11 - زمانہ بدل گیا پیارے از رضوان

"صبح صبح تمھارا منہ کیوں اترا ہوا ہے؟"
"وہ آج پھر مجھے دھمکی دے کر گئی ہے۔"
کون؟
یار وہی بوبی بٹ وہ بولتی ہے اگر میں نے اپنے ماں باپ کو اس کے گھر رشتے کے لئے نہ بھیجا تو وہ مجھے گھر سے اٹھا کر لے جائے گی اور مجھ سے زبردستی نکاح کر لے گی۔
وہ کل میرے گھر آئی تھی اور امی ابو کے سامنے میرا نام لینے کی بجائے مجھے جان من بولتی رہی ہے اور جب میں نے غصہ کیا تو وہ پستول لہراتی ہوئی دھمکی دے کر گئی اور افف، اس کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر تو میرے چھکے ہی چھوٹ گئے۔
"مجھے بچاؤ اس دہشت گرد لڑکی سے میں بہت پریشان ہوں"
ہمم اب کیا کریں معاملہ تو کافی سیرئس ہو گیا ہے۔
مجھے کیا پتا تھا کہ جس سے میری انٹرنیٹ پر دوستی ہوئی وہ اس طرح کی بھائی ٹائپ لڑکی ہو گی۔ کاش میں اس سے ملاقات نہ کرتا، کاش میں اس کو اپنا فون نمبر نہ دیتا اپنے گھر کا ایڈریس نہ دیتا۔
اب وہ بولتی ہے کہ سارے وعدے جو نیٹ پر کئے تھے وہ پیار اور محبت کی جو باتیں کی تھیں ان سب کو پورا کرو ورنہ پھر جنہم میں جانے کی تیاری کرو۔
پلیز اس سے بچالو، میں نےتو ابھی دنیا میں کچھ دیکھا بھی نہیں مجھے کیا پتا تھا کہ جس کی باتوں سے معصومیت جھلکتی تھی وہ حقیقت میں وحشت گرد/ دہشت گرد ہے۔
اب میں کِدھر جاؤں آج تو ڈر کے میں یونیورسٹی بھی نہیں گیا کہیں وہ مجھے کلاس روم سے نہ اٹھا کر لے جائے۔
اس نے 10، 12 غنڈیاں پالی ہوئی ہیں بڑے بڑے منہ والی۔ جن کو دیکھ کر تو بچے ویسے ہی ڈر جاتے ہیں۔ اگر اس نے مجھے اغوا کر کے ان کے سامنے ڈال دیا تو وہ تو "پانچ منٹ" میں میرا قیمہ کر دیں گی۔ کس مصبیت میں پھنس گیا ہوں۔ کدھر جاؤں کوئی راہ نظر نہیں آرہی۔
"ویسے بے وقوف آدمی ایک بات بتاؤ کہ تم کو کس نے بولا تھا کہ انٹرنیٹ پر یاریاں پالو؟ اب بھگتو۔"
وہ وہ وہ ۔ ۔ ۔ غلطی ہو گئی مجھے کیا پتا تھا کہ اتنی پیاری اور معصوم باتیں کرنے والی حقیقت میں پھولن دیوی کی ماں ہوگی۔
"اچھا اب رونا بند کرو میں بات کرتا ہوں اس سے، کیا نام بتایا تھا ہاں بوبی بٹ اس کا فون نمبر کیا ہے؟"
وہ مجھے یہ موبائل دے کرگئی ہے بولتی ہے صرف مجھ سے بات کرنے کے لئے ہے۔
ہمم اچھا میں کرتا ہوں اس سے بات۔
"ہیلو بوبی باجی " السلام علکیم
کون وے بوبی باجی کے کچھ لگتے کون بول رہا ہے۔
"وہ میں عامر کا دوست بول رہا ہوں"
کون عامر، او اچھا "جان من" کے دوست مگر تم نے کیوں فون کیا مجھے؟
جان من تو ٹھیک ہے؟
کہیں اس کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ بولو پلیز میرا جان من ٹھیک تو ہے؟
"جی بوبی باجی وہ بالکل ٹھیک ہے "
تو پھر فون کیوں کیا ؟ اگر کوئی پیغام لے کر آئے ہو تو اس کو جان سے مار دوں گی۔ کیا وہ خود فون نہیں کر سکتا تھا؟
"نہیں بوبی باجی دراصل"
کیا بوبی باجی بوبی باجی لگایا ہوا ہے ۔ جان من تمھارا دوست ہے نا تو اس رشتے سے تم مجھ کو "بوبی بھابی" بولو۔ ویسے بھی کچھ دن تک تو میری اور اس کی شادی ہونے والی ہے۔
وہ دراصل بوبی باجی او سوری بوبی بھابی میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں عامر کے سلسے میں اگر آپ کے پاس ٹائم ہو تو اس اتوار کو آپ کے ڈیرے پر آجاؤں؟
ٹائم تو نہیں ہے مگر تم جان من کی کوئی بات کرنا چاہتے ہو اس لئے تم کو کہیں آنے کی ضرورت نہیں مجھے اپنا پتہ بتاؤ میں خود آ جاؤں گی۔
"نہیں نہیں بوبی بھابی آپ زحمت نہ کریں مجھے موقعہ دیں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا۔"
ہمم اچھا اتوار کو مجھے فون کرنا میں گاڑی بھیج دوں گی۔ اور کیا جان من تمھارے پاس ہے ابھی؟
نہیں نہیں میرے ساتھ نہیں ہے شاید اپنے گھر ہوگا۔
"اچھا اور کچھ؟"
نہیں باقی باتیں آپ سے ملاقات میں کروں گا۔ خداحافظ
"خداحافظ"
افف یار عامر بہت غصے والی ہے یہ بوبی بٹ تو، اگر تو یہ سچ میں میری بھابی بن گئی تو پھر تیرا کیا حال کرے گی یہ تو بس اللہ ہی جانتا ہے۔
"اللہ نہ کرے ایسا ہو، کبھی تو کچھ اچھا منہ سے نکالا کرو عامر نے غصے میں جواب دیا۔"

