12 - ہم کہ ٹھہرے اجنبی از غالب خستہ

یہی جی میں آئی کہ گھر سے نکل
ٹہلتا ٹہلتا ذرا روم چل

مولانا آزاد صاحب کے اس شعر کو پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ شام کی چائے کے بعد مٹر گشت کرنے کیلئے ہندوستان سے نکل کر ایسے ہی روم و فارس کا چکر لگاتے تھے، جیسے کہ ہمارے چند بھائی بند صدر روڈ کا لگاتے ہیں۔ ہماری نظر سے پہلی مرتبہ جب یہ شعر گزرا اس وقت حال یہ تھا کہ ہم ایف۔ایس۔سی کا امتحان دے کر بھینس کے آگے چین کی بانسری بجا رہے تھے، راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ فراغت کا دور دورہ تھا۔کوئی فکر نہ فاقہ، عیش کر کاکا، والا معاملہ تھا۔رزلٹ آنے میں چند مہینے تھے۔ یعنی ہنوز دِلی دور است، فراغت کا فائدہ اٹھا کر ہم اپنے محبوب مشغلے یعنی کتابوں میں سر کھپا رہے تھے۔ کتابوں سے ہماری مراد کورس بکس نہیں کہ جن سے ہم اتنا ہی دور بھاگتے ہیں جتنا مورٹین کے سپرے سے مچھر۔ بہر حال ادھر مولانا کے اس شعر پر نظر پڑی اور ادھر ہمارے دلِ ناداں نے مچلنا شروع کردیا۔ اور پاسبان عقل سے کہنے لگا کہ صاحب! تُف ہے تجھ پر، آپ کے اسلاف تو چہل قدمی کرتے ہوئے روم کا چکر کاٹتے تھے اور ایک آپ ننگِ اسلاف بنے گھر میں پڑے اینٹھ رہے ہو۔ اس موقع کو غنیمت جانو ، انشا جی اٹھو اور کوچ کرو۔

کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

فرمودۂِ اقبال پر عمل کرتے ہوئے عقل نے بھی دل کو بے مہار چھوڑا کہ ٹھیک ہے حضرت ، آپ ہی فیصلہ کرو۔کہاں ،کب اور کدھر جائیں؟ کہاں کیلئے رختِ سفر باندھیں؟ کس سرزمین کو رونق بخشیں؟۔دو تین ممالک مد نظر رکھے لیکن نگاہِ انتخاب فراعین کی سرزمین مصر پر پڑی۔قارئین آپ سے کیا پردہ! اس انتخاب میں ہمارے دل و نگاہ سے زیادہ ہماری جیب کو عمل دخل تھا کیونکہ مصر میں ہمارے چند ماموں زاد بغرض تعلیم رہائش پذیر تھے۔ان کی بدولت رہنے سہنے کی بچت نظر آئی۔چنانچہ ہم نے انہیں اطلاع کردی کہ عرصہ ہوا آپ لوگوں کو دیکھے ہوئے،آپ لوگوں کی زیارت سے مشرف ہونے کیلئے چند ہی دنوں میں ہم آپ کے ہاں نازل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔پیشگی خبر اس لئے دے رہا ہوں کہ ہمارے استقبال اور خاطر مدارت کے انتظامات کیلئے آپ لوگوں کو وافر وقت ملے، ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی گلا کرے کہ ہمیں خبر نہ ہوئی ورنہ ہم یہ کرتے، وہ کرتے۔فوراً ہی انھوں نے خط بھجوایا جس میں انہوں نے کمالِ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر چند ہمیں منع کیا تھا کہ حضرت ! آپ کیوں خواہ مخواہ ہزاروں میل سفر کی تکلیف کرتے ہو، آپ کا سفر کی صعوبتیں برداشت کرنا ہمیں بالکل گوارا نہیں، وہیں آپ کو گھر بیٹھے بٹھائے ہم اپنی اور مصر کے قابلِ دید مقامات کی تصاویر بھجوادیں گے، انہیں سے جی بہلالیں۔ یہ خط پڑھ کر تو ہمارے چند شرپسند دوستوں نے ہمیں چڑاتے ہوئے کہا کہ اس خط سے واضح ہوتا ہے کہ وہ آپ کی مہمان نوازی اور آپ کی صحبت سے ایسے ہی گھبراتے ہیں جیسا کہ ہم تنگ آچکے ہیں لیکن ہم نے ان کی شرر بیانی پر کان نہ دھرے، اس خط کے مندرجات کو دوستانہ مشورے پر محمول کیا اور ٹکٹ کٹا کر عازمِ سفر ہوئے۔

قطر ائیر لائنز کے جہاز میں بیٹھ کر ہم خیالی پلاؤ پکانے لگے اور آنے والے خوشگوار دنوں کا سوچ سوچ کر خوش ہونے لگے۔ شاید ائیر ہوسٹس سے ہماری خوشی نہ دیکھی گئی جو اس نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر لائف جیکٹ اور ائیر ماسک پہننے کا طریقہ بتانا شروع کردیا۔ان احتیاطی تدابیر کو دیکھ کر ہمیں احساس ہوا کہ خدانخواستہ جہاز کا ایکسیڈنٹ بھی ہوسکتا ہے اور زمین سے اُٹھنے والا جہاز کہیں ہمیں دنیا سے ہی نہ اٹھوا دے۔ یہ خیال آتے ہی ہماری گھگھی بندھ گئی۔ اور سفر کی جتنی دعائیں یاد تھی پڑھ کر اپنے اور پورے جہاز پر دم چُوف کرنے لگے۔ انشاء جی کی دعا بھی مانگی کہ،
خداوند ہم پر مہربان رہ، ہمارا ہوائی جہاز اغوا نہ ہو، ہمارا سامان گم نہ ہو، ہمارے پاس اجازت سے زیادہ سامان ہو تو کوئی گرفت نہ کرے۔ ہمیں محفوظ رکھ بارِالٰہی تندخو اور درشت مزاج ٹیکسی ڈرائیوروں سے، حریص قلیوں سے، غلط بل بنانے والے بیروں سے، تنگ دل ہوٹل والوں سے، ہمیں توفیق عطا کر کہ وہ سارے شہر، پارک، میوزیم، معبد، قلعے اور اہرام دیکھ سکیں جو ہماری گائڈ بک میں شامل ہیں۔ہم دوپہر کو سونے کی وجہ سے کوئی تاریخی مقام دیکھنا بھول جائیں تو ہمیں معاف فرمانا، آخر ہم انسان ہیں۔خداوند اپنی قدرتِ کاملہ سے ہمارے میڈیکل کالج (اور ون۔ورلڈ اردو) میں ایسے طالب علم اور قارئین پیدا کر جو ہمارا سفرنامہ پڑھنے کی تاب لاسکیں، آمین ثم آمین۔

