02 - انٹر نیٹ اور خواتین از آمنہ احمد

انٹرنیٹ کے استعمال کے متعلق آپ نے مختلف مضامین پڑھے ہوں گے۔ ون اُردو پر بھی ممبرز اس پر بات چیت کرتے رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً احتیاط کی تاکید کی جاتی ہے۔ افسانوں اور کہانیوں میں بھی انٹرنیٹ اور اس سے متعلقہ مسائل کو موضوع گفتگو بنایا جانے لگا ہے۔ مگر پھر بھی ہم کہیں نا کہیں احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اور خود کو آزمائش میں ڈال لیتے ہیں۔

میں یہاں بطور ماں اور عورت ہونے کے ناطے بات کرنا چاہوں گی۔ میں نے کمپیوٹر کا مکمل استعمال ۲۰۰۲ کے اواخرمیں کرنا شروع کیا۔ شروع شروع میں جہاں بھی نام لکھنے کی درخواست کی جاتی تو مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو جاتی۔ اسکا حل میں نے یہ نکالا کہ ہر جگہ اپنے بیٹے کے نام سے اکاؤنٹ بنایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ گھبراہٹ کم تو ہو گئی، مگر ختم نہیں ہوئی۔ اب بھی میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ پر کم سے کم جگہ پر اپنا نام ظاہر کروں۔

ایک چیز جو بہت دیکھنے میں آ رہی ہے وہ کمپیوٹر کی دنیا میں انسانی رابطوں اور جذباتی تعلقات کی روز افزوں ترقی۔ حیرت انگیز طور پر ہم سب گھر سے باہر جذباتی سہاروں کی تلاش میں سرگرداں نظر آ رہے ہیں۔ اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے ایسے لوگ منظرِ عام پر آ گئے ہیں جو اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے ہنر سے واقف ہیں۔ یہ چرب زبان ، چہروں پر نقاب چڑھائے لوگ پہلے زمانے میں نوسرباز کہلاتے تھے اور لوگوں کو دھوکہ دے کرلوٹتے تھے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسے لوگوں کو کیا کہیں؟ ابھی ہمیں اُردو میں اسکے لئے کوئی مناسب لفظ تو نہیں مل سکا ہے، مگر یہ لوگ ایک مکمل اور مربوط نیٹ ورک کی طرح کام کرتے نظر آتے ہیں۔انگریزی میں انہیں "predator"یعنی شکاری کہا جاتا ہے۔

یہ لوگ اپنے خوبصورت انداز بیاں اور انسانی نفسیات کی سمجھ بوجھ کی بنا پر بہت جلد لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے ایسے موضوعات کو گفتگو کا مرکز بناتے ہیں جو لوگوں کی توجہ کھینچ لیں۔ یہ لوگ موقع مناسبت کے لحاظ سے پینترے بدلنے کے بھی ماہر ہوتے ہیں۔ اکثر ایسے لوگوں کو آپ نظریات، جوتوں کی طرح بدلتے دیکھیں گے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے تو سمجھ نہیں آرہا ہوتا، جب گزر جاتا ہے تو صرف ملال اور پچھتاوے کے کچھ نہیں بچتا۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ انٹرنیٹ پر مرد بہ نسبت عورتوں کے اس قسم کی چکر بازی میں زیادہ ملوث ہیں اور یہ ذہنی بیماری کے سوا کچھ نہیں۔اس کے باوجود کہ انٹرنیٹ کی دنیا پر مرد چھائے ہوئے ہیں ، ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے۔ ایسے میں ہمیں صرف مرد حضرات کو الزام دینے سے پہلے خواتین کے رویوں کا بھی جائزہ لینا چاہئے کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

ہمارے سامنے "ون اُردو" کی مثال موجود ہے۔ جہاں ہمارے بھائی ہمیں عزت دیتے ہیں اور ہماری رائے کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ "ون اُردو" ایک ایسی سائٹ ہے، جو خواتین کے لئے انتہائی مناسب ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کے ہی دَم پر چل رہی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ مرد اور خواتین دونوں مل کر ہی کسی ادارے کو کامیاب بنا سکتے ہیں ۔ ہم چاہیں تو کسی بھی جگہ کو تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں جہاں ہر ہم منصب کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے چاہے وہ مرد ہوں یا چاہے خواتین۔ تبدیلی کی ابتدا خود سے کرنی ہو گی!

ایسے میں ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جس کی بنا پر کوئی مرد یا عورت انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنا آپ چھپاتا ہے اور اپنے آپ کو جنس مخالف کا ظاہر کرتا ہے ۔ چند بنیادی باتیں جو سامنے آئیں ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:۔

۱) اپنی طرف توجہ مبذول کروانے کیلئے۔

۲) اپنے آپ کو منوانے کیلئے۔

۳) اپنی انا کی تسکین کیلئے۔

۴) مرد/خواتین کے رویوں کے متعلق جاننے کیلئے۔

یہ سب باتیں اس وقت خطرناک صورتحال اختیار کر جاتی ہیں، جب کوئی ایسے شخص پر بے تحاشہ اعتبار کرنے لگتا ہے۔ دھوکہ دینے والا شخص ایسی صورت میں کسی قسم کا بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے جو کہ ذہنی اذیت سے لیکرعزت و ناموس اور جان جانے کی حد تک بھی ہو سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین ایسے مسائل کا زیادہ شکار ہو رہی ہیں۔

ہمارے ہاں جو ایک بڑا مسئلہ ہے وہ کالج یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ بہنیں بیٹیاں یہ سمجھ لیتی ہیں کہ ان میں بہت سمجھ بوجھ آ گئی ہے۔ مگر تجزیہ اور تجربہ یہ کہتا ہے کہ عورت تعلیمی میدان میں بہت آگے جانے کے باوجود بھی مرد کی نفسیات کو نہیں جان پاتی جب تک کہ وہ خود با عمل زندگی نہیں گزارتی۔ عورت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اعتبار کے رشتے اور تعلق بہت جلد جوڑنے لگ جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ سامنے والا بھی خیرخواہ ہی ہو گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خواتین بطور مائیں ، بیٹی، بہنیں بہت محتاط ہو جائیں۔ گھر کا ماحول عورت کے دَم سے بنتا ہے ، اور معاشرہ گھر گھر کے ماحول کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسے میں ہمیں دیکھنا ہے کہ معاشرے کی بے لگامی پر ہم کیسے بند باندھ سکتی ہیں۔ ایک زیرک ماں، ایک محتاط بیٹی، ایک مضبوط بہن کی جتنی ضرورت اس صدی میں ہے ہمیں، پہلے کبھی نہیں تھی!