x………………………………….x

عامر اور بوبی بٹ کی دوستی کو سال ہو چلا تھا، دونوں کی ملاقات ایک چیٹ روم میں ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ یہ ایک دوستی میں تبدیل ہو گئی۔
دونوں گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے اور ان کو وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوتا۔

عامر کو بوبی کی باتوں سے ایسا لگتا جیسے یہ وہی لڑکی ہے جس کو وہ ڈھونڈ رہا ہے۔ اس کی سوچ، اس کی باتوں میں جھلکتی معصومیت سے ایسا لگتا جیسے اس نے دنیا میں کچھ دیکھا ہی نہیں اور اس کو دنیا کی چالاکیوں کا کچھ پتہ ہی نہیں۔
ادھر بوبی کو بھی عامر کی باتوں میں اپنا پن لگا اور اس نے بھی عامر کے متعلق ایسا ہی سوچنا شروع کر دیا۔
اس نے عامر سے اپنے بارے میں ہر بات بتائی مگر اس بات کے علاوہ کہ اس کا باپ علاقے کا نامی گرامی بدمعاش ہے۔ اور کوئی بھائی نہ ہونے کے ناطے بوبی کی پرورش لڑکوں جیسی ہوئی تھی۔ اور علاقے کے سب لوگ جانتے تھے کہ بوبی بڑی ہو کر اگر اس کے باپ کو کچھ ہو گیا تو وہ اپنے باپ کی سیٹ پر بیٹھے گی اور وہی پیشہ یعنی بھائی گیری اختیار کرے گی۔
دونوں میں دوستی بڑھتی بڑھتی محبت کا رخ اختیار کر گئی اور پھر دونوں نے ساتھ جینے اور مرنے کے وعدے کئے۔ جب ان کی محبت شدید نوعیت اختیار کرگئی تو اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں اور جانتے تاکہ آنے والی زندگی کو اچھے طریقے سے نبھا سکیں۔
اور بالآخر بوبی بٹ نے عامر کو بتا ہی دیا کہ اس کا باپ پیشہ ور بدمعاش ہے اور بھائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی آگے جا کر اسی پیشے سے منسلک ہو جائے گی۔
بس یہ سننا تھا کہ عامر کے حواس گم ہو گئے، وہ جس کو اپنے سپنوں کی شہزادی سمجھ رہا تھا وہ تو اس کے برعکس ڈرانے والی چڑیل نکلی۔
اسکے خاندان میں تو کہیں دور دور تک کوئی بدمعاش نہیں گزرا تھا اب اگر وہ کسی ایسے خاندان میں شادی کرتا تو پورے خاندان میں بدنامی ہو جاتی اس لئے اس نے فورا ہی بوبی بٹ کو شادی سے انکار کر دیا۔
بوبی بٹ نے عامر کی بہت منتیں کی، بہت سمجھایا کہ وہ نہ تو اپنے باپ کے پیشے کو چھوڑ سکتی ہے اور نہ ہی وہ اس کو چھوڑ سکتی ہے۔ اس نے بہت سمجھایا کہ کبھی یہ پیشہ ہماری محبت میں حائل نہیں ہو گا۔ مگر عامر نہ مانا۔
اور پھر آخری حربے کے طور پر بوبی بٹ نے اپنا پیار حاصل کرنے کے لئے وہی خاندانی طریقہ یعنی "غنڈہ گردی اور بھائی گیری " اپنانے کا فیصلہ کیا۔
اور کل عامر کے گھر جانا بھی اسی فیصلے کی ایک کڑی تھی۔ اور وہ ہر حالت میں عامر کو اپنانا چاہتی تھی۔ چاہے اس کو زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑتی۔

