10 - بسنت ایونٹ ایٹ ون اردو فورم از سید جرار علی

السلام علیکم ۔
ہر موسم کے اپنے رنگ، اپنی باتیں ہوتی ہیں۔ کچھ موسم بنام جدائی کے موسم ہوتے ہیں جیسے خزاں مگر اس موسم میں بھی بہت سے پھول کھل جاتے ہیں باغ میں نہ سہی زندگیوں میں سہی، دلوں میں سہی۔ کہا جاتا ہے کہ سارے موسم دل کے موسم۔ مگر ایک موسم ایسا ہے جس میں دل خود بخود کھل اُٹھتا ہے۔ وہ ہے بہار کا موسم۔ اس موسم کا تاثر دل کے اندر اور دل کے باہر ایک ہی سا ہوتا ہے۔

اس موسم میں ہر چیز رنگوں کی جان لگتی ہے۔ ہر جانب پھول ہی پھول کھل اٹھتے ہیں تاحد نگاہ رنگ ہی رنگ ہوتے ہیں۔ بہار کا جس طرح استقبال کیا جاتا ہے کسی دوسرے موسم کو اتنی عزت نہیں بخشی جاتی۔

بہار کے موسم میں اپنے پاکستان میں ایک تہوار منایا جاتا ہے بسنت کا تہوار۔ گھر گھر پتنگ بازی ہوتی ہے اونچی آواز میں گانے لگائے جاتے ہیں اچھے اچھے کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رشتے دار اور دوست احباب سب ایک جگہ اکٹھے ہو کر انجوائے کرتے ہیں۔ ہم ون اردو فورم پر دوستوں اور رشتے داروں کی طرح ہی ہیں۔ تو ہم کیوں کر اس تہوار کو منانے سے پیچھے ہٹتے۔

بسنت کے اس ایوینٹ کو منانے کے لیے ون اردو فورم پر ایک خاص اہتمام کیا گیا۔ ٹیم بھائی نے ایکسٹرا پوائنٹس دیئے پتنگ اور ڈور خریدنے کے لیے، خواتین نے درزیوں کی جان کھائی کہ مطلوبہ تاریخ تک کپڑے سل جانے چاہئے۔ بھائی لوگ سب پتنگ اور ڈوروں کو خریدنے میں مصروف رہے۔

بسنت کی رات سے ہی محفل جم گئی۔ سب بھائی اس بار بھی بہنوں کم خواتین سے پہلے پہنچ گئے۔ پھر آیا رنگوں کا سیلاب، اپنی رنگ برنگی خواتین ممبران۔ بسنت کے موقع کا مزید کیا حال احوال رہا وہ میری زبانی سنیے۔

سب سے پہلے خواتین میں سے قدم شریف رکھے اپنی مونا باجی نے۔ جیسے ہی انہوں نے فورم کی چھت پر اپنے قدم مبارک رکھے۔ ایک آواز آئی " بسم اللہ "یہ آواز کس کی تھی اور اس کے پیچھے کہانی کیا تھی ؟ سنیے۔

مونا باجی ۔۔۔ اُف خدایا یہ کس نے یہاں ڈور پھیلا رکھی ہے؟ پاؤں اُلجھ گیا، کتنی مشکل سے بچی ہوں گرتے گرتے ۔ ( انتہائی غصے میں سب کی جانب دیکھتے ہوئے)۔

عمران بھائی ۔۔۔ بسم اللہ ( اب یہ بسم اللہ ان کی آمد پر تھی، کہ گرنے سے بچنے پر کچھ کلیئر نہیں ہو سکا) اوہ آپ اس دروازے سے آگئیں دراصل وہ دوسرا دروازہ خواتین کے لیے کھولا گیا ہے خیر اب دھیان سے چلتی آئیے۔

مونا باجی ۔۔۔ حد ہے گویا دروازے کے آگے ہی جال بچھا رکھا ہے۔ ( پھر آسمان کی جانب نگاہ کرتے ہوئے) کوئی کاٹی بھی ہے اب تک کہ بس دھڑا دھڑ کٹوائے جا رہے ہو؟۔

ساحل ۔۔۔ ارے دھڑا دھڑ بولے تو؟ دس کاٹ کر 2 کٹوانا کوئی بُرا سودا تو نہیں ہے۔

عمران بھائی ۔۔۔ تالا مین ( ساحل) چلو اس دروازے کو بھی تالا مار دو تاکہ آنے جانے کے لیے وہ دوسرا دروازہ استعمال کیا جا سکے۔

