02 - کچھ ون اردو کے بارے میں از ابو طلحہ

السلام علیکم!
میرا کمپیوٹر کے ساتھ پہلا تعلق آج سے تقریباً 21 سال پہلے سن 89 میں جڑا۔ جب میں ایف اے کے امتحان سے فارغ ہوا تو گوجرانوالہ میں ایک کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر جس کا نام "ورلڈ آف ٹو مارو کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر" تھا ۔ اس میں ایڈمشن لے لیا۔ ہیں جی،
بلیک اینڈ وائٹ مانیٹرز تھے اور تقریباً 30، 35 کلو وزنی کے سی پی یو تھے۔ جس میں چھ میگا بائٹ میموری کی ہارڈ ڈسکز تھیں۔ سارے پروگرام ڈاس پر چلتے تھے۔ جن میں سرِ فہرست فوکس پرو، لوٹس ون ٹو تھری، ورڈ سٹار اور دی بیسک تھے۔ ہیں جی،
چار ماہ بعد جب کورس ختم ہوا تو آخری دن ہمارے ماسٹر صاحب نے ایک الماری کا نفیس سا قفل کھولا اوراس میں سے ایک صاف ستھرا گتے کا ڈبہ نکالا اور میز پر ہمارے درمیان رکھ دیا۔ اپنا صاف ستھرا رومال میز پر بچھایا اور اپنے ہاتھ اچھی طرح صاف کرکے ڈبے کو کھولا تو اس میں سے ایک عجیب و غریب چیز کو نکال کر میز پر پڑے ہوئے اپنے رومال کے اوپر رکھ دیا۔ اور سختی سے منع کردیا کہ اس کو کوئی شاگرد ہاتھ نہ لگائے۔ ہیں جی،
ہم سب طالبِ علم شوق سے اس کو دیکھ رہے تھے۔ اس کے ساتھ دو میٹر لمبی تار تھی اور آگے کے سرے پر دائیں بائیں دو بٹن تھے۔ "سر یہ کیا ہے؟" دو تین آوازیں ایک ساتھ اٹھیں۔ ہمم،،،، سر نے کہا اسکا نام "ماؤس" ہے۔ ہیں،،، یعنی چوہا ،،،، سر۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ ہے کیا؟ بھئی اسکا نام ماؤس ہے اور یہ کمپیوٹر کے ایک دوسرے پروگرام میں استعمال ہوتا ہے جس کا نام مائکرو سافٹ ونڈوز ہے۔ اس کی یہ تار کمپیوٹر میں نصب کی جاتی ہے اور اس کے نیچے ایک گول گیند ہے جس سے اسکا کرسر حرکت کرتا ہے اور اسکی اسی حرکت کی وجہ سے اسکا نام ماؤس ہے، اسکے یہ دو بٹن مختلف کام کرتے ہیں۔
اچھا! تو استعمال کرکے بتائیں۔ ہم نے کہا تو جواب ملا کہ وہ پروگرام نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کو ایسے ہی بتا دیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں پریشانی نہ ہو۔ اس طرح ماؤس سے پہلی ملاقات ہوئی لیکن اسے چھونے کی حسرت ہی رہی۔ ہیں جی،
پھر میں نے 91 میں آٹوکیڈ میں داخلہ لیا تو وہاں مجھے ماؤس کو پکڑنے کی سعادت نصیب ہوئی اور اسکے ساتھ "مائیکرو سافٹ ونڈوز" کا تعارف ہوا۔ جو کہ تھری پوائنٹ زیرو ون تھی ۔ اسکے بعد میں کویت آگیا اور یہاں پر مجھے فری ہینڈ کمپیوٹر پر کام کرنے کا موقع ملا۔ پہلی بار 95 میں جب میں نے سی ڈی دیکھی تو حیران رہ گیا کیونکہ سی ڈی کی میموری سپیس چھ سو پچاس میگا تھی جبکہ میں جو کمپیوٹر استعمال کررہا تھا اسکی ہارڈ ڈسک چار سو پچاس میگا کی تھی۔ پھر اسکے بعد پینٹیم ون کمپیوٹر آیا اور پھر تو جیسے پینٹیم کی ایک لائن ہی لگ گئی۔ ہیں جی،
اسی دوران انٹر نیٹ سے سابقہ پڑا۔ شروع شروع میں یاہو پر صرف ای میلز کا شوق تھا پھر ہاٹ میل نے تو "انی" مچادی۔ ہیں جی،
ایڈورٹائزمنٹ، انٹرٹینمنٹ، ورلڈ نیوز، انفارمیشن، غرض کیا کچھ کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں ہے۔ میں نے ایک یورپی ماہر کا کہیں بیان پڑھا تھا کہ "جتنی تیز ترقی آئی ٹی میں ہوئی ہے اگر ہوائی جہاز میں ہوتی تو آج انٹرنیشنل ہوائی سفر کے ٹکٹ کی قیمت دس ڈالر ہوتی۔" ہیں جی،
