08 - بابو جی سر از ناز حسین

"بابو جی اللہ کے نام پر پانچ روپیے دے دو' مجھے کھانا کھانا ہے، اللہ کے واسطے میرے مدد کرو۔ میں بہت بھوکا ہوں۔"

"چل ہٹ یہاں سے 'کیا صبح صبح سر پر سوار ہوجاتے ہیں۔ جاؤ! بھاگو یہاں سے۔"
یاسر چلتے چلتے جھنجھلا کر بولا۔۔
"بابو جی' بابو جی! صرف پانچ روپے کا سوال ہے۔۔ بابو جی کل سے کھانا نہیں کھایا' یتیم ہوں بابو جی! اللہ بھلا کرے گا تمہارا صرف پانچ روپے کا سوال ہے بابو جی۔"
نو دس سال کا بچہ تھا وہ' انتہائی غلیظ' میلا کچیلا اور گرد آلود۔۔ غربت اور بھوک اس کےچہرے سے ہی عیاں تھی۔۔ اس نے یاسر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اپنی ڈھٹائی کا مظاہرہ جاری رکھا۔۔
" دے دو نا بابو جی! کل سے بھوکا ہوں۔۔۔" اس نے پھر صدا لگائی۔۔
"کیا مصیبت ہے؟ " یاسر جھنجلایا ۔۔" یار! ایک دفعہ بولا ناں جاؤ یہاں سے نہیں ہیں کوئی پیسے ویسے۔"
یاسر نے فقیر کو جھڑکتے ہوئے کہا اور نزدیک آتی ہوئی بس کی طرف لپکا۔
اس وقت 8 سے کچھ اوپر کا ٹائم ہوگیا تھا اور یاسر کو آفس پہنچنے میں سوا گھنٹہ لگتا تھا' اس کے سر پر اس وقت صرف آفس پہنچنے کی عجلت سوار تھی۔۔ اسی عجلت میں وہ اس بچے کو جھڑک بیٹھا۔ ورنہ کسی سے بھی اس طرح بدتمیزی کرنا یاسر کی عادت نہ تھی ۔ بس میں بیٹھنے کے بعد بھی اس کو افسوس ہورہا تھا کہ بیکار میں اس بچے سے ایسے بات کی۔۔
مگر وہ کرتا بھی کیا۔۔ آفس نو بج کر پندرہ منٹ تک پہنچنا لازمی تھا۔۔ ورنہ باس کےسامنے حاضری لگتی۔۔ آج وہ گھر سے ہی دیر سے نکلا تھا۔۔ رات سے ماں کی طبیعت ہی اتنی خراب تھی کہ ساری رات ان کے سرہانے بیٹھ کر گذارنی پڑی۔ صبح دم کہیں آنکھ لگی تو آفس کو اٹھنے میں دیر ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
آفس پہنچ کر ابھی بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی ہی تھی کہ باس کے روم سے کال آگئی۔۔
دل ہی دل میں "جل تو جلال تو" کا ورد کرتے ہوئے ہولے سے باس کے کیبن پر دستک دی۔۔۔
"مے آئی کم ان سر!"
"یس کم ان۔"
" جی باس بلایا آپ نے۔۔۔" یاسر نے اپنی پیشانی سے نادیدہ پسینہ صاف کیا۔
"یاسر آپ آج کتنے بجے آفس آئے ہیں ؟"
"سر! وہ میں۔۔۔۔ سر! وہ سوری آج میں لیٹ ہوگیا۔۔ میری مدر کی طبیعت رات سے ہی بہت خراب تھی اسی لیۓ۔۔۔۔۔"

یاسر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی باس نے تیوری چڑھائی۔ اور تقریباً ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔
"یاسر اس قسم کے "لیم ایسکیوزز" کی آفس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔ وقت کی پابندی یہاں بہت ضروری ہے یہ تو آپ کو جاب دیتے وقت ہی بتا دیا گیا تھا۔۔ پھراس قسم کی بے قاعدگیاں۔۔۔۔۔ " باس اب کی بار یاسر کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔۔ حاضری رجسٹر ان کے ہاتھ میں تھا۔۔" اور پھر یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے جو آپ لیٹ ہوئے ہیں ۔۔"
یاسر نے کچھ کہنا چاہا۔۔ " مگر سر۔۔۔!"
" بہرحال یہ آپ کو لاسٹ وارننگ ہیں آئندہ آپ آفس لیٹ ہوئے تو آفس آکر اپنے روم میں جانے کے بجائے اکاؤنٹس میں جاکر حساب کتاب کرلیجیے گا اور اب آپ جاسکتے ہیں۔"

"سوری سر! نیکسٹ ٹائم ایسی شکایت نہیں ہوگی۔"

