04 - خطرناک بھوت از احسان سحر

رات کا دو بجے کا عمل ہو گا جب اچانک ہی اس کی آنکھ ایک عجیب سی آواز سے کھل گئی۔ اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ چہرے کا رنگ بالکل زرد پڑ گیا تھا۔ سانس بہت تیز تیز چل رہی تھی۔
"کیا بات ہےاکرم! کیا آج پھر وہی آوازیں سنائی دی؟" اس کے ساتھ بستر پر موجود بیوی نے اٹھ کر پریشانی سے پوچھا۔
"ہاں فاطمہ، مجھے بچا لو فاطمہ۔ یہ روح میری جان لیے بغیر میرا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ آج پھر ایسا محسوس ہوا۔ جیسے کہیں دور انتہائی گہرائی سے پانی کے بلبلے پھوٹ رہے ہوں۔" اس نے اپنی بیوی کے ہاتھوں کو سختی سے گرفت میں لیتے ہوئے کہا۔
اکرم کا جسم خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ پوری فضاء پر خوفناک تاریکی سی چھائی محسوس ہو رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی نے وہ رات جاگ کر گزاری۔ یہ عمل پچھلے چار روز سے چل رہا تھا۔
صبح ہوتے ہی اکرم گھر سے نکلا اور سیدھا امام صاحب کے پاس پہنچا۔ اور انہیں سارا مسئلہ بتایا۔ امام صاحب نے اسے تلقین کی کہ رات کو معوذتین پڑھ کر اپنے اور اپنی بیوی کے اوپر پھونک کر سو جانا۔ انشاء اللہ' اللہ ہر آسیبی بلاء سے محفوظ رکھے گا مگر نیت اور یقین شرط ہے۔
امام صاحب نے اسے حضورﷺ پر جادو ہونے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا توڑ بتائے جانے کے بارے میں بھی بتایا۔ اور اکرم وہاں سے جب اٹھا تو اس کا حوصلہ کافی مضبوط ہو چکا تھا۔
رات کو جیسے امام صاحب نے بتایا تھا بالکل اسی طریقے سے معوذتین پڑھ کر خود پر اور اپنی بیوی پر پھونک کر سو گیا۔ لیکن رات کے پچھلے پہر اچانک اُسی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
"فاطمہ، فاطمہ! مجھے پھر وہی آواز سنائی دے رہی ہے۔ وہ بدبخت ابھی بھی ہمارے اردگرد ہے لگتا ہے وہ میری جان لیے بغیر مجھے چھوڑنے والی نہیں۔ مجھے بچا لو فاطمہ مجھے بچا لو۔ تمہیں اللہ کا واسطہ مجھے بچا لو۔"
اکرم نے فاطمہ کو جھنجھوڑ کر روتے ہوئے اٹھایا۔اس کے چہرے پر وحشت برس رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی خوف سے اس کا ہارٹ فیل ہو جائے گا۔ فاطمہ نے اس کا سر پکڑ کر اپنی گود میں رکھا۔ اور قرآن کریم کی آیات پڑھ پڑھ کر اس کے ماتھے پر پھونکنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں اکرم سو چکا تھا۔ فاطمہ نے اس کا سر اپنی گود سے نکال کر آرام سے سرہانے پر رکھ دیا لیکن تمام رات پریشانی کی وجہ سے اس کی آنکھ نہ لگ سکی۔ صبح اکرم کے جاگتے ہی فاطمہ نے اس کے لیے کھانا تیار کیا۔ اور اس کے ساتھ ہی امام صاحب کے گھر کی طرف چل دی۔
دروازے پر دستک دینے کے بعد دروازہ امام صاحب کے زوجہ نے کھولا۔
"اکرم اور فاطمہ! تم دونوں اتنی صبح صبح سب خیر، خیریت تو ہے ناں۔" امام صاحب کی زوجہ نےان دونوں کو اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے اور ان کے پریشان چہروں کو دیکھتے ہوئےپوچھا۔
"السلام علیکم! خالہ جی۔ امام صاحب کدھر ہیں ہم بہت مشکل میں ہیں۔ مہربانی کر کے زرا ان سے ملاوا دیں۔" فاطمہ نے بڑے پریشان سے لہجے میں امام صاحب کی زوجہ کو کہا تو انہیں بیٹھک میں بٹھا کر تیزی سے اندر کی جانب چلی گئ۔
