01 - چاکلیٹی ہیرو از دلسپند

بہت کم ایسے خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جو شہرت کی بلندیوں کو چھوتے ہیں ان میں سے بھی ہزاروں میں سے ایک ہوتا ہے جو محبوبیت کے درجہ کو پہنچتا ہے۔
چاکلیٹی ہیرو وحید مراد ان چند گنے چنے لوگوں میں سے ایک تھا جو شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر محبوبیت کے درجہ تک پہنچا۔ لوگ اس کے انداز کو اپناتے ہوئے خوش ہوتے تو کوئی اس کے بالوں کا اسٹائل اپناتے۔ کوئی اس کی چال ڈھال اپناتے تو کوئی اس کے انداز میں ڈائلاگ بولنے کی کوشش کرتے۔
وحید مراد 2 اکتوبر1938ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم کراچی گرائمر سکول، گریجویشن ایس ایم آرٹس کالج کراچی سے کیا۔ انگلش لٹریچر میں ماسٹر کراچی یونیورسٹی سے کیا۔
وحید مراد منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ اس کے والد نثار مراد ایک کامیاب اور مشہور فلم تقسیم کار تھے۔ اس لئے وحید مراد کو فلموں میں کام کرنے کے لئے بسوں، تانگوں وغیرہ میں دھکے کھانے نہیں پڑے۔ اور نہ ہی اسے کام حاصل کرنے کے لئے ہدایت کاروں، پروڈیو سروں وغیرہ کی منتیں کرنی پڑیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چل دئے۔
بطور پروڈیوسر اس نے فلم" انسان بدلتا ہے" جو کہ 1961ء میں ریلیز ہوئی، سے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس کی بطور اداکار پہلی فلم ایس۔ایم یوسف کی ڈائریکٹ کی ہوئی "اولاد" تھی، جوکہ 1962ء میں ریلیز ہوئی یہ فلم کامیاب ہوئی اور اگلے سال1963ء میں ریلیز ہونے والی قدیر غوری کی فلم" دامن" بھی سپرہٹ ثابت ہوئی۔
وحید مراد نے "فلم آرٹس" کے نام سے اپنا فلمی ادارہ بنایا۔ جب ان کے دیرینہ اور بچپن کے دوست پرویز ملک امریکہ سے فلم سازی کا ڈپلومہ لے کر واپس آئے تو وحید مراد نے اپنے دوست کی مدد سے"فلم آرٹس" کے بینرز تلے ایک فلم" ہیرا اور پتھر" کا آغاز کیا۔ یہ فلم وحید مراد نے خود پروڈیوس کی اور بطور ہیرو کام کیا۔ فلم 1964ء میں ریلیز ہوئی اور یہ گولڈن جوبلی ہٹ ثابت ہوئی۔
وحید مراد نے ہدایت کار پرویز ملک، موسیقار، سہیل رعنا، نغمہ نگار مسرور انور کے ساتھ مل کر ایک ایسی ٹیم بنائی جس نے پے در پے بہت کامیاب فلمیں پاکستان کو دیں اور اپنے فلمی ادارے" فلم آرٹس" کے بینرز تلے اس ٹیم نے بہت کامیاب فلمیں بنائی۔ جن میں ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان، دوراہا جہاں تم وہاں ہم "فلمیں قابل ذکر ہیں۔ فلم آرٹس کے بینرز تلے بنی وحید مراد کی اپنی فلم "ارمان" پہلی پاکستانی پلاٹینیم جوبلی فلم تھی۔ جو کہ 1966میں ریلیز ہوئی۔ فلم "ارمان" کی کہانی وحید مراد کی سوچ تھی۔ پروڈیوس بھی خود کی ہیرو کا کردار بھی خود کیا۔ اس فلم نے فلم انڈسٹری کے گذشتہ سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس فلم کےگانے" اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم"جسے احمد رشدی، پھر گلوکارہ مالا کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ دوسرا گانا احمد رشدی کا گایا "کوکو رینا" تھا یہ دونوں گانے بہت مقبول ہوئے جو کہ آج بھی پسند کئے جاتے ہیں1965ء تا1975 ء یہ بلاشبہ وحید مراد کے جوبن کا دور تھا۔ حالانکہ اس وقت محمد علی ،ندیم، حبیب، سنتوش، رنگیلا، شاہد، وغیرہ بھی ہیرو تھے۔ مگر وحید کی زیادہ فلمیں گولڈن جوبلی سلور جوبلی ثابت ہوتی رہیں۔ حاسدوں نے وحید مراد کی اس ٹیم کو چنڈال چوکڑی کا نام دے رکھا تھا۔ جب بھی اس ٹیم کی کسی نئی فلم کا اعلان ہوتا تو دشمنوں کے سینوں پر سانپ لوٹ جاتے تھے اور مزے کی بات یہ کہ اس ٹیم کی بنائی زیادہ تر فلمیں گولڈن جوبلی ثابت ہوئیں۔
1967ء میں ریلیز ہونے والی فلم "دیور بھابھی" گولڈن جوبلی فلم تھی۔ یہ فلم وحید مراد کی بیسٹ فلم ہے اس فلم میں وہ اداکاری کے جوبن پر نظر آئے۔ اس فلم نے سینماؤں میں پچاس ہفتے مکمل کئے۔ وحید مراد نے اردو فلموں کے علاوہ پنجابی فلموں میں بھی کام کیا۔ ہدایت کار افتخار خان کی پنجابی فلم"مستانہ ماہی" 1971ء میں ریلیز ہوئی۔ جو وحید مراد کی پہلی پنجابی فلم تھی۔
یہ فلم بھی گولڈن جوبلی ثابت ہوئی اس فلم کا ایک گانا"سیونی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آگیا" بہت ہٹ ہوا اور گلی گلی گونجنے لگا۔
وحید مراد نے جو بھی کردار کیا اس میں ڈوب کر اداکاری کی۔ اس کی اداکاری پر سچ کا گمان ہونے لگتا تھا۔ جبکہ وہ گانا پکچرائز کرانے میں ملکہ رکھتے تھے۔ احمد رشدی کے گائے گانوں پر اس نے اس غضب کی اداکاری کی اور اس طرح فلمایا کہ گمان ہوتا تھا۔ یہ گانا وہ خود گارہے ہیں۔ وحید مراد واحد اداکار تھے جس کے بہت مداح تھے ان کے مداحوں نے ان کےنام پر فین کلب بنائے۔ لوگ اس کے ہیر اسٹائل کو اپنا کر خوشی محسوس کرتے تھے۔
وحید مراد نے تقریبًا 123 فلموں میں کام کیا جس میں دس پنجابی اور ایک پشتو فلم شامل ہے انھوں نے اپنے دور کی تقریبًا سبھی ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا۔

