09 - مجھے اے زندگی از ریحانہ قمر

مجھے اے زندگی ! تجھ سے مکرنا پڑ رہا ہے
کبھی ٹوٹی تھی لیکن اب بکھرنا پڑ رہا ہے

تھکی ہاری کو آنگن کا شجر ملتا نہیں تھا
میرے کاندھے پہ چڑیا کو اُترنا پڑ رہا ہے

اُسی رستے پہ جس پر تم بچھا دیتے تھے آنکھیں
اُسی رستے پہ اب جاں سے گزرنا پڑ رہا ہے

ابھی آیا نہیں اپنے جدا ہونے کا موسم
محبت میں ہمیں بے وقت مرنا پڑ رہا ہے

یونہی تم نے لکیریں کھینچ دی تھیں کاغذوں پر
مجھے ان میں وفا کا رنگ بھرنا پڑ رہا ہے

بچھڑ کر تم سے لوگوں کی نہ سُن سکتی تھی باتیں
قمر کو آج مجبوراً سنورنا پڑ رہا ہے