دیگر ہم نے اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی معافی مانگی اور یہ آرزو کی کہ کاش اس سفر میں ہمیں ایسے مواقع میسر آئیں کہ جن پر ہم بعد میں توبہ کرکے ثوابِ دارین حاصل کریں۔سفر کے دوران ہم نے ائیر ہوسٹس کی نگاہِ التفات کا شکار ہونے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہے، شاید غرورِ حسن کی وجہ سے ہمیں درخورِ اعتنا نہ سمجھا ہوگا۔ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ مغرور لوگوں کو منہ نہ لگانا چاہئے۔ دل تو چاہا کہ ائیر ہوسٹس کے معاملے میں ہم اس مقولے کے بالکل الٹ عمل کریں یعنی۔۔۔۔پر دل کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔

دوحہ ائیر پورٹ پر چند گھنٹے توقف کے بعد جہاز قاہرہ کے ائیرپورٹ پر اترا۔ چونکہ ہمیں چند مصر پلٹ حضرات نے پہلے ہی متنبہ کردیا تھا کہ دیگر ممالک کیطرح مصر میں بھی پاکستانیوں اور افغانیوں کی شہرت پہنچ چکی ہے۔ وہاں بھی انہیں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ان کی صحبت سے لطف اندوز ہونے اور ان کی مبارک صورتوں سے آنکھیں روشن کرنے کیلئے ائیر پورٹ حکام ایک دو گھنٹے کیلئے ہر ایک کو اپنے پاس بٹھاتے ہیں۔انگریزوں اور دیگر مغربی ممالک کے افراد کو اس قابل نہ جان کر انہیں جلد از جلد کلیئرنس دے کر رخصت کردیتے ہیں اور ان کے احتجاج سے بچنے کیلئے بہانہ بنادیتے ہیں کہ پاکستانیوں اور افغانیوں کے کاغذات کی تصدیق کرنی ہے، چنانچہ جب ہمیں بشمول چند دیگر ہم وطنوں کے بنچ پر بٹھا دیا گیا تو ہمیں قطعاً سبکی محسوس نہ ہوئی۔تقریباً آدھ گھنٹے تک انتطار کرانے کے بعد پاسپورٹ واپس دے دیا گیا۔اس عزت افزائی کے بعد ہم اپنا بریف کیس اور اپنا ناز خود اٹھاتے ہوئے ائیر پورٹ سے باہر آئے اور عزیزوں سے گلے ملے۔ سامان ان کے حوالے کر کے ہم نے کہا " لو صاحبو! اب تم لوگ اسے اٹھاتے پھرو۔ اور ہماری ناز برداریاں کرتے رہو"۔

ان کی معیت میں ہم ان کی درسگاہ "جامعۃالازہر " کے ہاسٹل روانہ ہوئے۔ الازہر یونیورسٹی نے غیرملکی طلباء کی رہائش کیلئے ہاسٹلوں کا پورا شہر آباد کیا ہوا ہے جسے " مدینۃ البعوث" کہا جاتا ہے۔ ایک چاردیواری کے اندر کئی منزلوں پر مشتمل تقریباً 93 ہاسٹلز میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء رہائش پذیر ہیں۔ اگرچہ وہاں ازہر کے طالب علموں کے سوا کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں لیکن ہمارے ساتھیوں نے، جوکہ اس قسم کے قوانین کے توڑ میں مہارت حاصل کرچکے تھے، کوئی چکر چلا یا اور

کیسے آتی ہے دل میں اس کی یاد
لاکھ پہرے مگر بٹھا دیکھے

کے مصداق ہمیں بھی پہرہ داروں کی آنکھ بچا اندر لے جانے کی مہم بہ آسانی سر کرلی۔

دوسرے دن ہم نے یونیورسٹی کا چکر لگایا۔ جامعۃ الازہر کا نام سن کر ہی رعب طاری ہوجاتا ہے۔ اسلامی علوم کی نشرو اشاعت ، تحقیق، تبلیغ اور فتاویٰ کے حوالے سے یہ یونیورسٹی پوری دنیا میں سرِفہرست ہے۔ اس جامعہ کا قیام 970 ء میں فاطمی خلفاء کے دور میں آیا۔ حضرت فاطمۃ الزہراء کے لقب الزہراء سے منسوب کرکے اس درسگاہ کا نام الازہر رکھا گیا۔ بارہویں صدی عیسوی میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے کافی ترقی دی۔1925ء تک اس میں صرف قرآنِ کریم، احادیث اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی لیکن اس کے بعد ترقی پسندوں کے زیرِ اثر اس میں میڈیکل، انجینئرنگ، زراعت، غیرملکی زبانوں، سائنسی علوم اور کئی دیگر شعبوں کا اضافہ ہوا۔ یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیز اور شاخیں مصر کے مختلف شہروں میں واقع ہیں۔ کُل ملا کر اس کے طالب علموں کی تعداد فی الوقت چار لاکھ سے زیادہ ہیں۔

