09 - بلا عنوان

1991لندن سینٹ الزبتھ ہاسپٹل
" ڈاکٹر پھر کیا رزلٹ رہا۔۔" امید و بیم کی کیفیت میں مسز شاہ نے ڈاکٹر سے دریافت کیا۔۔ ان کے یہاں امید کا چراغ تیسری بار روشن ہوا تھا۔
ڈاکٹر نے مایوسی سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔" ویل مسز شاہ ! اس بار کے سارے رزلٹس یہی بتا رہے ہیں کہ اس بار بھی بے بی۔۔۔" ڈاکٹر آگے بھی کہے جا رہی تھی مگر ان کے کان سننے سے قاصر تھے۔
سینٹ الزبتھ ہاسپٹل لندن کا بیسٹ پرائیوٹ ہاسپٹل مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں سونوگرافی کی ناکافی سہولیات نے ان کو یہاں آنے پر مجبور کیا تھا۔ ان کا کیس ہائی رسک کا تھا۔۔ مگر ڈاکٹر جو بتا رہی تھی اس سے یہی لگتا تھا کہ لندن میں بھی تقدیرساتھ نہ دے گی۔۔
انہوں نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور ڈاکٹر سے ہاتھ ملا کر اٹھ گئیں۔۔
" مسز شاہ ! " انہوں نے آواز پر مڑ کر دیکھا۔۔" آپ ہائپر ٹینشن کا شکار ہیں کوشش کیجئے کہ ریلیکس رہیں۔۔"
انہوں نے ایک گہری سانس لی اور پیچھے دروازہ بند کردیا۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
2009ء کراچی

8 مارچ خواتین کا دن ہے حاضرین۔۔ مگر کیا خواتین کو وہ عزت اور مقام ملا ہے۔۔ آیئے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
قرون اولٰی میں عرب اپنی بیٹیاں زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔۔ کیا آج ہم اس سے بہتر صورتحال میں ہیں۔ ہمارے ملک میں خواتین کا کیا مقام ہے۔۔ کیا کارو کاری ' ونی ' سوارہ کی شکل میں آج بھی وہی قدیم عربوں کی رسم زندہ نہیں۔ جیتی جاگتی بیٹیوں کو درندوں کے حوالے کردینا۔۔۔"
ٹی وی چینل پر رپورٹر جوش و خروش سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنا نقطہ نظر پیش کر رہی تھی۔۔
مسز حسن نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ساتھ بیٹھی اپنی بیٹی کو گلے سے لگا لیا۔۔۔ یہ نعمت ان کو کتنے جتنوں کے بعد ملی تھی وہی جانتی تھیں۔۔
" مما !" ضحٰی نے بےساختہ ان کو دیکھا۔۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی مما کی جان ہے اس میں۔" مما! میں آپ کا کیسے شکریہ ادا کروں۔۔۔" آگے اس سے کچھ کہا ہی نہیں گیا۔
" نہیں میری جان! شکریہ کیسا۔۔۔۔۔۔۔؟ شکریہ تو مجھ کو کرنا چاہیئے کہ تم نے میری بے رنگ زندگی میں آکر رنگ بھر دیئے۔۔" مسز حسن نے اس کو کچھ اور اپنے قریب کرلیا۔۔
" مگر مما ! " ضحٰی نے ان کے سینے میں اپنا منہ چھپائے پوچھا ۔۔" یہ لوگ تو اپنی سگی بیٹیوں کو مار دیتے ہیں۔۔ مم۔۔۔۔۔۔ میں تو پھر آپ کی۔۔۔۔۔۔۔"
" بس آگے کچھ مت کہنا۔۔۔" انہوں نے ضحٰٰی کو چپ کرایا۔۔" میں نے تم کو یہ سب اس لیے نہیں بتایا تھا کہ تم میرا اپنا خون نہیں ہو بلکہ اس لیے بتایا تھا کہ دینا کو فیس کرنا سیکھ' یہاں لوگ بہت کچھ کہتے ہیں' مگر صرف کہتے ہیں عمل صفر ہیں سب کے۔۔ اس دنیا سے اپنا حق لو جو کہ تم کو تمہارے رب نے عطا کیا ہے'" جینے کا حق" ۔۔۔۔۔۔۔"
" کیا انہوں نے ایک بار بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ صرف سوچ کر رہ گئی۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
1مارچ 1992ء
