03 - عشق لا حاصل از سید جرار علی

ساتھی من پسند ہو تو اس کے سنگ گزرنے والا ہر لمحہ ، سنی ،کہی ہر بات ،اور دکھنے والا ہر نظارہ من پسند ہو جاتا ہے۔پھر چاہے وہ اس دنیا کی باتیں ہوں ،نظارے ہوں ،یا اس آسمان کی دنیا کی باتیں ،اس کے منفرد نظارے۔

سمندر کے سامنے ہوٹل کے ٹیرس پر کھڑے میں اور وہ ڈوبتے سورج کے منظر کو دیکھنے کے لیے بےتاب تھے۔اب تک بہت سی فوٹو گرافی میں ڈوبتے ہوئے سورج کا منظر دیکھا ،مگر خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا یہ پہلا اتفاق تھا۔ سورج کے ڈوبنے میں ابھی کافی وقت تھا۔سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان کے سینے پر چمک رہا تھا۔ اس کے نور کی روشنی میں پورا عالم نہایا ہوا تھا۔

تب ہی دور آسمان پر ایک اور شبیہہ دکھائی دی۔ اس نے مجھ سے کہا " سنو ! یہ چاند ہے نا ؟“

میں اپنے کیمرے کو بار بار آسمان کی طرف کر کے فوکس کرنےاور اس کے لینز میں سے آسمان کو دیکھنے میں مصروف تھا ۔ میں نےلمحے بھر کو اس جانب دیکھا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا ،اور مُسکرا کر کہا " اور کون دیوانہ ہو گا بھلا ،جو اپنے وقت سے پہلے ہی آ گیا ہے“۔ اور واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔

وہ خود کلامی کے سے انداز میں گویا ہوئی " ہاں، دیوانہ ہی تو ہے“

میں نے کیمرے کو ٹٹول کر دیکھتے ہوئے اس پر ایک نگاہ ڈالی اور کہا " ہیں، دیوانہ کس کا بھلا؟“ پھر اپنے ذہن پر زور ڈالا اور کچھ یاد آنے پر دوبارہ اس سے مخاطب ہوا " اووووو ہاں ، یہ اپنی چاندنی کا دیوانہ ہے ، رائٹ رائٹ ۔“

وہ بولی " نہیں، ہر گز نہیں، یہ اپنی چاندانی کا نہیں ،سورج کا دیوانہ ہے۔ اسے سورج سے محبت ہے۔“

میں نے ہاتھ کو کیمرے سمیت نیچے کیا اور اس کے الفاظ دہرائے "سورج کا دیوانہ “۔

"ہممممم“ وہ بولی۔ " چاند کی روشنی ،جسے سب اس کی چاندنی کا نام دیتے ہیں درحقیقت اس کی سورج سے پائی ہوئی محبت ہے۔جسے خود چاند نے اپنی چاندنی کا نام دیا ہے،کیونکہ وہ سب کے سامنے اپنی محبت ،سورج کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔اس لیے اس نے خود کے وجود کو محبت میں اپنی چاندنی سے منسوب کر دیا ہے“

"مگر یہ سورج اور چاند کا کیسا تعلق ہے؟ میں کچھ سمجھ نہیں پایا،ایک دن کا راہی اور دوسرا رات کا مسافر“ کتنی نا سمجھی تھی میرے انداز میں۔

"محبت کے چکر ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ایک کسی منزل کا راہی اور دوسرا کسی اور ہی منزل کا۔“

" مگر چاند سورج سے محبت کیوں کرتا ہے ؟“ میں نے اس سے سوال کیا۔

"اس بات کا جواب تو آج تک شاید کوئی بھی نہیں دے پایا کہ کوئی کسی کو کیوں چاہتا ہے۔محبت وجوہات کی بناء پر تو نہیں ہوتی،یہ تو بس ہو جاتی ہے۔کیا تم بتا سکتے ہو کہ تم مجھے کیوں چاہتے ہو؟“

میں اس کے سوال پر گڑبڑا گیا " نہیں ، مگر میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ تمہاری ذات سے مجھے بہت سی خوشیاں ،بہت یادگار پل ،اور تمہاری محبت ملی اور یہ کہ تم بہت اچھی ہو اسی لیے میں تمہیں چاہتا ہوں۔“

