ یہ لوگ رات کی تاریکی میں انگریز کے کیمپوں اور چھاؤنیوں پر شب خون مارتے اور دن کی روشنی میں جنگلات میں روپوش ہوجاتے تھے۔ رفتہ رفتہ پنجاب کے یہ جنگلات آزادی کے متوالوں کے لیے مضبوط ٹھکانہ بن گئے۔ سرگودھا، لائل پور(فیصل آباد) منٹگمری (ساہیوال) کے جنگلات کا، خطرناک ترین علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔ انگریزوں نے دلا بھٹی اور دیگر مجاہدین کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے ان جنگلات کو کاٹنے کا منصوبہ بنایا اور یہ کام انگریز حکومت نے ایک افسر سرلائل کو سونپ دیا۔ سرلائل اور اس کے انجینئرز نے جنگلات کا صفایا کرکے وہاں سینکڑوں گاؤں آباد کیے اور ان کے رہائشیوں کو کاشت کاری کےلیے زمینیں الاٹ کیں۔

سرلائل اور اس کی ٹیم نے ان نوآباد گاؤں کو مختلف نام دینے کے بجائے دریائے جہلم سے نکلنے والی چھوٹی بڑی نہروں کے اطراف کے حساب سے نمبر الاٹ کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان تینوں اضلاع کے بیشتر دیہات نام کے بجائے چک نمبر سے پہچانے جاتے ہیں۔ جبکہ ان نمبرز کے ساتھ اس نہر کا مخفف بھی لکھا جاتا ہے جس کا پانی ان دیہات کی زمینوں کو سیراب کرتا ہے۔ بعض چکوں(دیہات) کے نمبرز نہروں کی سمت کے حساب سے مخصوص کیے گئے مثلاً جو دیہات نہر کے شمال میں تھے ان کے نام کے ساتھ شمالی کا اضافہ کردیا اور جو جنوب کی طرف تھے وہ جنوبی کہلائے۔

سر لائل نے بڑے پیمانے پر ان تینوں اضلاع میں آباد کاری کی۔ چنانچہ اس کی خدمات کے صلے میں ایک شہر کا نام اس کے نام پر لائل پور رکھا گیا جو بعد ازاں سعودی عرب کے عظیم فرمانروا شاہ فیصل کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا۔ اس آباد کاری کے دوران منگلا قبیلے کو شامل رکھا گیا اوراس قبیلے نے دو دیہات منتخب کیے ایک کا نام 168 این بی اور دوسرے کا 171 این بی تھا۔ بعد ازاں قبیلے کے بڑوں نے مقامی انتظامیہ سے درخواست کی کہ انہیں ایک ہی گاؤں میں رہنے کی اجازت دی جائے، چنانچہ نقشوں میں ضروری تبدیلیاں کی گئیں اور اس مشترکہ چک کو 171۔168 این بی کانام دیا گیا۔ جو بعد ازاں چک منگلا کے نام سے مشہور ہوا۔ اس وقت منگلا گاؤں آزاد کشمیر کے ضلع میر پور میں واقع ہے جبکہ منگلا چھاؤنی پاکستان کے ضلع جہلم میں شمار ہوتی ہے۔

1950ء میں منگلا قبیلے کی اکثریت نے قادیانی مذہب اختیار کرلیا۔ یہاں احمدی جماعت کے اتنے اجتماع اور کانفرنسیں ہوئیں کہ چک منگلا چھوٹا ربوہ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ منگلا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قادیانیوں کے تین خلفاء مرزا ناصر احمد قادیانی، مرزا مسرور احمد قادیانی اور مرزا طاہر احمد قادیانی نے" گدی " سنبھالنے سے پہلے منگلا کا دورہ کیا تھا۔

منگلا گاؤں سے دس کلومیٹر کی دوری پر منگلا کا ائیرپورٹ ہے۔ سطح سمندر سے 902 فٹ بلند یہ ائیرپورٹ مسافر بردار ایئرلائنز کے لیے نہیں بلکہ یہ صرف اور صرف فوجی مقاصد کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ ائیرپورٹ کا انتظام وانصرام سول ایوی ایشن کے پاس ہے۔ منگلا ایئرپورٹ کا آئٹا کوڈ xjm اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کا کوڈopma ہے۔