x………………………………….x

آخر اتوار کا دن آیا، عامر کے دوست نے بوبی بٹ کو فون کر کے وہ جگہ بتائی جہاں پر وہ کھڑا تھا، پھر چند لمحوں میں کالے شیشے والی کار اس کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی اور اندر سے کسی نے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر گاڑی بڑی تیز رفتاری سے سڑک پر دوڑنے لگی۔
عامر کے دوست نے احتیاطاً آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لی اور سارے رستے وہ دل ہی دل میں کچھ نہ کچھ پڑھتا جا رہا تھا۔
گاڑی ایک بڑی حویلی کے دروازے پر رکی اور پھر 4 پہلوان نما غنڈیاں جلدی سے آگے آئیں اور اس کو باہر نکال کر حویلی میں لے گئ۔
بڑی شاندار حویلی ہے وہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ پھر اس کو ہال میں ایک بڑی سمارٹ سی اور خوبصورت سی لڑکی نظر آئی اور وہی بوبی بٹ تھی۔ وہ دیکھ کر پریشان ہوگیا کہ اتنی پیاری بدمعاش۔
پھر وہ آہستہ سے بوبی بٹ کے پاس بیٹھ گیا۔ بوبی کی غنڈیوں نے اس کو پانی پلایا۔
پھر بوبی بٹ اس کو بولی"ہاں اب بتاؤ کیا بات کرنی ہے جان من کے سلسلے میں؟ "
وہ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ عامر کی پوری فیملی آج کل بہت پریشان ہے اس کی وجہ سے اور اگر آپ اس کو معاف فرما دیں تو آپ کی بہت مہربانی ہو گی۔ اگر اس سے انجانے میں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو میں اس کی طرف سے معافی مانگ لیتا ہوں۔
یہ سن کر بوبی بٹ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، خود پر کنٹرول کرتی ہوئی کچھ وقفے کے بعد بولی "اگر تم جان من کے دوست نہ ہوتے تو تمھاری لاش ہی حویلی سے جاتی۔"
جا کر کہہ دو جان من سے اگر اس نے مجھ سے فرار کا سوچا بھی تو میں اس کے ساتھ وہ کروں گی کہ زمانہ دیکھے گا۔ اور ساتھ ہی اس کے خاندان کو بتا دو اگر اس نے کسی اور لڑکی سے شادی کرنے کی کوشش کی تو نہ وہ لڑکی رہے گی اور نہ اس لڑکی کا خاندان۔
جان من میری ملکیت ہے کوئی اس کو مجھ سے چھین نہیں سکتا۔
"تم کو سمجھ لگ گئی یا کسی اور طریقے سے سمجھاؤں"
جی جی لگ گئی بڑی اچھی طرح سے عامر کے دوست نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔
تم جان من کو سمجھاؤ میرا باپ نہیں ہے ماں بھی نہیں ہے ابھی کسی کو تو یہ سب کچھ سنبھالنا ہے، میں اس کے لئے ویسی ہی بوبی ہوں جیسی پہلے تھی۔ جس سے وہ پیار کرتا تھا۔ اگر وہ پھر بھی نہ مانا تو مجھے گھی ٹیرھی انگلی کر کے بھی نکالنا آتا ہے۔
"اچھا چھوڑ ایک بات بتاؤ"
"جی کیا؟"
تم دونوں کو کوئی تنگ وغیرہ تو نہیں کرتا۔ میرا مطلب یونیورسٹی میں محلے میں یا کسی اور جگہ۔
نہیں نہیں بوبی باجی سوری میرا مطلب بوبی بھابی ہم تو بہت شریف لڑکے ہیں ہمیں کون تنگ کر سکتا ہے۔
اگر کرے تو مجھے بتانا ایک منٹ میں سیدھا کردوں گی۔
"ہمم اچھا چلو شاباش اب جاؤ " اور دھیان سے میرا پیغام جان من کو پیار سے پہنچا دینا۔
پھر عامر کے دوست نے بالکل جیسا بوبی بٹ نے بولا تھا ویسے ہی عامر اور اسکی فیملی کو بتا دیا۔ جس سے عامر اور اس کے گھر والوں کے چہروں پر خوف کی لہر دوڑ گئی۔ اور وہ اب کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے اس لئے بیچارے لب سی کر چپ چاپ اس آفت کا انتظار کرنے لگے جو چند دنوں میں ان کے سر پر پڑنے والی تھی۔

