07 - ابھی ایک خواب باقی ہے از مونا سید

آج ہمارے پروگرام میں شامل ہیں دو مشہور و معروف ہستیاں۔جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔۔"
ماہی بہت شوق سے یہ مارننگ شو دیکھا کرتی تھی۔۔ مگر کبھی کبھار مس ہونے کی صورت میں رات کو ریپیٹ ٹیلی کاسٹ میں بھی دیکھ لیا کرتی تھی۔۔ اور آج تھا بھی کپل ڈے کسی نہ کسی مشہور جوڑے کو اس پروگرام میں دعوت دی جاتی تھی۔۔
" ماہی ! ماہی ! کہاں ہو تم۔۔۔ لگی ہوگی پھر اس بورنگ ٹی وی شو میں۔۔ اور ہمیشہ کی طرح میری شرٹ پریس کرنا بھول جانا۔۔ تاکہ صبح میں لیٹ ہوں آفس سے۔۔"
ماہی کو یہ آواز کسی برچھی کی طرح لگی جو سیدھے اس کے دل میں اتر گئی۔
اس نے دل ہی دل میں بڑبڑاتے ہوئے آواز کو میوٹ کیا اور ریموٹ پٹخا اور چل دی خضر کی شرٹ استری کرنے۔۔
" اتنی مشکل سے بچے سوئے تھے' چند لمحے بھی میں اپنے لیے نہ حاصل کروں ' آخر یہ شخص مجھ کو چین سے کیوں نہیں رہنے دیتا۔۔" پٹخ پٹخ کر شرٹ استری کی جارہی تھی۔
اور خضر وہیں لاؤنج پر ایک صوفے پربیٹھا یہ سوچے جا رہا تھا کہ " کیا یہ وہی ہے جس سے میں نے شادی کی تھی اور وہ بھی محبت کی' بے رونق چہرہ ' الجھے بال' شکن زدہ کپڑے۔۔ کچھ بھی ' کچھ بھی تو وہ نہیں تھا جس پر خضر کی نظر ٹھہری تھی۔۔
" میری ماہی ! کہاں گئی میری ماہی؟"
اچانک اس کی نظر ٹی وی چینل پر گئی تو ماہین غصے میں چلتا ہی چھوڑ گئی تھی، وہاں کوئی 50 سال سے زیادہ عمر کا ایک کپل بیٹھا تھا۔ اس کی نظر اس ہنستے مسکراتے جوڑے پر کہیں اٹک سی گئی۔ اس کے دل میں خیال آیا آخر یہ بھی تو ہیں۔۔ اتنے خوش ' اتنے مکمل اور وہ بھی شادی کے اتنے سال بعد۔۔ اور میری اور ماہی کی شادی کو تو بس 5 سال ہی ہوئے ہیں ہم کیوں اتنے بےزار ہیں ایک دوجے سے۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر ٹی وی کی آواز کھول دی۔۔
میزبان سوال پوچھ رہی تھی ان سے کہ " ماشاء اللہ اتنا عرصہ ہوگیا ہے' اتنی خوشگواریت ہے آپ لوگوں میں" میزبان نے اپنے مخصوص اسٹائل میں بال ہاتھوں سے ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا۔" کبھی کوئی پھڈا شڈا ' کوئی تُو تکار۔۔"
کپل نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا۔۔" پھر خاتون نے کہا ۔۔" کیوں نہیں چھوٹی موٹی تو سب کے گھر میں ہی چلتی ہے ' خاموش اور بوجھل تو بس " بت" ہوتے ہیں۔۔ زندگی تو اپنا پتا دیتی ہے۔۔"
خاتون کے اس دلچسپ جواب نے خضر کی دلچپسی بڑھا دی' اس نے تھوڑی سی آواز بھی بلند کی۔ وہ آگے کہہ رہی تھیں:
"مگر کبھی ان کو جب غصہ آتا ہے تو میں خاموش ہوجاتی ہوں' اور مجھے کچھ برا لگتا ہے تو یہ ہنس کر سن لیتے ہیں۔۔"
میزبان نے پوچھا:" ہو ' ہائے بس انا ہی ہوتا ہے۔۔ آگے کبھی کچھ نہ ہوا۔۔"