تھوڑی سے دیر کے بعد اسی دروازے سے امام صاحب کا چہرہ نظر آیا۔
"السلام علیکم! کیا ہوا۔ کہ پھر سے وہی آوازیں سنائی دی۔" امام صاحب نے پوچھا۔
"وعلیکم السلام! امام صاحب مجھ بچا لیں۔ اگر میں دو چار روز تک مزید وہ آوازیں سنتا رہا تو میں مر جاؤں گا۔" اکرم اپنی جگہ سے اٹھ کر مولوی صاحب کے قدموں میں بیٹھتا ہوا بولا۔
"اٹھو، اٹھو، اکرم تم کیا کر رہے ہو۔ بندے کو صرف اور صرف اپنے معبود حقیقی کے سامنے جکنا چاہیے۔" امام صاحب نے ہڑبڑا کر اس کو اپنے قدموں سے اٹھاتے ہوئے کہا۔
پھر اپنی تھوڑی دیر تک اپنی ڈاڑھی میں ہاتھ ڈالے کچھ سوچتے رہے اور کہا کہ "میں تمہیں اپنے پیر صاحب کے پاس بھیجتا ہوں مگر اس شرط پر کہ تم ان کا نام و پتہ کسی اور کو نہیں بتاؤ گے۔ وہ کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتے۔"
"میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتاؤں گا۔ آپ مجھے ان کا پتہ بتا دیں۔" اکرم نے تقریباً روتے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
پھر امام صاحب نے اکرم کے کان میں پیر صاحب کا تفصیلی پتہ بتا دیا۔ اور یہ بھی بتہ دیا کہ وہ سوائے جمعرات اور ہفتہ کے کسی اور روز ہرگز نہیں ملتے۔
اکرم اور فاطمہ نے امام صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کی طرف چلے گئے۔
"پیر صاحب تو صرف جمعرات اور ہفتہ کو ملتے ہیں جبکہ آج تو منگل ہے اگر اتنے دنوں میں کچھ ہو گیا تو،" فاطمہ کے کہنے پر اکرم کے چہرے پر بھی خوف نظر آنے لگا۔
"مگر جمعرات تک کو انتظار کرنا ہی پڑے گا۔" اکرم نے خوفزدہ سے لہجے میں کہا۔
"آپ بس اسٹینڈ والے بنگالی بابا کے پاس کیوں نہیں جاتے۔ شاہدہ کہہ رہی تھی کہ بہت پہچنے ہوئے بابا ہے۔ اگر کوئی فائدہ نہ بھی ہوا تو آپ تو ہفتہ کو پیر صاحب کے پاس جائیں ہی جائیں گے۔ لیکن اگر شاہدہ سچی ہوئی تو پیر صاحب کے پاس نہیں جائیں گے۔"فاطمہ نے کہا
فاطمہ کی بات سن کر اکرم نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
"ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تم گھر جاؤ!۔ میں وہاں سے ہو کر آتا ہوں۔"
اکرم نے کہا تو فاطمہ نے خوفزدہ ہو کر انکار میں سر ہلا دیا۔
"میں شاہدہ کے گھر جا رہی ہوں۔ جب آپ آئیں تو مجھے بھی ساتھ لے جائیے گا مجھے گھر میں اکیلے رہتے ڈر لگتا ہے۔"
"اچھا! ٹھیک ہے۔"
اکرم نے فاطمہ کو اپنی ہمسائی شاہدہ کے گھر تک چھوڑا اور خود بس اسٹینڈ کی طرف بنگالی بابا کے ڈیرے پر جانے کے لیے چل پڑا۔
ڈیرے پر پہنچتے لائنیں لگی دیکھ کر اس کے چہرے پر بابا کے لیے مرعوبیت چھا گئی۔ اور دیوار پر لگے باباکی طرف سے دئیے ہوئے اشتہار پر یقین سا آنے لگا۔
خداخدا کرکے دو گھنٹے بعد اس کی باری آئی تو اس وقت بھی لائن کی لمبائی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ میرے پچھلے اتنے ہی سائل اور آ چکے تھے جتنے کے پہلے فارغ ہو چکے تھے۔
کمرے کے اندر پہنچتے ہی وہاں کا ماحول دیکھ کر بے اختیار اکرم سہم سا گیا۔ کمرے کی دیواروں کا رنگ انتہائی سیاہ تھا۔ایک چھوٹی سی میز کے پیچھے آلتی پالتی مارے ایک پختہ عمر کا عجیب سا موٹا تازہ آدمی بیٹھا ہوا تھا۔اپنے ڈیل ڈول اور قد کاٹھ کسی بھی صورت سے وہ ہرگز بنگالی نہیں لگ رہا تھا۔