x………………………………….x

جب سے بوبی بٹ کے باپ کو اس کے دشمنوں نے قتل کیا تھا، سارے گینگ کی ذمہ داری اس پر ہی آ گئی تھی اور اتنے بڑے سیٹ اپ کو سنبھالنا کون سا آسان تھا اور ابھی تو اس نے اپنے باپ کے قاتلوں سے بدلہ بھی لینا تھا۔
اور اوپر سے اسے جان من کی فکر ہو رہی تھی۔ شاید وہ ہی اب اس کا اس دنیا میں تھا جس کو وہ اپنا بول سکتی تھی۔ ماں بچپن میں مرگئی باپ جوانی میں۔
دنیا کے لئے وہ چاہے جتنا مرضی بڑی غنڈی تھی مگر عامر جس کو وہ جان من بولتی تھی اس کے لئے تو ابھی بھی وہ معصوم سی بوبی تھی اور وہ اس کے ساتھ ہمیشہ رہنا چاہتی تھی۔

x………………………………….x

پپو بادشاہ آج تیرے لئے وہ خبر لایا ہوں کہ تو خوش ہو جائے گا۔ دیکھ اس کی تصویر کو،
"یہ سوہنا سا لڑکا کون ہے؟"
یہ لڑکا بوبی بٹ کی کمزوری ہے۔ اگر بوبی بٹ کو کمزور کرنا ہے تو اس کو اغوا کر لو پھر دیکھو کیسے میمنے کی طرح تمھارے پاس منتیں کرتی ہوئی آئے گی کہ اس کو چھوڑ دو۔
واہ واہ" شیدے کن ٹوٹے" کیا کمزوری ڈھونڈ کر لائے ہو بوبی بٹ کی اب میں دیکھتا ہوں وہ کیسے مجھ سے بچتی ہے۔
"اٹھا لو اس لڑکے کو اس کے گھر سے"
اور پھر عامر کو بوبی بٹ کے دشمنوں نے اغوا کر لیا۔ اس کے گھر والے سر پکڑ کر بیٹھے تھے سب کو یہی یقین تھا کہ عامر کو بوبی بٹ نے اغوا کیا ہے اور وہ اسی کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔

x………………………………….x

عامر کے دوست کو جب پتہ چلا کہ عامر کو بوبی بٹ نے اغوا کر لیا ہے تو اس نے بڑے غصے سے بوبی بٹ کو فون کیا اور بولا۔
میں تم کو اتنا برا نہیں سمجھتا تھا بوبی، تم نے آخر وہی حرکت کی جس کی تم نے دھمکی دی تھی۔ کیا مل گیا تم کو عامر کو اغوا کر کے۔ ایک طرف تم بولتی ہو تم اس سے بہت پیار کرتی ہو اور دوسری طرف تم نے اس کو اغوا کر لیا، یہ کیسا پیار ہے "بولو بوبی بٹ جواب دو تم نے کیوں عامر کو اغوا کروایا؟" یہ سن کر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا اور فون رکھ دیا گیا۔ اب تو عامر کے دوست کو یقین ہو گیا تھا کہ بوبی بٹ نے ہی عامر کو
اغوا کروایا ہے۔

x………………………………….x

یہ خبر سن کر کہ اس کا جان من اغوا ہو گیا ہے۔ بوبی بٹ کے جسم میں تو جیسے جان ہی نہ رہی اور وہ ایک دم سکتے میں آ گئی، پھر اچانک اونچی آواز میں اپنی سب غنڈیوں کا بلایا اور بولا جان من کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔ مجھے ایک گھنٹے کے اندر اندر اس شخص کا نام چاہئے جس نے میرے جان من کو اغوا کیا ہے۔
پھر بوبی بٹ کی سی آئی ڈی نے ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کو آ کر اطلاع دے دی کہ اس کو اغوا کرنے والا کوئی اور نہیں اس کا پرانا دشمن "پپو بادشاہ" ہے وہی جو اس کے باپ کا قاتل بھی تھا۔
پپو بادشاہ کا نام سن کر بوبی" زخمی شیرنی" کی طرح غرائی اور بولی پپو تم نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اچھا نہیں کیا! میں تمھیں نہیں چھوڑوں گی۔ پھر اس نے حکم دیا نکالو جیپیں آج یا پپو رہے گا یا بوبی رہے گی۔ اور پھر 20جیپوں سے بھری اور اسلحہ سے لیس غنڈیاں پپو بادشاہ کے ڈیرے کی طرف روانہ ہوئیں۔
پپو کے ڈیرے پر پہنچ کر بوبی نے جان کی پرواہ نہیں کی اور اندھا دھند ڈیرے میں گھسی جو نظر آتا گیا وہ اس کو پھڑکاتی گئی۔ 2 گھنٹوں کے زبردست معرکے کے بعد وہ عامر یعنی اپنے جان من کو چھڑوانے میں کامیاب ہوئی اس کی بہت سی ساتھی غنڈیاں زخمی اور کچھ کی موت بھی واقعہ ہوئی اور پپو بادشاہ اپنے ساتھیوں سمیت اس حملے میں مارا گیا۔
جب لڑائی تھمی اور عامر کو بے ہوشی کی حالت میں بہ حفاظت باہر نکالا تو بوبی بٹ اپنے جان من کو تھوڑی دیر دیکھتی رہی اور پھر دوسرے ہی لمحے نیچے گرگئی۔

x………………………………….x

سب بوبی بٹ کی طرف بھاگے تو دیکھا کہ بوبی کی کمر میں ایک گولی لگی ہوئی ہے جس سے خون رواں ہے اورسب حیران تھے کہ وہ اس حالت میں بھی اپنے جان من کو چھڑوانے کے لئے لڑتی رہی۔
جلدی سے لڑکیوں نے بے ہوش عامر اور بوبی بٹ کو جیبپ میں ڈالا اور ہسپتال لے آئیں۔
ہسپتال میں بہت رش تھا۔ چاروں طرف اسلحہ سے لیس غنڈیاں گھوم رہی تھیں۔ آپریشن تھیٹر میں بوبی کا آپریشن چل رہا تھا کسی کو اس طرف جانے کی اجازت نہیں تھی اور دوسرے کمرے میں عامر بے ہوش پڑا تھا۔

x………………………………….x

جب عامر کے خاندان کو پتہ چلا کہ عامر کو اغوا کرنے والا کوئی اور ہے، اور بوبی بٹ نے اپنی جان پر کھیل کر عامر کو اغوا کاروں سے بچایا ہے تو سب بوبی بٹ کی لمبی عمر اور سلامتی کی دعا مانگ رہے تھے۔
"واقعی میں اس نے محبت کی اور اس کو نبھا کر بھی دکھایا"
کچھ گھنٹوں بعد جب عامر کو ہوش آیا تو اس کو اس کے دوست نے بتایا کہ کیسے بوبی بٹ نے اپنی جان پر کھیل کر اس کی جان بچائی ہے اور وہ اس کو بڑی رشک بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ اس کی زندگی میں بوبی بٹ جیسی لڑکی ہے۔