http://img2.pict.com/71/ed/73/2996402/0/image001.jpg

الازہر مسجد

ساتھیوں کے مشورے سے قاہرہ سے پہلے اسکندریہ دیکھنے کا پروگرام بنا۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر ریلوے اسٹیشن روانہ ہوئے۔ قاہرہ کی ٹیکسیوں اور ٹریفک کا حال دیکھ کر بے اختیار پاکستان کی یاد آگئی۔ آنکھیں فرطِ جذبات سے ڈبڈبا گئیں، بالکل ویسے ہی اپنے ہاں کے جیسے درشت اور تیز رفتار ڈرائیور، وہی زمانہ قدیم کی ٹیکسیاں، سیٹیں اندر کو دھنسی ہوئی، شیشے اگر کھلے ہو تو بند نہ ہوں گے اور اگر بند ہو تو کھلنے سے انکار، سیٹ بیلٹ کی جگہ بس ایک تار اور ڈرائیور کے سامنے ڈیش بورڈ پر مسرت شاہین کی ہم وزن ایک مصری اداکارہ کی تصویر۔ جب روانہ ہوئی تو ایسے ڈگمگا کر چلنے لگی کہ ہم سب اندر بیٹھے بیٹھے جھومنے لگے۔ غالباً سید ضمیر جعفری نے اپنی " پرانی موٹر" قاہرہ کی گاڑیوں ہی سے متاثر ہو کر لکھی تھی۔ ٹریفک قوانین، لائن تبدیل کرنے کے اصول، سرخ بتی اور حد رفتار کی پابندی جیسے اصولوں کی ایسی کی تیسی کرتے ہوئے ڈرائیور نےصرف اس مقولے پر عمل کیا کہ " سڑک میرے باپ کی ہے" اور ہم سے سلطان گولڈن کا خطاب پاکر خوشی خوشی ہمیں ریلوے اسٹیشن پہنچادیا۔ ہماری توقع کے برخلاف ریل گاڑیاں بہت جدید قسم کی تھی۔ بلکہ چم چم کرتے لشکارے مارتے ہوئے ہوائی جہاز تھے۔ صاف ستھری کشادہ سیٹیں، ائیر کنڈیشنڈ، برق رفتار، ٹیکسی کے مقابلے میں ریل ایسی ہی تھی جیسے تعلیمی لحاظ سے ہمارے مقابلے میں علی معین نوازش جس نے اے لیول میں 22 ایز لیکر پاکستان کا نام روشن کیا اور پھر امریکی سفیر سے ایوارڈ وصول نہ کر کے اسے چار چاند لگا دیے۔ دو گھنٹے کے مختصر سفر کے بعد ہم نے سکندرِاعظم کے نام منسوب تاریخی شہر میں نزولِ اجلال فرمایا۔

اسکندریہ کو بحرِ ابیض اور بحرِ احمر کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہاں مصر کی سب سے بڑی بندرگاہ بھی ہے۔ یہیں پر سکندرِ اعظم نے سمندری حدود پر نظر رکھنے اور جہازوں کی رہنمائی کیلئے ایک لائٹ ہاؤس تعمیر کیا تھا جس کی چوٹی پر ہر وقت آگ روشن رہتی تھی اور جو دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک تھا۔ ساحلِ سمندر، یعنی"کورنیش"، سے لطف اندوز ہونے کیلئے مغربی سیاحوں کی اکثریت یہاں کا رخ کرتی ہے اور ہمارے ایمان کا امتحان لیتی ہے۔ ہوٹلوں کی بہ نسبت یہاں فلیٹ زیادہ آرام دہ، کشادہ اور کم خرچ بالا نشین ہیں۔ ہم نے بھی سمندر کے کنارے ایک فلیٹ میں قیام کیا۔ فلیٹ کی مالک ایک بڑی بی تھی، نہایت مہربان اور باتونی۔ ان سے خوب گپ شپ رہی۔ ہم سے بالکل اپنے بیٹوں جیسا سلوک کیا۔ یعنی جس طرح ماں بیٹوں کو ڈانٹتی ہے اسی طرح جب ہم نے کرایہ کم کرنے کی درخواست کی تو ہمیں ڈانٹ پلائی۔ شام کو یہاں کے ایک بہت مشہور پارک منتزہ گئے۔ نہایت وسیع رقبے پر پھیلا ہوا یہ پارک اپنے اندر مختلف قسم کے باغات، محلات، فائیو سٹار ہوٹلز اور دیگر تفریحی سہولیات لئے ہوئے تھا۔ اسی پارک میں سابق حکمران کا منتزہ پیلس اور کافی مشہور فلسطین ہوٹل بھی ہے۔

منتزہ سے واپسی پر کیا دیکھتے ہیں کہ سڑک کے کنارے تاحدِ نگاہ دو تین گز کے فاصلے پر فوجی جوان سیاہ لباس میں ملبوس، ہاتھ پشت پر باندھے کھڑے ہیں۔ہم نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا، میاں یہ لوگ کاہے کو کھڑے ہیں؟ کہیں ہمارا استقبال تو نہیں ہورہا؟ ہم نے تو آنے کی اطلاع بھی نہیں دی تھی۔ بڑے باخبر لوگ ہو تم۔ ڈرائیور نے استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ ، جی سعودی شہزادہ عبداللہ اور بابا حسنی (حسنی مبارک)کی آمد آمدہے، ان کے اھلاً و سھلاً کیلئے طوعاً و کرہاً یہ بےچارے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور کی بات چیت اور دیگر افراد جن سے اپنے قیام کے دوران ہمارا واسطہ پڑا، ان سے ہمیں یہ واضح تاثر ملا کے اکثر مصری باشندے اپنے مطلق العنان صدر حسنی مبارک سے خوش نہیں لیکن خوف کی وجہ سے اس کا اظہار نہیں کرسکتے۔1982 ء سے مسندِ اقتدار پر قابض بابا حسنی نے پچھلے 25 سالوں سے ملک میں ایمرجنسی قائم کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ماورائے عدالت پکڑ دھکڑ، قید و بند، اور دیگر سرکاری بدمعاشیوں کو قانونی جواز فراہم کیا گیا ہے۔ ایک اخبار کے ایڈیٹر کو محض اس جرم میں 5 سال کی قید سنائی گئی کہ اس نے حسنی مبارک کی شان میں ایک گستاخانہ نظم شائع کی تھی۔ علی ھٰذہ القیاس آپ مصر کی سیاسی صورتحال کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

