08 - ون اردو سالگرہ کا کیک از یازغل

حسب معمول اس سال بھی ون اردو کی سالگرہ پہ سب سے اہم مسئلہ کیک کا تھا۔ یعنی کہ کیک کیسے تیار کیا جائے۔ پاکستانی دستور کے عین مطابق اس مسئلے کے حل کے لئے ہماری سربراہی میں ایک کمیٹی بٹھا دی گئی۔ اور پاکستانی دستور ہی کے عین مطابق اس کمیٹی نے مشورہ دیا کہ امریکہ سے دو تین کیک منگوا لیتے ہیں۔ لیکن جب ہم نے اس کام کے لئے ایک سینئر ممبر یعنی یازغل سے رابطہ کیا تو انہوں نے فورا" کہا کہ "نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ون اردو ہمارا اپنا فورم ہے۔ اس کا ہر کام ہم خود کریں گے۔ جیسے ہم نے اس کے میگزین کے لئے ہر کام خود کیا تھا حتیٰ کہ کمپیوٹر بھی خود ہی بنایا تھا اور ونڈوز کا بھی چیٹا ورژن ایجاد کیا تھا، تو کیک بنانا کیا مشکل ہے۔ ہم خود بنائیں گے"۔ اس پہ ہمارے سمیت کمیٹی کے سب ممبرز میں مایوسی کی لہر سی دوڑ گئی۔ لیکن جب ان کو مژدہ سنایا گیا کہ اچھا کیک تیار ہونے کی صورت میں سب کو گولڈن پوائنٹس ملیں گے تو سب یکایک جوش میں آ گئے۔ اور فورا" ہم خیال ہو گئے کہ کیک بنے گا تو یہیں بنے گا، ورنہ نہیں بنے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب اگلا مرحلہ کہ کیک کیسے بنایا جائے۔ ہم سب کی نظر فورا" گئی کچن سیکشن میں۔ ہم سب کے سب فورا" وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کچن ویران پڑے ہیں۔ چولہوں پہ غلاف چڑھا دیئے گئے ہیں۔ بے شمار ویٹ مشینیں سامنے پڑی ہیں اور کچن سیکشن کے سب لوگ ہر ایک منٹ کے بعد وزن کر رہے ہیں۔ اور کچھ اس طرح کی بات چیت ہر رہی ہے
ارے واہ! میرا ایک ملی گرام وزن کم ہو گیا۔
اچھاااااا گڈ میرا تو دو ملی گرام ہوا تھا۔
تمہاری مشین خراب ہو گی یار۔ دیکھنے میں تو نہیں لگ رہا۔

یہ مناظر دیکھ کے ہم سب تو واپس بھاگ لئے کہ یہاں تو ڈائٹنگ چل رہی ہے، کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

اب پھر ہونے لگی سوچ بچار کہ کس سے کیک بنوایا جائے۔ ایک جانب سے آواز آئی کہ بھئی سینئر ممبرز سے کہتے ہیں۔ آخر ان کا فرض بنتا ہے کہ ایسے موقعے پہ مدد کریں۔
تو یہ فیصلہ ہوا کہ ٹیم اردو بھائی ہی اس کے لئے سب سے اچھی چوائس ہیں۔ تو ہم ایک وفد بنا کے پہنچے ٹیم بھائی کے پاس جو ون اردو گروپ آف کمپنیز کے ہیڈ آفس یعنی اپنی کرسی پہ بیٹھے آرام فرما رہے تھے۔ سلام دعا کے بعد ان سے کیک کی درخواست کی گئی تو کچھ یوں جواب ملا

معزز اراکینِ وفد
میری خواہش ہے کہ میرا یہ پیغام آپ کو ہر حال میں ملے۔
کیک کا آئیڈیا تو پرانا ہو چکا۔ اب تو ای کیک کا دور ہے اور عنقریب ہی ہم ای شاپ میں اس کو پراڈکٹ کے طور پہ متعارف کرانے والے ہیں۔ اس کی قیمت ہو گی یہی کچھ ایک لاکھ گولڈن پوائنٹس۔ کیکس کی تعداد محدود ہو گی، اس لئے اپنا آرڈر ابھی سے بک کرا دیں۔
اگر میں آپ کی مزید خدمت بھی کر سکوں تو ضرور ہی بتائیے گا۔