منگلا ڈیم دریائے جہلم اور کشمیر کے دریائے ویاس(ویاتھ)پر بنایا گیا ہے۔ دریائے جہلم 772 کلومیٹر لمبا ہے۔

دریائے جہلم کشمیر کے جنوب مشرقی حصے میں پیرپنجالی کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع واڑی ناگ نامی چشمے سے نکلتا ہے۔ اس کے بعد یہ سرینگر شہر اور وولر جھیل سے ہوتا ہوا ایک تنگ مگر، گہری کھائی کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ بعد ازاں مظفر آباد کے مقام پر اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے اور پھر چند کلومیٹر آگے وادیٔ کاغان کا دریا کنہار اس میں شامل ہوجاتا ہے۔ جبکہ کشمیر کا دریا پونچھ میر پور کے مقام پر جلہم میں شامل ہوتا ہے۔ دریائے جہلم مظفر آباد سے منگلا ڈیم تک آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان قدرتی سرحد کا کام دیتا ہے۔ جبکہ بکوٹ سرکل کے مشرق میں واقع کوہالہ برج آج بھی پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان آمدورفت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

آزاد کشمیر کے پرچم پر جو چار لکیریں بنی ہوئی ہیں وہ دراصل کشمیر کے چار دریاؤں، نیلم، جہلم، کنہار اور پونچھ کو ظاہر کرتی ہیں۔ منگلا ڈیم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کشمیر کے چاروں دریاؤں کا پانی اس میں گرتا ہے۔

منگلا اور ضلع جہلم کے سنگم پر دریائے جہلم پنجاب میں داخل ہوتا ہے اور زمینوں کو سیراب کرتا ہوا جھنگ سے 12کلومیٹر کے فاصلے پر ہیڈ تریموں میں دریائے چناب میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اچ شریف کے نزدیک ہیڈ پنج نند پر دریائے راوی، ستلج اور چناب مل جاتے ہیں اور پھر یہ ایک دریا پنج نند کہلاتا ہے۔ ستلج میں پنجاب کے پانچویں دریا بیاس کا پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ پھر یہ پنج نند مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔ مٹھن کوٹ میں ہی سرائیکی کے عظیم صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید کا مزار شریف ہے۔

دریائے جہلم پر منگلا ڈیم کے علاوہ دو اور بیراج بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک رسول ہیڈ ورکس ہے جو 1967ء میں تعمیر ہوا اور اس کی زیادہ سے زیادہ پانی کی گنجائش 8لاکھ 50 ہزار کیوبک ہے۔ دوسرا تریموں ہیڈ ورکس ہے جو 1939ء میں جہلم اور چناب کے سنگم پر تعمیر کیا گیا۔ اس سے پانی گزرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش 6لاکھ 45 ہزار کیوبک ہے۔

دریائے جہلم سے کئی نہریں نکالی گئی ہیں۔ اپر جہلم کینال منگلا سے دریائے چناب تک جاتی ہے۔ رسول قادر آباد لنک کینال رسول بیراج سے دریائے چناب تک جاتی ہے۔ چشمہ جہلم کینال، دریائے سندھ میں چشمہ بیراج سے نکلتی ہے اور رسول ہیڈ ورکس کی نچلی جانب دریائے جہلم سے جا ملتی ہے۔

1960 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ ہوا جس کی رو سے دریائے راوی، ستلج اور دریائے بیاس کے پانی پر ہندوستان کو حق مل گیا جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے حقوق پاکستان کو ملے اس معاہدے کے تحت پاکستان کو یہ حق دیا گیا کہ وہ ان تینوں دریاؤں پر بیراج یا ڈیم تعمیر کرسکتا ہے۔