"چاند نے بھی سورج سے بہت کچھ پایا ہے۔سورج نے اسے اُجالے بخشے ہیں،اپنی ذات کے اُجالے۔ بہت مشکل ہوتا ہے اپنی ذات کے اُجالے کسی کے نام کرنا۔ اپنا سب کچھ کسی کو ایسے سونپ دینا کہ جس کے بعد آپ کی زندگی میں آپ کے نام کا فقط ایک حوالہ رہ جائے۔

دیکھو،سورج کی طرف دیکھو،تم اس کی طرف آنکھ اٹھا کر زیادہ دیر دیکھ نہیں پاؤ گے کتنی تپش ہے ،کتنی حرارت کے اس کے وجود میں ،کوئی سورج کو چاہتا نہیں اس لیے کہ اگر کوئی اس کے قریب ہوا تو وہ جل کر بھسم ہو جائے گا۔ مگر سورج نے اپنے وجود کی اس حرارت اس تپش سے خود کو پاکباز رکھا ہے،بہت خالص صرف اور صرف اپنی محبت کے لیے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب اس کے وجود کی تپش سے گھبرا جائیں اور اسے کوئی دوسری نظر دیکھ نہ پائے کوئی وجود اسے چھو نہ پائے سوا اس کی محبت کے۔“

"مگر سورج اپنی محبت کا اظہار کیوں نہیں کر پاتا ؟ کیا وہ ڈرتا ہے کہ اس کے آگ جیسے وجود کو چاند کا پانی جیسا ٹھنڈا وجود کیسے قبول کرے گا؟“

"محبت میں ڈر کہاں ہوتا ہے؟ سورج کا ظرف بہت بلند ہے وہ سب اپنی ذات میں چھپائے رکھتا ہے کیونکہ کہنے کا کچھ حاصل نہیں قسمتوں کے فیصلے کرنے والا کر چکا ہے۔اس لیے جذبوں کو لفظوں کی صورت دینا اپنی محبت کو تکلیف دینا ہے اور سورج اپنی محبت کو تکلیف نہیں دے سکتا۔اس لیے وہ خاموش رہتا ہے“

میں نے نا سمجھی میں ایک اور سوال کیا "مگر چاند کو ملے گا کیا اس محبت سے اس سب کا حاصل کیا ہے؟“

" محبت میں حاصل ہی تو کچھ نہیں ہوتا۔ محبت کا تو اصل مفہوم ہی لا حاصل ہوتا ہے۔حاصل ہو جانے والی تو کوئی خواہش ہوتی ہے محبت نہیں۔“

دیکھتے ہی دیکھتے دن کا پہر ڈھلنے لگا۔ آسمان پر اداسی کے رنگ چھانے لگے۔جدائی کی اداسی کے رنگ۔آسمان کا رنگ بدلنے لگا کہیں سے تو سرخ انگارہ اور کہیں سے زرد ،بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے نزع کا وقت ۔ اور سورج تو اس عمل سے روز گزرتا ہے۔

آج بھی وہ اپنے پروردگار کے حکم سے اپنی قضا تسلیم کر کے ایک اور رات کے لیے سب سے جُدا ہو رہا تھا۔ ساری دنیا کو اندھیرے بخش کر وہ رخصت ہو رہا تھا۔مگر جاتے جاتے وہ اپنا سب کچھ ، اپنی ذات ، اپنا نور، اور اپنی محبت کے اجالے چاند کو بخش گیا۔

میں نے ڈوبتے سورج کے اس منظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ایسے ہی جیسے میں ہر بیتے لمحے کی یادیں اپنے دل اور روح کے کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا۔ ان لمحوں کو قید کرنے کے بعد میں نے اس کی جانب دیکھا،وہ بہت اداس ،کھوئی سی تھی جیسے ڈھلتا منظر اس کی آنکھوں کے تمام اجالوں میں مایوسی کے اندھیرے بھر گیا ہو۔

سورج کے ڈوب جانے کے بعد کچھ دیر اداسی اور مایوسی کا عنصر غالب رہا۔ وہ اس سناٹے میں گویا ہوئی۔" کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ لمحہ جب کوئی بچھڑ رہا ہو ، اور اس سے زیادہ تکلیف دہ وہ پل ہوتے ہیں جب کسی کے بچھڑ جانے کے بعد آپ کے ارد گرد اندھیرے چھا جائیں،جیسے اس وقت یہاں یہ افسردگی ہے جو وجود میں اترے جا رہی ہے۔“