مجھے غیرنصابی کتب کے مطالعہ کا شوق پرائمری کلاسز میں ہی ہو گیا تھا اور ٹارزن کی کہانیاں، عمرو عیار، اور چلوسک ملوسک کی کہانیاں ان دنوں میں میرے زیر مطالعہ رہیں۔ پھر مڈل اور ہائی کلاسز میں عمران سیریز، اور عنبر، ناگ، ماریا کی کتابیں پڑھیں۔ کالج پیریڈ کے دوران نثر لکھنے کا شوق چرایا اور کچھ تحریریں کالج میگزین کی نذر کیں جو کہ میگ کے مدیر سے دوستی کی وجہ سے چھپ گئیں۔ پریکٹیکل لائف میں لکھنے کا شوق ختم ہو گیا لیکن مطالعہ کا شوق برقرار رہا۔ ہیں جی،
سن دو ہزار سات میں اردو کی اچھی کتب کے سلسلہ میں نیٹ پر تلاش جاری تھی کہ اتفاقاً "ون اردو ڈاٹ کام" کی ویب سائٹ کا مین پیج کھل گیا۔ جس کی ابتدا پروین شاکر کے ایک شعر سے تھی۔ دل میں خیال آیا کہ اگر انہیں میرے بارے میں یہ معلوم ہے کہ میں ہوا کا مزاج رکھتا ہوں، تو چلو ان کے بارے میں بھی کچھ معلوم کریں۔ ہیں جی، ان کے مطلوبہ مطالبات پورے کئے اور اس طرح مئی دو ہزار سات کو میں پہلی دفعہ "ون اردو ڈاٹ کام" پر وارد ہوا۔
دیکھا کہ ایک طرح سے لائیو چیٹنگ ہورہی ہے۔ طرح طرح کے ڈائیلاگ سننے کو مل رہے ہیں۔ پہلے پہل تو کچھ جھجک تھی پھر ایک بار جو پوسٹ کی تو وہ جھجک ختم ہوئی اور پھر چل سو چل ۔ ون اردو کا مجھے پہلا فائدہ یہ ہوا کہ میرا لکھنے کا شوق پھر عود آیا اور اس طرح لکھنے اور پڑھنے کے دونوں شوق کی تکمیل جاری رہی۔ ہیں جی،
مزیدار پوسٹ پڑھنا اور پھر جواب میں اس سے زیادہ مزیدار پوسٹ لکھنا مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اپنی مرضی کے نئے نئے عنوان بناؤ ان پر لکھو پھر دوسروں کے مزیدار تبصرے پڑھو۔ ایک بہت ہی عمدہ، پاکیزہ اور پراثر ماحول تھا۔ چھوٹی موٹی نوک جھونک جو کہ پائیدار اور پرخلوص رشتہ کیلئے ضروری ہے۔ جاری رہتی تھی۔
چیختی صبح، بھیگے بھیگے دھندلکوں، سہمے سہمے سکوت، بے قرار خاموشیوں اور سنسان سناٹوں کے دور میں ون اردو ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔
اسی دوران ٹیم اردو صاحب کی طرف سے اعلان جاری ہوا کہ ون اردو پر ایک حکومت بنائی جائے جس کے باقاعدہ وزیر ہوں۔ تو میں نے سب سے پہلے اپنی حکومت کا اعلان کیا۔ حالانکہ میں نے ٹیم اردو صاحب کو بھی وزیر بنایا تھا لیکن میری حکومت ختم کرکے ٹیم اردو صاحب نے اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ اس وقت پتہ چلا کہ ایوان اقتدار پر کیسے شب خون مارا جاتا ہے۔ ہیں جی،
پھر یازغل نے پہلی دفعہ ذہنی آزمائش کا پروگرام کسوٹی شروع کیا اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں اس ون اردو کی پہلی کسوٹی کا ونر ہوں۔ ہیں جی،
ون اردو پر میرا رجحان لطیفوں کی طرف زیادہ تھا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ مجھے خود کئی لطیفے ازبر تھے۔ اور میں نے لطیفوں کے سیکشن میں کافی کچھ پوسٹ کیا اس معاملے میں میری جوڑی محترم ارمان فاروقی اور ساحل سے خوب رہی۔ اور میرے لطیفے اکثر میاں بیوی کے لطیفے ہوتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ہماری سب کی پیاری ممبر "ساحرہ" کو یہ لطیفے پسند نہ آئے۔ اور ہم میں تکرار ہونے لگی۔ پھر میں نے ہار مان لی اور ساحرہ جی سے وعدہ کیا کہ آئندہ سے توبہ میں ایسے لطیفے پوسٹ نہیں کروں گا۔ دیکھ لیں محترمہ میں اپنے وعدے پر قائم ہوں لیکن ذرا لطیفوں کے سیکشن میں جائیں اور دیکھیں آج بھی میاں بیوی کے لطیفے کس دھڑلے سے پوسٹ ہو رہے ہیں۔ جبکہ آپ بھی ہنوز موجود ہیں تو اسکا مطلب ہوا کہ اب آپکا رعب و دبدبہ ختم ہو گیا ہے۔ یا پھر نئی نسل آپ کے قابو میں نہیں آرہی۔ ہیں جی،