منگلا ڈیم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان میں زرعی زمین کی سیرابی کے لیے پانی کو مناسب انداز میں ذخیرہ کرنے اور نظام آبپاشی کو مربوط کرنے کی سب سے پہلی کوشش ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے ساتھ ہی منگلا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بنالیا گیا تھا۔ فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان نے نومبر1961ء میں اس کا افتتاح کیا۔ مٹی اور پتھروں کی بھرائی سے تعمیر ہونے والا یہ ڈیم دنیا کا سب سے بڑا ایری گیشن نیٹ ورک تھا اور اسے دو ارب ڈالر کی لاگت سے تین کروڑ ایکڑ زرعی اراضی کی سیرابی اور وادیٔ سندھ کے پانچ کروڑ افراد کے فائدے کے لیے تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر میں چھ سال لگے۔

عالمی بینک کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، مغربی جرمنی اور نیوزی لینڈ نے تعمیراتی اخراجات کے لئے پاکستان کو ایک ارب ڈالر فراہم کیے اس کی تعمیر کئی حصوں میں مکمل ہوئی جس میں 8 بین الاقوامی کمپنیوں کے ایک کنسورشیم نے حصہ لیا اس کنسورشیم کی سربراہی سان فرانسسکو کی گائے ایف اٹکنسن کمپنی کررہی تھی۔

پہلے مرحلے میں 380 فٹ بلند ایمبارکمنٹ مکمل ہوئی جس کی طوالت گیارہ ہزار فٹ کے لگ بھگ تھی۔ اس میں سات کروڑ پچاس لاکھ کیوبک یارڈ(کیوبک گز) خشک مٹی اور پتھر استعمال ہوا۔

اپنی تعمیر کے وقت یہ دنیا کا مٹی کی بھرائی کا پانچواں بڑا ڈیم تھا جبکہ اس کی اسپل ویز کی گنجائش بارہ لاکھ کیوبک فٹ فی سیکنڈ تھی جو کہ نیاگرا آبشار سے چار گناہ زیادہ تھی۔ چھتیس فٹ قطر کی سرنگیں دریا کوخالی کرنے کے لئے بنائی گئ تھیں جبکہ ایک ذیلی ڈائیک بھی تعمیر کی گئی تھی۔

منگلا ڈیم کی تعمیر کے لیے بہت مشکلات سے گزرنا پڑا سب سے بڑی مشکل موسم تھا۔ منگلا کا علاقہ گرم اورگرد وغبار سے بھرپورتھا۔ اس ڈیم کی تعمیر کے لیے ڈھائی ہزار کے لگ بھگ امریکی اور یورپی ماہرین آئے ہوئے تھے جو کہ اس گرمی میں نہیں رہ سکتے تھے ان کے لیے اسپیشل ائیرکنڈیشن شہر بسایا گیا۔

جبکہ 18 ہزار سے زائد پاکستانی محنت کشوں کو ڈیم پر کام کرنے کی خصوصی تربیت دی گئی اور انہیں جدید آلات سے روشناس کراگیا۔ ان سے آٹھ گھنٹے کی مشقت کا کام لینے کےلیے ٹھیکیداروں نے انہیں خصوصی اور طاقتور غذا مہیا کی تاکہ وہ جسمانی طور پر مزید مضبوط اور طاقتور ہوسکیں۔
ابھی دریائے جہلم کا رخ بدلنے میں ایک مہینہ باقی تھا کہ 1965ءمیں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ محاذ جنگ ڈیم سے بمشکل 50 میل دور تھا مگر ڈیم پر کام جاری رہا۔ کنسورشیم کے صدر جارج اٹکنس کی اس وقت عمر بانوے سال تھی مگر اس بوڑھے نے جوانوں سے زیادہ کام کیا اور وقت سے پہلے دیوہیکل ڈھانچہ کھڑا کردیا۔ ڈیم کے بنیادی ڈھانچے میں چار پشتے، دو اسپل ویز، پانچ پاور کم ایری گیشن ٹنلز اور ہزار میگا واٹ کا پاور پلانٹ شامل ہے۔

