05 - میری تیری اک منزل از کائنات

دو سال۔۔۔ اتنا زیادہ عرصہ نہيں کہ مجھے اپنی یاد داشت کھنگالنے میں مشکل ہو۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ
میں ٹی وی کا کوئی فری چینل ڈھونڈتے ڈھونڈتے کسی سائیٹ پر گئی تھی اور وہاں ایک کونے میں ایڈ آ رہا تھا۔ ون اردو کے بارے میں اور لکھا آ رہا تھا کہ یہ ایسی سائیٹ ہے جہاں خواتین مزے مزے کے ناول پڑھتی ہیں۔ تو ایک تو خواتین، پھر ناول۔ ۔اور وہ بھی بور نہیں، بلکہ مزے مزے کے۔ میں نے ذرا بھی دیر نہیں کی، فوراً کلک کیا اور اس طرح ون اردو پر جا پہنچی۔ ۔
اس وقت ون اردو ابھی آٹھ ماہ کا گھٹنوں کے بل چل رہا تھا۔ لیکن، تب اردو کی اور بھی کچھ ویب سائیٹس چل رہی تھیں جو اپنا نام و مقام بنا چکی تھیں۔ لیکن پھر بھی اپنے مطلب کا مواد ڈھونڈنے کے لئے خاصی محنت کرنا پڑتی تھی۔ خصوصاً اپنی پسند کی رائٹرز کے ناول افسانے وغیرہ ابھی عنقا تھے اور ڈائجسٹس کا مواد تو بالکل ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا تھا۔ لیکن، جب کچھ اپنے مطلب کا پڑھنے کو مل جاتا تو بہت خوشی ہوتی تھی کہ پتہ نہیں گھر بیٹھے ہی کیا مل گیا ہو!

لیکن اب کوئی مجھے روکے گا نہیں بلکہ کہنے دیجئے کہ، تب ون اردو ابھی زیادہ اپنے نام پر ہی زور رکھتا تھا، زور کس پر ہوا ۔۔ ون اردو پر ۔۔ ابھی اس کو خود اتنی اردو آتی جاتی نہیں تھی اور تحریروں کے علاوہ اس کا اپنا سارا سسٹم ابھی رومن اردو پر چل رہا تھا۔ رومن اردو کو سمجھنے کے لئے کون اتنی کسوٹی کھیلتا رہے۔ سو میں آتی تھی، جاتی تھی۔ کبھی کچھ اچھی تحریر، ناول ملا تو پڑھ لیا۔۔ ورنہ نہیں اور ویسے بھی کوئی لگی لپٹی نہیں رکھوں گی۔۔ نہ ہی ون اردو کی شان میں قلابے ملاؤں گی، اس وقت ون اردو سے زیادہ کولیکشن تو میرے پاس گھر میں موجود تھی اور کافی ماہ و سال کے ساتھ میں پڑھ چکی تھی۔ بلکہ اس وقت تو میں ذرا نخرے سے ون اردو کو دیکھتی تھی، ہونہہ۔۔۔۔
میں ایک نظر ون اردو پر ڈالتی تھی اور ایک نظر اپنی کولیکشن پر۔ اور اپنے انتخاب پر نازاں ہوتی تھی کہ میرے پاس اتنے بڑے مشہور زمانہ رائٹرز کی بکس اور وہ نادر و نایاب انتخاب موجود تھا، جس کا شاید کوئی پڑھنے کا شیدائی تو اندازہ لگا لے لیکن عام قاری اس تک پہنچ بھی نہ پائے۔ اتنا دل لگا کر کتابیں پڑھنے پر اک فخر سا محسوس ہو رہا تھا۔ پھر اس وقت میں نے سوچا بھی نہ تھا اور نہ اپنے طور یہ خیال آیا تھا کہ کبھی میں بھی اپنی کولیکشن دوسروں سے شیئر کروں گی اور میرا انتخاب بھی دوسرے لوگ پڑھ پائیں گے۔ بلکہ یہی لگتا تھا کہ ہمارا کام سائیٹ پہ جا کر بس پڑھنے کا ہے یہ تو سائیٹ والوں کا کام ہے کہ وہ ہمارے لئے اچھے سے اچھا انتخاب پڑھنے کو مہیا کریں۔ اور ہم تک ادب پہنچائیں، اردو ادب دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری تو آخر انہی کی ہے۔