نثار میں تیری گلیوں کے، اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

اسکندریہ کے تاریخی مقامات میں سب سے زیادہ قابلِ دید قلعہ قطبی ہے، جو کہ بقول شخصے فنِ تعمیر کا شاہکار ہے، ہوگا، ہمیں کیا۔ ہم بھی دیکھنے گئے تھے پر تماشا نہ ہوا۔ مرمت کیلئے بند تھا۔ ہم نے قلعے کے دروازے پر کھڑے کالے بھجنگ دربان ٹائپ کے حبشی سے کہا بھی کہ اے کافور! کھولو بھئی دروازہ، ہم بڑی دور سے آئے ہیں تمہاری خاطر، لیکن اس ظالم نے ہمیں خشمگیں نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا جہاں بورڈ لگا ہوا تھا "بیت الخلاء"۔ ہم سٹپٹائے اور عرض کیا کہ ہم قلعہ کی بات کر رہے ہیں، اس نے پھر اشارہ کیا اور اس دفعہ ہم وہ بورڈ دیکھنے میں کامیاب ہوگئے جس پر لکھا تھا کہ مرمت کی وجہ سے بند ہے۔ ہم نے بھی اپنی شانِ استغنا میں فرق نہ آنے دیا اور اشارتاً اس دربان کو بتادیا کہ یہ قلعہ قطبی کی بدقسمتی ہے کہ اسے ہمارے مبارک قدم چومنے کی سعادت حاصل نہ ہوسکی۔ قدم سے ہماری مراد سچ مچ کےقدم یعنی پیر ہیں، کیونکہ جوتے ہمارے کثرت سے مٹرگشت کرنے کی وجہ سے اس قابل نہ رہے تھے کہ ہم اس پر وضو کے دوران مسح کرسکیں۔ یعنی بہ الفاظِ دیگر اس میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا تھا کہ ہماری دو انگلیاں جھانک رہی تھیں۔

http://img2.pict.com/62/ea/f5/2996404/0/image003.jpg

قلعہ قطبی۔ سکندریہ

اسی قلعے کے ساتھ سمندر کنارے ہم نے چند لوگوں کو آلتی پالتی مارے کوئی سپیشل قسم کی مرغِ مسلم ٹائپ کی ڈش رغبت سے کھاتے دیکھا۔ ہم نے اپنے خالی پیٹ پر ہاتھ پیرتے ہوئے ان کا رخ کیا کہ دیکھیں تو، کیا تناول فرمایا جا رہا ہے۔ قریب جاکے دیکھا تو گویا اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے، سب لوگ پلیٹ میں کیکڑے رکھے، زور و شور سے اس کی پیرِ تسمہ پا جیسی ٹانگیں توڑ توڑ کر کھا رہے تھے۔ ہماری طبیعت یہ منظر دیکھ کر کھانے سے ایسی اچاٹ ہوئی کہ پورے دودن جب ہمارے ساتھی کھانے کی بات کرتے تو ہم کہتے،

تجھے کھانے کی سوجی ہے، ہم بیزار بیٹھے ہیں

بعد ازاں ہم ایک تاریخی مسجد، جو مسجدِ دانیال کے نام سے مشہور ہے، گئے۔ یہاں ایک حجرے میں حضرت دانیال علیہ السلام اور حضرت لقمانِ حکیم کی قبور مبارک ہیں۔ یہ قبریں سطحِ زمین سے کئی فٹ نیچے ایک تہہ خانے میں ہیں، جہاں اترنے کیلئے کنویں کی طرح منڈیر اور سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ سیڑھیاں اتنی عمودی تھی کہ دیکھ کر ہی ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ سیڑھیوں کی خطرناک حالت اور اپنی مرجا مرنج صحت اور حوصلے کو دیکھ کر ہم نے اپنے مذہبی جذبات کو تھپک تھپک کر سلادیا اور نیچے اترنے کے بجائے اوپر ہی سے فاتحہ خوانی اور دعا کی۔

سکندریہ میں تین دن گزارنے کے بعد ہم قاہرہ واپس آگئے۔ قاہرہ میں قابلِ دید مقامات اہرامات، قاہرہ کا عجائب گھر، تاریخی مساجد، حضرت امام حسین کا مزار جہاں پر روایت کے مطابق حضرت کا سرِ مبارک دفن ہے،حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار اور قاہرہ کے پرانے بازار ہیں۔اہراماتِ مصر کا تذکرہ ہم بچپن سے سنتے آئے تھے۔ وہاں جانے کے ارادے سے نکلے تو ہم پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔ قاہرہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر " الجیزہ" نامی علاقے میں اہرامات پوری شان و شوکت سے کھڑے ہیں۔ اہرامات کی کُل تعداد 9 ہے۔ تین بڑے اور 6 چھوٹے۔ان کے پاس ہی اپنی عظمت اور برتری کے دعوے کرتا ہوا، خوف و دہشت کی علامت " ابوالہول" (سفینکس) یعنی خوف کا باپ لیٹا ہوا ہے۔سیاح تھے کہ شمار میں نہ آتے تھے۔ ہر ملک و قوم کے، لیکن زیادہ تر یورپین، اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن پہنے بناتِ فرنگ ادھر ادھر آجارہی تھیں۔ گرمی کا موسم تھا لھٰذہ ان کے پیرہن کافرانہ اور چال و انداز قاتلانہ تھے۔ ہم مخمصے میں پڑ گئے کہ اب کیا کریں۔ انسانوں کی تخلیق اہرامات کو دیکھیں یا قدرت کی تخلیق کردہ ان پری پیکروں کو، چنانچہ ہم دونوں کو دیکھا کئے۔

