10 - طویل ناول: وقت کی پکار از وش (پہلی قسط)۔

"تمھیں کیا لگتا ہے شیری میں نے اتنی محنت صرف اس لیے کی ہے کہ میں آخر میں صرف ایک ہاؤس وائف بن کر رہ جاؤں؟" ماریہ نے بغاوت کے سے انداز میں اپنی دوست شہرینہ کے ساتھ لائف میں اپنے پلانز واضح کرتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔
"لیکن ماریہ اور تم کیا کرو گی؟ تمھارے والدین تو دن گن رہے ہیں کہ کب تمھارے امتحان ختم ہوں اور وہ تمھارے فرض سے سبکدوش ہوں۔ اُن سے کیا کہو گی؟ اور آج تک کیوں نہیں بتایا اُنہیں اپنے ارادوں کا؟" شیری نے اُسے سمجھانے کے سے انداز میں کہا۔
"دیکھو شیری، ہر کام اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے۔ میں کیوں وقت سے پہلے اُنہیں ایسی کوئی بات بتا کر گھر میں ایک ٹینشن سی پھیلا دیتی۔ اس کا اثر میرے امتحانوں پر بھی پڑتا جو مجھے منظور نہ تھا۔" ماریہ اپنے مؤقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھی۔
"دیکھ لو ماریہ، زندگی کے فیصلے یوں اکیلے نہیں ہوتے۔ کیونکہ ہم یہ زندگی بھی تنہا نہ پاتے ہیں نہ گُزارتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ اس زندگی سے وابستہ ہوتے ہیں۔ جو بھی فیصلہ کرو، بس ایک بار خود سے منسوب اُن تمام لوگوں کے بارے میں بھی سوچ لینا۔"
"تو کیا ایک انسان کی زندگی میں اُس کے والدین، شوہر اور بچے ہی اُس سے منسوب ہوتے ہیں؟ کیا یہی میرا محور ہے اور اس سے ہٹ کر سوچا خُود غرضی ہے۔ غلط ہے؟"
"ارے نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ لیکن اسد بھائی کا کیا؟ وہ تو تم سے مُحبت کرتے ہیں اور وہ بھی اسی انتظار میں ہیں کہ کب تم یہاں سے فارغ ہوں اور وہ تمھیں اپنی منگیتر سے بیوی بنائیں۔"
"اگر وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں شیری تو وہ مجھے سمجھیں گے اور میری ہمت، میری سپورٹ بنیں گے۔"
"اور اگر ایسا نہ ہوا تو؟"
"لیکن ایسا کیوں نہ ہو گا؟ جب ابھی تک اُن کو میری کسی بات کسی کام سے اختلاف نہیں ہوا تو آگے کیوں ہو گا؟"
"ماریہ ہمیشہ سب ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم سوچتے ہیں۔ میری دُعا ہے تمھارے ساتھ سب ویسا ہو جیسا تم سوچتی ہو۔"
"تھینکس شیری۔ انہی بیسٹ وشز کی ضرورت تھی صرف مجھے۔ چلو اب گھر چلیں۔ یہ نہ ہو گھر والے مسجد میں اعلان کروا دیں۔"
"ہاں ہاں چلو۔ فُون پہ تو رابطہ رہے گا ہی۔ ان شاء اللہ چکر بھی لگتا رہے گا۔"
"ہاں ضرور کیوں نہیں۔ اپنا خیال رکھنا۔ اور دھیان سے جانا۔ اللہ حافظ۔"

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ماریہ اور شہرینہ کالج کے زمانے سے ہی ایک دوسرے کی اچھی دوست تھیں۔ اپنی پڑھائی کو لے کر دونوں ہی بہت سنجیدہ تھیں لیکن کیریئر کے معاملے میں کبھی تفصیلی بات نہ ہوئی تھی۔ شہرینہ کا تو ایسا کوئی ارداہ بھی نہ تھا کہ وہ کوئی کیریر بنائے۔ بے شک وہ ایک امیر گھرنے سے تعلق رکھتی تھی لیکن وہاں لڑکیوں کو صرف پڑھنے تک کی اجازت تھی کام کرنے کی نہیں۔ شہرینہ کو کبھی ان روایات کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوئی تھی۔ البتہ ماریہ کبھی کبھی اُس سے اس موضوع پر شدید اختلاف کرتی۔ لیکن یہ شہرینہ کی طبیعت کا ٹھہراو تھا کہ وہ کبھی ماریہ کی جذباتی تقریروں میں نہ بہی۔
