06 - تعبیر آشنا از حرا قریشی

میں نے تیز رفتاری سے قریب آتی بس کو دیکھا اور اس دفعہ پکا ارادہ کرلیا کے مجھے یہ مس نہیں کرنی۔ "جیسے ہی رکے گی میں فورا” چڑھ جاؤں گی"
مگر ہوا کیا؟ پچھلی چار بسوں کی طرح اس کی بھی بس اسٹاپ کے قریب پہنچنے تک رفتار کم ضرور ہوئی مگر رکی نہیں اور ایک دفعہ پھر میں تھی اور دور جاتی بس۔ پیچھے صرف دھول رہ گئی تھی۔
************

"کھاؤ نا رک کیوں گئیں؟" عائشہ کو پلیٹ میں چمچہ گھماتے دیکھ کر بابا نے پوچھا تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ ان کی بات کا جواب دیتی ٹیبل پر ٹپ ٹپ اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔
"یہ تو ایسے ہی ہر بات کو دل پر لے لیتی ہے۔" امی نے بابا کو پریشان ہوتے دیکھ کر کہا تھا۔
"مگر پھر بھی پتا تو چلے ہوا کیا ہے؟" بابا نے بھی کھانے سے ہاتھ روک لیا تھا۔
"بابا وہ سامنے والوں کا گڈو ہے نا۔ وہ جو کونے والے ہوٹل پر کام کرتا ہے۔ وہ بہت بری طرح جل گیا۔ میں دیکھنے گئی تھی اسے۔ دوا کے لیے بھی پیسے نہیں تھے بابا۔ خالہ نے تو رو رو کر اپنا حشر کر رکھا تھا۔" عائشہ نے روتے ہوئے بتایا تھا۔ اور وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئے تھے۔ ایسا تو ہر دوسرے دن سننے کو ملتا تھا۔ کبھی کوئی جل گیا تو کبھی کوئی بچہ کسی ٹریفک حادثے کا نشانہ بن گیا۔ وہ بھی یہ سب سن کر دکھی ہوجایا کرتے تھے۔ مگر عائشہ بہت زیادہ حساس تھی۔
"بیٹا اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہم سب کے حالوں پر رحم کرے۔" انہوں نے عائشہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
"کیا یہ سب ٹھیک نہیں ہوسکتا بابا؟ ہم بھی تو یہیں رہتے ہیں مگر آپ نے مجھے اور عمر کو پھر بھی پڑھایا۔ میں مانتی ہوں بچوں سے کام کروانا ان کی مجبوری ہے مگر بابا اگر یہ بچے اسی طرح جلتے مرتے رہے تب بھی تو ایک دن ان کے بغیر کسی نہ کسی طرح گزارا کرنا ہوگا تو پھر ابھی کیوں نہیں؟" عائشہ کی آواز میں جھنجلاہٹ تھی۔
"بیٹا اب ہم کسی کو زبردستی تو نہیں کہہ سکتے نا کے بچوں کو ہوٹل، مکینک یا پھول بیچنے کے لیے بھیجنے کے بجائے اسکول بھیجو۔ یہ تو ماں باپ پر ہے۔ اور پھر وہی بات کے جب کھانے اور پہننے کو نہ ہو تو اسکول بھیجنے کی کون سوچتا ہے۔ تمہاری اور عمر کی بات مختلف ہے۔ نہ ہی تمہاری ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے نہ ہی میں ریڑھی لے کر گلیوں گلیوں گھومتا ہوں۔ دولت نہ سہی مگر تعلیم انسان کو شعور ضرور دیتی ہے۔ اور اچھی تربیت کے لیے بھی شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہیں اور عمر کو پڑھانے میں صرف میری ہی نہیں تمہاری ماں کی بھی محنت شامل ہے جس نے رات رات بھر جاگ کر کپڑے سیے ہیں کہ تم لوگوں کی کتابوں اور ضروریات کا خرچہ پورا کیا جاسکے۔ مگر جب ماں باپ ہی تعلیم کی ضرورت کو نہ پہچانیں تو بچوں کو کیا پڑھائیں گے"

