02 - راجر فیڈرر از مون

منزل تک پہنچنے کے لئے محنت، لگن اور اپنے کام سے ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہی اک ادا پسند آئی قُدرت کو راجرر فیڈرر کی۔

آٹھ اگست 1981 کو سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہونے والے ٹینس کی دُنیا کے کامیاب، خوش مزاج اور خوبصورت راجرر فیڈرر کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔

چار سال کی عمر سے ٹینس میں دلچسپی رکھنے والے فیڈرر نے چھ سال کی عمر میں سکول کی طرف سے باقاعدہ سکواش، ٹیبل ٹینس اور فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔

آٹھ سال کی عمر میں پروفیشنل کلب کی ممبر شپ لی جہاں ان کے نیچرل ٹیلنٹ اور شارپ سروس کو کلب انتظامیہ اور Adolf Kacovsky نے محسوس کر کے علیحدہ سے پرائیوٹ کوچنگ فراہم کی۔

بارہ سال کی عمر تک یہ، کلب لیولز پر مختلف گیمز کھیلتے رہے۔ انہی دنوں ان کے کوچ نے ان سے پوچھا کہ ان کی خواہش کیا ہے۔ جب راجر نے یہ کہا کہ دُنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی لسٹ میں اپنا نام شامل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو کوچ سمیت سبھی نے ان کی ہنسی اُڑائی۔ یا یہی کہا کہ تُم زیادہ سے زیادہ یورپ کے اچھے کھلاڑی بن سکتے ہو۔

اس بات نے ان پر شاید زیادہ ہی اثر کیا۔ ٹھیک دو سال بعد یعنی چودہ سال کی عمر میں سوئٹزر لینڈ کی ٹینس چمپئن شپ ان کے پاس تھی۔

اُنیس سو اٹھانوے میں جونئیر لیول ومبلڈن ٹائٹل جیت کر انٹرنیشنل لیول پر اپنی پہچان کرائی اور اگلے سال کے اینڈ تک پہلے سو کی رینکنگ میں ان کا نمبر 66 تھا اور سب پلیئزر میں سے کم عمر بھی یہی تھے۔

اس کے بعد انہوں نے پھر کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔

بہت سے نشیب و فراز اور شکستوں سے ہمکنار ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور آج سولہ گرینڈ سلیم سمیت بہت سے ریکارڈز ان کے نام کے ساتھ نتھی ہیں۔

تاحال ٹینس کی رینکنگ میں وہ پہلے نمبر پر ہیں۔ ان کا ریکارڈ 237 ہفتے، پہلی پوزیشن ہولڈ کرنے کا بھی رہا ہے۔ بیجنگ اولمپک میں ڈبلز میں گولڈ میڈل بھی جیت چُکے ہیں۔

دوسرا ریکارڈ ابھی تک مرد ٹینس پلیئزر میں سولہ 16 Grand Slam جیتنے کا ہے۔ چھ چمیپئن شپس میں ہار کر دوسرے نمبر پر رہے۔

کھلاڑی کسی بھی میدان کا ہو۔ اک بات سب میں مشترک ہے کہ ہر کسی نے گِر کر سنبھلنا اور پھر پہلے سے بھی زیادہ ہمت اور محنت سے کھڑے ہو کر جم کر میدان اپنے ہاتھ میں کرنا سیکھا۔ تبھی اپنی جیت کا مان رکھنے میں کامیاب رہیں۔ جو لوگ ہارنا نہیں سیکھتے ان کو جیتنے اور اس جیت کو سنبھالنے کے ادب، آداب بھی نہیں آیا کرتے۔

دُنیا کا کام ہنسی اُڑانا اور حوصلے پست کرنا ہے۔ جو لوگ ان سب کو نظر انداز کر کے اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں وہی ایک دن چاند بن کر چمکتے ہیں اور دُنیا کی آنکھیں خیرہ کرتے ہیں۔ بس ہمت کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