01 - میں اور ون اردو ۔ ابتدائی دنوں کا کچھ احوال از یازغل

کہتے ہیں کہ کچھ چیزیں یا کچھ مناظر یا کچھ لمحے انسان کے مقدر میں لکھ دیئے جاتے ہیں۔ یعنی انسان ان کے حصول یا ان سے ملنے کی کوشش نہیں کرتا، لیکن بس کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ ایک دن قسمت آپ کو وہاں لے جاتی ہے جہاں کا کبھی قصد نہیں کیا ہوتا۔
کچھ ایسا ہی احوال اپنے ساتھ بھی ہوا۔ کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا کہ ون اردو جیسی کسی جگہ سے بھی ناطہ جڑ جائے گا۔ بے شمار ایسے دوست، بہن، بھائی بن جائیں گے جن کو نہ کبھی دیکھا ہو گا اور نہ ہی شاید مستقبل میں بھی دیکھنا یا ملنا ہو گا۔ لیکن اس کے باوجود سب لوگ اپنے اتنے قریب قریب لگیں گے۔

ون اردو اور اپنی ملاقات کی کہانی:
کافی سال پرانی بات ہے۔ میں ان دنوں لاہور میں جاب کر رہا تھا۔ انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد یہ نئی نئی جاب تھی۔ کئی اور کلاس فیلوز بھی لاہور میں جاب کر رہے تھے۔ بس اپنا مزاج باقی سب سے کچھ مختلف ہی تھا۔ شاموں کو لوگ کے ایف سی، ایم ایم عالم روڈ، "ملاقاتوں" وغیرہ کے پروگرام بنا رہے ہوتے تھے۔ جبکہ اپنی شامیں کسی نہ کسی لائبریری یا اردو بازار وغیرہ کا چکر لگاتے گزرتی تھیں۔ ہر اتوار کو انارکلی بازار کے سامنے لگنے والا پرانی کتب کا میلہ تو اتنا ہی اہم تھا کہ اس کو کبھی مس نہیں کیا تھا۔ ایسے ہی ایک اتوار کو ایک بزرگ آدمی کو ہاتھ سے لکھی ایک فہرست ہاتھ میں پکڑے ابنِ صفی کے ناولز کے ڈھیر میں سے ناولز تلاش کرتے دیکھا۔ ان سے کچھ بات چیت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ناول بہت پہلے پڑھے تھے، اور اب ایک بار پھر ان کوجمع کر رہا ہوں۔ جو جو مل رہے ہیں ان کو اس فہرست پہ نشان لگا دیا ہے۔ میں چند ناول ان سے پہلے ہی لے چکا تھا، ان کو آفر کی کہ اگر آپ کے مطلوبہ ناولز میں سے کوئی ان میں ہے تو آپ لے سکتے ہیں، میں کوئی اور لے لوں گا۔ اس کے بعد وہ اپنے کام میں مصروف ہو گئے اور میں اپنے کام میں۔
اس کے بعد کئی سال بیت گئے۔ لاہور کے روز و شب قصۂ پارینہ بن گئے۔ میں نے انٹرنیٹ کے لئے اپنے کمرے میں نیا نیا وی پی ٹی سی ایل کنکشن لگوایا تھا۔ نیٹ پہ کوئی اور ایکٹیویٹی تو تھی نہیں، بس ان دنوں وکی پیڈیا سے نئی نئی جان پہچان ہوئی۔ میں روزانہ ہی اس پہ بے شمار ٹاپکس سرچ کرتا تھا۔ حتٰی کہ ایسا مرحلہ آ گیا کہ جو ذہن میں آتا، وہ وکی پیڈیا پہ لکھ کے سرچ کر لیتا۔ ایسے ہی ایک دن بور ہو رہا تھا کہ بس اچانک ہی ذہن میں وہ بات آ گئی کہ ان بزرگ کے پاس وہ فہرست کہاں سے آئی ہو گی۔ اور مزید یہ بات ذہن میں آئی کہ اس کو انٹرنیٹ پہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ویسے تو مجھے یقین تھا کہ انٹرنیٹ پہ اردو کتب کا کچھ نہیں ملنے لگا۔ لیکن کہیں یہ سنا تھا کہ سنگِ میل پبلشر وغیرہ کی ویب سائٹ ہے جہاں ان کی کتب کی فہرست وغیرہ موجود ہوتی ہے۔ تو شاید اسی طرح ابنِ صفی کے ناول شائع کرنے والے ادارے کی بھی ویب سائٹ ہو۔
تو انگلش میں ہی کچھ الفاظ لکھ کے گوگل پہ سرچ کیا۔ حیرانی ہوئی کہ کافی سارے لنکس نظر آئے، ان میں وکی پیڈیا بھی تھا۔ چند لنکس کو کھول کے دیکھا تو کسی ایک جگہ ایک ناول بھی پڑا نظر آیا۔ شاید وہ کتاب گھر پہ یونی کوڈ سے بنی پی ڈی ایف کی شکل میں تھا۔ اب مزید کچھ تجسس ہوا کہ دیکھوں تو اور کتنے ناول موجود ہوں گے۔ مزے کی بات یہ کہ میرے نزدیکی لائبریری میں ابنِ صفی کے ناولز موجود تھے، یعنی مجھے انٹرنیٹ پہ ان کی ضرورت نہیں تھی، لیکن بس تجسس کے مارے یہ سب ہوتا گیا۔ مزید ڈھونڈا تو ایک دو سائٹس پہ چند ایک اور ناولز بھی مل گئے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ اور کتابیں بھی نظر آئیں۔ تو مزید تجسس کی وجہ سے سرچ کرتا گیا۔ اسی چکر میں ون اردو کا بھی چکر لگ گیا۔ لیکن یہاں ممبر بنے بغیر لنکس نظر نہیں آتے تھے، تو مجبورا" ممبرشپ بھی لے لی اور لنکس وغیرہ دیکھ کے ون اردو کو بھول بھال گیا۔
اس کے ایک ڈیڑھ ماہ کے بعد ٹیم اردو کی ای میل ملی کہ بھئی آپ نے ابھی تک ایک بھی پوسٹ نہیں کی۔ اگر میں آپ کی مزید کچھ مدد کر سکوں تو بتائیے گا،وغیرہ۔
تو بس کچھ سوچ کے پھر ایک چکر لگا لیا۔ شاید کوئی کتاب ریپڈ شیئر وغیرہ پہ پڑی تھی جو کہ میرے نیٹ کنکشن سے ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکتی تھی۔ تو ایک پوسٹ لکھ کے گزارش کی کہ بھائی یہ کتاب مجھے اس ایڈریس پہ ای میل کر دیں تو نوازش ہو گی۔
اس کے بعد چند چکر یہ دیکھنے کے لئے لگا لئے کہ شاید کوئی بندہ جواب دے ہی دے۔ اسی دوران ایک ٹاپک پہ نظر پڑی کہ کوئی سوال و جواب چل رہا تھا۔ سوال کچھ مشکل تھا، لیکن اس کا جواب مجھے آتا تھا، تو میں نے جواب وہاں لکھ دیا جو کہ درست قرار پایا۔
بس اس کے بعد آنا جانا شروع ہو گیا اور پھر ایسا تعلق جڑتا گیا کہ اب ون اردو ہے اور ہم ہیں۔ کبھی گاڑی چلاتے ہوئے، کبھی جہاز کے اندر سے، کبھی بس میں بیٹھے ہوئے جہاں جہاں ون اردو پہ لاگ ان ہونے کی آپشن ہو تو ون اردو پہ لاگ ان ضرور ہوتا ہوں۔