میں نے اس سے سوال کیا " چاند اور سورج ایک دوسرے کی محبت کو حاصل کیوں نہیں کر پائے؟ “ اس کے لہجے کا درد میرے لفظوں میں بھی شامل تھا۔وہ اس تکلیف سے تنہا دوچار نہ تھی۔

وہ بولی " کسی کا ملنا نصیب کی بات ہے۔ اختیار کی بات کہاں؟ اور ان دونوں کے محور خدا نے الگ الگ بنائے ہیں،ان کے نصیب میں ایک دوسرے کی محبت تو ہے مگر قربت نہیں، ملن نہیں۔“

"کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ محبت کے نصیب میں محبت تو ہے قربت ۔۔۔۔ ملن ۔۔۔۔ نہیں۔“میں نے کرب میں ڈوبے لہجے میں کہا۔

"ہاں یہ نصیب کی باتیں ہیں اور نصیب تو خدا لکھتا ہے وہ ہی جانتا ہے کہ اس نے کس کے نصیب میں کس کی قربت کو لکھا ہے اور کس کی محبت کو ۔ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے نصیب میں محبت اور ملن دونوں ایک ساتھ لکھے جاتے ہیں۔“

ہم دونوں کے درمیان کچھ پلوں کو گہری خاموشی چھائی رہی۔

کچھ ہی دیر بعد آسمان ایک مرتبہ پھر سے جگمگا اٹھا۔ چاند نے تاروں سمیت اپنی محفل کے رنگ بکھیرے۔ جیسے زندگی جینے کا ایک اور بہانہ اس رات کے اندھیرے کو ملا ہو۔ میں نے بے اختیار کہا۔ " لو یہ اب آیا ہے جب وہ جا چُکا ہے “

وہ بولی "اسے تو ابھی آنا تھا۔اُس کے چلےجانے کےبعد ۔ دیکھو چاند کتنا مکمل ہے ،کتنا چمک رہا ہے۔آج اس کی چودہ تاریخ ہے یعنی مکمل چاند کی رات،آج اس کی محبت اپنے عروج پر ہے،آج یہ مکمل طور پر سورج کے حصار میں ہے۔دیکھو یہ سمندر اس کی طرف ایسے کیوں لپک رہا ہے ؟“

میں نے کچھ خیال کے سے انداز میں کہا " شاید وہ چاند کو یہ بتاتا ہو کہ جس محبت کو تم پہناں رکھنا چاہتے ہو وہ تمہارے رخ روشن سے عیاں ہے،ہم سب کچھ جانتے ہیں ہمارے درمیان فاصلے رابطوں کے ہیں دلوں کے نہیں۔۔۔۔۔۔ یا پھر اسے بھی اپنی محبت کا خیال آ جاتا ہو، اور اس کی بھی اپنی محبت کو پانے کی طلب بڑھ جاتی ہو ۔“

"اس کی محبت کون ہے ؟“اس نے مجھ سے سوال کیا۔

میں نے سمندر کے بے چین پانی کی طرف پلک جھپکے بغیر دیکھا اور کہا "اس کی محبت اس کا ساحل ہے ،اس کا محافظ،محبت بھی تحفظ چاہتی ہے ،اور اپنے محافظ سے تو محبت میں اور بھی محبت ہو جاتی ہے۔“

"تو کیا اس کی محبت اسے حاصل نہیں؟ جو اس کی طلب بڑھ جاتی ہے؟“

"نہیں، یہ بھی بد قسمت ہے،اس کی محبت بھی لا حاصل ہے،ساحل اتنا وسیع و عریض ہے کہ سمندر اسے اپنی چاہت کے آب سے مکمل طور پر سیراب نہیں کر سکتا، اور دوسری طرف ساحل اس کا محافظ ہوتے ہوئے بھی اس کی گہرائی کو اس کے لمس کو مکمل طور پر چھو نہیں پاتا۔“

"ادھوری محبتیں کتنی تکلیف دہ ہوتی ہیں نا۔جیسے ساحل اور سمندر کی ،چاند اور سورج کی ۔“ اس نے بہت شکستہ لہجے میں کہا۔