اب جا کر احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے بیدرد ہو گئے تھے۔ کتنے پتھر دل تھے، کتنی خود غرضی کی سوچ ہمارے اندر در آئی تھی۔ کہ ہم جو بھی میگزین یا بکس خریدتے تھے تو اپنے پیسے، اپنی چیز کے مالکانہ احساس کے ساتھ اسے اپنے تک ہی محدود کر کے رکھ لیتے تھے اور اپنے انتخاب کو دوسروں سے ذرا دور ہی چھپا کر رکھتے تھے کہ انھیں پتہ نہ چلے کہ ہمارے اندر بھی یہ ادبی حس موجود ہے، ورنہ وہ ہمارے بارے میں ہم سے زیادہ جان لیں گے۔
ایک سال اسی طرح آنے جانے اور دوسری سائٹس پر اخبارات اور اخبار جہاں پڑھنے میں گزر گیا یعنی ون اردو اور میرا ساتھ بن تو گیا تھا مگر اور آگے نہ بڑھ سکا۔
پھر ایک دن میں کئی روز بعد ون اردو پر پہنچی تو دیکھا کچھ لوگ عمیرہ احمد کے ایک تھریڈ میں اردو میں لکھ رہے تھے اور باقی رومن اردو میں، مجھے بہت اچھا لگا اور دل چاہا کاش میں بھی اردو میں لکھ پاؤں۔ جب میں نے پوسٹس پڑھیں تو لبنٰی سسٹر بھی میری طرح پوچھ گچھ کرتی نظر آئیں۔ پھر پہلے ہم دونوں نے آپس میں رومن اردو میں کچھ بات کی، اور منتظر ہوئیں کہ کوئی تو ہو جو ہمیں اردو لکھنے کا جادو سکھلا دے۔
مجھے آج بھی یاد ہے اور ہمیشہ رہے گا کہ میم یعنی مونا نے ہم دونوں کا ہاتھ پکڑا تھا اور ہمیں اردو کی بورڈ پہ پہنچا کر آئی۔ اس طرح اس بورڈ پر ہمارے لئے مونا ایک ابتدائی مسیحا ثابت ہوئیں۔ اس وقت یہ موڈ بھی نہیں تھیں لیکن ایز اے ممبر جس طرح خلوص سے انھوں نے گائیڈ کیا، بس سمجھ لیں کہ اس دل کو اب اک عادت سی ہو گئی ہے کہ جب بھی کوئی انفارمیشن چاہئے یا پرابلم ہو تو مونا سس سب سے پہلے یاد آتی ہیں، پھر جلد ہی یہ موڈ بن گئی سو اب تو بڑے حق سے میں فرینکلی ان کا ڈور کھٹکھٹاتی ہوں۔
مونا کے بعد مینا سے میری کسی تھریڈ میں بات ہوئی۔ مینا کا نام جب بھی اس سائیٹ پر میری نظر کے آگے سے گزرتا تھا تو مجھے بڑا اچھا لگتا تھا اور مجھے فوراً مینا کماری یاد آ جاتی تھی، کیونکہ میں نے ان کی کافی فلمیں دیکھی ہوئی تھیں اور میں بے اختیار سوچنے لگتی تھی، پتہ نہیں یہ مینا کا نک نیم ہے یا کسی نام کا مخفف۔۔ پتہ نہیں ان کا اصل نام کیا ہو گا اور میں امینہ، ثمینہ، تہمینہ، نسیمہ، شاہینہ کی تال ملانے لگتی،
مینا کماری کے بعد ۔۔۔ میں کمپوزنگ سیکشن میں چلی گئی وہاں سمارا سس اور کئی ساتھی ملے کچھ صفحات کمپوز کئے، لگتا تھا اب یہاں کافی وقت گزرے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، انہی دنوں ایک ناول کی بہت اور بار بار فرمائش ہو رہی تھی، جو میرے پاس تھا۔ سو پہلی بار اس طرف ناول پوسٹ کرنے اور اپنی کولیکشن شیئر کرنے کے بارے میں توجہ کی اور اس کے نتیجے میں آج تک ناول پوسٹ کر رہی ہوں۔ میری پہچان یہاں زیادہ رفعت سراج کے موٹے ضخیم ناول حرم ، محرم اور بھرم سے بنی۔ جس کی بدولت مجھے اچھے اچھے دوست بھی ملے اور دنیا کے کونے کونے سے ممبران بھی مجھے جاننے لگے، تب مجھے تھوڑا پہچان، شہرت کا نشہ بھی لگ گیا یہ میرے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔۔ حالانکہ اس پوری شہرت کا کریڈٹ تو میں ون اردو کو نہیں دوں گی کیونکہ اس سے پہلے بھی میں انگلینڈ کے ایک ریڈیو چینل 'سن رائز' پر ایک ڈیبیٹ مقابلہ جیت چکی تھی۔ جس کا عنوان تھا کہ : اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہو جاتی ہے تو بچے کس کی ذمہ داری ہونا چاہیئے : اس مقابلہ میں بھی یورپ کی کنٹریز کے مختلف ملکوں سے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اور میں نے پہلی پوزیشن ون کی تھی۔ اب مجھے کبھی کبھی سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ مجھے جیت کی تو ظاہر ہے جو خوشی تھی سو تھی، لیکن اس بات سے زیادہ دل میں پھلجھڑیاں چھوٹ رہی تھیں۔ کہ میں نے ایک سردار جی کو بھی ہرا دیا، جو کہ پھر دوسری پوزیشن پر ہالینڈ سے تھے۔

پھر میں نے ممبران کو وہ ناول بھی پڑھائے ، جو کافی پرانے اور اپنے زمانے کے مقبول ترین ادب میں مانے جاتے تھے۔۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا میں ان رائیٹر کی پبلسٹی کر رہی ہوں، لیکن یہ سچ بھی ہے۔۔ میں نے رضیہ بٹ کے تین بہترین ناولز یہاں پیش کئے۔ صاعقہ ۔ نائیلہ اور نمو۔ اور مجھے اس پر فخر بھی ہے کہ یہ میری کولیکشن کا حصہ تھے جو میں نے آپ سب کے لئے یہاں پوسٹ کئے، اور اس پر دل کو کچھ تسلی بھی ہے کہ میں نے بھی ادب کی ادنٰی سی خدمت کرلی۔ میرے ابتدائی دو ناول صاعقہ اور حرم ، محرم اور بھرم پوسٹ ہونے کے بعد بہت جلدی دوسری سائیٹ پر کڈنیپ ہو کر چلے گئے۔ یہ پہلا دکھ تھا جو مجھے ون اردو پر ملا، محسوس ہوا۔ تب مجھے لگا تھا، اب گئی بھینس پانی میں۔۔۔

جب شروع میں، میں نے اپنا پہلا ناول ۔۔ شازی ۔۔۔ یہاں پوسٹ کیا تو ایک دو ممبران نے اس پر آ کر بڑی سخت تنقید شروع کر دی اور یہ نہیں کہ ایک بار کر دی تو اب آرام سے جا کر بیٹھ جاؤ۔۔ بس بار بار آ کر جو تبصرے کرنے شروع کئے تو یہ بات بھی میرے لئے نئی اور چیلنج تھی کہ ایک تو نیکی کرو، ان کو گھر بیٹھے ادب مہیا کرو اوپر سے ان کی باتیں سنو۔ تب میرا ان سے جھگڑا ہو گیا تھا۔ میں نے بھی انہیں لفظوں کی مار دینی شروع کر دی۔ پھر مجھے یاد ہے کہ اور ممبران آ گئے تھے جن میں ساحرہ سس بھی شامل تھیں، جس نے آ کر یہ جھگڑا نپٹایا تھا۔ باقی ممبران کو جھگڑے سے زیادہ یہ فکر لگی تھی کہ کہیں موڈ نہ آجائے۔ یا ناول پڑھنے پہ پابندی نہ لگ جائے یا موڈ کی ڈانٹ نہ پڑ جائے یا یہ کہ میں شاید پھر آئندہ ناول شیئر نہیں کروں گی۔ حالانکہ ، وہ میرا پہلا ناول تھا میں اگر آئندہ نہ بھی ناول شیئر، پوسٹ کرتی تو ان کا کونسا اتنا نقصان ہو جانا تھا۔ اس وقت میرے پاس زباں نہیں تھی مگر لفظوں کی تو کوئی کمی نہ تھی سو، مجھے کم سے کم لفظوں کی مار تو دینے دیتیں، اپنے دل کی تسلی تو کر لینے دیتیں۔ لیکن ان کی اپنی ہی کہانی تھی۔ انھیں اپنی فکر پڑی ہوئی تھی اور یہ لڑائی جھگڑے کے ماحول میں، میرا ساحرہ سس سے پہلا تعارف تھا۔
میں یہ اس لئے آپ کو بتا رہی ہوں کہ اب ون اردو واقعی میرے لئے ایک فیملی ہے میرا گھر ہے، وہ گھر جہاں میں نے پیار محبت کے ساتھ ساتھ جھگڑے بھی نپٹائے ہیں۔
