04 - بہت ناسمجھ ہے وہ از احسان سحر

بہت ناسمجھ ہے وہ
مجھ سے باتیں نہیں کرتی
اپنے تابندہ خیالوں کو
ڈھک کر کالی چادر سے
یوں کرتی گماں ہے کہ
اُس کی چاہت کے موتی
پوشیدہ ہیں تاریکی میں
مگر وہ بھول جاتی ہے
میری ہیں معاونینِ وفا
اُس کی جھیل سی آنکھیں
جو ہر اک راز کو اُس کے
اِس قلبِ عاجز پر
مانندِ وحی
عیاں کردیتی ہیں
شاید وہ جانتی بھی ہے
پھر بھی
مجھ سے باتیں نہیں کرتی
بہت ناسمجھ ہے وہ