x………………………………….x

یہ سب جان کر عامر کو بوبی بٹ پر بہت پیار آیا، وہ اس سے ملنا چاہتا تھا مگر بوبی تو شاید موت اور زندگی کی جنگ کھیل رہی تھی، کبھی اس کے دل کی دھڑکن بالکل مدہم ہو جاتی اور کبھی زندگی کی نوید دیتی۔ وہ اسی کشمکش میں تین دن موت سے لڑتی رہی۔ اتنی بہادر تھی کہ آخرکار وہ موت کو شکست دے کر واپس زندگی کی طرف لوٹ آئی۔ ہوش میں آتے ہی اس نے جو پہلا لفظ بولا وہ "جان من" تھا۔
عامر کو جب پتہ چلا کہ بوبی ہوش میں آگئی ہے تو وہ بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں گیا جہاں وہ بیڈ پر زردی مائل رنگ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اس کی منتظر تھی۔
عامر نے والہانہ انداز میں اس کا ہاتھ پکڑا اور روتے ہوئے وہ بوبی بٹ کو سب کچھ بتاتا گیا کہ اس کے دل میں بھی بوبی کے لئے وہی جذبات ہیں، جو بوبی اس کے لئے رکھتی ہے۔ مگر کہنے سے ڈرتا تھا، صرف اسی ڈر سے کہ بوبی بٹ غنڈی ہے۔ مگر اب اس نے اسے ہر وہ بات جو کب سے اس نے اپنے دل میں چپھا رکھی تھی بتا دی۔
کچھ دیر بعد عامر نے اس سے کہا بوبی تم یہ سب چھوڑ دو یہ کام تمھارے لائق نہیں ہے تمھارا مقام کچھ اور ہے۔ میں تم سے شادی بھی کروں گا۔ تمھیں وہ عزت بھی دوں گا جس کی تم حق دار ہو۔ میں تم پر زبردستی نہیں کر رہا اگر تم یہ کام نہیں چھوڑ سکتی پھر بھی میں تمھارا ہوں صرف تمھارا "جان من" ہوں، مگر مجھے ہر لمحہ یہی ڈر لگا رہے گا کہ تمھاری جان کو خطرہ ہے تو میں پھر کیسے خوش رہ پاؤں گا؟
بوبی بٹ چپ کر کے یہ سب کچھ سنتی رہی اور خاموش رہی شاید اپنے ذہن میں کچھ فیصلے کر رہی تھی۔ کمرے میں خاموشی تھی۔
جس لمحے ڈاکڑ نے عامر کو کمرے سے باہر جانے کو کہا، بوبی بٹ نے عامر کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی "جان من "سنو سب چھوڑ دیا۔ بوبی بٹ آج تم سے وعدہ کرتی ہے کہ اس نے وہ سب کام چھوڑ دئے جس کی وجہ سے اس کا جان من اس سے دور ہو گیا تھا۔

بوبی بٹ تمھارے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ اور آج سے وہ بس وہی کرے گی جو اس کا جان من بولے گا "اب تو تم مجھ سے شادی کرو گے نا؟"

عامر نے مسکراتے ہوئے اپنے سر کو ہلایا اور پھر اس سے کہا میں جا رہا ہوں اور کچھ دن بعد جب تم ہسپتال سے صحت یاب ہو کر نکلو گی تو میں باہر تمھارا منتظر ہوں گا۔ پھر ہماری وہ زندگی شروع ہو گی جس کا ہم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا، خوشیوں، محبتوں اور چاہتوں سے بھری۔
یہ سب سن کر بوبی کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور ایک سرخی حیا کی اس کے چہرے پر پھیل گئی اور وہ ایسی لگ رہی تھی جیسے کوئی معصوم سی پری آسمان سے اتر کر زمیں پر آگئی ہو۔ بالکل ویسی جیسی
عامر نے سوچا تھا۔