مگر ٹھہریئے اس سوال کا جواب جانتے ہیں رائٹ آفٹر شورٹ بریک۔۔"

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
ماہی کے استری کرتے ہاتھ کچھ رک سے گئے۔۔ ٹی وی لاؤنج میں آتی آوازیں اس کے کانوں تک بآسانی پہنچ رہی تھیں۔۔ اس کے دل میں پھر کدورت سی پیدا ہوئی خضر کے خلاف۔ اس نے بلند آواز میں بڑبڑانا شروع کردیا۔۔
" خود تو مزے سے جاب کرتے ہیں آتے ہیں ٹی وی لے کر بیٹھ جاتے ہیں میں اکیلی جان سارا گھر دیکھوں' ان کے بچے دیکھوں' آخر کیا کیا دیکھوں۔۔" اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔
اس کا سارا دن بس گھر میں ہی گزرتا تھا۔ مگر پانچ سال کی شادی میں تین بچوں جن میں سے دو جڑواں تھے اس کو حال سے بےحال کردیا تھا۔۔ سارا دن بس ایک مشین کی طرح چلے جاؤ کہیں تو سانس ملے کہیں تو وہ لمحہ ملے جس میں میرا اپنا آپ ہو۔۔ ایک آہ نکلی تھی اس کے دل سے۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھی ہوئی تھی کہ ٹی وی کی آواز بڑھنے کی وجہ سے اس کا ارتکاز ٹوٹا۔۔ خضر نے شاید والیوم تھوڑا اونچا کیا تھا۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
" جی ہاں ہم حاضر ہیں ایک بار پھر ۔ جی تو ناظرین ہمارے آج کے مہمانوں سے ہم نے بریک پر جانے سے پہلے ایک سوال پوچھا تھا۔ آیئے ان کا جواب جانتے ہیں۔"
مہمانوں میں موجود پروقار شخصیت کے مالک صاحب نے ایک مسکراتی نظر اپنی بیگم پر ڈالی اور اس میزبان کو مسکرا کر مخاطب کیا:
" یہ جب ہم کو ملی تھیں تو ایک ٹین ایج لڑکی تھیں۔ ہماری عمروں میں کوئی 15 سال کا فرق ہے۔ اور جو مزاج کا فرق تھا وہ ابھی بھی ہے۔ مگر سارا کریڈٹ ان کو جاتا ہے کہ انہوں نے اس فرق کو کبھی ہماری شادی پر حاوی نہیں ہونے دیا۔"
خاتون نے بات کاٹی اور کہنا شروع کیا:" شروع شروع میں'میں بہت تنگ ہوئی یہ ایک بالکل جامد انسان تھے کچھ کہتے ہی نہیں تھے بس جو بولوں میں ہی بولوں اور آگے سے جواب ایک سناٹا ہوتا تھا تو میں خوب پیر پٹخ کر روتی تھی گھر کے برتن دیوار پر مار دیا کرتی تھی' اتنے بڑے گھر میں میرا دل ہولا کرتا تھا۔۔"
" بس' بس 'بس بھی کیجئے ذرا وہ تو بتایئے جب آپ نے پورا گملہ ہی اٹھا کر دے مارا تھا مجھ غریب پر۔۔ وہ تو اللہ نہ بچایا ورنہ میں تو گیا تھا۔۔" بڑے صاحب کا انداز شرارتی تھا۔۔
بڑی بیگم تو بس جھینپ ہی گئی تھیں۔
میزبان بولیں " ہائے میں صدقے' پھر پھر کیا ہوا۔۔" اس کی آنکھیں کسی چرخی کی طرح گھوم رہی تھیں۔
" پھر!" انہوں نے کچھ کہنا شروع کیا مگر خضر کے کان تو ان آوازوں پر تھے ہی نہیں وہ تو ان صداؤں کو سن رہے تھے جو جانی پہچانی تھیں۔