ون اردو کے ابتدائی دنوں کا احوال:
اگرچہ میں ون اردو کے بالکل شروع کے ممبرز میں سے نہیں ہوں لیکن اس کے ابتدائی دور کا کچھ حصہ ضرور دیکھا ہے۔ ون اردو کے نام سے یہ فورم اپریل ۲۰۰۷ میں شروع ہوا تھا، جبکہ میں اس کا ممبر جون میں بنا تھا جبکہ میں نے اپنی پہلی پوسٹ کہیں اگست کے وسط میں جا کے کی تھی۔ بہرحال ابھی کے مقابلے میں اس کو بھی ون اردو کا ابتدائی دور ہی کہا جا سکتا ہے۔

ابتدائی دور کی بات چیت:
اس وقت فورم پہ زیادہ بورڈز نہیں تھے۔ ناولز کے لنکس اور چند ایک سکین شدہ ناولز کے لئے ایک دو بورڈز تھے۔ ایک شاید خواتین سیکشن کا بورڈ تھا، جبکہ ایک اسلامی سیکشن کا بورڈ تھا اور دو تین بورڈز آئی ٹی، موبائل، کمپیوٹر وغیرہ سے متعلق تھے۔ لیکن فورم کا سب سے مصروف بورڈ جو تھا، وہ تھا جنرل ڈسکشن۔ اسی بورڈ میں اس وقت کافی سارے ایسے تھریڈز شروع ہوئے جو کہ آگے چل کے الگ الگ بورڈز یا الگ الگ سیکشنز کا باعث بنے۔ ان میں کوئز سینٹر، کسوٹی، معلوماتِ عامہ، ٹریول گائیڈ آف پاکستان وغیرہ شامل ہیں۔
بالکل شروع کے دنوں میں یہاں کوئز کے لئے دو تین تھریڈز شروع ہوئے تھے جو کہ دلپسند بھائی نے شروع کئے تھے۔ ایک تو آسان سوال کے نام سے تھا اور دوسرا مشکل سوال کے نام سے۔ اس وقت زیادہ ایکٹو ممبران جو کہ ان سلسلوں میں حصہ لیا کرتے تھے، ان میں دلپسند، طلحہ بھائی، عبدالمالک، اشتباہِ نظر، فیصل مرزا، ردا، ثمین، شانی بھائی، شاداب انصاری وغیرہ شامل تھے۔ بعد میں سمارا جی اور میں بھی ان میں شامل ہو گئے اور کچھ ہی عرصہ بعد ہما جی (ہما جاوید) اور مسکان (جن کا اس وقت saaabz نک تھا) بھی ساتھ شامل ہو گئے۔
چونکہ ناول پڑھنے کے شوقین ممبران کے علاوہ باقی سب کے لئے دلچسپی کی زیادہ چیزیں موجود نہیں تھیں تو سب کے سب ہی جنرل ڈسکشن کے بورڈ میں ہی گھسے رہتے اور پوسٹس کی تعداد اتنی کم تھی کہ ہر نئی آنے والی پوسٹ کو ہر ممبر لازما" ہی پڑھتا تھا۔ اسی وجہ سے اس وقت فورم پہ کچھ زیادہ ہی کلوز سا سرکل بن گیا تھا، جہاں ایک کی خوشی سب ہی شیئر کرتے تھے اور کسی کی چھوٹی سی بات بھی توجہ پاتی تھی اور کئی کئی دن تک اس پہ بات چلتی تھی۔

کوئز اور کسوٹی کا دور:
جب میں کچھ زیادہ ایکٹو ہوا تو کوئز کے سلسلوں کو آگے بڑھانے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ جلد ہی کچھ نئے سلسلے بھی شروع ہوگئے۔ جیسے معلوماتِ عامہ کے سوالات، تاریخی سوالات، سپورٹس کوئز، فلمی سوالات، حساب کے سوالات وغیرہ۔ اس کے لئے الگ بورڈ بھی بنا دیا گیا۔ ایک اور کام جس کو شروع میں سب بہت شوق سے کرتے تھے، وہ شروع ہوا کسوٹی کا سلسلہ۔ روز ہی کسوٹیاں کھیلی جاتیں۔ اکثر میں یا دلپسند بھائی کسوٹی سوچتے تھے اور طلحہ بھائی، مالک بھائی اور سمارا سس سوالات کی بوچھاڑ کر کر کے کسوٹی بوجھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اسی دور کا ایک دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ ایک دن دلپسند جی نے کسوٹی سوچی اور سب نے سوال کرنا شروع کئے۔ کچھ دیر بعد کیا دیکھتا ہوں کہ دل بھائی خود بھی سوالات پوچھنے میں مشغول ہیں۔ بہرحال یہ سلسلہ کافی ہفتوں تک چلا۔ کوئز میں اسی دور میں مزید ممبران کی بھی آمد ہوئی جن میں امان بھائی، سائرس، کشش، ہوپ، مایا، عامر شہزاد وغیرہ بھی شامل ہیں۔

سکیننگ کا زور پکڑنا:
مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ ون اردو پہ سب سے پہلے کس نے سکیننگ کی شروعات کی تھیں۔ کیونکہ کچھ ابتدائی ناولز تو ایسے تھے جو کسی اور جگہ سے امیجز لے کر پوسٹ کئے گئے تھے۔ جیسے اقبال سائبر لائبریری یا آنچل وغیرہ کی سائٹ سے۔ مجھے جو دو ممبران یاد ہیں جنہوں نے سب سے پہلے خود سکیننگ کر کے ناولز شیئر کئے تھے۔ ان میں عامر جہاں بھائی اور مطاہرہ سس شامل ہیں۔ عامر جہاں بھائی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ون اردو پہ عمیرہ احمد کے بورڈ کا آغاز کرنے والوں میں یہ شامل تھے۔ بعد میں تو کافی ممبران اس میں شامل ہو گئے لیکن آغاز کی محنت انہی کی تھی۔ بہرحال اس وقت تک بھی سکیننگ کا کام آہستہ آہستہ ہی ہو رہا تھا۔
سکیننگ کی رفتار تیز ہونے کا سلسلہ شروع ہوا نومبر ۲۰۰۷ کے بعد سے۔ اس میں اس وقت دو اہم کام ہوئے ایک تو عمیرہ احمد کے ناولز پہ کام تیز ہو گیا جبکہ کچھ اور خواتین ممبران نے باقی خواتین رائٹرز کے ناول بھی سکین کرنا شروع کر دیئے۔ مجھے ان میں ایمن، مسکان، عائلہ وغیرہ ہی اب یاد ہیں۔ جبکہ دوسرا اہم کام شکاری کا آغاز تھا۔