اس وقت تو میں یہ کام سوشل ورکر کی طرح کر رہی تھی۔
بھلا کرنے والے بھلائی کئے جا
لیکن ہر اچھے کام کا اجر تو ملتا ہی ہے۔ ناولز اور افسانے پوسٹ کرنے سے میری کافی پہچان بنی، اور سال بعد جا کے اب مجھے ون اردو مینجمنٹ سے گولڈن پوائینٹس بھی ملے، جس سے اب اس سائیٹ پر میرا دانہ پانی چل رہا ہے، اب تو مجھے سوچ کر ہی ٹینشن ہونے لگتی ہے کہ اگر میں نے انجانے میں ہی یہ محنت نہ کی ہوتی تو میں تو خالی ہاتھ ہوتی اور کھنگالوں کی لسٹ میں میرا بھی نام آجاتا۔
اس دوران اور سیکشن میں بھی جاتی رہی اور جتنا بن پڑا کام کیا۔
پہلا سال جتنا خاموشی سے آہستہ آہستہ گزرا، دوسرا سال اتنا ہی انقلابی ثابت ہوا، آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا۔۔۔ اب مڑ کر دیکھا ہے تو احساس ہوا کہ ون اردو کا گراف پھر جتنی تیزی سے اوپر آیا، اتنی ہی تیزی سے میری بھی لائف اور اس کی ترجیحات بدلیں۔ میری لائف سے ٹی وی کے پروگرامز دیکھنے کم ہونے لگے، وہ جگہ نا محسوس طریقے سے ون اردو سائیٹ لینے لگی۔ اور مجھے ہک ہا، پتہ بھی نہ چلا، پتہ تب چلا جب ایک دن دوبارہ اپنا تجزیہ کیا تو اور بھی کئی انکشافات ہوئے۔ جن کی ذمہ دار بھی ون اردو سائیٹ ہی نکلی لیکن اب اسے الزام تھوڑی دیا جا سکتا ہے لیکن، دینے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

ون اردو نے میری واک کرنے کی عادت بھی کم کر دی،
میں اولڈ ، کلاسیکل موویز شوق سے دیکھتی تھی۔ ون اردو نے وہ بھی نہ جانے کہاں چھپا دیں۔

پہلے مجھے موسم کا اچھا ، خراب ہونا بھی بہت افیکٹ کرتا تھا۔ لیکن اب تو مینھ برس جائے، آندھی ہوا چلے، میں اگر ون اردو کے ساتھ ہوں تو پھر احساس ہی نہیں ہوتا،

اس سے پہلے میں موقع ملنے پر دن میں بھی کبھی کبھی کتاب کو اٹھا لیتی تھی، چھو لیتی تھی اور پڑھ لیتی تھی۔ لیکن اب تو بس دن کو صرف اپنی کتابوں کی ڈسٹنگ ہی کر پاتی ہوں اور پڑھنے کا موقع تو رات کو ہی ملتا ہے۔
پھر میں نے ون اردو پر بہت سے لوگوں کو جانا۔ ان کی تکرار بھی دیکھی، مون اور انیلا سس جیسے سخت تبصرہ نگار بھی دیکھے۔ یہاں ممبران کا جذباتی ہونا بھی محسوس کیا، پھر روٹھنا منانا بھی ہوا۔
سخنور بھائی، خسرو بھائی ، شہزاد بھائی، یازغل بھائی جیسے ادبی انسان مجھے ون اردو کی شان لگے۔ عمران بھائی کی نفاست ان کی تحریروں سے ٹپکتی محسوس کی۔ جرار کی شوخیاں اور کھلنڈرا پن اچھا لگا اور محسوس ہوا وہ واحد بھائی ہے جو ڈٹ کر مون سس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ مصباح ، لبنٰی، ساحرہ ، فوزان، رفعت، دیا، کوثر بیگ کی باتیں مجھے بہت دلچسپ لگیں۔ ھما اور ہما دونوں کے نام شروع میں مجھے کنفیوژ کر دیتے تھے جب انھیں کوئی صرف ہما کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔۔ پھر میں نے ھ والی ھما اور ہ والی ہما میں فرق جانا۔