یہ سن کر سب اراکینِ وفد نے اپنی اپنی جیب کا جائزہ لیا۔ کسی کے پاس سے پانچ گولڈن سکے نکلے، کسی کے پاس سے دس، کل ملا کے سو سے کچھ اوپر ہوئے۔ یہ دیکھ کر ہم نے نکل لینے میں ہی عافیت جانی۔

اگلی منزل تھی ہما جی کی جانب۔ سب نے لندن کا ٹکٹ لیا اور جا پہنچے ان کے پاس۔ اور لگے گردان کرنے، "آپی آپی، کیک چاہئے کیک"۔ چٹاخ کا ایک زبردست برسٹ نکلا۔ کچھ تو پہلی باڑ میں ہی گئے اور کچھ کو شدید چوٹیں آئیں۔ خیر کسی طرح سب کو سنبھالا گیا اور ہم اگلی بار آنے سے پہلے چٹاخ پروف جیکٹ کا انتظام کرنے کا عزم کر کے اسی دھج بلکہ دھجیوں کے ساتھ لوٹ آئے۔

اب پھر غور و خوض شروع کہ اگلا ٹارگٹ کون ہو۔ سب نے کہا کہ ایک اور سینئر ممبر کے پاس ٹرائی کی جانی چاہئے یعنی کہ یازغل سے کہتے ہیں۔ ان کی تلاش شروع کی گئی تو کہیں کوئز سینٹر میں پائے گئے۔ ان سے کہا گیا کہ "ارے بھئی! آپ یہاں چھپے ہیں اور ہم ایسے ہی ادھر ادھر ڈھنڈیا مچا رہے ہیں۔ ایک کیک دیجئے گا جلدی سے"۔
"اوہ اچھا! کیک یعنی کہ کیک شیک۔ اس میں کیا ہے جی۔ ابھی کرتے ہیں کچھ"۔
سب کے چہروں پہ خوشی کی لہر سی دوڑ گئی کہ چلو کام ہو گیا۔ کافی دیر سب انتظار کرتے رہے کہ ابھی کیک ملا کہ ملا۔ اسی اثنا میں سالگرہ پروگرام کے منتظمین کی کال آئی۔
وہ: کیک کا کام کہاں تک پہنچا۔
جواب: انتطام ہو گیا جی۔ ایک موڈریٹر کیک بنا کے دینے پہ تیار ہو چکے ہیں اور کوئی پل آتا ہے کہ کیک ملے ۔
وہ: ارے واہ! کیا کہا انہوں نے۔
جواب: کہنا کیا ہے جی۔ فورا" ہی بولے کہ ابھی کرتے ہیں کچھ۔ بہت ہی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
وہ: اچھا آپ لوگ جلدی سے اگلے بندے کے پاس پہنچیں۔ یہ کیک چوتھی سالگرہ تک بن جائے شاید۔
تو یہاں سے بھی ہم سب "اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے" چل پڑے۔

اب کہاں چلیں جی
کسی نے کہا کہ ون اردو کے شاعری سیکشن میں ہی چلتے ہیں۔ شاید وہیں پہ کوئی کیک بنا دینے کو تیار ہو جائے۔
وہاں گئے تو دیکھا کہ سب شعراء زور و شور سے شاعری پوسٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک طرف نوادراتِ سخن کے نام سے محفل گرم ہے تو دوسری جانب کچھ خواب بنے جا رہے ہیں۔ سب نے پہلے تو بیٹھ کر اور کانوں میں انگلیاں دے کر دس پندرہ غزلیات فی شاعر سنیں اور داد بھی دی۔ اس کے بعد ڈرتے ڈرتے فرمائش کی گئی کہ