شکاری:
شکاری کی بھی ایک عجیب ہی کہانی ہے۔ میں جب ون اردو پہ آیا۔ کچھ ناولز کو یہاں پوسٹ ہوتا ہوا دیکھا۔ کافی سارے لنکس دیکھے اور کچھ ناولز پہ تبصرہ دیکھا تو ایک دن کیا دل میں آئی کہ ایک ٹاپک بنایا اور اعلان کیا کہ میری نظر میں شکاری ڈائجسٹس کے سلسلہ وار ناولز میں سے سب سے بہترین ناول ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا، لیکن جوشِ جذبات میں ہاتھ مزید پھسلے اور یہ بھی لکھ دیا کہ اس کو ایک دن سکین کر کے یہاں پوسٹ بھی کروں گا۔ یہ کہا اور پھر بھول بھال گیا۔ کیونکہ نہ میرے پاس شکاری کتابی شکل میں تھی، نہ سکینر تھا۔
کچھ ہفتوں بعد ایک دو ممبران نے اسی ٹاپک میں استفسار کیا کہ میاں آپ کی شکاری سے محبت بجا ہے، لیکن سکین کب کر رہے ہیں؟ نیک کام میں دیر کیسی؟ وغیرہ وغیرہ۔ پھر ہر ہفتے ایک دو ممبران کا یہی سوال ہونے لگا۔ اب مجھے لگا کہ بھائی بڑا بول تو بول دیا، لیکن اب تو پھنس چکے۔ تو پھر میں ایک دن اپنے ایک دوست کے پاس گیا، اس سے سکینر بھی لیا اور شکاری کے بیسوں حصے بھی اٹھا لایا۔ ویسے اب دیکھوں تو یہ کام زیادہ مشکل نہیں لگتا۔ خصوصا" اردو فوٹوز اور ایف ٹی پی اپ لوڈ کی سہولت موجود ہونے کے بعد۔ لیکن اس وقت ایک ایک امیج کو اٹیچ کر کے پوسٹ کرنا پڑتا تھا۔ اس لئے شروعات میں یوں ہی محسوس ہو رہا تھا جیسے دیوارِ چین بنانے جیسا کوئی بہت ہی بڑا کام کرنے جا رہا ہوں۔ خیر مارچ ۲۰۰۸ تک یہ ناول مکمل ہو چکا تھا۔
اس ناول کے مکمل ہونے کا اضافی فائدہ یہ ہوا کہ ایک ٹرینڈ سا سیٹ ہو گیا کہ لمبے ناولز بھی پوسٹ ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد کافی ممبران نے لمبے لمبے ناولز اور کتابیں سکین کر کے پوسٹ کیں۔ اور بعد میں تو حمیدی بھائی، اقبال بھائی، قمر عباس بھائی، مینا جی، میم جی اور حرفِ دعا اور بہت سے دوسرے ممبران نے تو اتنا کام کیا ہے کہ شکاری کو پوسٹ کرنا اب ایک چھوٹا سا کام لگتا ہے۔

کمپوزنگ کی مہم:
کمپوزنگ کے سلسلے میں ٹیم اردو بھائی کافی عرصہ سے کچھ ہدایات دے رہے تھے، لیکن کچھ زیادہ کام نہیں ہو پا رہا تھا۔ لیکن پھر ایک دن سائرس بھائی نے کمپوزنگ کے لئے ایک لمبا چوڑا منشور پیش کیا، جس کی روشنی میں مختلف گروپ بنائے گئے جو مختلف ناولز کو لے کے کمپوزنگ کرنا شروع ہو گئے۔ اگرچہ یہ پروگرام آج بھی اسی زور و شور سے جاری و ساری ہے بلکہ مزید رفتار پکڑ چکا ہے جبکہ سائرس بھائی اپنی مصروفیات کی وجہ سے فورم سے کافی عرصہ سے دور ہیں، لیکن اس کو شروع کرنے کا بلکہ سوچنے ہی کا سہرا سائرس بھائی ہی کے سر ہے۔