سوچا تھا اور بہت سوچ کر وہ اس فیصلے پر پہنچی تھیں کہ ان کو یہ اولاد نہیں چاہیئے۔ ان کو لڑکی نہیں چاہیئے۔۔۔۔۔۔ پہلے ہی دو دو بیٹیاں تھیں ان کی نظریں نیچی کرنے کو۔۔۔ مسٹر شاہ نے بھی الٹی میٹم دے دیا تھا۔۔ لاکھ وہ ان کو پسند ہوں مگر ان کو بیٹا چاہیئے ان کا حسب و نسب چلانے والا۔۔۔
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ ہوئی تو' تو انہوں نے اس کو بڑے آرام سے نرس کے حوالے کر دیا تھا۔۔" لے جاؤ اس کو۔۔۔ یہاں سے ۔۔۔۔ مجھ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔"
لندن سے واپسی پر ان کے پاس جو رپورٹیں تھیں ان سے یہ صاف پتا چلتا تھا کہ اس بار بھی آنے والی ہوگی ۔۔ اور انہوں نے قدرت کا یہ فیصلہ بدلنے کی ٹھان لی۔۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
مگر قدرت نے کچھ اور ٹھان لی تھی۔۔۔ روحہ حسن کی سونی گود بھرنے کی ۔۔ بس وہ پیدا کسی اور کے گھر ہوئی مگر رونق بخشنے ان کی زندگی میں چلی آئی۔۔
لوگوں نے بہت کہا کیا کررہی ہو اپنی عمر دیکھو ۔۔۔۔ 50 سے اوپر کی ہوگئی ہو اب کیا بچہ پالو گی۔۔ بہت جھنجھٹ ہوتے ہیں۔۔۔ مگر جواب میں انہوں نے بس ایک دھیمی سی مسکراہٹ سے نوازا تھا۔۔
شادی کے 22 سال گزرنے پر بھی وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھیں۔۔ سارے جتن کرنے پر بھی وہ ناکام تھیں تو اللہ کو رحم آگیا۔۔
ایک دن ان کے بہنوئی کا فون آیا کہ " آپا! کوئی چند دن کی بچی کو میرے پاس یہاں چھوڑ گیا ہے۔۔" وہ محکمہ پولیس میں تھے اور باوجود پولیس والوں کے سارے وصف رکھنے کے ان کا دلاس معصوم بچی کے لیےپسیج گیا تھا۔ جس کا حال کچھ یوں تھا کہ جیسے کچھ دیر کی مہمان ہو۔۔
ان کی گومگوں کی کیفیت دیکھ کر انہوں نے واپس کہا:" اگر آپ نہیں کچھ کرسکتیں تو ٹھیک ہے میں لے جاتا ہوں اس کو گھر۔۔ ایسے تو نہیں چھوڑا جاسکتا تھا نا اس غریب کو۔۔"
اور پورے سات دن لگے ان کو حسن کو منانے میں۔۔۔ ان کا کہنا بھی صحیح تھا ۔" جانے کس کی بچی ہو۔۔۔ ؟ زندہ بچے نہ بچے۔۔۔۔۔؟ جانے کس کا خون ہو۔۔۔؟ کل کو کیا رنگ لائے۔۔ نہیں بھائی میں نہیں لے سکتا اس کی ذمے داری۔۔۔ "
ان سب مشکلات کے ساتھ ضحٰی کی پرورش کا آغاز ہوا۔۔
اور اب تو وہ 17 سال کی تھی ۔۔ ایک انتہائی ایکٹو ۔۔۔۔مگر حساس اور سمجھدارلڑکی۔ مسز حسن نے اس سے پہلے کہ وقت اس کو بتاتا کہ وہ ان کی اولاد نہیں ۔۔۔۔۔ انہوں نے دل پر جبر کر کے خود بتا دیا تھا کہ وہ اس کو بس پالنے کی ذمےوار ہیں۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
" میرا بیٹا !" انہوں نے اپنے بیٹے پر ایک فخریہ نظر ڈالی صرف 14 سال کا ہے اور کیسا ایکٹو ہے۔۔۔" جان ذرا احتیاط سے ! بہت تیز ڈرائیو کرتے ہو بیٹا۔۔۔۔"
" اوہ ماما! ناٹ اگین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " یہ کہتا ہوا وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا۔۔ یہی عمر تھی تھرل کی ' انجوائے منٹ کی۔۔۔ اور اس میں روک ٹوک بہت بری لگتی ہے۔۔
بیٹیاں تو انہوں نے جلد ہی بیاہ دی تھیں۔۔۔ شاہ بھی خوش تھے ان سے۔۔۔ اب بس ان کی نظروں کا مرکز صرف اور صرف ان کا بیٹا تھا۔۔
" کتنی دیر لگائی تم نے آنے میں بیٹا۔۔۔۔۔۔ اگر تم پہلے آجاتے تو یہ دونوں لڑکیاں بھی نہیں آتیں ۔۔۔۔" ایک تنفر سے انہوں نے اپنے ہونٹ سیکڑے۔۔ وہ تیسری کو بھول گئیں تھیں۔۔۔