تب جا کر ون اردو مجھے ایک فیملی کا سا احساس دینے لگا۔ جب بھی کسی کو تکلیف میں دیکھا اور سب کا بھاگ بھاگ کر جانا اور حتی المقدور اس کی پرابلم حل کرنا، تو سمجھ لیں کہ اب ون اردو نے مجھے متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔
ون اردو پر آنے کا جو مجھے سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔۔ وہ یہ کہ، پہلے مجھے بھی نہیں پتہ تھا ۔۔ میں کون ہوں۔۔۔ کیا ہوں ۔۔۔ اور کیوں اس دنیا میں آئی ہوں۔۔۔ یہی سنتے تھے کہ اللہ تعالی، نے سب کو کسی نہ کسی مقصد کے لئے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ میں اکثر اپنی ذات کا تجزیہ کرتے یہ مقصد ڈھونڈا کرتی تھی۔۔۔ لیکن زندگی تھی کہ ایک نارمل ڈگر پر رواں دواں تھی سب کچھ تھا لیکن کچھ بھی نہیں تھا، والی کیفیت تھی۔ کبھی کبھی لگتا تھا، رائیٹر اشفاق احمد کے بابے سے میری بھی ملاقات ہو۔ کیونکہ ذات کا مقصد ادھورا لگتا تھا۔
لیکن ون اردو نے شاید یہ کریڈٹ لینا تھا۔۔ سو یہ میرے لئے ایک پلیٹ فارم بن کے سامنے آیا۔ خاکہ نگاری کا مقابلہ ہو رہا تھا۔۔ میں نے بھی اپنے آپ کو آزمانے کی کوشش کی اور اس کوشش نے مجھے دوسری پوزیشن دلوا دی۔ تب ایک بار پھر مجھے اپنے من میں ڈوبنا پڑا۔ کیونکہ یہ شعر تو بارہا پڑھا تھا۔
' اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی'
والد صاحب تو بچپن سے ہی یہ شعر مجھے سنایا کرتے تھے
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
شاید لا شعوری طور پر وہ تب سے ہی اپنی اس چڑیا کو شاہین بنانے کی فکر میں تھے۔
تب مجھے اپنے آپ سے پوچھنا پڑا کہ کہیں میرے اندر کوئی ننھا منا تخلیق کار تو نہیں چھپا بیٹھا ؟ اور میں ہی لا علم ہوں، کچھ ٹائم پہلے ٹیم بھائی، ممبران کو بلاگ کی آفر دیا کرتے تھے۔ تب میں نے ایک نظر بھی ادھر بلاگ پر نہیں ڈالی تھی۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں اچانک میں نے اپنے دل سے پوچھا کیا بلاگ لکھنے میں میرا ساتھ دو گے؟ تو اس نے چپکے سے کہا کیوں نہیں ۔۔۔ کیا بھول گئی کبھی تم ڈائری لکھا کرتی تھی،
بس پھر سب یاد آ گیا لیکن وہ روزمرہ والی ڈائری نہیں ۔۔ بلکہ کوئی شعر، کوئی اقتباس، کوئی اچھی بات، کوئی اقوال زریں یا میرے دل سے جو احساسات نکلتے تھے انھیں میں ڈائری میں محفوظ کر لیتی تھی۔ اس طرح میرا بلاگ لکھنے کا سفر شروع ہوا، اور میں نے اپنے دل کے ارمان بلاگ میں پورے کئے، چاہے وہ شاعری سے متعلق تھے یا مجھے اپنی یادوں کو دوبارہ کھنگالنا پڑا، یا مختلف آرٹیکل لکھنے کی۔
مجھے اپنی زندگی کا ایک مقصد بھی مل گیا اور اپنی ذات کو بھی کھوجنے کا موقع مل گیا۔ لیکن یہ سب ون اردو کے پلیٹ فارم پر میسر ہوا اور آپ سب ساتھیوں ، مہربانوں ، قدردانوں اور قارئین کی بدولت ۔۔۔
میرا خیال ہے کہ اب اس سے آگے تو مجھے بتانے کی، لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اب جو بھی ہوں جیسی بھی ہوں آپ کے ساتھ ہوں اور ون اردو کی مہربانیوں کی بدولت ہوں۔
*.....*.....*.....*.....*