تک بندی اور دیگر گپ شپ:
تک بندی یعنی کہ بے تکا مشاعرہ بھی ون اردو کا ایک خصوصی آئیٹم ہے۔ اکثر ہی جب شوقین حضرات مل بیٹھتے ہیں تو تک بندی کی محفل کا الگ ہی مزہ ہوتا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، تک بندی کے سلسلے کا آئیڈیا شروع ہوا تھا ہما جاوید جی کے تھریڈ "چیڑ یا پنجیری" سے۔ ویسے تو یہ کچن کا ایک عام سا تھریڈ تھا، لیکن جیسا کہ عموما" ہوتا ہے کہ ہر چیز کو پلین کر کے نہیں کیا جاتا، بلکہ کچھ چیزیں خود ہی ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح اس ٹاپک کا چکر لگا تو عبدالمالک، فیصل مرزا اور افضل سعید بھائی بھی آ گئے اور بس پھر ایک بار شروعات ہوئی تو بات چل سی نکلی۔ اس کے بعد تو ایک ٹرینڈ سا سیٹ ہو گیا کہ جہاں کچھ شوقین دوست مل بیٹھے اور وقت اور فراغت ملی تو تک بندی کی محفل چل نکلی۔ تک بندی کے دوران ہی عبدالمالک بھائی نے کسی ممبر کے بارے میں ایک یادگار شعر کہا کہ ان کی شاعری تو کچھ ایسی ہو گی
میری انگلی میں چبھ گئی سوئی
اوئی، اوئی، اوئی، اوئی

ابتدا کے کچھ دوست جن کو ہم اب تک نہیں بھولے:
کافی ممبران ایسے تھے جو ابتدائی دور میں کافی ایکٹو ہوا کرتے تھے۔ اور اس سائٹ کی تعمیر و ترقی میں ان کی تجاویز اور شرکت کا بھی کافی حصہ ہے۔ ان میں سے کچھ تو کسی وجہ سے اب سائٹ پہ بالکل ہی نہیں آتے اور کچھ بہت کم ایکٹو رہ گئے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے جیسے مصروفیت، جاب، پڑھائی، گھریلو معاملات، کوئی گلہ شکوہ یا کچھ اور۔ لیکن ان سب کی اس فورم کے لئے اتنی خدمات ہیں کہ ان کا اتنا حق ضرور بنتا ہے کہ ان کو یاد رکھا جائے۔ مجھے سب نام تو یاد نہیں، جو چند نام ذہن میں آ رہے ہیں، وہ یہ ہیں۔ ان میں ایسے نام بھی ہیں جو اب بھی کبھی کبھار نظر ضرور آتے ہیں، تاہم بہت ہی کم ایکٹو ہوتے ہیں۔ (طلحہ بھائی اس صف میں سرِ فہرست ہوتے، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ ماضی قریب میں پھر سے واپس لوٹ آئے ہیں)۔
محمد وارث
شاداب انصاری
سائرس
امید
ردا
ثمین
ابیل (می ہیلیریئس)۔
عامر شہزاد
محسن راجہ
ٹینن
کشش
کرن (پرانا نام آسو)۔
مایا
غزل
دعا زی
علینہ 22
ساون چوہدری
ساز
ہانیہ
سید ناصر
اور بے شمار دوسرے

حرفِ آخر:
ون اردو ہمارا، ہم سب کا فورم ہے۔ وقت کے ساتھ بدلتے انداز کے مصداق اس میں تبدیلیاں تو آنی ہی آنی ہیں۔ گزرا وقت اچھا ضرور تھا، لیکن موجودہ وقت اس سے بھی اچھا ہے اور ان شاءاللہ آنے والا وقت اس سے بھی بہتر ہو گا۔ لیکن اس سب کے لئے کہیں اور سے کچھ نہیں ہونے والا۔ جو کچھ بھی اس کے لئے کیا جانا ہے، وہ ہم سب نے ہی کرنا ہے۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ ون اردو کی تعمیر و ترقی میں جتنا رول انتظامیہ والے ممبران کا ہو سکتا ہے، اتنا ہی اہم رول ہمارے عام ممبرز کا بھی ہے جو ہر معاملے پہ رائے دیتے ہیں یا حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس لئے سب سے گزارش ہے کہ اپنا اپنا حصہ ڈالنے کا عمل ضرور جاری رکھیں۔
شکریہ