ان تین سالوں کے دوران میں فورم سے دو تین دفعہ لمبے ناغہ پر بھی رہا ہوں۔ پہلی دفعہ ناغہ کے بعد آن لائن ہوا تو دیکھا کہ سب کے نک نیم کلر فل ہو گئے ہیں۔ پتہ چلا کہ ذمہ داریوں کی وجہ سے ہے۔ جس کی جو ذمہ داری ہے اسی حساب سے اسکے نک کا کلر ہے۔ میں نے اپنا نک دیکھا تو اسکا رنگ سبز پایا کہ یہ پردیسیوں کی نشانی ہے۔ بس اس دن سے میں اپنے آپ کو ذمہ دار پردیسیوں میں شمار کرتا ہوں۔ ہیں جی،
دوسری دفعہ کے بعد دیکھا کہ پورا پیج ہی تبدیل ہے۔ کچھ سمجھ نہ آرہا تھا کہ کونسی چیز کہاں ہے۔ کچھ اسٹڈی کیا، کچھ ٹیم اردو صاحب کو پی ایم کرکے معلومات لیں تو بات بنی۔ ہیں جی،
تیسری دفعہ تو کمال ہی ہوگیا کہ میں ون اردو ڈاٹ کام لکھ رہا ہوں تو ایک پیج کھل جاتا ہے کہ جس میں ٹیم اردو صاحب کا پیغام ہے لیکن لاگ ان کا میسج نہیں ہے۔ مجبوراً بادل نخواستہ پورا پیغام پڑھنا پڑا کہ شاید کوئی کام کی بات میسر ہو جائے۔ اورایسا ہی ہوا۔ پھر ٹیم اردو صاحب کو میل کیا اور اس طرح پھر ون اردو سے رشتہ جوڑا۔ ہیں جی،
اس طرح ون اردو کو زینہ بہ زینہ اوپر اٹھتے ہوئے میں نے دیکھا۔ اور آخر میں گیارہ فروری کو "ون اردو میگزین" شائع کرکے تو ایک زبردست دھماکہ کیا ہے۔ میرے خیال میں ون اردو کی تاریخ میں گیارہ فروری کو "یوم تکبیر" کے نام سے یاد رکھنا چاہئے۔ پورا میگزین بہت شاندار تھا۔ ہر پہلو کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔
جس طرح اندھیری راتوں میں مینارۂ نور دور دور تک اپنی روشنی کی چمکتی ہوئی لکیریں بکھیر دیتا ہے اسی طرح ون اردو میگزین نے بھی تصوراتِ وقت کی رنگت کو الفاظ کے آئینوں میں ڈھالنا شروع کیا ہے۔ ہیں جی،
اسکے مصنفوں اور تحریروں میں طرابلس کے زیتون کی سی تازگی اور نجد کے گل داؤدی کی سی شادابی نظر آئی۔ ہیں جی،
اسکی تحریروں اور مصنفوں پر تو میں فورم پر تبصرہ کر چکا ہوں۔ لہٰذا یہاں صرف میگ پر کچھ کہوں گا۔
پہلے تو یہ کہ اسکے کَور پیج پر اس چیز کی کمی نظر آئی کہ جس کے بغیر اس تصویر کائنات کے رنگ پھیکے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ شیونگ بلیڈز سے لے کر انجن آئل تک کے اشتہارات ان کے مرہون منت ہیں۔ ہیں جی،
اس کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں کچھ ممبران کو مشکل کا سامنا ہے۔ اسکا حل نکالنا چاہئے۔
اسکے صفحات کی تعداد بڑھائیں اور زیادہ مفید اور دلچسپ تحریروں سے پُر کریں۔ ایک آدھ قسط وار ناول ہونا چاہئے۔ تاکہ انتظار میں مزہ آئے۔ زبیر احمد ظہیر ایک اچھے لکھاری ہیں ان کا کالم مستقل ہونا چاہئے۔ اسلامی سوال و جواب کا سلسلہ ہونا چاہئے۔
بس میں نے اتنا ہی کہنا تھا سو کہہ دیا۔ آخر میں اتنا کہوں گا کہ بقول زبیر احمد ظہیر "ترقی عجلت میں نہیں ہوا کرتی۔ اور ترقی لیڈروں سے نہیں کارکنوں سے ہوتی ہے۔" تو اس لحاظ سے ٹیم اردو صاحب خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ انہیں اتنے محنتی اور پر خلوص کارکنوں کی ایک فوج میسر ہو گئی ہے اور وہ بلاشبہ کہہ سکتے ہیں کہ "میرے پاس وقت اور وفادار کارکنوں کی کوئی کمی نہیں لہٰذا ترقی کی شاہراہ پر لیڈرشپ کا حق ان کا ہے" ہیں جی،
اللہ تبارک و تعالی آپ کو آسانیاں، کامیابیاں و کامرانیاں عطا فرمائے۔ آمین
والسلام
"ابو طلحہ" کویت۔