خدا رکھے آپ کو خوش و خرم و نیک
ہماری بھی پوری کر دیجئے تمنا ایک
بڑی آس لے کے آئے ہیں ہم یہاں پہ
بنا دیجئے ہمیں بھی اک سالگرہ کا کیک

اس پہ فورا سخت ور بھائی بولے کہ "محترم اراکینِ وفد! آپ لوگوں نے جس کارِ دشوار کا قصد کیا ہے، وہ قابلِ ستائش و لائقِ تحسین ہے۔ سالگرہ کے کیک کی تلاش میں آپ کی اجتماعی اولوالعزمی اور سبک خرامی مثالی ہے۔ ہر چند کہ آپ ہر جگہ سے آزردہ و افسردہ و رنجور و مقہور ہو کے یہاں سائل بہ کرم ہوئے ہیں اور ہم بھی مائل بہ کرم ہی ہیں، لیکن آپ لوگوں کی درخواست وزن میں نہیں ہے اور مروجہ عروض کے ضوابط کی پابندی بھی نہیں کر رہی"۔ کچھ کو ہی یہ دقیق کلام سمجھ میں آیا، زیادہ کو نہ آیا۔ البتہ یہ سن کے کمیٹی کے ایک رکن نے تھیلے میں سے ویٹ مشین نکالی ہی تھی کہ ایک دوسرے رکن نے دیکھ لیا اور بڑی مشکلوں سے اس کو درخواست کا وزن کرنے سے باز رکھا۔

اسی اثناء میں ایک جانب سے عمران بھائی ایک کیک کے ساتھ نمودار ہوئے۔
"لیجئے مہربان دوستو! پرخلوص دعاؤں اور نیک خواہشات کے ساتھ یہ رہا آپ کا کیک"۔
اس کو دیکھتے ہی سب اراکینِ کمیٹی کے چہروں پہ رونق آ گئی۔ سب کیک کو پکڑنے کو آگے بڑھے ہی تھے کہ اچانک سخت ور بھائی کی آواز آئی، "ٹھہرو! یہ کیک میں پہلے ہی ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو (ٹوں!) ڈاٹ کام پہ پوسٹ کر چکا ہوں۔ یہ رہا اس کا ربط" ۔
اس پہ امان بھائی فورا" بولے کہ "ایسا کیا جرم ہو گیا۔ اگر وہاں پوسٹ ہو بھی گیا تو کیا قباحت ہوئی۔ کیک تو بس کیک ہے، ہم بھی تو اس کو کھانے کا حق رکھتے ہیں"۔
اس پہ سخت ور بھائی نے کہا کہ "یہ مروجہ اصولوں اور حقوقِ نقل داری کی خلاف ورزی ہے اور قابلِ دست اندازیٔ پولیس جرم ہے"۔
فورا" ٹیم بھائی کو کاپی رائٹ کے قوانین جاننے کے لئے فون کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت انٹرنیٹ پہ مواد کے لئے اے بی سی ڈی، ایکس وائی زیڈ نما ایک قانون موجود ہے۔ لیکن کیک پہ وہ بھی نہیں ایپلائی ہوتا۔ لہٰذا اب پوسٹ کنندہ کی مرضی ہے کہ وہ کیک دے یا نہ دے۔
اس کے بعد سخت ور بھائی سے نظرِ ثانی کی درخواست کرنے پہ غور شروع کیا گیا۔ اسی دوران ہاشمی بھائی بول اٹھے، "میں کہتا ہوں جی چھڈو! مٹی پاؤ"۔ یہ دیکھتے ہی کمیٹی کا ایک رکن آگے بڑھا اور ایک بیلچہ بھر کے کیک پہ مٹی ڈال دی۔ اس کے بعد گھمسان کا رن پڑا۔ صورتحال کچھ یوں ہوئی کہ