وہ جانتے تو ہوں گے مجبوریاں ہماری
ہم جن کو دیکھتے تھے حسرت بھری نِگاہ سے

http://img2.pict.com/91/69/ce/2996408/0/image005.jpg
اہرامِ مصر

http://img2.pict.com/a6/28/67/2996409/0/image006.jpg

ابوالہول

بڑے ہرم ،یعنی" بادشاہ خوفو " کا ہرم، میں جانے کیلئے ایک سرنگ سی بنی ہوئی ہے جو کہ اوپر کی طرف اٹھتی چلی جاتی ہے۔ چڑھنے کیلئے لکڑی کا ایک زینہ سا لگا ہوا ہے۔ اس سرنگ کا اختتام ہرم کے درمیان واقع ایک کمرے(کنگ چیمبر) میں ہوتا ہے، جہاں پر ممیاں اور دیگر اشیاء رکھی گئی تھیں۔ ان اشیاء کو میوزیم منتقل کیا جا چکا ہے۔ البتہ ممی یعنی حنوط شدہ جسم کا تابوت ابھی تک وہیں تھا۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اکثر لوگوں کو تنفس میں دقت پیش آرہی تھی۔ سیاح مختلف ٹولیوں میں بٹے اپنے اپنے گائیڈ کے پیچھے چل رہے تھے۔ ۔ہم نے سنا تھا کہ پرانے زمانے میں لوگوں کے قد اونچے اونچے ہوتے تھے، بلکہ لنکا میں تو باون گز کے بھی پائے جانے کی اطلاع اردو محاورے سے ہوتی ہے۔ لیکن تابوت کی لمبائی دیکھ کر ہمیں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا۔ مزید تصدیق کیلئے ہم تابوت میں لیٹ گئے کہ لمبائی کا فرق معلوم کریں۔ابھی ہم اندر لیٹے تابوت کا جائزہ لے رہے تھے کہ یوں لگا جیسے ابر سا چھا گیا ہو۔ اوپر نظر کی تو دیکھتے ہیں کہ سیاحوں کا جھمگٹا تابوت کے گرد جمع ہے اور گائڈ ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں بتا رہا ہے کہ یہ ممی فلاں فرعون کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے دل میں خود پر نفرین کی کہ تُف ہے حضرت آپ کی صحت و صورت پر، جو ان کی حنوط شدہ ممیوں سے ملتی جلتی ہے۔ ہم چھلانگ لگا کر تابوت سے باہر نکلے۔ بتانِ فرنگ کی خوف سے چیخیں نکل گئیں، ہم نے جلدی جلدی سمجھایا کہ بیبیو! ہم زندہ آدمی ہیں، ڈرو مت۔ ان کی آنکھوں میں بے یقینی کی کیفیت دیکھ کر ہم نے انہیں جدید تعلیمی اصولوں اور نظریے کے تحت پیار دُلار سے سمجھانے کی کوشش کی مگر ان کے ہمراہ موجود حضرات کی آنکھوں میں غصیلی کیفیت دیکھ کر ہمیں نقصِ امن کا اندیشہ ہوا اور ہم نے باہر کی راہ لی۔ دیگر اہرامات اور ابوالہول کو بھی جلدی جلدی نبٹایا۔ بڑے اہرامات بادشاہوں کے تھے۔ جبکہ چھوٹے ملکاؤں کے۔ اہرامات کی دیو ہیکل قامت کی وجہ سے قریب سی لی گئی تصویروں میں وہ پورے نہیں آرہے تھے۔ سارے اہرامات کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کیلئے ہم نے سخت گرمی میں تقریباً ایک کلومیٹر صحرا کی ریت میں پیر دھنساتے سفر کیا اور تصویریں کھینچیں۔

وہاں سے فراغت کے بعد ہم عجائب گھر آگئے۔ عجائب گھر سچ مچ میں عجائبات اور حیرت کا کارخانہ تھا، اتنا وسیع کہ 4 گھنٹے گزار کر بھی ہم مکمل نہ دیکھ سکے۔ فراعینِ مصر کی ممیاں، دیوتاؤں کے بت، زیورات، قدیم تحریریں، پتھروں پر کھدی تصاویر، عام استعمال کی اشیاء، الغرض وادیٔ نیل کی پوری قدیم تہذیب اس ایک چھت کے نیچے جمع ہے۔
http://img2.pict.com/71/7e/b6/2996412/0/image008.jpg

ایک خاص حصے میں اہرامات اور معبدوں سے نکالی گئ ممیاں موجود ہیں۔یہ فراعین عام قد و قامت کے، کالے بھجنگ ،منحوس چہرے لئے شیشے کے تابوت میں پڑے تھے۔ تین ملکائیں اور غالباً آٹھ فراعین یا شاید چھ تھے، یاد نہیں آرہا۔ ہم انہیں دیکھتے رہے اور عبرت حاصل کرتے رہے۔

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو

ان میں ایک فرعون "رمسیس ثانی" کے متعلق عام خیال ہے کہ یہی حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کا فرعون ہے۔ اس کی ناک خم دار اور چہرے کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھی۔ اس کو دیکھ کر ہمیں میر کے اشعار بے طرح یاد آنے لگے کہ

