06 - مقناطیس از امان

مقناطیسی میدان کیا ہے

مقناطیس کے اردگرد کا علاقہ جس میں مقناطیسی (میگنیٹک) قوت دیگر اشیاء پر اثرانداز ہوتی ہے۔ فیلڈز کا تصور پہلی مرتبہ انگلش ماہر طبیعیات سر آئزک نیٹون نے متعارف کروایا تاکہ کشش ثقل کی قوتوں کی وضاحت کی جاسکے۔ بعد ازاں مائیکل فیراڈے نے اس کی مدد سے الیکٹرو میگنیٹک قوتوں کی وضاحت کی۔ کشش ثقل اور الیکٹرو میگنیٹک قوتیں دور سے ہی عمل کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ کشش ثقل اور الیکٹرو میگنیٹک قوتیں دور سے ہی عمل کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ بہت بڑے اجسام ایک دوسرے پر ایک قوت ڈالتے ہیں، اور الیکٹران و پروٹان جیسے باردار ذرات دیگر باردار ذرات پر قوت سے اثرانداز ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست کوئی رابطہ نہیں بناتے۔ چناچہ باردار ذرات اور بڑے بڑے اجسام کو الیکٹرو میگنیٹک اور کشش ثقل کی قوتوں کے ماخذ بتایا جاتا ہے۔ یہ فیلڈز ساری خلاء میں محیط ہیں اور دیگر اشیاء پر قوت ڈالتے ہیں۔

الیکٹرو میگنٹ کیسے بنتا ہے

جب کسی تار میں سے الیکٹرک کرنٹ گزرتا ہے تو ایک مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔ اگر تار کسی لوہے کی چیز کے گرد لپٹی ہو تو وہ کرنٹ گزرنے پر مقناطیسی بن جائے گی۔

مقناطیس کے قطب کیا ہیں

کرہٴ ارض کی طرح ہر مقناطیس کا ایک شمالی اور ایک جنوبی قطب ہوتا ہے۔ اگر مقناطیس کو خودبخود گھومنے دیا جائے تو شمالی قطب ہمیشہ کرہٴ ارض کے قطب شمالی کی جانب گھوم جائے گا، جبکہ جنوبی قطب کا رخ کرہٴ ارض کے قطب جنوبی کی طرف ہوگا۔ درحقیقت کرہٴ ارض کے قطب شمالی کا مقناطیسی قطب جنوبی ہے، اسی لیے مقناطیس کا شمالی قطب اس کی جانب جاتا ہے۔

قطب نما کیسے کام کرتا ہے

اگر ہم وینس، مریخ یا شاید پلوٹو پر آباد ہوتے تو مقناطیسی قطب نما کی مدد سے سمتوں کا درست تعین نہ کر پاتے۔ اس کا دارومدار کرہٴارض کے اندر مقناطیسی حصے پر ہوتا ہے۔ یعنی آپ چاہے کہیں بھی کھڑے ہوں لیکن سوئی ہمیشہ شمالاً جنوباً ہی ہوگی۔ اس کے علاوہ عطارد، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کے لیے بھی یہ بات درست ہے کیونکہ ان کا اندرون بھی مقناطیسی ہے۔ بحری جہازوں، ہوائی جہازوں اور گاڑیوں کی سمت درست رکھنے کے لیے آج بھی قطب نما استعمال ہوتے ہیں۔ مقناطیسی قطب نما کا آغاز بارہویں صدی کے دوران یورپ اور چین کے بحر پیماؤں نے کیا، قطب نما کی کارکردگی کو سمجھنے کے لیے کرہٴارض کو ایک بہت بڑا مقناطیس تصور کریں جس کی دو سمتیں: شمال اور جنوب، ہیں جس کی وجہ سے مقناطیسی چیز کا رخ بھی یہی ہوتا ہے۔ تاہم، یہ رخ عین شمالی سمت میں نہیں بلکہ تھوڑا سا ایک طرف کو ہوتا ہے۔ مگر اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