ساحل ۔۔۔ ایسا کیا؟ ابھی لیں اور تالا مارنے کی اجازت دینے کا بہت شکریہ۔

ہما جاوید ۔۔۔ ارے یہ کیا مذاقیات ہے بھئی؟ پہلے وہ دوسرے دروازے تک بُلایا گیا پھر یہاں سے آنے کا پی ایم آگیا۔ میں تو چل چل کے ہلکان ہو گئی۔ کس کا آئیڈیا تھا یہ، ذرا نام بتاؤ ابھی ایک چٹاخ لگاؤں۔

جرار ۔۔۔ ارے اب غصہ چھوڑیں آپا جی، یہ بتائیں کہ پتنگ اڑانے کا کوئی آئیڈیا کوئی شوق بھی ہے کہ صرف دیکھنے کی حد تک ہی؟۔

ہما جاوید ۔۔۔ نہ پتنگ نہ افواہ کچھ اڑانے کا شوق نہیں ہے، ہیں جی، ایسے شوق ہم نے نہیں پال رکھے، ہیں جی۔

وش ۔۔۔ مجھے بہت شوق ہے پتنگ اڑانے کا لاؤ مجھے دو۔ میں تو آج دو پتنگیں اڑاؤں گی۔
جرار ۔۔۔ ایک اڑا کے دکھادو بڑی بات ہے، آئی وڈی دو اڑانے والی اور تمہیں ڈور پکڑنی آتی ہے؟ اب تک ہاتھ میں اسٹک (مسوں والا ڈنڈا) ہی پکڑا ہے تم نے ڈور کا تجربہ بھی ہے؟

وش ۔۔۔ نہیں ہے تو کیا ہوا شوق تو ہے نا۔ لاؤ دو بھی۔

میں نے ڈور مش جی کو تھما دی اور خود ساحل کے ساتھ دوسری پتنگ اڑانے چلا گیا۔ دو منٹ بعد ہی شور سنائی دیا۔

وش ۔۔۔ "ہائے ہائے یہ تو قابو ہی نہیں آ رہی۔ اُف کتنی بھاری ہو گئی ہے ڈور۔ ہائے میرے ہاتھ میں پھر گئی۔ یہ سازش ہے اس بھوت کی اسی نے جان کر مجھے پکڑائی تھی۔“

جرار ۔۔۔ میں نے جان کر پکڑائی تھی کہ تمہیں شوق چڑھا تھا اڑانے کا۔ کہا بھی تھا کہ پتنگ بازی لڑکیوں کے بس کی بات نہیں مگر تم مانو تب نا۔"دو اڑاؤں گی۔ “ ( وش کی نقل اُتارتے ہوئے)۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے، لڑکیاں ہر کام کر سکتی ہیں۔ یہاں امریکہ میں رہ کر پتا چلتا ہے کہ عورت کتنی لبرل ہے۔

جرار ۔۔۔ او ہیلو ! یہاں لبرزم پر لیکچر نہیں دینا کہ کہاں کی عورت مظلوم ہے اور کہاں کی کانفیڈنٹ،بس بات اتنی ہے کہ آپ خواتین یہ پتنگ بازی میں بالکل فیل ہیں اور بس۔

ساحل ۔۔۔ ہاں ہاں ، بالکل صحیح، آپ جائیں اور کوئی نئی سوئیٹ ڈش ٹرائی کریں۔

( بحث و مباحثہ ہو یا لڑائی وہ فورم کی پھلجڑی، راکھی ساونت کے بغیر کہاں مکمل ہو سکتی ہے بھلا؟)

مون ۔۔۔ ارے ایسی کوئی پتنگ ابھی تک بنی ہی نہیں جو میں نہ اُڑا سکوں۔ میں نے تو سمندر پر بھی بڑی پتنگیں اڑائی ہوئی ہیں۔

احمد لون ۔۔۔ پتنگ کا تو پتا نہیں البتہ یہ افواہ ضرور اڑا رہی ہے کہ اسے پتنگ اڑانی آتی ہے۔( کافی دھیرے سے کہا گیا جو صرف ہم لڑکے ہی سن پائے اور ایک زبردست قہقہہ لگا)۔