کل پاؤں ایک کاسۂِ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چُور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ، بے خبر!
میں بھی کبھو کسی کا سرِ پُر غرور تھا

اس کی تصویر لینی چاہی تو منع کیا گیا کہ تصویر کشی ممنوع ہے کیونکہ فلیش لائیٹ سے کمینے کا جسم خراب ہوتا ہے۔ یہاں ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ چند سال پہلے رمسیس 2 کا جسم علاج کیلئے پیرس لے جایا گیا۔ اس کے لئے باقاعدہ مصر کا پاسپورٹ جاری کیا گیا جس میں پروفیشن کی جگہ پر "بادشاہ" لکھا گیا تھا اور پیرس ائیر پورٹ پر اسے باقاعدہ ایک سربراہ مملکت/بادشاہ کو دیا جانے والا پروٹوکول دیا گیا۔ مصر کے اکثر باشندے اپنی تاریخ اور اپنے آپ کو فراعین کی اولاد کہنے پر فخر کرتے ہیں۔

فنِ تعمیر اور تاریخی حیثیت کے لحاظ سے امام رفاعی کی مسجد یہاں کافی مشہور ہے۔ اسی مسجد کے ایک حجرے میں شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کی قبر بھی موجود ہے۔ جسے امانتاً یہاں دفن کیا گیا ہے۔ ایک عرصے تک ایران پر کسی فرعون ہی کی طرح حکومت کرنے والا جب مکافاتِ عمل کا شکار ہوا تو اسے اپنی سرزمین میں دفن ہونے کیلئے قبر کی جگہ بھی نہ ملی۔

ہے کتنا بد نصیب ظفر، دفن کے لئے
دو گز زمین بھی مِل نہ سکی کوئے یار میں

قلعہ صلاح الدین ایوبی گئے۔ یہاں ایک حربی میوزیم بنایا گیا ہے جس میں عرب اسرائیل جنگ سے متعلق اور دیگر تاریخی اسلحہ اور یادگاریں جمع کی گئی ہیں۔ یہیں پر ایک مسجد، مسجدِ علی کے نام سے، فنِ تعمیر کا نمونہ ہے۔ مصری سکہ پر اس کی تصویر بھی نقش ہے۔

مصر کی مساجد نماز پڑھنے کی بجائے سیاحوں کے دیکھنے کی جگہیں بن چکی ہیں۔ مغربی سیاحوں کو گلے میں کیمرے لٹکائے، ٹی شرٹس اور شارٹس پہنے، منبر و محراب کی تصاویر لیتے اور مسجد میں گھومتے دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ ہم کیا کرتے جب امامِ مسجد ہی ان کے آگے بچھا جارہا تھا۔ اکا دکا آدمی نماز یا تلاوت میں مشغول ہوتے۔ مصر اور دیگر عرب ممالک میں ایک بات ہے کہ تلاوتِ قرآن کریم نہایت کثرت سے کرتے ہیں اور ہماری طرح جزدان میں لپیٹ کر طاقِ نسیاں پر نہیں رکھتے۔ لیکن یہ ہے کہ اس کتابِ اقدس کا وہ احترام ملحوظ نہیں رکھتے جو کہ اس کا حق ہے۔ بس میں بیٹھے یا بس سٹاپ پر کھڑے کھڑے جھٹ جیبی نسخہ نکال کر پڑھنا شروع۔ نماز میں کھڑے کھڑے ایک ہاتھ سینے پر دوسرے میں قرآن کریم پکڑے پڑھ رہے ہیں۔ سجدے میں گئے تو پاس ہی فرش پر رکھ دیا اور اٹھتے ہوئے دوبارہ اٹھالیا۔ ہمارا تو سر ہی گھوم گیا۔

پچھلے برس عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہوئے ہم نے حرم شریف میں یہ حال دیکھا کہ نمازی کے سامنے سے کوئی گزر رہا ہے تو نمازی جھٹ ایک ہاتھ ٹریفک پولیس والے کی طرح آگے کردیتا ہے اور ناک بھوں چڑھا کر غصیلی نظروں سے گزرنے والے کو دیکھتا ہے۔ یہاں تک کہ نماز کے دوران موبائل بجنے لگا تو نماز میں کھڑے کھڑے جیب سے موبائل نکالا، کان سے لگایا،صلوٰہ صلوہٰ کہہ کر بند کیا، جیب میں ڈالا اور رکوع میں چلے گئے۔

قارئین، یقیناً ہماری طرح آپ کے سر میں بھی درد ہورہا ہوگا،لھٰذہ آپ بھی ایک پیالی چائے نوش کریں اور آگے کی سنئے۔

دریائے نیل قاہرہ کے درمیان سے گزرتا ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ لمبا چوڑا دریا ہوگا، سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا، لہریں ہوں گی اونچی اونچی، پر دیکھ کر بڑا افسوس ہوا۔ بڑا مسکین سا دریا ہے۔ دریا کی بجائے نہر لگ رہا تھا۔ ہوسکتا ہے شہر سے نکل کر اس کا پاٹ چوڑا ہو گیا ہو۔ دریا میں بحری جہاز چل رہے تھے۔ جن میں چلتے پھرتے یعنی تیرتے ہوٹل اور ریسٹورانٹس تھے۔ پاس ہی کئی بڑے ہوٹل ہیں۔ ایک فائیو سٹار ہوٹل "سمیرامیس" نہایت شاندار ہے۔ کھانا بھی وہاں نہایت اعلی پیمانے کا تھا۔ ہوٹل کا پورا فرنٹ صاف شفاف شیشے کا بنا ہوا ہے۔ اتنا صاف کہ ہمارا ایک ساتھی باہر نکلتے وقت بے خیالی میں شیشے کی دیوار سے کسی بھینسے کی طرح ٹکرا گیا۔ شکر ہے شیشہ کافی مضبوط تھا ورنہ شیشہ پلائی دیوار کے کمپنسیشن میں ہم شاید اس وقت بھی وہاں کچن میں بغیر تنخواہ کے نوکری کر رہے ہوتے۔