" چھوڑیں بی جان ! یہ کیا یوں جھٹ سے بھی کوئی پہچانتا ہے۔۔" دو چوٹیاں گوندھے ہوئے جو گول سے چہرہ پر بڑی بھلی لگ رہی تھیں اس پر سرمگیں آنکھیں ۔۔ اور وہ ناک چڑھائے شاید اپنی نانی یا دادی سے جھگڑ رہی تھی۔
وہ لوگ شاید ان کے نئے شفٹ ہوئے پڑوسی تھے اور وہ بابا جان کے کہنے پر ان سے پوچھنے آیا تھا کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ اور گیٹ کھلا ہونے کی وجہ سے اس نے ان دونوں کی گفتگو سن لی تھی اور اس گومگو میں تھا کہ واپس جائے یا آگے بڑھے۔۔
مگر پھر اس کے قدم رکے نہیں آگے بڑھتے چلے گئے اور وہ لڑکی جس کو اس نے بعد میں ماہی کے نام سے جانا اس کے گھر میں اور زندگی میں چلی آئی۔
اولین رات اس نے بتا دیا تھا اس کو کہ کیسے وہ اس کا اسیر ہوا تھا۔ جوابا ماہی کی ایک شرمیلی ہنسی ملی تھی۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
ٹی وی کی آواز نے ماہی کی توجہ بھی کھینچ لی تھی۔۔ وہاں بڑی بیگم صاحب بتا رہی تھیں کہ" میں نے ان کی بہت کیئر کی ہے جب جا کر آج ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے کے مزاج دان بن سکیں۔۔ آج کل کی لڑکیاں گھر میں لگ کر یہ بھول جاتی ہیں کہ ان کی زندگی کا سب سے اہم فرد یوں نظر انداز ہورہا ہے۔۔ "
نظر انداز" اس جملے نے ماہی کو چونکایا اس کی غیر ارادی نظر خضر پر پڑی۔ اس کا تھکن زدہ چہرہ' بڑھی ہوئی شیو' ملگجے کپڑے اس کے نظر انداز ہونے کی داستان سنا رہے تھے۔
ماہی نے شانے اچکائے گویا اس کو کوئی پروا نہیں ۔ مگر ان بیگم صاحب کا اگلا جملہ اس کو شرمندہ کر گیا جس کو وہ نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
" میرے لیے میرے بچے بھی ان کے بعد آتے ہیں۔۔
" اونہہ ہوں بچے بھلا کیسے " مگر ماہین کی سوچ ادھوری رہ گئی، ان بیگم صاحب کے اگلے جملے کو سن کر۔
" میری ماں کہتی تھیں کہ سر کا سائیں سائبان ہوتا ہے جو کڑی دھوپ میں بھی اس چھاؤں جیسا ہوتا ہے جس کے نیچے عورت کا سکھ اس کا گھر اور اس کے بچے پنپتے ہیں۔۔"
ماہین کے ہاتھ نے بےاختیار صوفے کی پشت کو اپی گرفت میں لیا۔۔ اس کی نظر ایک بار پھر خضر کی طرف گئی جو پروگرام میں محو تھا۔
ماہین کو بے ساختہ یاد آیا کہ اس کا اور خضر کا ساتھ کب اس سے چھوٹ گیا' تب شاید عمیر ہوا تھا یا تب یہ دونوں جڑواں بچے وہ ان میں ایک ایک کر کے الجھتی گئی ریشم کی ڈوریوں جیسے رشتوں میں جس میں اس کا اور خضر کا رشتہ کہیں چھپ سا گیا۔۔
اس کو یاد آیا کہ شادی کے شروع کے دنوں میں وہ کیسے ایک دوسرے کی سنگت سے لطف اٹھایا کرتے تھے 'ساتھ ٹی وی دیکھنا' رات کو واک کرنا ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے'بارش میں اس کو زبردستی کھینچ کر لے جانا خضر کا صحن میں جب کہ وہ سخت چڑتی تھی بارش سے' مگر صرف اس کی خاطر یہ بھی برداشت کر لیتی تھی' خضر کو سردی بہت لگتی تھی مگر وہ ضد کر کے آئس کریم کھانے جاتی تھی۔