"ہمم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بری روحوں کا چکر ہے۔؟"
بنگالی بابا نے اکرم کی طرف دیکھتے ہی بڑے گھمبیر اور غراتے ہوئے لہجے میں کہا۔
یہ سن کر اکرم کچھ شک کم تو ہوا مگر پریشانی ہنوز باقی تھی۔
"پریشان مت ہو۔ حل ہو جائے گا۔ کل آنا ۵۰۰۰ روپے ساتھ لے کر، سامان کے لیے، جلا کر رکھ دوں، تمہاری زندگی سے اکھیڑ دوں گا۔ باہر ۲۰۰ روپے جمع کروا کر کل کے لیے وقت لے لینا اور اب جو تمہاری توفیق ہو اس گلے میں ہدیہ کر جاؤ۔"
اکرم نے آگے بڑھ کر عقیدتے سے گلے میں ۱۰۰ روپیہ ڈالا اور باہر سے اگلے دن دس بجے کے وقت کی پرچی اور ۲۰۰ روپے جمع کروا کر واپس آ گیا۔ اب اس کے چہرے پر آج کی رات کے لیے خوف ہی خوف نظر آ رہا تھا بابا نے تو کوئی بات کرنے ہی نہیں دی تھے۔
واپسی کے راستے میں ایک ڈاکٹر کی دوکان دیکھ کر اس نے سوچا کہ کیوں نہ نیند کی دوائی لے لی جائے تاکہ بیچاری فاطمہ جو کئی راتوں سے اس کے ساتھ جاگ رہی ہےوہ تھوڑا آرام کر سکے پچھلے کتنے ہی دنوں سے اسے بھی ساتھ ساتھ تنگ کر رہا ہوں۔ حالانکہ وہ آواز اسے تنگ نہیں کرتی۔ یہ سوچ کر وہ سیدھا ڈاکٹر صاحب کےکلینک میں داخل ہو گیا۔
اپنی باری آنے پر وہ ڈاکٹر صاحب کے کیبن میں داخل ہوا۔
ڈاکٹر صاحب نے اسے دیکھتے ہی بیٹھے کے لیے کہا۔ اور پوچھا۔ "جی فرمائیے کیا مسئلہ ہے۔"
"ڈاکٹر صاحب میں اور میری بیوی پچھلے کئی راتوں سے پریشانی کی وجہ سے سو نہیں سکے۔ برائے مہربانی مجھے کچھ نیند کی دوائی لکھ دیں۔ تاکہ میں جنرل سٹور سے وہ خرید سکوں۔ "
"دیکھیے! بلاوجہ نیند کی دوائی لینا بہت نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ آپ بتائیے ماجرا کیا ہے ہو سکتا ہے میں آپ کی مدد کر سکوں۔"
ڈاکٹر صاحب نے سنجیدگی سے مخاطب ہوئے۔
"ڈاکٹر صاحب! آپ میری مدد نہیں کر سکتے۔ میرا مسئلہ صرف اور صرف کوئی روحانی ڈاکٹر یعنی عالم ہی حل کر سکتے ہیں۔ آپ پلیز مجھے نیند کی کوئی دوائی لکھ دیں۔" اکرم نے سنجیدگی سے کہتے کہتے آخر میں ملتجیانہ لہجہ اختیار کر لیا۔
"مجھے تھوڑی تفصیل تو بتائیں۔ ہو سکتا ہے میں آپ کی کچھ مدد کرسکوں۔" ڈاکٹر صاحب نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
اکرم نے ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر موجود خط شدہ داڑھی دیکھی تو دل میں خیال آیا کہ شاید اللہ تعالیٰ اس طریقے سے ہی میری مدد کرنا چاہتے ہیں۔تو اس نے پوری تفصیل ڈاکٹر صاحب کو بتا دی۔
"اچھا رات کو جب آپ کو آواز سنائی دیتی ہے تو اس کے علاوہ کیا محسوس ہوتا ہے۔" پوری تفصیل سن کر ڈاکٹر صاحب نے مزید پوچھا۔
"بہت گھٹن محسوس ہوتی ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی میرے دل کو زور زور سے دبا رہا ہو۔" تفصیل بتاتے ہوئے اکرم کے چہرے پر پسینہ آ گیا۔
یہ بات سن کر ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
"اچھا! اور کیا اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے حرارت پھوٹتی ہوئی بھی محسوس ہوتی ہے؟" ڈاکٹر صاحب نے پوچھا ان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھی بھی قائم تھی۔