رائزنگ مون ۔۔۔ کیوں کر قہقہہ لگایا گیا ہے؟ کتنی بری بات ہے ایک دوسرے کے کانوں میں گھس گھس کر کسی کے خلاف بات کرنا اور میں بھی اڑاؤں گی پتنگ دو مجھے بھی۔ تھوڑی سی چڑھا کر دینا۔

رضوان ۔۔۔ لو ایک مون وہاں رائز ہوا ہے اور ایک یہاں ہو گیا۔ ویسے بائی دا وے ہم نہ تو کانوں میں گھس گھس کر باتیں کر رہے ہیں نہ ہی کسی کے خلاف۔

میمونہ ۔۔۔ بھئی کوئی کاٹی کہ نہیں ابھی تک میں بس 5 منٹ کو آئی ہوں میرے وہ آنے والے ہیں صبح ان کے کام پر جانے کے بعد فرصت سے آؤں گی۔

وش ۔۔۔ ہاں ناں میمونہ سس انہوں نے بہت کاٹی ہیں مگر پتنگ نہیں دوسروں کی باتیں۔ ( بہت خفگی سے ہماری طرف دیکھا اور لڑکیوں کا ایک قہقہہ گونجا)۔

مہری بے بی ۔۔۔ واہ واہ کیا سماں ہے، دیکھو میں نے ایک باجا لیا ہے جب جب تم لوگ کسی کی پتنگ کاٹو گے میں اسے بجا بجا کر سب کو بتاؤں گی کہ ہم نے بھی پتنگ کاٹی ہے۔

اسماء ۔۔۔ ارے میں نے بھی باجا لینا تھا۔ وہ بدتمیز باجے والا آیا بھی تھا مگر اس کے پاس بس غبارے تھے باجے سارے ختم ہو گئے تھے۔ میں نے دو غبارے ہی لے لیے۔

جرار ۔۔۔ ہیں، ہیں،اتنی بڑی ہو کر غبارے کیوں لے لیے بھئی؟

اسماء ۔۔۔ وہ اس لیے جرار بھائی کہ سب پتنگ اڑائیں گے مجھ سے نہ اڑی تو میں غبارے اڑا لوں گی۔

رضوان ۔۔۔ یہ لو مون، پتنگ اڑا دی ہے۔ لو سنبھالو، اڑاؤ یا کٹاؤ۔ موج کرو۔

رائزنگ مون ۔۔۔ ارے اتنی بڑی پتنگ اڑا دی کوئی چھوٹی اڑا کر دیتے تو بات تھی۔ اتنی بڑی کیسے قابو آئے گی۔

جرار ۔۔۔ صحیح کہا بڑی پتنگ قابو کرنا چھوٹی لڑکیوں کے بس کی بات نہیں۔

پنکی ۔۔۔ آپ کو بڑا پتا ہے بڑے چھوٹے کا۔( کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے)۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ ارے لاؤ میں بھی دو ہاتھ مار کے دیکھوں۔ اچھا سنو میری کوئی تصویر لو ذرا، پتا تو لگے کہ مجھے بھی پتنگ بازی میں مہارت حاصل ہے۔

حنا رضوان ۔۔۔ لائیں لائیں میں اتارتی ہوں تصویر۔ آپ اڑائیں پتنگ۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ ارے ذرا کلوز اپ لینا۔ اب تو ہر ریسیپی کے ساتھ تصویر پوسٹ کرنے کی ایسی عادت ہو گئی ہے کہ میاں سے بات کرتے ہوئے بھی ہر بات کی تصوپر پیش کر دیتی ہوں۔ اب کہوں گی میں نے پتنگ اڑائی اور ساتھ تصویر لگا دوں گی۔ ( اپنی ذہانت پر خوش ہوتے ہوئے)۔

جرار ۔۔۔ یہ ایک کیمرے میں آپ پوری آجائیں گی؟

ساحرہ آپا ۔۔۔ ( شیرنی کی طرح مجھے دیکھ کر ) منے بھیا یہ تمہاری نہیں میری تصویر کھینچ رہی ہے تم نہ پریشان ہو۔

جرار ۔۔۔ اصل پریشانی کی تو بات ہی یہی ہے۔ ویسے اگر آپ ایک تصویر ہاتھ میں یہ بڑی سی پتنگ پکڑ کر کھنچوائیں تو بہت اچھی لگے گی ۔۔۔۔ پتنگ۔

