02 - غزل از فرید ندوی

گل سراپا خار ہے پردیس میں
زندگی دشوار ہے پردیس میں

ہجر کے ایام کٹتے ہی نہیں
لمحہ لمحہ بار ہے پردیس میں

دردِ فرقت اور اس پر تیری یاد
جان کا آزار ہے پردیس میں

سب ہیں اپنی اپنی دنیا میں مگن
کون کس کا یار ہے پردیس میں

مال و زر ہے ، پر سُکوں ملتا نہیں
بسترِ گل خار ہے پردیس میں

عید ہو یا کوئی بھی جشنِ طرب
ہر خوشی بیکار ہے پردیس میں

آ مرے دلبر! کہ اب تیرا فرید
جان سے بیزار ہے پردیس میں

تم ہی اک مضطر نہیں ہو اے فرید
ہر بشر لاچار ہے پردیس میں