03 - غزل از ناز حسین

اک ہنستا بستا خواب سُہانا دیکھ رہی ہوں
کچھ تعبیروں سے سجا گھرانا دیکھ رہی ہوں

میری آنکھوں میں اُترا، جب وہ خواب سلونا سا
گالوں پہ اپنے، رنگوں کا آنا دیکھ رہی ہوں

تن آنگن میں جب جاگے رُت مستانی سی
بن پیئے یہ نین ہوئے مستانہ ، دیکھ رہی ہوں

نازک نازک سی وہ پیاری سی اک لڑکی!!
کچھ اُس میں ، اپنا عکس پرانا دیکھ رہی ہوں

کس کی چاہت مل جائے کس کو، جانے کون؟
اجنبی ہے تعبیر ، خواب بےگانہ دیکھ رہی ہوں

اس کی خوشیوں کو مل جائے میرے مولا دوام!
ہلتے ہوئے لب ، ہاتھوں کا اٹھانا دیکھ رہی ہوں