( اس سے پیشتر کے وہ کچھ دے مارتیں میرے سر پر میں وہاں سے کھسک گیا)۔

کائنات ۔۔۔ ارے مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ یہاں یہ سب ہو رہا ہے میں تو ابھی بھی بلاگ میں گھسی دوسروں کے پھڈے میں ٹانگ اڑائے بیٹھی تھی۔

سوبی ۔۔۔ ہی ہی ہی ہی، ارے کائنات آپی اب آگئی ہیں تو چلیں پتنگ کے پھڈے میں ٹانگ اڑائیں۔

مہری بے بی ۔۔۔ (باجا بجاتے ہوئے) کاٹ دی، کاٹ دی ہم نے بھی گُڈی کاٹ دی۔

اسماء ۔۔۔ (خوشی سے تالیاں بجاتے ہوئے) ارے واؤ مجھے پتا تھا میرے بھائی سب کی پتنگ کاٹ دیں گے۔ بہت مزا آیا۔

گل رعنا ۔۔۔ ارے واہ بہت اچھے بھئی کیا پہلی کاٹی ہے؟

( مجھ سمیت سب نے گھور کر گل دی کو دیکھا، جیسے کہا ہو کہ آپ نے پہلی دیکھی ہے ہم نے پہلی نہیں کاٹی )۔

ہما جاوید ۔۔۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنی جان نہیں کہ میں ساری رات یہاں بیٹھوں، تم جوانوں کے ساتھ ۔ میں تو صبح آؤں گی اب۔

مونا باجی ۔۔۔ ارے مجھے بھی تو ناول پوسٹ کرنا ہے۔ میں بھی چلوں اب۔

ساحرہ ۔۔۔ ارے ہاں میں بھی اب صبح آؤں گی کوئی نیا فراک پہن کر۔ صبح تک ساری پتنگوں کا اسٹاک نہ ختم کر دینا۔

ساحل ۔۔۔ نہیں کرتے خیر سے جائیں۔ پتنگ اور کیمرے کی بیٹری دونوں سنبھال کر رکھیں گے آپ کے لئے۔

( رات ساری کچھ کاٹنے اور کچھ کٹوانے میں گزر گئی۔ ہم سب بھی تھوڑی دیر آرام کی غرض سے چلے گئے۔ صبح ابھی ٹھیک سے نہیں چڑھی تھی اس کے چڑھنے سے پہلے ہم فورم کی چھت پر چڑھ گئے)۔

ہم نے ساتھ والے فورم پر موجود ممبران کی خوب پتنگیں کاٹیں اور ساتھ ساتھ اپنی انگلیاں بھی۔ خوب زور و شور سے ڈیک لگا رکھا تھا۔ جب ہی ایک مرتبہ پھر خواتین کی آمد ہوئی۔

حنا رضوان ۔۔۔ ارے واہ کافی رونق ہے آسمان پر ۔

آرائیں ۔۔۔ چھتوں پر بھی کافی رونق ہے۔ ہمارے دم سے۔

سعدیہ محمد ۔۔۔ ارے آج تو میں بھی پتنگ اڑاؤں گی رات خواب میں بڑی پریکٹس کی ہے میں نے ۔

رضوان ۔۔۔ تو اڑا بھی خواب میں ہی آتیں۔

مینا ۔۔۔ وہ بلیو والی پتنگ کس کی ہے؟ جو سب سے اوپر ہے؟

احمد لون ۔۔۔ وہ ہماری ہی پتنگ ہے۔ دیکھا کتنی شان سے اڑ رہی ہے کیسے کھڑی ہوئی ہے آسمان پر سینہ تانے۔

سوبی ۔۔۔ ہاں جی اس لیے نیچے نہیں کرتے کہ کوئی پیچ لڑائے گا اور ان کی پتنگ کٹ جائے گی۔ ہی ہی ہی ہی۔

ھما تنویر ۔۔۔ ارے ہاں ، پیچ لگاؤ تو پتا بھی چلے کہ ان تلوں میں کتنا تیل ہے ۔ ھاھاھا

رضوان ۔۔۔ لو جی، آپ یہاں پتنگ بازی دیکھنے آئی ہیں، کہ کوکنگ آئل کی یاد منانے؟
دیا ۔۔۔ مہرو، باجے والا آئے گا نا اب کے گلی میں تو روکنا اسے میں نے بھی باجا لینا ہے پھر میں بھی تمہارے ساتھ بجاؤں گی۔