اراکینِ وفد ایک طرف سہمے، سمٹے بیٹھے ہیں۔
عمران بھائی کہہ رہے ہیں کہ یہ کیا کر دیا۔ کسی کو نہیں دینا تھا تو نہ دیتے، لیکن خود تو کھا سکتے تھے۔ یہ تو نقصان ہو گیا۔ میں اس کیک کو ناشتے میں کھا سکتا تھا ورنہ روزانہ ہی لسی کا جگ اور پراٹھے کھانا پڑتے ہیں۔
سخت ور بھائی کہہ رہے ہیں کہ یہ مٹی وزن میں نہیں ڈالی گئی۔ ویسے بھی مٹی ڈالنے کا عمل مروجہ اصول و ضوابط کے خلاف ہے۔
ہاشمی بھائی غائب ہو چکے ہیں۔
کچھ ممبران ابھی بھی اپنی اپنی شاعری پوسٹ کرنے میں مصروف ہیں۔
باقی ممبران ان کی پوسٹس پہ تھینکس کلک کرنے میں مصروف ہیں۔
اور کمرہ آوازوں سے یوں گونج رہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

اندیشۂ نقضِ امن کا خطرہ محسوس کرتے ہی کمیٹی والوں نے نکل لینے میں ہی عافیت محسوس کی۔

وہاں سے چلے تو کچھ آگے چند مستورات بیٹھی بات چیت کرتی نظر آئیں۔ ہمارے سُتے ہوئے چہرے دیکھ کر انہوں نے مدعا پوچھا تو ہم نے سوچا کہ شاید یہاں ہی سے مدد مل سکے۔ فورا" ان کو اپنا مطمحٔ نظر بیان کیا، اس پہ ان کی لیڈر جو کہ وش تھیں نے کہا کہ ذرا ٹھہریں۔ چند لمحوں بعد واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں کچھ کاغذ تھے۔ سب اراکینِ کمیٹی کو ایک ایک کاغذ پکڑا دیا۔ اس پہ دیکھا تو لکھا تھا۔ سروے برائے کیک بنوائی۔ آپ کیک کھانے کے لئے کتنے پرجوش ہیں۔ بالکل نہیں، دس فیصد، بیس فیصد، پچاس فیصد، پچھتر فیصد، سو فیصد، پتا نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

اور ساتھ ہی کہا کہ آپ لوگ یہ سروے جمع کرا دیں۔ اس کے بعد ہم کچھ غور و خوض کریں گے کہ کیک بنانے کا کیا کیا جائے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہم کیک بنانے کا مقابلہ ہی کرا دیں۔
ہمیں لگا کہ یہاں بھی کچھ ملنے کا امکان نہیں ہے۔ تو "خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے کدھر جائیں" کی گردان کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

گفتگو چوک پہ پہنچے تو وہاں دیکھ کے لگا کہ شاید واٹرلو میں آ گئے ہیں۔ دونوں طرف لشکر صف آراء تھے اور دلائل کی گولا باری جاری تھی۔ بڑی مشکل سے فوزان جی کو ایک طرف بلا کر مدعا بیان کیا کہ یہ مسئلہ ہے۔ اس پہ انہوں نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے کوشش کرتی ہوں، لیکن اس کیک کو اپنے بلاگ میں ہی پوسٹ کروں گی اور جھٹ سے ایک بلاگ دکھائی دینے لگا۔ "کیک کی تلاش میں نکلا گروہ"۔
رض وان بھائی کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ جھٹ ایک بلاگ پوسٹ کیا۔ "کیک ہی کی تلاش میں کیوں نکلا گروہ؟"۔
اس کے ساتھ ہی گولا باری کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ چند گولے ہمارے نزدیک بھی گرے۔
ہم وہاں سے الٹے قدموں بھاگے۔