یاسر باس سے معذرت کرتا ہوا اپنی سیٹ پر آگیا ایک بے بسی سی اس کے چہرہ پر جھلک رہی تھی۔ آج تو اس کو لون کی بات کرنی تھی ماں کے علاج کے لیے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی مگر اب کیسے بات کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لنچ کےٹائم گذر گیا مگر یاسر کی ہمت نہ ہوئی کہ لون کی بات کرے مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق بات تو کرنی ہی تھی۔۔ ماں کی طبیعت دن بدن بگڑتی جارہی تھی اگر اب بھی مکمل طریقے سے علاج نہ ہوا تو مرض کے شدت اختیار کرنے کا اندیشہ تھا اور علاج کے لیۓ ضرورت صرف پیسوں کی تھی جس کی دستیابی کم سے کم یاسر کی محدور تنخواہ میں ایک ساتھ تو ممکن نہ تھی۔ چار بجے یاسر نے ہمت کرکے باس سے بات کرنے کی ٹھانی اور باس کے روم میں کی طرف گیا
"سر می آئی کم ان۔۔"

"یس کم ان۔۔"
"سر مجھے آپ سے کچھ کام ہے"
"ٹھیک ہے۔۔کہیے کیا کام ہے۔۔" صبح کے مقابلے ابھی باس کہ لہجہ کافی بہتر تھا یاسر کی بھی ہمت بندھی۔۔
سر مجھے 15000 روپیے کا لون چاہیے میں ماہانہ1000 روپیے سیلری سے کٹوا دوں گا۔۔ مجھے اس کی ابھی بہت ضرورت ہے۔۔"

"یاسر! آپ جانتے ہیں کہ کمپنی کے پالیسی کیا ہے مگر پھر بھی آپ لوگ فضول میں تنگ کرنے آجاتے ہیں ۔ آپ کو پتا ہے ایک سال سے اوپر والے ایمپلائی ہی لون کے لیے اپلائی کرسکتے ہیں اور ابھی آپ کو کچھ کم و بیش دس ماہ کا عرصہ ہی ہوا ہے ہمارے ساتھ کام کرتے۔ آپ ابھی لون کے لیۓ ایلیجیبل نہیں ہیں۔۔ سوری۔۔"
"سر! میری ضرورت بہت شدید ہے پلیز سر! تقریبا گیارہ مہینے تو ہو ہی گئے ہیں مجھے یہاں کام کرتے پلیز سر منع نہ کریں ۔۔" یاسر گڑگڑایا۔۔
"دیکھیے یاس!ر کمپنی پالیسی' کمپنی پالیسی ہے میں کچھ نہیں کرسکتا ہے آپ لون کے لیۓ ایک مہینے بعد اپلائی کیجیے گا میں اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کرسکتا۔"
"سر! آپ کی مہربانی ہوگی سر مجھے بہت بہت نیڈ ہے پلیز سر اچھا 15000 ہزار کا نہیں ہوسکتا تو 10000 کا ہی اپروو کردیں سر آئی رئیلی نیڈ دس اماؤنٹ آن ارجنٹ بیسس پلیز سر! پلیز۔۔۔۔"
"یاسر! آپ میری پوزیشن کو سمجھیے میں اکیلا نہیں ہوں مینجمنٹ ہے پوری یہ خالی میرا ڈسیشن نہیں ہے میں کچھ نہیں کرسکتا۔۔"
"سر پلی!ز ایک ٹرائی کرلیں ایم ڈی صاحب سے بات کرکے دیکھ لیں سر پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔" یاسر کے لہجے میں لاچاری تھی۔۔

"اوکے یاسر جسٹ بیکوز آف یور انسسٹ میں ایک دفعہ بات کرکے دیکھ لیتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں ہوگا کچھ نہیں۔۔۔"

"تھینک یو سر ویری تھینکس سر۔۔۔۔۔!"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
یاسر گھر واپس جاتے ہوئے بہت ہی افسردہ تھا ایک امید تھی کہ آفس سے لون ملے گا تو ماں کے علاج میں آسانی ہوگی۔۔ مگر افسوس کوئی آسرا نہیں بنا۔
اسٹاپ سے گھر جاتے ہوئے یاسر اپنی ہی سوچوں میں مگن تھا کہ ایک آواز کان میں پڑی۔۔
"بابو جی !اللہ کے نام پر پانچ روپیے دے دو مجھے کھانا کھانا ہےمیں بہت بھوکا ہوں۔"
زن کرکے ایک ٹرین سی گذر گئی کئی لمحہ تو ساکت گزر گئے اور ساتھ ہی ایک اور آواز یاسر کے کانوں میں گونجی :
"سر مجھے 15000 روپیے کا لون چاہیے میں منتھلی 1000 روپیے سیلری سے ڈیڈکٹ کروا دوں گا مجھے اس کی ابھی بہت ضرورت ہے"
پھر ایک آواز کا شور بلند ہوا:
"اچھا بابو جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"سر پلیز سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!"
"بابو جی اللہ کا واسطہ ۔۔۔۔۔۔"
"پلیز سر پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!"
"اللہ بھلا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"سر پلیز! ایک ٹرائی کرلیں ایم ڈی صاحب سے بات کرکے دیکھ لیں سر پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔!"
آوازوں کا شور لمحہ بہ لمحہ بلند ہوتا جارہا تھا اور یاسر اندھا دھند بھگانے لگا مگر آوازوں کا تعاقب جاری تھا۔
"سر۔۔۔۔۔!"
"بابو جی۔۔۔۔!"
"سر۔۔۔۔۔!"
بابو جی۔۔۔۔۔۔۔۔!""