سوبی ۔۔۔ اور میں بھی باجا لوں گی۔ کتنا مزا آئے گا جب ہم پتنگ کٹنے پر باجا بجائیں گے ۔

وش ۔۔۔ ان سے تو کوئی کٹنی نہیں پتنگ ، اس لیے بچیوں تم لوگوں کو بہت کم موقع ملنے والا ہے باجے بجانے کا۔ ایسا کرو تم لوگ ان کے خلاف بجانا شروع کر دو، یعنی جب جب ان کی پتنگ کٹے تب بجانا۔ اس طرح زیادہ موقع ملے گا بجانے کا۔

حنا رضوان ۔۔۔ ہاہاہا، بہت خوب کہا وش ،یہ لوگ تو بس ایویں باتیں کرتے ہیں اب تک 20 سے زیادہ پتنگیں کٹا چُکے ہیں۔

جرار ۔۔۔ یہ نا انصافی ہے کم از کم خلاف ہی تعریف کرنی ہے تو سچی تو کریں اب تک کٹی ہوئی پتنگوں پر جتنے پوائنٹس قربان ہوئے ہیں انہیں تو حلال کریں۔

سوبی ۔۔۔ ہی ہی ہی ہی، جرار بھائی اب تک کتنی کٹوا چکے ہیں؟

جرار ۔۔۔ ارے ہم دریا دل لوگ ہیں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا حساب نہیں رکھتے، کھُلے ہاتھ اور کھُلے دل سے دیتے ہیں جو بھی دیں۔

وش ۔۔۔ ہوں، آئے وڈے، دریا، سمندر کہیں کے۔

جرار ۔۔۔ ساحل، ساحل بھی کہو، وہ بھی ہے یہاں۔ ( قہقہہ لگاتے ہوئے)۔

اسماء ۔۔۔ ارے بھائی وہ والی بلیک پتنگ بھی کاٹیں۔ وہ بڑی دیر سے آسمان پر چپکی ہوئی ہے۔

ساحل ۔۔۔ ایسا کیا؟ ابھی لو۔

( دور سے رفعت آپا، لبنٰی آپا، بنت حوا آپا، مہر فاطمہ،اور ساحرہ آپا آتی دکھائی دیں، بہار کے اصل مفہوم کے ساتھ، ان کو دیکھ کر واقعی لگتا تھا کہ جیسے بسنت منائی جا رہی ہو)۔

نیسمہ ۔۔۔ ارے ساحرہ تم نے اچھا جوڑا سلوایا ہے۔ اچھی لگ رہی ہو۔ یہ بتاؤ کہ اس کی تصویر کب پوسٹ کر رہی ہو سائٹ پر۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ آج ہی لیتی ہوں تصویریں پھر کل ان شاءاللہ اپ لوڈ کر کے پوسٹ کر دوں گی۔

مونا باجی ۔۔۔ ارے آج تو میں بھی پتنگ اڑاؤں گی۔ سارے حفاظتی انتظامات کرکے آئی ہوں۔

جرار ۔۔۔ (منہ کھولے سوال کیا ) یہ باکسنگ گلوز کیوں پہن آئی ہیں؟ یہاں کوئی باکسنگ فیسٹول تو نہیں منایا جا رہا۔

مونا باجی ۔۔۔ اُف نا سمجھ یہ میں اس لیے پہن کر آئی ہوں تاکہ ہاتھ پر ڈور نہ پھرے بھئی آخر بعد میں کھانا بھی تو کھانا ہے ۔ ( میرے کان میں رازداری سے کہتے ہوئے) میں نے سُنا ہے کہ آج مینو میں چکن بریانی ہے۔ ہاتھ میں تکلیف ہوئی تو ڈٹ کر کھا بھی نہیں پاؤں گی۔

۔( الغرض کہ مونا باجی نے انہی گلوز پہنے ہاتھوں سے پتنگ اڑا کر اپنا شوق پورا کیا )

میمونہ ۔۔۔ لو جی میں بھی آ گئی، واؤ کتنا اچھا لگ رہا ہے آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے۔

مہری بے بی ۔۔۔ سوبی، دیا، وہ دیکھو نیچے گلی میں باجے والا آیا ہے۔ چلو جلدی سے باجا لے کر آئیں۔