کچھ آگے چلے تو ایک جگہ علی بھائی بیٹھے نظر آئے۔ سوچا کہ علی بھائی بھی دردمند دل رکھتے ہیں۔ کیوں نہ ان سے بھی مدد لینے کی کوشش کی جائے۔ ان سے مدعا بیان کیا تو انہوں نے فرمایا "اچھا کیک نہ ملنے کی پریشانی ہے۔ روزنامہ بصارت نے اچھے اچھے کیکوں کی کچھ تراکیب پوسٹ کی تھیں۔ ذرا ٹھہریں، وہی آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ ہمارے لئے تو یہ بات نئی تھی، لیکن یہ سنتے ہی کمیٹی کے باقی سب اراکین "کالم آئے، کالم آئے" پکارتے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہمیں بڑا تعجب ہوا۔ لیکن خیر مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ہم بھی ان کے پیچھے چل دیئے۔ کچھ آگے جا کے پوچھا کہ بھائیو معاملہ کیا ہوا تو سب نے یک زبان ہو کے کہا کہ علی بھائی بہت اچھے کالم پوسٹ کرتے ہیں، لیکن بہت زیادہ پوسٹ کرتے ہیں۔ اگر ہم وہ کالم پڑھنے بیٹھ جاتے تو کیک تو درکنار، سالگرہ ہی گزر جانی تھی۔

اب پھر سے بیٹھی کمیٹی کہ کیا کیا جائے۔ پریشانی ہی پریشانی ہے۔ کہیں سے مدد ملنے کی امید نہیں ہے۔ لیکن کیک تو ضروری ہے۔

اسی اثنا میں سامنے سے دلپسند بھائی آتے دکھائی دیئے۔ سوچا کہ شاید یہ ہی کچھ مدد کر دیں۔ ان کو بھی سارا قصہ بیان کیا تو کہنے لگے کہ اس میں کیا مسئلہ ہے، ویسے تو سب بیکریاں بند ہیں، لیکن میرا ایک جاننے والا ہے، اس سے ابھی کیک بنوا کے لاتا ہوں تڑکا لگا کے۔ اس کے ساتھ ہی بیکری کی جانب چل دیئے۔ کافی دیر بعد آمد ہوئی تو چہرے سے ہی لگ رہا تھا کہ اچھی خبر نہیں لائے۔
"کیا ہوا جناب؟"
"ہونا کیا ہے بھائیو اور بہنو! میں نے بیکری والے سے کہا کہ سارے کیک دے دو تڑکا لگا کے۔ کچھ دیر بعد شوں شوں کی آواز آئی، دیکھا تو اس نے سب کیکوں کو ایک کڑاہی میں ڈالا ہے اور گھی میں بھون رہا ہے۔ کچھ ہی دیر میں سب کیک کوئلے کی شکل اختیار کر گئے۔ اب اس کے پاس بھی مزید کیک نہیں بچے تڑکا لگا کے۔ اور مزید یہ کہ اب میں بھی آپ کی مدد کا تڑکا نہیں لگا سکتا کہ اس نے سب کیکوں کے پیسے بھی وصول لئے تڑکا لگا کے"۔