الاقصُر اور اسوان مصر کے دو سرحدی شہر ہیں۔ اسوان سوڈان کی سرحد سے ملا ہوا ہے۔ یہ دو شہر مصر کے سرسبز ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ الاقصُر قاہرہ سے تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسوان اور الاقصر کے درمیان تقریباً 300 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ دونوں شہروں میں بہت سارے قدیم معبد، اہرامات، فراعین کی وادیاں اور دیگر آثارِ قدیمہ موجود ہیں۔انہی آثار کی کشش ہمیں قاہرہ سے سینکڑوں میل دور یہاں لے آئی۔ ریل گاڑی کے 12 گھنٹے کے طویل سفر نے ہمیں صحیح معنوں میں تھکا دیا۔ اقصور میں ایک دن اور رات ٹہرے، اقصر ٹیمپل وغیرہ دیکھا اور پھر اسوان جانے کا پروگرام بنایا۔

http://img2.pict.com/95/8e/33/2996415/0/image011.jpg

معلوم ہوا کہ ریل گاڑی میں تقریباً 3 گھنٹے کا سفر ہے۔ جبکہ ایک دلچسپ ذریعہ سفر دریائے نیل میں چلنے والی کروز شپس ہیں جو کہ راستے میں موجود آثارِ قدیمہ دکھانے کیلئے لنگر انداز ہوتے ہیں اور تقریباً دو دنوں میں اسوان پہنچاتے ہیں۔ یہ طریقہ سفر ہمیں پسند آیا اور اگلے دن کیلئے جہاز میں ایک کمرے کی بکنگ کرلی۔ چارجز البتہ کافی زیادہ تھے اور ہماری جیب کی حالت کافی پتلی ہوگئی۔

قارئین ہم یہ ذکر کرنا بھول گئے، کہ کس طرح مختلف مقامات پر گائڈ حضرات، ٹیکسی ڈرائیوروں اور ہوٹل والوں نے کمال صفائی سے کمانڈر سیف گارڈ بن کر ہمارے ہاتھوں کو میل کچیل سے صاف کردیا تھا اور اب ہمیں اپنے ہاتھ صاف و شفاف اور چم چم کرتے نظر آرہے تھے، جس پر ہمیں رونا آرہا تھا کیونکہ روپیہ ہاتھ کا میل ہے اور ہم اپنے ہاتھ میلے رکھنا پسند کرتے ہیں۔

http://img2.pict.com/f8/a4/78/2996417/0/image012.jpg
کروز جہاز

اگلی شام ہم بحری جہاز پر روانہ ہوئے۔ جہاز پر ایک خوبصورت اور با وقار استقبالیہ، ایک وسیع ڈائننگ ہال، تین منزلوں پر تقسیم کئی کمروں اور کھلی چھت پر مشتمل تھا۔ جس کے کناروں پر ریلنگ لگی ہوئی تھی۔ چھت پر ایک عدد سوئیمنگ پول اور پنگ پونگ کی میز/ٹیبل ٹینس بھی تھی ۔علاوہ ازیں تقریبات کیلئے ایک ہال بھی تھا۔(قارئین! آپ سے کیا پردہ، یہ ہم نے ڈسکو کو شریفانہ نام دیا ہے)۔ کمرے نہایت آرام دہ اور سروس اعلٰی تھی۔ منیجر سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کل تقریباً سو سے زائد مسافر ہیں۔سامان کمرے میں رکھ کر ہم کھانے کیلئے جب ڈائیننگ ہال میں آئے تو ہال سے آنے والا باتوں کا شور ایک دم سے غائب ہوگیا۔ ہم نے نظر دوڑائی تو جہاز کے مسافروں کو دیکھ کر ہمارا دل اچھل کر حلق میں آگیا اور ان کا دل ہمیں دیکھ کر غالباً لڑھک کر پیٹ میں چلا گیا ہوگا۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ مسافروں میں ایک بھی مصری، عرب یا دیگر ممالک کا کوئی ہمارا ہم مذہب نہیں ہوگا۔ سب کے سب فرنچ، انگریز، امریکی اور دیگر یورپی ممالک کے سیاح تھے۔ ہم تینوں ساتھی چونکہ کچھ کچھ باریش تھے لھٰذہ ہم اگر وہاں کا ماحول دیکھ کر ٹھٹھک گئے تھے، تو یقیناً وہ بھی ہمیں دیکھ کر سٹپٹا گئے ہوں گے۔،چند لمحے سب چپ چاپ ہماری طرف دیکھتے رہے اور ہم بھی ایک پرندے، جس کا نام اس وقت یاد نہیں آرہا، کی طرح دیدے گھماتے رہے۔ خیر بعد میں ایک مصری فیملی سے بھی ملاقات ہوگئی اور ہماری جھجھک ختم ہوگئی۔

کھانا بھی وہاں نہایت اعلٰی پیمانے کا تھا۔ کھانے کے دوران ہی جہاز لنگر اٹھا کر روانہ ہوگیا تھا۔ کھانے کے بعد ہم نے کمرے میں کچھ دیر آرام کیا۔ شام کو کمرے سے نکل کر تازہ ہوا کھانے اور نیل کے ارد گرد واقع باغات اور گاؤں دیکھنے کیلئے ہم چھت پر نکل آئے۔ ہم بھول گئے تھے کہ وہاں سو یمنگ پول بھی ہے اور ہمارے اکثر ہم سفر چندِ آفتاب اور چندِ ماہتاب صورتوں والے فرنگیوں پر مشتمل ہے۔ جونہی ہم نے چھت پر قدم رکھا، ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی اور ہم جل تو جلالہ تو، کا ورد کرتے کمرے کی طرف دوڑ پڑے۔ غالباً اس وقت ہمارا ایمان قوی تھا لیکن اسوان تک پہنچتے پہنچتے ذرا متزلزل ہوچکا تھا اور ہم چھت کے دو تین چکر لگا تھے۔ ہر بار کمرے میں واپس آکر ہم عہد کرتے کہ گھر پہنچ کر ہم نوافل اور توبہ استغفار کا ریکارڈ قائم کرلیں گے تاکہ ان چھت کے چکروں کا اثر زائل ہوسکے۔ قارئین اس بار ہم آپ سے پردہ کر ہی لیتے ہیں اور تفصیل سے گریز کرتے ہوئے اتنا بتاتے چلیں کہ