مہرفاطمہ ۔۔۔ ارے مہرو ! میرے لیے بھی لانا منا، میں نے بھی آج خوب شور مچانا ہے۔

مانو ۔۔۔ چلیں بھائیوں پیسے نکالیں ۔

جرار ۔۔۔ کس خوشی میں ؟

مانو ۔۔۔ باجا لینے ہے اس لئے ۔

جرار ۔۔۔ لو تو وہ فری میں مل جائے گا، کسی باجی کو ساتھ لے جاؤ اور دلا دو ایک لیکچر مہنگائی پر باجے والا فری میں دو چار باجے دے دے گا کہ یہ رکھو اور جان چھوڑو میری۔

سوبی ۔۔۔ اب اتنے بھی کنجوس نہ بنیں لائیں جلدی دیں پیسے نہیں تو وہ چلا جائے گا۔

(مجھے پتنگ اڑانے میں زیادہ انٹرسٹ تھا اس لیے جتنے پیسے ہاتھ میں آئے دے ڈالے کہ یہ جائیں اور میں اپنی توجہ واپس پتنگ بازی کی طرف لگا سکوں)۔

حنا رضوان ۔۔۔ (گرتے گرتے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے) ہر جگہ ڈور ہی ڈور ہے۔ کیا مصیبت ہے یہ دوسری مرتبہ میرا پاؤں الجھا ہے ڈور میں۔

کائنات ۔۔۔ او ہو تو اس گُنجل کو سمیٹو۔ میرا خود دو بار پاؤں اڑا۔ خیر مجھے تو پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کی عادت ہے تم لوگ تو سنبھل کر چلو۔

ھما تنویر آپا ۔۔۔ ارے ذرا اس پوز سے تصویر لو اور دیکھنا یہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی پتنگ ضرور آئے۔

جرار ۔۔۔ اب کیمرے کی آنکھ چھوٹی سی ہوتی ہے اس میں، یا آپ سما سکتی ہیں یا یہ بیچاری پتنگ۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ منے میاں ! تم تو ذرا بچ کر رہو، تم نے جو جھوٹی سچی داستان سنائی ہے اس کا بدلہ نہیں لیا تم کیا نئے سے نئے پنگے لے رہے ہو۔

اسماء ۔۔۔ واؤ ۔۔۔۔ وہ کاٹی ہم نے پتنگ ۔۔۔۔ ہو ہو ہو ۔۔۔۔۔ لا لا لا لا ۔۔۔

می مانو ۔۔۔ زبردست، اب آئے گا ساتھ والوں کو مزا۔ بڑا اونچا کر کے ڈیک لگایا تھا۔ دیکھا پتنگ کٹی تو ساتھ ہی آواز ہلکی ہو گئی ان کے گانوں کی۔

( رنگوں اور خوشیوں کے اس ریلے میں بہت کچھ اڑایا، بہت کچھ کٹایا، کچھ مزا کیا۔ پھر وقت ہوا دوپہر کے کھانے کا)

مونا باجی ۔۔۔ چلو جی، سب ذرا سانس لے لو اور کھا پی لو کچھ ۔

کھانے کے نام پر سب خواتین فٹا فٹ اٹھیں اور میز کے گرد گھیرا بنا کر کھڑی ہو گئیں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے عمران بھائی کا جنھوں نے ہم لڑکوں کے لیے الگ انتظام کروایا تھا وگرنہ اس ریس میں ہم یقیناً ہار جاتے۔

کھانے کے بعد بھی پتنگ بازی کا سلسلہ جاری رہا۔ کچھ پتنگیں لڑکیوں نے بھی اڑائیں۔ جب جہاں سے ڈولتی فوراً آواز دے دیتیں کہ سنبھال لو۔

اسماء ۔۔۔ جرار بھائی ! ہمیں بھی کوئی چھوٹی سی پتنگ اڑا کر دیں۔

جرار ۔۔۔ ہم ؟ کون ؟

اسماء ۔۔۔ میں، مانو، سوبی اور دیا۔ ہم سب اڑائیں گے نا ایک ہی پتنگ باری باری۔

بچیوں کی فرمائش پر ایک چھوٹی سی پتنگ انہیں بھی اڑا کر دی۔ جسے انہوں نے کافی دیر تک اڑایا بھی۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ ارے ایک منٹ کو مجھے پکڑانا پتنگ، میں نے ذرا تصویر کھنچوانی ہے اڑاتے ہوئے۔