الیکٹرو میگنٹس (برقناطیس) عام مقناطیس سے کس طرح بہتر ہیں

الیکٹرو میگنٹ یا برقناطیس کرنٹ آف ہونے پر مقناطیسی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ چھوٹی اور بڑی مشینوں میں یہ بات بڑی کارآمد ہے۔ مثلاً ایک طاقت ور مقناطیس، فیکٹری میں لوہے کے کافی بھاری وزن اٹھا سکتا ہے۔ لیکن وزن کو دوسری جگہ پر رکھنے کے لیے اگر مقناطیسی قوت کو ختم نہ کیا جاسکے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ الیکٹرو میگنٹس کا کرنٹ آف کیے جانے پر ایسا ممکن ہوجاتا ہے۔

مقناطیسیت، آتش بازی کا منطر کیسے پیدا کرتی ہیں

کرہٴارض کے شمالی اور جنوب قطب سورج سے آنےو الے باردار (چارجڈ) ذرات کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ یہ کرہٴفضا کے اندر گیس کے مالیکیولز کے ساتھ ٹکرا کر آتش بازی کے زبردست مظاہرے پیش کرتے ہیں۔ آرکٹک سرکل سے ان روشنیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

مقناطیسی ٹرینیں کیا ہیں

جاپان میں مقناطیسی ٹرینیں اپنی پٹریوں سے کچھ انچ اوپر چلتی ہیں۔ ٹرینوں کا نچلا حصہ اور پٹری دونوں مقناطیسی ہوتے ہیں۔ یہ مقناطیس ایک دوسرے کو دفع کرتے اور ٹرین کو آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح رگڑ کی قوت کے بغیر نہایت تیز رفتار ٹرینیں چلانا ممکن ہوا۔

الیکٹرو میگناٹزم کس نے دریافت کیا

اس کی دریافت کا سہرا ڈینش ماہر طبیعیات ہانس کرسٹیان اورسٹیڈ کے سر ہے۔ اس نے سن 1820 میں غور کیا کہ الیکٹرک کرنٹ قطب نما کی سوئی کو پرے ہٹا سکتا تھا۔

مقناطیس ری سائیکلنگ میں کیسے مدد دیتے ہیں

ٹین کے cans کو پگھلا کر ری سائیکل کرنے سے قبل لوہے اور ایلومینیم کے cans کو الگ الگ کرنا ضروری ہے۔ چونکہ ایلومینیم کے کین مقناطیس کے لیے کشش نہیں رکھتے، اس لیے کین کے ڈھیر پر ایک بہت بڑا مقناطیس لایا جاتا ہے جو لوہے کے کینز کو الگ کرلیتا ہے۔

لفظ میگنٹ کیسے بنا

میگنٹس کا یہ نام پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ قدیم یونانیوں نے میگنیشیا نامی علاقے سے ایسے پتھر حاصل کیے جو مقناطیسی قوت رکھتے تھے۔ عربوں نے میگنٹ کو مقناطیس کہا کیونکہ عربی زبان میں "گ" نہیں بولا جاتا۔

لوڈ سٹون کیا تھا

مقناطیسی قطب نما کا آغاز بارہویں صدی کے دوران یورپ اور چین کے بحر پیماؤں نے کای جنہوں نے دریافت کیا تھا کہ جب "lodstone" (معدنی مقناطیس) کے ٹکڑے کو پانی میں رکھا جائے تو اس کا رخ شمالی قطبی ستارے کی جانب ہوجاتا تھا۔ انہیں اس میں دلچسپی پیدا ہوئی اور تجربات ہونے لگے۔ جلد ہی پتا چلا کہ اس مقناطیسی پتھر کو دھات کے ٹکڑے کے ساتھ رگڑا جائے تو وہ بھی مقناطیسی بن جاتا ہے۔