اس تیسری کے وقت شاہ صاحب میں ملک میں نہیں تھے اس لیے ان کو مطمئن کرنا آسان رہا۔۔۔ جواب ان کے حسب منشاء تھا ۔۔ وہ ان وانٹڈ تھی اچھا ہوا کہ واپس چلی گئی۔ یہ تھے شاہ صاحب کے تاثرات۔۔
٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
19 نومبر 2009ء
ڈبلیو ڈبلیو ایس ایف کا سیمیناردہلی میں جاری تھا۔ اس بار کا ایجنڈا تھا۔۔ Female Foeticide لڑکیوں کی پیدائش سے پہلے یا بعد از پیدائش قتل۔۔۔۔
کئی ممالک کے مندوبین بھی موجود تھے' پاکستان کی نمائندگی کر رہی تھیں مسز شاہ۔۔۔یکے بعد دیگرے مندوبین اپنے اپنے ملک کا حال بتا رہے تھے۔۔
چائنا سے شامل ہوئی لی آن کی تقریر جاری تھی۔۔
" ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں لڑکیوں کو جینے کا حق دیا جائے۔۔۔ گورنمنٹ کی سخت پالیسیز کی وجہ سے والدین جینڈر کانشس ہو چکے ہیں ۔۔ ہم ان میں یہ شعور پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ لڑکی بھی ان ہی کا حصّہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

" لی آن" کی تقریر جاری تھی۔۔۔۔ مسز شاہ سخت بوریت محسوس کر رہی تھیں۔۔ ان کے ساتھ بیٹھی پاکستان سے ہی تعلق رکھنے والی ایک مندوب بولیں۔۔" اب ایک بچہ ہو اور وہ بھی لڑکی تو ہمارا کیا ہوگا۔۔۔۔؟ کچھ ایسے ہی خیالات مسز شاہ کے بھی تھے۔۔۔
" ویسے مسز شاہ ڈریسنگ تو آپ پر ختم ہے۔۔ اور کیا جیولری ہے ایک بار آگئیں کیمرہ کے سامنے تو سب بس آپ کو ہی دیکھیں گے"
مسز شاہ ان چاپلوس خاتون کے تبصرہ پر سر ہلا کر رہ گئیں۔۔

یہ سیمنار ٹی وی سے لائیو دکھایا جا رہا تھا۔۔۔ ضحٰی بھی غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ دہلی اٹھ کر اس کے کمرے میں آگیا تھا۔۔
انڈیا سے بملا پاریکھ کی شرکت تھی۔۔ وہ اعداد و شمار بتا رہی تھیں۔۔" سینس آف انڈیا 2001 کے مطابق ہر 1000 لڑکوں پر لڑکیوں کی تعداد 933 ہے۔۔۔ اور دھیرے دھیرے یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔۔ آج 2009 میں بھی اس میں کوئی قابل قدر کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے کچھ علاقوں میں تو یہ ریشیو بڑھ کر ایک ہزار لڑکے پر 591 لڑکیوں کا ہے۔۔
جو پیدا ہوجاتی ہیں ان کو ان کی مائیں دودھ نہیں پلاتیں۔۔۔۔۔ موتی چور کے لڈو اس وقت تک ان ننھی جانوں کے حلق میں اس وقت تک ٹھونس ٹھونس کر بھرے جاتے ہیں کہ ان کا دم نکل جائے۔۔ وہ آنکھ جس نے ابھی کوئی خواب نہیں بنا ہوتا' وہ ذہن جو شاید بڑا ہوتا تو اس کا مقام بھی اندرا گاندھی جیسا ہوتا' وہ شاید پی ٹی اوشا ہوتی' ثانیہ مرزا ہوتی یا یا پھر ایشوریہ رائے ' اس کو جینے سے پہلے ختم کردیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔"

یہ سن کر ضحٰی کی ہچکیاں بن گئیں۔۔ وہ ویسے بھی اس معاملے کو لے کر حساس تھی۔۔ مگر ساری دنیا میں صورتحال اتنی بدتر تھی وہ نہیں جانتی تھی۔۔
کیمرہ مندوبین پر فوکس تھا۔ سب دمبخود بیٹھے تھے۔۔بملا کے الفاظ نے سب کا دھیان اپنی طرف کر لیا تھا۔ ان میں مسز شاہ بھی شامل تھیں۔۔ کیمرہ ان پر فوکس تھا وہ کچھ کانشس بھی تھیں۔۔ کہ سب لوگ ان کو دیکھ رہے ہوں گے۔۔