"جی ڈاکٹر صاحب! مگر آپ کو کیسے معلوم ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں آپ ۔ ۔ ۔ ۔آپ کو صاحب کشف معلوم ہوتے ہیں۔؟" اکرم نے ڈاکٹر صاحب کا ہاتھ پکڑ کر چومتے ہوتے کہا۔ تو ڈاکٹر صاحب کھل کر ہنس دیے۔
"اچھا! تو اب میں جو کچھ پوچھوں۔ سچ سچ بتانا۔" ڈاکٹر صاحب نے مسکراہٹ پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔"کچھ دن پہلے تم کسی شادی پر تو نہیں گئے؟"
"جج ۔ ۔ ۔ ۔ جی ۔ ۔ ۔۔ مم ۔ ۔۔۔مگر ۔ ۔ ۔ ۔آپ کو کیسے معلوم ہوا۔"
اکرم کی آنکھیں حیرت سے پھٹ کر کانوں سے جا لگی۔
"میں تمہارا مسئلہ سمجھ گیا ہوں۔ اور میں تمہارے لیے ایک خاص چیز لے کر آتا ہوں جیسے میں بتاؤں بالکل ویسا کرنا۔ انشاء اللہ تمہارا مسئلہ بالکل حل ہو جائے گا۔" ڈاکٹر صاحب نے اٹھ کر اندرونی کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
جب ڈاکٹر صاحب واپس آئے تو ان کے ہاتھوں میں ایک پلاسٹک کا شاپنگ بیگ تھا۔ جس کو انہوں نے بالکل اُوپر سے پکڑ رکھا تھا۔
"باوضو ہو کر اس میں سے دو چمچ ایک گلاس پانی میں ڈال کر دن میں دو وقت پینا ہے اور دو روز تک یہ عمل جاری رکھناہے۔ پھر جو بھی ہو مجھے آ کر بتانا۔انشاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
اکرم نے پہلے جا کر وضو کیا پھر ڈاکٹر کے ہاتھوں سے وہ پیکٹ لے کر گھر آ گیا اور جیسا ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا بالکل ویسے ہی اس پاوڈر کا استعمال کیا۔ پہلی ہی رات کو وہ بہت سکون سے سویا اور اگلے ہی دن صبح صبح ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر پہنچ کر ان کے ہاتھ چومنے لگا۔
"ڈاکٹر صاحب! آپ ولی ہو۔ آپ نے ایک ہی دن میں میری اجڑتی زندگی کو کنارہ دے دیا۔" اکرم کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔
"اوہ، اوہ۔ چھوڑو یار کیا کر رہے ہو۔ میں کوئی ولی نہیں ہو۔ بس تم جسمانی طور پر تھوڑے بیمار ہو گئے تھے۔ اور میں نے تمہارا علاج کر دیا۔ اور اس کی میں نے فیس بھی لی ہے۔" ڈاکٹر صاحب نے جلدی جلدی کہا۔
"نہیں نہیں۔ مگر وہ آواز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟" اکرم نے حیرت اور بے یقنی سے پوچھا۔
"یار تمہیں بد لحاظی سے کھانے کی وجہ سے گیس ہوگئی تھی۔ میں نے اس دن تمہیں (اینو) دیا تھا۔" ڈاکٹر صاحب نے کہا۔
"مم ۔ ۔۔ ۔مگر۔ ۔ ۔۔ ۔ وہ آپ نے وضو کر کے ۔۔۔۔۔۔؟" اکرم نے کہا
"وہ اس لیے کہ اگرمیں سیدھا سیدھا تمہیں کہتا تو کبھی بھی میری بات نہ مانتے" ڈاکٹر صاحب نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
"تو اکرم کے چہرے پر خفت سی چھا گئی۔
اس نے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا اور لوٹتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ جب گھر جا کر میں فاطمہ کو اس "خطرناک بھوت"کی حقیقت بتاؤں گا وہ تو وہ بیچاری ہنس ہنس کر پاگل ہو جائے گی۔ مگر بابا والی بات اس کو ہرگز نہیں بتاؤں گا ورنہ ساری زندگی مجھے کھینچتی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔
__________________