اف خدایا! لگتا ہے کیک ہماری قسمت میں ہی نہیں۔ اب کیا کریں۔

ایک مشورہ آیا کہ ہمارے ایک ہمدرد بھائی ہیں فراز بھائی، ان سے رابطہ کیا جائے۔ فراز بھائی سے رابطہ کیا گیا کہ آپ ہی کچھ مدد کیجئے۔ انہوں نے بھی جواب دیا کہ میں صرف کیک بنانے کا سوفٹ کوڈ ہی دے سکتا ہوں۔ اس کو کمپائل کر کے ایگزی کیوٹ آپ کو خود ہی کرنا ہو گا۔ یہ تو آپ کو علم ہو گا ہی کہ سوفٹ کوڈ تو ایڈیٹر میں لکھا جاتا ہے جبکہ کمپائل ہونے کے بعد وہی کوڈ اسمبلی لینگویج اور پھر مشین لینگویج میں ترجمہ کیا جاتا ہے جس کو مائیکرو پروسیسر سے ریم اور کیشے کے تھرو ان پٹ اور آؤٹ پٹ ملتی ہے جو کہ براستہ ڈیٹا بسز آؤٹ پٹ ڈیوائسز پہ نظر آتی ہے۔ اس کی آؤٹ پٹ کو آپ ایک ڈیٹا لنک لائبریری فائل میں بھی ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔ باقی الا بلا اور کلوں پرزوں کے نام تو ہمیں سمجھ نہ آئے، بس ہم نے اپنی عقلِ سلیم کے مطابق یوں سوال کیا۔
"کیا اسی کام کے لئے ایکسپورٹ پروموشن بیورو بھی قائم کی گئی ہے؟"۔
فراز بھائی نے خشمگیں نگاہوں سے گھورا اور مانیٹر سکرین کی جانب اشارہ کیا جہاں کیک کی سرچ میں فائل ناٹ فاؤنڈ لکھا نظر آ رہا تھا۔
یعنی کہ یہاں بھی انکار ہی سمجھئے۔

اب آخری امید ایک ہی بچی تھی۔ یعنی کہ دوستوں کے دوست، یاروں کے یار، مدد کو ہر دم تیار ساحل بھائی۔ فورا" کلفٹن گئے کہ وہاں ساحل کا نظارہ اچھا ہوتا ہے۔ ان سے گزارش کی کہ ساحل بھائی ون اردو کی سالگرہ ہے اور کیک کہیں سے نہیں مل رہا۔ آپ آخری امید ہیں۔ کچھ مدد کیجئے۔
ساحل: مدد اور میں۔ اگر نہ کروں تو؟
ہم: کیوں نہ کریں، آپ موڈریٹر ہیں۔ مدد تو کرنا ہو گی
ساحل: لیکن اگر نہ کی تو کیا ہو گا؟
ہم: آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ آپ نے مدد نہ کی تو ہم آپ کا پتلا جلائیں گے۔ آپ کی اوپر تک شکایت کریں گے۔ اعلیٰ عدلیہ کو درخواست دیں گے۔ وغیرہ وغیرہ
اس کے ساتھ ہی سب اراکینِ کیمٹی نے بآوازِ بلند ایک کورس میں نعرے لگانے شروع کئے۔
ہماری مانگیں پوری کرو۔
کیک لینے آئے ہیں، کیک لے کے جائیں گے۔
بغیر کیک کا موڈریٹر، نامنظور نامنظور۔
صورتحال کو بگڑتا دیکھ کر ساحل بھائی نے ہمیں کہا کہ ایسا بھی کیا بھئی۔ کیک تو موجود ہے۔
ہم نے پوچھا کہ کہاں تو بولے کہ اس ہٹ میں پڑا ہے۔ آپ جا کے لے آئیے۔ ہم خوشی کے مارے بھاگے بھاگے کیک لینے کے لئے ہٹ میں گھس گئے۔ پیچھے کچھ کڑِک کی آواز آئی۔
مڑ کے دیکھا تو ساحل بھائی ہٹ کے مضبوط دروازے کو تالا لگا چکے ہیں۔ اور ہمارے سامنے ہی انہوں نے چابی سمندر میں پھینک دی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے مزید تالے نکالے اور باقی اراکینِ کمیٹی کی جانب بڑھے۔ یہ دیکھ کر سراسیمگی پھیل گئی۔ سب ایسے بھاگے کہ کوئی ادھر تو کوئی ادھر۔
کچھ ہی دیر بعد وہاں ویرانی ہو گئی۔ اب سمندر ہے،ہٹ ہے اور ہم ہیں اور تالا ہے۔
نہ ساحل کا نشاں، نہ چابی کا امکاں۔

(نوٹ: یہ تحریر اسی ہٹ سے لکھ کے ارسال کی گئی ہے۔ جس کسی کو ملے تو فورا" تالا توڑ کاریگر کے ساتھ یہاں آ کے ہماری رہائی کا بند وبست کرے)۔
__________________