ماریہ کا تعلق ایک اپر کلاس مڈل فیملی سے تھا۔ اُس کے والد، ریٹائر برگیڈیئر اقبال حیدر نے گرتی ہوئی صحت کے باعث وقت سے پہلے ہی آرمی سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اب چھوٹا سا اپنا ذاتی کاروبار کر کے ایک پُرسکون زندگی گُزار رہے ہیں۔ اقبال صاحب کی فیملی میں اُن کی اہلیہ شاہدہ اور دو بیٹیاں ماریہ اور فاریہ تھیں۔ ماریہ پنجاب یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رہی تھی جبکہ فاریہ ابھی ایف ایس سی کی اسٹوڈنٹ تھی۔ مزاج دونوں کا ہی یکسر مختلف تھا۔ فاریہ اگر خاموش طبع، صلح جو اور مان لینے والی لڑکی تھی وہاں ہی ماریہ ہمیشہ اپنے سوچ اور ارداوں پر چلتی۔ کوئی فیصلہ کر لینا اور اُس پر ڈٹے رہنا اُس کی زندگی کے اُصولوں میں سے ایک تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ وہ فیصلے کم ہی لیا کرتی تھی۔ لیکن جب لے لیتی تھی تو اُس سے ہٹنا اُس کے بس کی بات نہ تھی۔ اِن سب میں اگر کچھ مُشترک تھا تو وہ تھا اپنے وطن سے محبت، جو شاید اُن اقبال صاحب کے آرمی بیک گراؤنڈ سے ملی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یونیورسٹی کا آخری دن بیک وقت خوشی اور اُداسی کے رنگوں میں رنگ دیتا ہے۔ خُُوشی ہوتی ہے اپنا مقصد حاصل کر لینے کی، اِس زندگی میں آگے بڑھ پانے کے احساس کی۔ اور دُکھ ہوتا ہے اپنی اسٹوڈنٹ لائف جس میں آپ بچپن سے اب تک رہیں ہوں کو الوداع کہنے کا، اپنے دوستوں سے بچھڑ جانے کا اور کتابی دُنیا سے نکل کر حقیقت کی دُنیا میں آ بسنے کا۔ ماری بھی انہی ملے جُلے جذبات سے دوچار تھی جب وہ گھر میں داخل ہوئی۔
"السلام علیکم! کہاں ہیں سب؟" ماریہ نے گھر میں داخل ہوتے ہی کمپیوٹر پر بیٹھی فاریہ سے پوچھا۔
"بابا تو کام پہ ہیں، ماما فرخندہ آنٹی کی طرف گئی ہیں۔ ۔ آپ کا کھانا تیار ہے۔ نکال دوں؟"
"نہیں، ابھی موڈ نہیں ہے۔" اُس نے لاؤنج میں پڑے صوفے پر گرتے ہوئے کہا۔
"کیسا رہا آپ کا لاسٹ ایگزام اور لاسٹ دن یونی میں؟"
"ہمم۔۔ ایگزام تو اچھا ہو گیا۔ اور دن بھی عام دنوں جیسا ہی رہا۔ بس چھوڑ دینے اور جُدا ہو جانے کا ایک عجیب سا احساس ہو رہا ہے۔ میں اپنی ہی کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہی ہوں۔ چلو تم اپنا کام کرو میں اب تھوڑا سوؤں گی۔" یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے اُٹھ ہی رہی تھی کہ فاریہ نے کچھ یاد آنے پر بولی
"آپی وہ اسد بھائی فون کر چُکے ہیں دو بار۔ کہہ رہے تھے کہ جب آپ آئیں تو اُنھیں فون کر لیں۔"