" کمپرومائز میاں کمپرومائز۔۔۔۔ یاد ہے نا آپ کہتے تھے شادی ایک کمپرومائز ہے۔۔"
اس کے لبوں پر ایک مسکان سی پھیلی۔۔ اور وہ بے چارہ اس کے ساتھ برتن تک دھلوادیا کرتا تھا۔
وہ تو ایک ایک کر کے کمپرومائز کرتا چلا گیا' پہلے بیڈ الگ ہوا کہ بچے چھوٹے تھے' پھر پھر صبح ناشتہ خود بنانا شروع کیا کہ بچے رات کو ماہی کو ستاتے تھے'آہستہ آہستہ ان میں بات چیت ہونا بھی کم ہوتی گئی۔
ماہی کو گویا یہ سب سوچ کر جھرجھری آئی۔۔" نہیں میں یہ نہیں ہونے دوں گی۔۔ میں اپنے اور خضر کے رشتے کو واپس ایک زندگی دوں گی۔۔"
وہاں میزبان ان دونوں سے الوداعی پیغام کا پوچھ رہی تھی۔ اور یہاں ماہی نے ایک نئی شروعات کا سوچا مگر اس سے پہلے چپکے سے ایک نظر اس جوڑے پر ڈال کر ان کا دل ہی دل میں شکریہ ادا کیا۔۔
اور ایک نئے عزم کے ساتھ صوفے پر بیٹھے خضر کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا۔۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
اس کے کاندھے پر سر رکھتے ہی خضر چونکا۔۔ اس کے چہرے پر پھیلتی نمی نے اس کو احساس دلایا کہ شاید وہ احتساب کا لمحہ ماہی کی زندگی میں بھی آیا ہے جس سے کہ وہ خود گزر رہا ہے اس نے ماہی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔ بہت دنوں بعد وہ یوں ایک ساتھ بیٹھے تھے۔
" شاید ہم دونوں ہی۔۔۔ " وہ دونوں ایک ساتھ بولے۔
پھر خضر نے اس کے چہرے پر آئی نمی دھیرے سے صاف کرتے ہوئے کہا۔
" تم بولو آج میں سنوں گا۔۔ کتنا عرصہ ہوا ہم کو یوں بات کیے ہوئے۔۔"
"سچ میں خضر ! میں تم کو اگنور نہیں کرتی تھی ۔۔ " اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے جو ابھی بھی خضر کے ہاتھ میں تھا دھیرے سے بولنا شروع کیا۔ "مجھ کو لگا کہ میں اب تمہارے لیے اتنی ضروری نہں رہی' پہلے تمہارا بیڈ الگ کرنا اس کے بعد دیر تک باہر رہنا' مجھ پر بالکل توجہ نہ دینا۔۔ میں ' میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھی ماہی کہیں نہیں ہے۔۔" اس کی آواز پر رقت طاری تھی۔۔
" ہاں ماہی ! ہم دونوں ہی ایک دوسرے سے چھوٹتے جا رہے تھے' تمہارا یوں اپنے آپ سے لاپروا ہونا' مجھ سے لاپروا ہونا' مگر خیر ۔۔۔۔۔۔۔ جو ہوا سو بیت گیا۔ اب ہم کو بھی ایک مثال بننا ہے ان کی طرح جنہوں نے ہماری زندگی کا دھارا بدل دیا۔۔ ہے نا ماہی ہم بھی پچاس سال کے بعد ایسے ہی ہوں گے نا جیسا کہ وہ تھے۔۔"
ماہی نے دھیرے سر ہلادیا۔۔
اور خضر اولین دنوں کی وہ نظم گنگنانے لگا:
ابھی قصہ ادھورا ہے
ابھی پوری کہانی ہے
ابھی اس پار جانا ہے
ابھی جھیلوں میں پانی ہے
ابھی رستے میں دلدل ہے
ابھی پایاب باقی ہے
ابھی اک خواب باقی ہے