05 - ماں از ماریہ کلام

گلی کے کونے پہ بیٹھا
دیر تلک تکتا رہا
ہر آنے جانے والے سے
اُس کا پتہ پوچھتا رہا
جانے کیوں
ہر کوئی مجھے افسوس سے دیکھتا رہا
شام ہوئی رات ہوئی
ہر گھڑی تمام ہوئی
نہ کوئی آہٹ، نہ کوئی آواز
نہ پیار بھرا وہ لمس۔۔۔
آنکھیں بے نور ہوئیں
گرد سے اٹے ہیں بال
سب جگہ کیا تلاش
ہر در ہے کھٹکھٹایا۔۔۔۔
اے خدا اے خدا
تو ہی بتا۔۔۔
کہاں ملے گی مجھے
میری ماں!!!!!!