"اچھا۔۔ اس وقت تو اُن کا لنچ ٹائم ہو گا۔ شام کو ہی کر لوں گی۔ ابھی تو سخت نیند آ رہی ہے۔" یہ کہتے وہ کمرے میں چلی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسد ماریہ کا خالہ زاد کزن تھا۔ شروع ہی سے وہ ماریہ میں دلچسپی رکھتا تھا اور کئی بار کوشش بھی کی تھی کہ وہ ماریہ کے قریب ہو سکے۔ لیکن ماریہ ہمیشہ کسی ایسے تعلق سے اجتناب ہی کرتی۔ جب اسد خود سے ناکام رہا تو اُس نے اپنے والدین کو اپنی پسند بتا دی جس کو سب نے بخوشی قبول کر لیا۔ ماریہ نے فیصلہ اپنے والدین پر چھوڑ دیا تھا اور اُنہوں نے بغیر کسی اعتراض کے اسد کا رشتہ قبول کر لیا۔ اسد ماریہ سے چال سال بڑا تھا۔ پڑھائی میں شروع سے ہی اچھا تھا اور اس لیے ایک اچھا کیریئر بنانے میں کامیاب رہا۔ اب اُس کا شمار کمپنی کے بہترین اکاؤنٹنٹس میں ہوتا تھا جس پر کمپنی اعتبار کر سکتی تھی۔ وہ مجموعی طور پر ایک اچھے کردار اور طبیعت کا مالک تھا۔ بی اے کرنے کے بعد ماریہ اور اسد کی منگنی کر دی گئی تھی لیکن اس کے لیے ماریہ کہ ایک شرط تھی کہ اسے آگے پڑھنے کی اجازت ہو جو اُسے اسد اور اس کے گھر والوں کی طرف سے بخوشی مل گئی تھی۔ اسد ماری کے لیے وہ سب کرتا تو جو وہ چاہتی تھی کیونکہ وہ اُس سے محبت کرتا تھا۔ البتہ ماریہ کا دل اُسے ایک منگیتر سے زیادہ کا درجہ نہیں دے پا رہا تھا۔ کبھی کبھی اسد اُس سے شکوہ کرتا کہ ماریہ اُس سے ویسی محبت نہیں کرتی جیسی محبت وہ اُس سے کرتا ہے اور جواب میں ماریہ ہمیشہ سوچ میں پڑ جایا کرتی تھی کہ آخر وہ کس طرح اُس سے محبت کرے۔ اور یونہی اُن کی منگنی کو دو سال گُزر گئے۔ نہ ماریہ کو اسد سے محبت کرنی آئی نہ اسد کو اُس کے دل میں اُترنا آیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کو کھانے کی میز پر ساری فیملی اکٹھے بیٹھے معمول کے مطابق کھانے کے ساتھ ساتھ اپنی روزمرہ کی باتیں ڈسکس کر رہے تھے۔
"اور پھر ماریہ بیٹے اب کیا ارادے ہیں آگے کے؟" بابا جو ہمیشہ سے اُسکے کیریئر کے لیے فکر کرتے اور مشورے دیتے تھے آج بھی وہی پوچھ رہے تھے۔ لیکن ماریہ سے پہلے ہی شاہدہ بیگم بول پڑیں۔
"اب اور کیا کرنا ہے۔ ایم اے ہو تو گیا۔ اتنا ہی وقت مانگا تھا اس کے سُسرال والوں سے۔ وہ منتظر ہیں کہ کب ہم اُنھیں شادی کی تاریخ دیں۔"
"لیکن ماما، میں ابھی کچھ عرصہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میرے کچھ پلانز ہیں جن پر مجھے کام کرنا ہے۔ اور اس بیچ میں شادی کو وقت نہیں دے سکتی۔"
"لیکن ایسی کوئی بات اس سے پہلے تو نہیں ہوئی تھی۔"
"اس سے پہلے اس بات کا وقت نہیں آیا تھا ماما۔" اس سے پہلے شاہدہ بیگم اور کچھ بولتیں اقبال صاحب نے مُداخلت کی۔
"بیگم پہلے دیکھ تو لیں کہ بچی کیا کہنا اور کیا کرنا چاہتی ہے۔"
"میں سُن چُکی ہوں اس کی اور فاریہ کی گُفتگو اس بارے میں کہ یہ کیا کرنا چاتی ہے۔ جس کی اجازت اسے میں تو نہیں دے سکتی۔ اور اگر آپ کو یاد ہو تو بچوں کی پرورش اور اُن کے فیصلوں کا اختیار آپ مجھے دے چُکے ہیں۔ اب میرا فیصلہ یہ ہے کہ اس کی شادی ہو جانی چاہیئے۔" شاہدہ بیگم اپنا فیصلہ سُنا کر کھانا کی میز سے اُٹھ گئیں۔ وہاں بیٹھے ہوئے باقی لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھتے رہ گئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