"ہاں مگر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، وہی کہانیاں امر ہوتی ہیں جو نامکمل ہوتی ہیں۔ محبت کا ملن ہو جائے وہ حاصل ہو جائے تو اس کی اہمیت بس زندگی تک محدود ہو جاتی ہے،وہ زندگی میں زندگی بن کر رہ جاتی ہے جسے ہر حال میں جینا ہی پڑتا ہے۔حاصل کے بعد محبت کی بے قدری ہو جاتی ہے۔ مل جانے والوں کے پاس اتنی فرصت ،اتنا وقت نہیں بچتا کہ وہ ایک ساتھ بیٹھ کر سوچ پائیں کہ ان کی پہلی ملاقات کیسی تھی۔ کب ،کس لمحے انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کی پہلی خواہش کی تھی۔

محبت لا حاصل ہمیشہ ایک تازہ یاد کی مانند ذہن کے پردے پر چھائی رہتی ہے۔بالکل اس طرح کہ جیسے کوئی کتاب پڑھنے والا کتاب مکمل پڑھ لے تو اس کتاب کو اٹھا کر شیلف میں رکھ دیتا ہے کہ یہ پڑھی جا چکی ہے اب کوئی نئی کتاب پڑھی جائے۔ لیکن اگر اس پڑھی جانے والی کتاب کے آخری کچھ صفحات پھٹے ہوئے ہوں ،کہانی نا مکمل رہ گئی ہے تو پڑھنے والا بے چین رہتا ہے وہ اس کتاب کو نظر سے اوجھل نہیں ہونے دیتا،محبت میں بھی حاصل اور لا حاصل کچھ اسی طرح سے ہے۔“

"محبت کے بھی کیسے کیسے انداز ہوتے ہیں، چاند ہی کو دیکھو جب محبت سے سرشار ہوتا ہے تو کتنا دمکتا ہے کیسے مکمل روشن ہوتا ہے اور پھر جب اس کی محبت کے لا حاصل ہونے کی حقیقت اس کی آنکھوں کے سامنے آتی ہے تو مایوسی اس کے وجود پر ایسے چھانے لگتی ہے کہ اس کے روشن وجود کو اندھیروں کا مسافر بنا دیتی ہے۔ایسے وقت میں سورج اس کو سہارا کیوں نہیں دیتا؟ “ اس نے کسی خیال میں کہا۔

"چاند اپنی محبت کو پا نہ سکنے کے اس احساس کو لے کر جب کمزور پڑنے لگتا ہے تو سورج اس کے گھٹنے کے عمل کو دیکھتا ہے بہت رنجیدہ ہوتا ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ چاند اس کرب سے خود ابھرے،اس مشکل کا، اس حقیقت کا سامنا خود کرے ،خود اپنے گھٹتے ہوئے وجود کو مکمل کی طرف ،بڑھنے کی طرف لے کر آئے مضبوط ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی محبت کو سہاروں کی طلب ہو نہ ضرورت۔اسی لیے وہ آگے بڑھ کر چاند کا ہاتھ نہیں تھامتا۔ کیونکہ چاند کو یہ راستہ بارہا طے کرنا ہے اور کب تک وہ سورج کا ہاتھ تھام کر ان لمحوں کے پار جائے گا؟

اور دیکھو چاند از خود سنبھل بھی جاتا ہے ، جب وہ خیال کرتا ہے کہ خدا نے اس کے نصیب میں اس کی محبت لکھی ہے اس محبت کا ملن نہیں تو وہ خدا کے فیصلے کے سامنے سر جھکا لیتا ہے کہ بے شک وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اس ہی کی مرضی چلتی ہے، اور پھر سوچتا ہے کہ کیا یہ کم خوش نصیبی ہے کہ میرے حصے میں خدا نے میری محبت کی محبت رکھی ہے ،میں تہی دامن نہیں ہوں۔میرے پاس اب بھی بہت کچھ ہے۔اور یہی خیال اسے حوصلے بخشتے ہیں اور وہ پھر سے زندگی کی طرف آ جاتا ہے پھر سے بڑھنے لگتا ہے۔ مکمل ہونے لگتا ہے “

وہ بولی " سورج کتنا خوش ہوتا ہو گا جب چاند یوں ڈوب کر ابھرتا ہو گا۔“

"اپنی محبت کی کسی بھی کامیابی پر دل کو بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔“

اس نے رخ میری جانب پھیرا " اچھا کیا چاند ، زمین کو نا پسند کرتا ہے کہ سورج اپنی تمام روشنی اس پر کیوں نچھاور کرتا ہے ،اسی لیے وہ سورج اور زمین کے درمیان آ جاتا ہے؟جسے عرف عام میں ہم سورج گرہن کہتے ہیں“