ماسٹر احسان الحق ایک گورنمنٹ اسکول میں سالوں سے پڑھاتے آرہے تھے جو کہ ان کے اس خستہ حال کوٹھری نما گھر سے کافی دور واقع تھا۔ اپنے دونوں بچوں کو پیٹ کاٹ کر پڑھایا۔ نہ صرف اسکول بلکہ عائشہ تو اب تھرڈ ایئر میں تھی۔ مگر یہ وہی جانتے تھے کہ ایک غریب ترین علاقے میں کس مشکل سے سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے بچوں کو پڑھایا تھا۔
جہاں آس پاس موٹر مکینک اور ریڑھیاں لگانے والے رہتے تھے وہاں رہتے ہوئے اپنی مڈل کلاس سوچ کو تھامے رکھنا کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا۔ وہ سالوں سے اسی چھوٹے سے گھر میں رہتے آئے تھے۔ پہلے یہ ایک مڈل کلاس علاقہ ہوا کرتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ نقشہ بدلتا گیا۔ ان کے پرانے پڑوسی دوسرے علاقوں میں شفٹ ہوتے گئے اور ان کی جگہ ایک اور طبقے نے لے لی تھی۔ مگر وہ آج بھی وہیں رہ رہے تھے اور سب سے اچھی طرح پیش آنے کے باوجود اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو ویسا نہیں بننے دیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے آج کی غفلت ان کے لیے ساری زندگی کا پچھتاوا بن سکتی تھی اور وہ زندگی پچھتاوے میں نہیں گزارنا چاہتے تھے۔
انہوں نے خاموش سوچوں میں گم اپنی بیٹی عائشہ کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے۔ وہ بالکل انہی جیسی تھی۔ ہر کسی کی تکلیف پر پریشان ہوجانے والی۔ دوسروں کے غموں میں گھنٹوں کڑھنے والی۔
"تمہاری گرمیوں کی چھٹیاں آنے والی ہیں نا؟" انہوں نے عائشہ کا دھیان بٹانے کو پوچھا۔
"بابا آپ مجھے بہلائیں مت۔ میں یہ سب ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ آخر کسی کو رحم کیوں نہیں آتا۔ یہ ٹی وی پر سننے کو ملتا ہے۔ اس سنگر نے مفت اسکول کھولا ہے تو کسی نے مفت علاج کے لیے ہاسپٹل۔ مگر پھر یہ بچے کیوں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں؟" عائشہ اب تک شام کو گڈو کو تکلیف سے تڑپتا دیکھنا نہیں بھولی تھی۔
"اس دنیا میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں۔ لوگ اپنی سی کوشش کرتے ہیں مگر اب پورے پاکستان کے بچوں کو زبردستی پکڑ کر تو نہیں لے جاسکتے نا۔ اس کے لیے ان چھوٹے علاقوں میں ہی کچھ بندوبست ہونا چاہیے۔" وہ سمجھ گئے تھے کہ اب عائشہ ایسے بہلنے والی نہیں ہے۔ جب تک کے اسے تسلی بخش جواب نہ مل جاتا وہ ایسے ہی پریشان بیٹھی رہتی تھی۔