دیکھا ہے بت کدے میں جو اے شیخ کچھ نہ کچھ
ایمان کی توبہ ہے کہ ایمان تو گیا

http://img2.pict.com/5d/56/d9/2996421/0/image014.jpg

اسوان میں ایک قدیم معبد کی سیر کرتے ہوئے ایک ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک باوردی مسلح سپاہی سب سیاحوں کو چھوڑ کر سیدھا ہمارے پاس آیا اور ہم پر مسلط ہوگیا۔ کہنے لگا کہ آپ پاسپورٹ وغیرہ چیک کرانے کیلئے میرے ساتھ آئیں میرے افسر کے سامنے پیش ہوجایئں۔ جب وہ ہمارے آگے آگے روانہ ہوا اس وقت اپنی خودی بلند رکھنے کی ہم نے پوری کوشش کی اور علامہ اقبال کی اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی کے جتنے اشعار حفظ تھے، پڑھ کر اپنے آپ پر دم کیا لیکن حقیقتاً غیرملکی سیاحوں کے سامنے ہمیں کافی سبکی محسوس ہوئی۔ ہمارے پاسپورٹ وغیرہ چیک کرنے کے بعد تفتیشی افسر نے معذرت کرکے ہمیں جانے کی اجازت دی تو ہم نے جلے دل کے ساتھ سوال کیا کہ جناب ! ایک اسلامی ملک میں مسلمانوں کےساتھ یہ امتیازی سلوک چہ معنی دارد؟ سب سیاحوں کو چھوڑ کر صرف باریش سیاحوں کو تفتیش کیلئے بلانا ایک اسلامی ملک کو زیب نہیں دیتا۔ چند لمحے بغور ہمیں دیکھنے کے بعد افسر نے کہا، حضرت آپ نے بے دھڑک صاف گوئی سے سوال کیا ہے تو ہم بھی لگی لپٹی کے بغیر بتاتے چلیں کہ آپ کے علاقے پاکستان اور افغانستان کے باشندے اکثر ہمارے لئے مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے اپنے مصری جب ان ممالک سے واپس آتے ہیں تو ایک ایسی متشدد ذہنیت لے کر آتے ہیں جس سے ہماری حکومت کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ لیکن آپ لوگ تو سٹودنٹس ہیں، ہمارے معزز مہمان ہیں۔ اس تکلیف پر آپ لوگوں سے معذرت خواہ ہوں۔ پھر ہماری کدورت دور کرنے کیلئے اس نے ایک گائیڈ کو بلایا اور اسے کہا کہ ہمیں بلا معاوضہ تمام جگہوں کی سیر کرائے اور معلومات بہم پہنچائے۔ اس افسر کی ہرزہ سرائی کے جواب میں تو ہمارا دل بہت چاہا کہ اسے کہیں کہ ہمارے علاقے کے لوگ مسلمان ہیں اور تمہاری حکومت اسلام کے نام پر دھبہ ہے اس لئے ہمارے ہاں کے لوگ تمہیں کھٹکتے ہیں۔ اسرائیل سے معاہدے اور ساز باز کر کے تمہاری حکومت نے عالمِ اسلام کے ساتھ ہمیشہ غداری کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہمیں جرأت نہ ہوئی۔ خاموش رہے اور دل کو تسلی دی کہ ان سے یہاں کی اخوان المسلین ہی بہتر طور سے نبٹ سکتی ہے۔ تم سیاح ہو، سیاحی کرو اور واپسی کی راہ لو۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

سچ اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مَرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو، جو سولی پہ چڑھو، خاموش رہو

اس طرح کے تلخ و شیریں تجربات حاصل کرتے ہم نے اسوان میں ایک دن گزارا اور اگلے دن واپس قاہرہ آگئے۔

مصر میں کئی دفعہ ہم نے اپنی عربی دانی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن منہ کی کھانی پڑی۔ اہلِ مصر کو مخاطب کرنے کے لئے ہم نے بارہا " یا ایھاالذین آمنو" کہ کر انہیں پکارا، راستہ بھول گئے تو " اھدنا الصراط المستقیم" کہہ کر ان کا ہاتھ پکڑا پر کوئی سمجھ نہ سکا نوائے دل۔ قاہرہ میں ایک دو دن شاپنگ کی ۔ ہمارا ارادہ کوہِ طور پہ بھی جانے کا تھا لیکن گھر سے والد صاحب نے کال کی اور واپس آنے کو کہا۔ چنانچہ سولہویں دن ہم سامان اور یادوں سے لدے پھندے ائیر پورٹ پہنچے۔ واپسی کے سفر میں ائیر ہوسٹس ہمیں نظر انداز کرکے ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے سپینش باشندے پر مسکراہٹ کی بجلیاں گراتی رہی اور ہم حسرت بھری آہیں بھرتے اور یہ کہتے رہے کہ

گری ہے جس پہ آج بجلی،کاش وہ میرا ہی آشیاں ہوتا

اسلام آباد پہنچ کر اور اپنے شہر کی پُرفضا ہوا میں سانس لے کر ہمیں بے اختیار پشتو کا مصرعہ یاد آیا کہ

ھر چاتہ خپل وطن کشمیر دے