میں نے مسکرا کر کہا" محبت میں حسد تو ایک فطری سی بات ہے، چاند ،سورج اور زمین کے درمیان ، سورج کے روبرو آ جاتا ہے ، اسے سورج کی تپش کی پرواہ نہیں ہوتی اسے کسی کے دیکھنے کا کوئی ڈر نہیں ہوتا،محبت کا جذبہ بہت منہ زور ہوتا ہے۔ چاند بھی سورج کے روبرو آ کر اس سے اپنی محبت طلب کرتا ہے “

"اور پھر وہ سورج اور زمین کے درمیان سے ہٹنے پر آمادہ کیسے ہوتا ہے ؟“

"سورج اسے کندھوں سے تھام کر اپنے قریب کر کے اپنی محبت کا یقین دلاتا ہے کہ اس کی تمام روشنی ،اس کے تمام اجالے ، اس کی تمام محبت صرف اور صرف چاند کے نام ہیں یہ تو صرف نظام کائنات ہے اس کی ڈیوٹی اسی لیے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہے۔وگرنہ وہ اپنے نور کی تمام دولت اپنی محبت کے نام کر کے ہی راضی ہے۔
سورج کی محبت کا یقین پا کر ،اس پر اعتبار کر کے چاند مطمئن ہو جاتا ہے اور اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا ہے۔اور مسرور ہوتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ضرور ہے مگر سورج کی روشنی صرف اس کی چاندنی کہلاتی ہے۔“

"اور تب کیا کہ جب چاند کو گرہن لگ جاتا ہے؟“

میں نے ایک گہرا سانس لیا " دیکھو، یہ ٹھیک ہے کہ محبت انسان کو مضبوط بناتی ہے اسے صبر کرنا ، سہنا ، اور برداشت کرنا سکھاتی ہے ،مگر ہر کوئی کہیں نہ کہیں ،کسی نہ کسی حد تک کمزور بھی ہے ۔سورج کا ظرف بلند ہے اس نے کبھی چاند کی طرح خواہشات کے حاصل نہ ہونے پر گھٹنے یا بڑھنے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس نے کبھی شکوہ نہیں کیا،مگر کبھی کبھی ایسا بھی وقت آتا ہے جب سورج بھی اس حقیقت کو سامنے پا کر بالکل کمزور پڑ جاتا ہے۔ مگر وہ تب بھی نہیں چاہتا کہ چاند اس کی کمزوری کو دیکھے۔ایسی صورت میں وہ اپنی واحد دوست زمین کو خود کے اور چاند کے درمیان لے آتا ہے۔تاکہ چاند کی نگاہ اس پر نہ پڑ جائے ۔اور تب وہ بہت ٹوٹتا ہے، بکھرتا ہے ،اور اس کی روشنی سے محروم چاند دوسری جانب بہت تنہا اور اداس ہو جاتا ہے۔

محبت کی روشنی کو نہ پا کر اس کا وجود اداسی کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے وہ تاریک آسمان پر بہت اجڑا اجڑا سا نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے سب دوست اس سے پوچھتے ہیں کہ اس کی اداسی کا سبب کیا ہے تو وہ کسی سے کچھ بات نہیں کرتا۔ تاروں کی اس محفل سے چپ چاپ چلا آتا ہے۔اور ان اندھیروں کا ساتھی بن جاتا ہے۔“

"سورج اپنی تنہائی پر کسی سے کچھ نہیں کہتا نا ،سورج کا تو کوئی دوست بھی نہیں جس سے اپنا غم بانٹ کر وہ دل کا درد ہلکا کر لے، یا چاند کی مانند گھٹ کر یا بڑھ کر اپنی خوشی یا غم کا اظہار کر لے، سورج کا مزاج اسی لیے گرم ہوتا ہے نا کیونکہ وہ سب اپنی ذات میں سمیٹے رکھتا ہے اور چاند کا مزاج اس لیے ٹھنڈا ہوتا ہے کہ وہ سب جذبوں کا اظہار کر دیتاہے۔ گھٹ کر اپنا غم اور بڑھ کر اپنی خوشی۔ چاند کے بہت سے دوست ہوتے ہیں اس کے ساتھ جو بکھرنے ٹوٹنے کے مرحلے پر اس کو سنبھال لیتے ہیں اس کا غم بانٹ لیتے ہیں۔اسے زندگی کی طرف واپس لے آتے ہیں ۔اور سورج ؟ اس کا تو کوئی ہمدرد بھی نہیں ہوتا ۔وہ آپ ہی اپنا دوست ،آپ ہی اپنا ہمدرد ہوا کرتا ہے۔“