ان کو دیکھنے والوں میں وہ بھی تھی جو ان کے جسم کا ٹکڑا تو تھی مگر زندگی کا حصّہ کبھی نہیں رہی تھی۔۔ وہ دونوں آمنے سامنے تھیں مگر ایک دوسرے سے انجان' کہنے کو ایک ہی کمرے میں موجود مگر مابین فاصلہ ہزاروں میل دور کا تھا۔۔
مگر کہاں۔۔۔ وہ کہاں تھیں اس کے سامنے' اس کی نظر تو دھندلی ہوگئی تھی اس غبار تلے جو سینکڑوں لڑکیوں کے مدفن سے اٹھی تھی۔۔۔ اس کی نظر کی حفاظت کی گئی تاکہ وہ اس عورت کو نہ پہچان سکے جو اس کی اس دنیا میں آمد کا سبب تھی اور یہ کوئی اتنا مشکل نہیں تھا وہ دونوں ایکدوسرے کی کاربن کاپی تھیں۔۔ اس کو بالکل بھی دقت نہیں ہوتی اپنا مسز شاہ سے تعلق پہچان لینے میں۔۔ شاید یہ قدرت کی مہربانی تھی جو روز اوّل سے ہی اس پر مہربان تھی' جس نے اس کے لیے ایک بہترین ماں کا انتخاب کیا تھا۔۔ ضحٰی نے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔ ٹی وی کی طرف دیکھا۔۔۔ اور لوڈشیڈنگ نے اس کو اس صورتحال سے بچالیا۔۔ جو اس کو یہ جاننے سے پتا چلتی کہ وہ کس کی اولاد ہے۔۔
ایک بار پھر اس پر مہربانی کی گئی تھی۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
اور مہربانی تو ان پر بھی کی گئی تھی اپنی رحمتوں سے نواز کر' مگر انہوں نے اپنی تقدیر خود لکھنا پسند کی تھی۔
اور ان کے لکھے پر مہر ثبت ہوگئی۔۔ جیسے لکھی گئی ویسے مان لی گئی۔۔
دہلی سے واپسی پر جب وہ اپنی شاندار کارکردگی کی سب پر داد پا رہی تھیں۔۔ ان کی تقریر سن کر لوگ بملا پاریکھ کو بھول گئے تھے۔۔ ہچکیاں بن گئیں تھیں اور وہ نفاست سے اپنی آنکھیں صاف کرتی گئیں۔۔۔
کافی پیسے دیئے تھے انہوں نے اس تقریر کو لکھنے کے۔۔ انہوں نے جو چاہا وہ خرید لیا تھا پیسہ اتنی بڑی ہی طاقت تھا ان کے لیے۔ بیٹا خریدا۔۔۔ بیٹی سے نجات لی۔۔۔ آج وہ بہت خوش تھیں۔۔ بے تحاشا۔۔ اور اپنی عقلمندی کو داد دے رہی تھیں۔۔ کہ کیسے انہوں نے سب اپنے بس میں کر لیا۔۔ تقدیر کو بھی اور میاں کو بھی۔۔
" سب کچھ پاسیبل ہے اس دنیا میں سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔ بس دماغ مسز شاہ کا ہونا چاہیئے۔۔"
وہ ہنسیں اور اس کی کھنک ہواؤں کے ساتھ اڑی تھی۔ اسی وقت ان کا 14 سالہ بیٹا اپنی لینڈ کروزر میں بیٹھا تھا۔۔۔
٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
اگلے دن کے اخبار میں دوسرے صفحے پر ایک چھوٹی سی خبر تھی۔
" مشہور بزنس مین اور سماجی شخصیت مسٹر اینڈ مسز شاہ کے 14 سالہ صاحبزادے ایک ایکسیڈنٹ میں جاںبحق۔۔
نیوز ڈیسک (کراچی) کے مطابق مشہور بزنس مین مسٹر شاہ اور مشہور سماجی شخصیت مسز شاہ کے چودہ سالہ صاحبزادے اپنی تیز رفتار لینڈ کروزر کو قابو میں نہ رکھ سکے اور سامنے سے آتے ایک رکشہ کو بچانے کی خاطرانہوں نے 130 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی گاڑی کو کٹ کرنے کی کوشش کی۔۔ جس کہ وجہ سے ان کا اسٹئرنگ پر کنٹرول ختم ہوگیا۔۔ متوفی عامر شاہ موقع پر ہی ہلاک اوران کے چاروں دوست شدید زخمی حالت میں ہاسپٹل میں ہیں۔۔
ضحٰی نے یہ پڑھ کر شدید تاسّف محسوس کیا۔۔" یہ اتنے کم عمر لڑکوں کو آخر گاڑیاں دے کیوں دیتے ہیں۔ جن کو سب کچھ تھرل ہی لگتا ہے۔۔ یہ نہیں سوچتے کہ بعد میں والدین کا کیا ہوگا۔۔" یہ سوچ کر اس نے اخبار ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔
وقت کی دھول اڑی اور خبر پرانی ہوگئی۔۔۔۔