مین ڈیم 10300 فٹ طویل اور بنیادی گھاٹی سے 454 فٹ بلند ہے جبکہ منگلا جھیل ستانوے اعشاریہ سات مربع میل (253مربع کلومیٹر) پر پھیلی ہوئی ہے۔ 1967ءمیں کھولے جانے سے اب تک اس میں 11لاکھ 30ہزار ایکڑ فٹ جگہ کم ہوچکی ہے۔ منگلا ڈیم کی مجموعی گنجائش 58لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ تھی جو اب 47لاکھ 50ہزار ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔ پہلے جھیل میں موجود کل پانی میں سے 53لاکھ 40 ہزار ایکڑ فٹ پانی استعمال کیا جاسکتا تھا لیکن اب یہ گنجائش 45 لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔ یوں ڈیم کی مجموعی گنجائش میں انیس اعشاریہ بائیس فیصد کمی آئی ہے۔

منگلا ڈیم پر بجلی پیدا کرنے کے دس یونٹ لگائے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی گنجائش ایک سو میگا واٹ ہے اور اس ڈیم سے مجموعی طور پر ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جو کہ ملک کی بجلی کی پیداوار کا بیس فیصد ہے۔

منگلا جھیل کے عقب میں دریائے جہلم ہے جو بالکل خشک ہے کیونکہ اسی کے پانی کو پشتوں کی مدد سے روک کر سرنگوں کے ذریعے ان دیوہیکل ٹربائنوں تک پہنچایا جاتا ہے جو آواز سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے پانی کو گھماتے اور بجلی پیدا کرتے ہیں۔

دینہ سے میرپور جائیں تو سڑک کے بائیں جانب ڈیم، جبکہ دائیں جانب پاور ہاؤس ہے۔ پاور ہاؤس کو سڑک سے گزرنے والوں کی تاک جھانک سے بچانے کے لئے آہنی چادریں نصب کی گئی ہیں۔ جبکہ ڈیم سے پاور ہاؤس کی طرف جانے والی تمام سرنگیں اسی سڑک کے نیچے سے گزرتی ہیں۔ یہی وہ سرنگیں ہیں جو پاورہاؤس کی ٹربائنوں کو پانی فراہم کرتی ہیں۔ پانی کے زور دار پریشر سے ٹربائین پوری قوت سے گھومتی ہے اور اسی قوت سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ ٹربائنیں پاورہاؤس کے تہہ خانے میں نصب ہیں ان تک جانے کے لیے چار منزلیں نیچے اترنا پڑتا ہے۔ ان تہہ خانوں میں جدید ترین مشینری اور آلات نصب ہیں۔ یہاں پانی کو تیزی سے گھومتے دیکھ کر جسم کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پاور ہاؤس کے آخری کونے سے ایک نہر شروع ہوتی ہے اس نہر میں وہی پانی گرتا ہے جو سرنگوں کے ذریعے ٹربائین تک پہنچتا ہے جسے ٹربائین بڑی قوت سے گھما کر آگے اس نہر میں دھکیل دیتی ہے۔ پانی سرنگوں سے پوری قوت کے ساتھ نکلتا ہے اوراس کا تیز دھارا اس لنک کینال میں جا گرتا ہے۔ سرنگوں سے پانی نکلنے کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ اس کے آگے کوئی چیز نہیں ٹھہرسکتی۔

ڈیم کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی جھیل اور پاور ہاؤس آزاد کشمیر کی حدود میں ہے جبکہ سٹاف کی رہائشی کالونی دریائے جہلم کے پار پاکستان کی حدود میں ہے۔ حکومت پاکستان نے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت آزاد کشمیر کو دریا کا پانی استعمال کرنے اور بجلی کی پیداوار میں سے رائلٹی دی جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