"یہیں کچھ بندوبست۔ ۔ یعنی یہیں اسکول کھولا جائے؟" اس نے پرسوچ انداز میں ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
"مگر بابا یہاں کون اسکول کھولے گا۔ کاش کوئی کھول ہی لے میں تو مفت میں پڑھاؤں گی وہاں۔ مگر اگر اسکول کھل بھی جائے تو یہ سارے بچے تو صبح سے شام تک کام پر جاتے ہیں۔ اسکول کہاں جاسکیں گے؟"
"بیٹا ضروری تو نہیں بڑی سی بلڈنگ بناکر اس میں باقاعدہ اسکول ہی کھولا جائے۔ مقصد تو بچوں میں پڑھائی کا شوق اور شعور بیدار کرنا ہے وہ تو ایک کمرے میں بیٹھ کر بھی کیا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی میں سوچ رہا تھا بیٹھک میں سے کچھ سامان پیچھے اسٹور میں رکھ دوں تو زیادہ جگہ بن جائے گی۔" انہوں نے اسے نئی راہ دکھائی تھی۔
"بابا کیا آپ بیٹھک میں اسکول کھولیں گے؟" اس نے حیرانی سے اپنے بابا کی طرف دیکھا۔
"خالی میں نہیں۔ تم اور عمر بھی میرا ساتھ دو گے۔ شام کے وقت بچے گلی میں پھرتے رہتے ہیں۔ ویسے بھی میری کافی مانتے ہیں دیکھنا شوق سے پڑھنے بیٹھ جائیں گے۔" انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"لیکن بابا ایک کمرے کے اسکول سے کیا ہوگا نہ اسکول جیسی سہولیات ہوں گی۔ آپ کوشش کریں نا بابا کہ کسی طرح کوئی یہاں اسکول کھولنے پر تیار ہوجائے۔" عائشہ کو یہ آئیڈیا کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔
"بیٹا اگر ہم اسی انتظار میں بیٹھے رہے کے کوئی آئے گا اور ہماری پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ محض ہماری خوش فہمی ہے۔ ترقی کسی تیز رفتار بس کی مانند ہے۔ جو ہمارے سامنے سے گزرے جارہی ہے اور ہمیں اس تیز رفتار بس میں سوار ہونا ہے۔ اگر ہم کھڑے اس بات کا انتظار کرتے رہیں کہ کوئی بس ہمارے سامنے آکر رکے گی اور کوئی ہاتھ بڑھا کر ہمیں اس میں چڑھنے میں مدد کرے گا تو یہ ہماری خام خیالی ہے۔ نہ تو اس ترقی یافتہ دنیا کے پاس اتنا وقت ہے کہ رک کر ہماری پریشانیوں کو سمجھے، نہ ہی کسی کے پاس اتنی فرصت کے دوسروں کو اس ترقی کی بس میں سوار ہونے میں مدد کرے۔ بس یہ سمجھ لو کہ ہمیں جو کرنا ہے خود ہی کرنا ہے۔ اب مرضی ہماری ہے کہ ہم اس تیز رفتار بس میں خود ہی سوار ہوجاتے ہیں یا کسی سے مدد کی توقع کرتے ہوئے کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں۔" وہ اسے سوچوں میں گھرا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔
***************

"پینسل، چاک، کاپیاں۔ ۔ ۔" میں نے ایک دفعہ پھر ذہن میں ان اشیاء کی فہرست دوہرائی تھی جو اپنے ایک کمرے کے اسکول کے لیے لینی تھیں۔
دور سے آتی بس کو دیکھ کر میں نے اپنے کندھے پر لٹکے بیگ کو مضبوطی سے تھاما اور کچھ آگے بڑھی تھی۔ بس کی رفتار میرے قریب آنے تک کچھ کم ہوئی اور میں نے دوڑ کر اس کی ریلنگ تھامی اور اس میں سوار ہوگئی تھی۔ آج پہلی دفعہ میں نے اکیلے بس لی تھی۔ آج سے پہلے کافی دفعہ کوشش کرنے پر بھی ناکام رہی تھی۔ کراچی کی تیز رفتار گھچم گھچ بھری بسوں میں اکیلے چڑھنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مگر میں نے اس کے رکنے اور کسی کی مدد کے بغیر ہی اس میں چڑھنا تھا اور میں یہ بس مس نہیں کرسکتی تھی کیونکہ میرے لیے یہ پہلا چیلنج تھا۔ ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے میں نے بس کی رفتار کم ہونے کے بجائے اپنی رفتار بڑھالی تھی۔

ختم شد۔