01 - غزل ازآتش چاپدانوی

گردشِ وقت کے حصار میں ہے
زندگی میری انتشار میں ہے

میری تقدیر کی سحر شاید
رات کٹنے کے انتظار میں ہے

اُن کی نظروں میں اب بھی عزت ہے
میرا ماضی ابھی غبار میں ہے

مستی ایسی کہاں شراب میں جو
نیم باز آنکھوں کے خمار میں ہے

اپنی رعنائی پہ نازاں کیوں ہو
گردشِ وقت انتظار میں ہے

کیسے شاداب ہو چمن میرا
تازگی اب کہاں بہار میں ہے

اُس جلن ،اُس تپش کا کیا کہنا
جو تڑپ میں نہیں ، قرار میں ہے

فکر فردا کی کیوں کرئے آتش
کل بھلا کس کے اختیار میں ہے