وحید مراد کا زوال

جہاں عروج پہ پہنچو زوال ہوتا ہے۔ کسی پر زوال جلدی آتا ہے تو کسی پر دیر سے۔ اس چاکلیٹی ہیرو پر بھی زوال آیا۔ بلکہ ایسا زوال آیا کہ وہ اپنی سُد بد کھو بیٹھا اور شراب میں پناہ ڈھونڈنے لگا۔ وحید مراد نے اپنے زوال کو خود آواز دی تھی بقول اس کے دوست ہدایت کار، پرویز ملک کے پے درپے کامیابیوں نے وحید مراد کا دماغ خراب کردیا تھا۔ اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے اسے بانٹ کر کھانے کی عادت نہیں تھی۔ اس لیے وہ ہر کامیاب ہونے والی فلم کا کریڈٹ اپنے سر لینے کا خواہش مند تھا۔ اس وجہ سے سب سے پہلے اس کے دوست اور ٹیم کے اہم ستون پرویز ملک اس سے خفا ہوئے پھر اس کی ٹیم کو ہی چھوڑ دیا اور پھر موسیقار سہیل رعنا، نغمہ نگار مسرور انور بھی اس کے غرور اور گھمنڈ سے عاجز آکر اسے چھوڑ گئے۔

اپنے دوستوں کے چلے جانے کے بعد وحید میراد نے ایک فلم بنائی جس کانام "اشارہ"تھا۔ انھیں گمان تھا کہ وہ اپنے دوستوں کے بغیر بھی کامیاب فلمیں بنا سکتے ہیں اور یہ کہ ادارہ "فلم آرٹس" اس کی بدولت ہی چل رہا ہے۔
فلم "اشارہ"کی ڈائرکشن بھی اس نے خود دی۔ یہ فلم بری طرح فلاپ ہوئی اور وحید مراد کے ارمانوں پر پانی پھیر گئی۔ چاکلیٹی ہیرو کے لئے یہ ناکامی ایک انوکھا تجربہ تھا۔ ابھی وہ اپنی اس ناکامی کے لگے زخم چاٹ رہا تھا کہ اداکارہ زیبا نے اس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ اس کی شادی محمد علی کے ساتھ ہوگئی تھی اور وہ اب فلموں میں صرف محمد علی کی ہیروئن بننا چاہتی تھی۔

کچھ عرصے تک اس نے شبنم کے ساتھ فلمیں کی، مگر روبن گھوش کے منع کرنے پر شبنم بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ اسی دوران نشو کو بھی اس کے شوہر نے وحید مراد کے ساتھ کام کرنے سے منع کردیا۔ یہ پے درپے حادثات اس کے دماغ کو ٹھکانے لگانے کے لئے کافی ثابت ہوئے۔ دوسری وجہ زوال کی یہ بھی ہے کہ فلم سازوں نے اسے مخصوص قسم کی اداکاری کے لئے مختص کردیا تھا۔ جبکہ فلم بین ایک ہی قسم کے رومانوی کردار دیکھ دیکھ کر تھک گئے تھے۔

1978ءمیں تین فلمیں اور 1979ء میں بھی یکے بعد دیگرے تین فلمیں ناکام ہوئیں۔ جبکہ اس کے دوست پرویز ملک کی فلمیں دھڑا دھڑ کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی تھیں۔ پرویز ملک نے ڈھاکا سے آنے والے نئے ہیرو ندیم کو لے کر فلمیں بنانی شروع کی تھیں۔ جو کہ کامیاب ہونے لگی تھیں۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب اسے محمد علی اور ندیم جیسے اداکاروں کے ساتھ بطور سائیڈ ہیرو کام کرنا پڑا۔ اس کے دماغ میں کامیابیوں کا ایسا نشہ چھایا ہوا تھا کہ ہیرو کے علاوہ کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ فلم سازوں، پرڈیوسروں وغیرہ سے صرف ہیرو کے کردار مانگتا تھا جبکہ اس کی پے درپے فلم فلاپ ہونے کی وجہ سے کوئی اسے ہیرو کے طور پر اپنی فلم میں لینا نہیں چاہتا تھا یا شاید اب عوام بھی اسے دیکھنے سے انکاری تھے۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کے پاس کوئی فلم نہیں تھی تو اسے مشہور اداکار بدرمنیر، نے ازراہ ہمدردی اسے پشتو فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی۔(بدرمنیر وحید مراد کے سابقہ کار ڈرائیور تھے اور وحید مراد نے اس کے کہنے پر اسے فلموں میں چانس دیا تھا بعد میں بدرمنیر ایک کامیاب ہیرو کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے)۔

اس طرح وحید مراد نے پشتو فلم "پختون پہ ولایت کنبہ" نامی فلم میں ہیرو کا کردار ادا کیا جبکہ ہیروئن کا کردار اداکارہ سائرہ بانو نے ادا کیا۔

1980ء کا سال وحید مراد کے لیے ناکامی، مایوسی کا سال ثابت ہوا۔
دشمن تو "فلم آرٹس"کا کچھ نہ بگاڑ سکے مگر وحید مراد نے اپنے دوستوں کو ناراض کرکے اپنے زوال کو آواز دی اس طرح "فلم آرٹس" کا بھی شیرازہ بکھر گیا۔ ناکامیوں سے تنگ آکر اس نے نشیلے تمباکو، شراب اور نیند کی گولیوں سے دل لگالیا۔ نیند کی گولیوں کی ڈبی ہر وقت اس کی جیب میں رہنے لگی۔

اپنی اکتاہٹ اور بے چینی دور کرنے کے لئے اس نے انتہائی تیز رفتاری سے کار چلانے کا مشغلہ اپنا لیا۔ جس کی وجہ سے کئی مرتبہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا لیکن ایک دفعہ اسی تیز رفتاری کے باعث اس کی کار ایک درخت سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں اس کے چہرے پر ایک گہرا داغ پڑ گیا۔ اس کی اب تمام تر توقعات اپنی آنے والی فلم "ہیرو" سے وابستہ تھیں۔ ہیرو میں اس کا کام ابھی کچھ باقی تھا۔ اس لئے وہ اپنے چہرے کی سرجری کرانے کراچی چلے گئے۔ کراچی میں اب اس کا ہنستا بستا گھر نہیں رہا تھا۔

روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر اس کی بیوی سلمٰی امریکہ چلی گئی۔ جبکہ بیٹا عادل اور بیٹی عالیہ اپنی نانی کے پاس رہنے لگے۔ اسی دوران اسے معدے کے السر کی شکایت ہوگئی اور نوبت ایک پیچیدہ آپریشن تک جا پہنچی۔ جس کے بعد اس کا وزن کافی حد تک کم ہوگیا۔ آپریشن سے ایک دن پہلے اس نے اپنے بیٹے کی دھوم دھام سے سالگرہ منائی اور رات کو سونے کے لیے اپنی منہ بولی بہن ممتاز ایوب کے گھر چلے گئے۔ اس رات کو کیا ہوا کوئی نہیں جانتا۔ صبح جب دن چڑھے کمرے کا دروازہ نہیں کھلا تو میزبانوں کو دروازہ توڑنا پڑا۔ کمرے کے فرش پر چاکلیٹی ہیرو مردہ پڑا تھا۔ زیادہ تر کا خیال ہے کہ اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ اس طرح 23نومبر1983ء کو وحید مراد اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلے گئے۔

وحید مراد کی پلاٹینیم فلمیں: ارمان، انجمن، آواز
ڈائمنڈ جوبلی فلم: شبانہ۔

گولڈن جوبلی فلمیں: اولاد، دامن، ہیرا اور پتھر، دیور بھابھی، دل میرا دھڑکن تیری سالگرہ، عندلیب، نیند ہماری خواب تمہارے، مستانہ ماہی، دولت اور دنیا، بہاروں پھول برساؤ، عشق میرا نا، تم سلامت رہو، پھول میرے گلشن کا، دشمن، شمع، محبت زندگی ہے، صورت اور سیرت، جب جب پھول کھلے، سہیلی،پرکھ، بہن بھائی، خدا اور محبت، پیاری، کالا دھندا گورے لوگ، کرن اور کلی، پختون پہ ولایت کنبہ۔

سلور جوبلی فلمیں: عید مبارک، جوش، جاگ اٹھا انسان، بھیا، انسانیت، احسان، دوراہا، پھر صبح ہوگی، ماں باپ، رشتہ ہے پیار کا، سمندر، جہاں تم وہاں ہم، اک نگینہ، افسانہ، نصیب اپنا اپنا، زندگی اک سفر ہے، جال، انہونی، ننھا فرشتہ، حقیقت، دیدار، زبیدہ، و قت، وعدہ، خریدار جیو اور جینے دو، گونج اٹھی شہنائی، آپ کا خادم، اپنے ہوئے پرائے، آدمی، نذرانہ، یہاں سے وہاں تک، ترانہ، نشانی، ضمیر، بدنام، گن مین، میرے اپنے، دل نے پھر یاد کیا، گھیراؤ، مانگ میری بھر دو، ہیرو۔

سپرہٹ فلمیں: جوگی، لاڈلا، تم ہی ہو محبوب میرے، بہو بیگم۔

فلاپ فلمیں: ممتا،ساز اور آواز، ہونہار، جان آرزو، اشارہ، ماں بیٹا، بے وفا، پھر چاند نکلے گا، چاند سورج، رم جھم، افسانہ، خاموش نگاہیں، ہل اسٹیشن، ناگ منی، بندگی، ملاقات، خواب اور زندگی، پیار ہی پیار، مستانی محبوبہ، سیونی میرا ماہی، اسے دیکھا اسے چاہا، لیلٰی مجنوں، عزت، دل ربا، راستے کا پتھر، ناگ اور ناگن، محبوب میرا مستانہ، زیب النساء، ثریا بھوپالی، پرستش، اکھ لڑی بدوبدی، انسان اور شیطان، شیشے کا گھر، راجہ کی آئے گی بارات، چھوٹے نواب،بندھن، انوکھا داج، پرواہ نی، آئی لو یو، آہٹ، ووٹی جی، زلزلہ۔