کتنی سچی باتیں کرتی تھی وہ۔ کتنے جذبے تھے اسکی باتوں میں کتنے مضبوط الفاظ تھے اس کے کتنا مکمل سا مفہوم تھا۔میں اس کی طرف بغور دیکھ ہی رہا تھا جب اس نے مجھ سے کہا۔

" کتنا مشکل ہوتا ہے نا اپنی محبت کو چھوڑ کر چلے جانا ؟ اس کے ساتھ ہی خواہش من میں لیے اس کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جانا ؟ کتنا مشکل ہے نا اجڑے دل کے ساتھ کسی دوسرے کے گھر میں جا کر بس جانا، اس کے گھر کو بسانا ؟ کتنا مشکل ہے ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے رہتے ہوئے بھی اپنی محبت کو چھپائے رکھنا ؟“

ان سوالوں کے جواب نہ میرے پاس اُس وقت تھے نہ اس وقت ہیں۔ ہاں ایک چھوٹا سا فرق بہرحال ضرور ہے وہ یہ کہ اُس وقت وہ سراپا سوال بنی میرے سامنے موجود تھی اور آج ، اس وقت میرے ارد گرد میرے اندر اور باہر بس اس کے سوال بکھرے پڑے تھے، اس کے وجود کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔

آج میں محبت لا حاصل کے معنوں سے صحیح طور پر واقف ہو پایا تھا۔ آج میں نے جانا تھا اپنے ہی ادا کیے ہوئے ان لفظوں کا مفہوم کہ " محبت لاحاصل ایسی کتاب کی مانند ہے جس کے آخری کچھ صفحات پھٹے ہوئے ہوں اور قاری اسے نہ پڑھ پائے ، نہ نظر انداز کر پائے ، نہ بھلا پائے،اور نہ ہی نئی کتاب پڑھنے کا شوق رکھے“۔

آج میں نے جانا تھا کہ محبت کے چکر واقعی ایسے ہوتے ہیں کہ ایک کسی منزل کا راہی اور دوسرے کا راستہ اور منزل یکسر مختلف۔

میں نے چاند کی طرف دیکھا،آج بھی وہ مکمل تھا ،اپنی محبت کی روشنی میں نہایا ہوا، آج بھی سمندر کی بے چینی چاند کو دیکھ کر ویسی ہی تھی شاید سبھی کچھ ویسے کا ویسا ہی تھا،اگر کچھ مختلف تھا تو ہوٹل کے ٹیرس کا منظر جہاں چاند کے اس دمکنے پر ،سمندر کی اس کیفیت پر اظہار خیال کرنے والا دوسرا وجود موجود نہیں تھا۔

میں نے چاند سے کہا ، تو وہاں آسمان پر تنہا ہے ،اور میں یہاں زمین پر،تیری محبت بھی لا حاصل ہے ،اور میری محبت بھی لا حاصل، کبھی درد بڑھ گیا تو ،تو مجھ سے کہہ دینا،میں تجھ سے کہہ دوں گا۔ ایک بات سمجھتے سمجھتے میں نے بہت وقت لگا دیا کہ " وہ دن کا راہی تھا اور میں رات کا مسافر، میرے نصیب میں اس کی محبت لکھی تھی اس کی قربت نہیں “۔ میری آنکھوں سے اس کی یاد کے دو موتی پھسلے میرے ہونٹوں پر آ کر ان کے بہنے کا سلسلہ ٹوٹ گیا،میرے لب مسکرا اٹھے۔ اور میں نے ساحل سمندر کی گیلی ریت پر اپنے قدم بڑھا دئیے۔ کہ زندگی کی یہ مسافت اب مجھے تنہا ہی طے کرنی تھی۔

بالکل چاند کی طرح کبھی گھٹنا تھا،کبھی بڑھنا تھا،کبھی سہہ جانا تھا،کبھی کہہ جانا تھا۔کبھی حاصل کو خیال کر کے مسکرانا تھا کبھی لا حاصل کو سوچ کر کھو جانا تھا۔

میں رات کا مسافر تھا ،مجھے زندگی کے راستوں پر چلتے جانا تھا۔ جب تک کہ سفر تمام نہ ہو۔