06 - وداعی از آتش چاپدانوی

گھر سے بیٹی مری اب وداع ہوگئی

کتنی منت دعاؤں کا ثمرہ تھی وہ
اُس کے آنے سے آئی تھی گھر میں خوشی
اُس کی مسکان میں تھی میری زندگی
دیکھتے دیکھتے دن بھی وہ آ گیا
توتلے لہجے میں اُس نے پاپا کہا
وقت کے ساتھ پروان چڑھتی گئی
اور جوانی کی دہلیز پر آ گئی
نیک سیرت بنی، با سلیقہ بنی
ڈگری آنرز کی اُس نے کالج سے لی
فکر شادی رچانے کی اُس کی ہوئی
تب کہیں راز یہ آشکارا ہوا
یہ جو دنیا ہے بس ایک بازار ہے
دولہا بکتا یہاں ایک مانند شئے
مال و زر کے یہ بھوکے، ہوس کے غلام
ایک گاڑی ملے یہ بھی ارمان ہے
گفتگو میں شریعت کی باتیں مگر
دل میں پوشیدہ لالچ کا طوفان ہے
رشتے آتے رہے، رشتے جاتے رہے
عمر کے ساتھ فرمائشیں بڑھ گئیں
میری مایوسیوں کی طرح دن بدن
اُس کے چہرے پہ بھی جھریاں پڑ گئیں
زندگی کی کشا کش سے تنگ آخرش
کھا لیا زہر، بیٹی نے اک رات کو
مسئلے سارے اک پل میں حل کر گئی
سرخ جوڑے نہیں اُس نے پہنے تو کیا
نہ رچی اُس کے ہاتھوں میں مہندی تو کیا
کیا ہوا وقتِ رخصت وہ خاموش ہے
آج دونوں کے غم کا مداوا ہوا
چین کی نیند بیٹی مری سو گئی
لاڈلی اپنے گھر سے وداع ہو گئی
میرے مالک مری تجھ سے ہے التجا
ایک مظلوم کی آج سُن لے دعا
ہم غریبوں پہ بس اتنا احسان کر
بیٹی ہرگز نہ دے ایک مفلس کے گھر