ھما تنویر ۔۔۔ ارے کتنی تصویریں کھنچواؤ گی ساحرہ اب بس بھی کرو۔

مصباح ۔۔۔ ارے بھائی! آپ اب کے بھی مجھے بھول گئے نا؟

جرار ۔۔۔ میں کہاں بھولتا ہوں؟ اور میں نے یہاں کس کو بُلایا ہے بھلا ؟ ایک اوپن انویٹیشن تھا آپا جی ۔ویسے اچھا کیا آپ آگئیں ورنہ آپ کا گلا پھر سے تیّار ہونا تھا۔

ساحل ۔۔۔ جرار بھائی ! یہ گل اپیا کیوں رو رہی ہیں؟

جرار ۔۔۔ ہیں، آج پھر ۔ ( گُل دی کے پاس جا کر ) ارے دی، کیا ہوا آج کس خوشی میں رویا جا رہا ہے؟

گل رعنا ۔۔۔ سب کو یوں ایک ساتھ اکٹھے، خوش باش دیکھ کر دل بھر آیا بھاء۔ خدا کرے ہمارے فورم کی یہ رونق سدا یونہی سلامت رہے آمین۔ ( دو آنسو لپک کر باہر آ گئے )۔

جرار ۔۔۔ آمین آمین۔ مگر یہ تو خوشی کی بات ہے رونے کا مقام تو نہیں ہے۔

گل رعنا ۔۔۔ ہاں بھاء، بس یہ خوشی کے ہی آنسو ہیں۔ اب تو میں فورم کی روندو مشہور ہوں۔
جیسے وہ ساحرہ پورے فورم کی ماں ہے ایسے ہی میرے دل میں بھی پورے فورم کے لئے خوشی، پیار ہے جو آنسوؤں کی صورت ظاہر ہوتا رہتا ہے۔

ساحل ۔۔۔ ایسا کیا؟ بولے تو ساحرہ آپا،مدر ٹریسا ہیں؟

جرار ۔۔۔ کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ دو مائیں عظیم ہیں اپنے فورم کی اور کسی فورم پر یہ ممتا کہاں دیکھنے کو ملے گی بھلا۔ (میں نے بھی جھوٹی موٹی آنسو صاف کیے جن کا کہیں نام و نشان ہی نہیں تھا)۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ تمکی تو میں کلاس لیتی ہوں منے بھیا اور تمکی بھی ساحل، میرے پیچھے پڑے ہو دونوں ہاتھ دھو کر۔

ساحل ۔۔۔ ارے کہاں اپیا، دھوئے کب؟ ابھی تو گندے ہی ہیں۔

جرار ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا۔

ساحرہ آپا ۔۔۔ ہونے دو یہ بسنت ختم، تمہیں تو میں بتاؤں گی، جاتے ہی فورم پر ایک نیا تھریڈ بناؤں گی تم دونوں کے خلاف۔ جہاں سب مل کر تم دونوں کا بینگن کا بھرتہ بنائیں گے۔

جرار ۔۔۔ ضرور، اچھا سنیے ذرا نمک مرچ کرارہ رکھیے گا، تیکھے لوگ تیکھی باتیں کرتے ہی جچتے ہیں۔

ساحرہ آپا ہاتھ میں ڈور کا پنا لیے ہمارے پیچھے بھاگیں اور ہم کسی محفوظ مقام کی تلاش میں۔

خیر جناب، بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جن کو بیان کرنا خود اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے۔ اس لیے ان کے لیے کچھ ایسا کہ" پردےمیں رہنے دو پردہ نہ اٹھاؤ۔"

شام ڈھلنے سے پہلے ہی ہم ڈھل گئے، جسم تھکاوٹ سے چور تھا اور آواز چیخ چیخ کر بیٹھ چکی تھی۔ جنہوں نے کچھ کیا وہ تو تھکے ہی تھے، جنہوں نے کچھ نہیں کیا تھا وہ زیادہ تھک گئے۔ لیکن بہرحال ایک اور اچھا دن ایک یادگار کے طور پر سب نے ساتھ ساتھ منایا۔ دعا ہے ایسے ہزاروں رنگ، ایسے ہزاروں مواقع خدا ہمیں ساتھ ساتھ دیکھنے نصیب کرے۔ (آمین) ۔

ون اردو جاسوس چینل کے بقول مانو، پیارے + بھوت = بھائی، کو اجازت دیں۔ ان شاء اللہ پھر ملیں گے۔ تب تک کے لیے فی امان اللہ۔