منگلا جھیل کے پانی کے نیچے آزاد کشمیر کا قدیم اور تاریخی شہر میرپور دفن ہے۔ جبکہ موجودہ میر پور شہر 1960ء میں بسایا گیا۔ جب منگلا جھیل میں پانی کی سطح کم ہوتی جاتی ہے تو پرانے شہر کے کھنڈرات نظر آنے لگتے ہیں۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق آزاد کشمیر کی 69ہزار206 ایکڑاراضی جھیل کی زد میں آئی ہے۔ بہ حیثیت مجموعی جھیل میں ایک شہر کے علاوہ چار قصبے اور 168 گاؤں جھیل میں تبدیل ہوئے۔ ان میں میرپور شہر اور اس کے 65 دیہات، اسلام گڑھ اور اس کے 28 دیہات، چک سواری اور اس کے 25 دیہات، ڈڈیال اور اس کے 49 دیہات، سیاکھ اور اس کا ایک گاؤں جھیل برد ہوا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان 168 دیہات کے ایک لاکھ 10 ہزار افراد اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔

اعداد وشمار کے تضاد سے قطع نظر حکومت پاکستان نے متاثرین کی بھرپور مدد کی اور تین ہزار سے زائد خاندانوں کو برطانیہ کے ورک پرمٹ فراہم کئے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں اس وقت موجود پچانوے فیصد سے زائد پاکستانی کمیونٹی درحقیقت میرپور سے تعلق رکھتی ہے۔

جھیل کی تعمیر کرنے والے پہلے سے ہی جانتے تھے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھیل میں مٹی بھرتی جائے گی لہذا ڈیم کے ڈیزائن میں یہ گنجائش رکھی گئی کہ وقت ضرورت ڈیم کی بلندی کو 40 فٹ مزید بلند کیا جاسکتا ہے۔جب ڈیم میں مٹی بھر جانے کی وجہ سے پانی کی گنجائش میں کمی آئی تو ڈیم کو بلند کرنے کی تجاویز پر غور شروع ہوا۔ لہٰذا اب اسے 30 فٹ بلند کیا جانا ہے۔
اس منصوبے سے جھیل میں 29 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش بڑھ جائے گی۔ جبکہ بجلی کی پیداوار میں 772 گیگا واٹ آور کا اضافہ ہوگا۔
منگلا ڈیم اپ ریزنگ سے مزید 8 ہزار 23 گھر اور 15 ہزار 783 ایکڑ زمین جھیل کا حصہ بن جائے گی۔
منگلا اپ ریزنگ واپڈا کا منصوبہ ہے جس کا تخمینہ 59 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ اس مشترکہ منصوبے میں ایک چینی کمپنی اور چار پاکستانی کمپنیاں شامل ہیں اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ڈیم کی بلندی 1234 فٹ سے بڑھ کر 1264 فٹ ہوجائے گی تیس فٹ کی اس اضافی بلندی کو بھی پتھروں اور مٹی سے بھرا جائے گا۔ اس سارے کام کی تکمیل کے لیے انسانی کام کا تخمینہ دو کروڑ 13لاکھ گھنٹے ہے۔ منگلا ڈیم کی اپ ریزنگ کے لیے جو سرکاری اعداد وشمار جاری کیے گئے ہیں ان کے مطابق ایک شہر اور چار قصبوں کے علاوہ ایک سو سترہ دیہات جھیل کی توسیع سے متاثر ہوں گے۔ میر پور شہر کے علاوہ اس کے 26 دیہات جھیل میں ڈوبیں گے اور اسی طرح اسلام گڑھ کے 21، چک سواری کے 23، ڈڈیال کے 46 اور سیاکھ کا ایک گاؤں جھیل کا حصہ بنے گا۔ یوں مجموعی طور پر ایک سو سترہ گاؤں تباہ ہوجائیں گے۔
میر پور شہر کے جنوب میں جڑی کس روڈ پر 1315 ایکڑ رقبے پر متاثرین کے لیے ایک اور میر پور آباد کیا جارہا ہے۔
ان نقصانات اور نئے فوائد کے علاوہ منگلا اپ ریزنگ سے سندھ اور پنجاب کی زمینوں کو 29 لاکھ مکعب ایکڑ فٹ پانی زیادہ ملنا شروع ہوجائے گا اور پانی کی مقدار بڑھنے سے پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح ملک سے غلہ کی قلت ختم ہونے میں مدد ملے گی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہوگی۔