12 - دل سے دور نہیں از آمنہ احمد

عائشہ کبھی کھڑکی میں جا کھڑی ہوتی اور کبھی فون کے پاس۔ اسکی بے چینی ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ دل کو تسلی بھی دے رہی تھی کہ دو تین ہفتے ہی تو ہیں واپس جانے میں پھر اسکے بعد سب صحیح ہو جائے گا۔

فون کی گھنٹی بجی تو اس نے لپک کر فون اٹھایا۔ امریکہ سے اسکے ماما ، بابا کا فون تھا۔

"السلام علیکم۔۔۔۔۔" آدھے گھنٹے کی گفتگو میں کئی بار اسکا دل چاہا کہ وہ ماں کو حارث کے رویے کے بارے میں بتائے مگر پھر اس نے ارادہ بدل دیا۔

ادھر اس نے فون بند کیا، ادھر حارث دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔

"کہاں تھے آپ۔۔۔۔ " عائشہ کا انداز جارحانہ تھا۔

"کہاں ہونا تھا ، بس دوستوں سے گپیں مارتے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔" حارث نے کوٹ اتارتے ہوئے آرام سے جواب دیا۔

عائشہ نے اسے گھور کر دیکھا اور پھر منہ پھیر کر کمبل تان کر لیٹ گئی۔

"ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا"

حارث گنگناتے ہوئے کپڑے بدلنے چل دیا۔

**********************

عائشہ نے جہاز کی سیٹ پر سر ٹکا کر سکون کا سانس لیا۔ تین مہینے پہلے وہ شادی کے لئے پاکستان آئی تھی۔ حارث اسکا چچا زاد تھا۔ آٹھ سال پہلے چچا چچی کے انتقال کے بعد حارث اور اسکی بہن ماریہ نانا نانی کے پاس کچھ عرصہ رہے تھے۔ دونوں ہی گو چھوٹے نہیں تھے مگر نانا نانی سے خاص قلبی لگاؤ ہو گیا تھا۔

ماریہ شادی کے بعد کینیڈا چلی گئی تھی۔ حارث بھی پی ایچ ڈی کے لئے امریکہ چلا گیا تھا مگر اس کے باوجود بھی حارث کا اصرار تھا کہ شادی پاکستان میں ہی ہو کیونکہ وہ نانا نانی کو یہ احساس نہیں دلانا چاہتا تھا کہ اب اسکی زندگی میں انکی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

حارث نے گردن موڑ کر آنکھیں موندے عائشہ کو دیکھا تو مسکرا دیا اور خود بھی سیٹ سے سر ٹکا دیا۔

***************

عائشہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھی مگر حارث نے اپنے کرئیر کی ابتدا ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے کی تھی۔

عائشہ کو یونیورسٹی چار دن جانا ہوتا تھا وہ بھی چھ سے سات گھنٹوں کیلئے۔ جبکہ حارث صبح کا نکلا شام پانچ بجے سے پہلے گھر نہیں پہنچتا تھا۔

عائشہ کا گھر آنے کے بعد زیادہ وقت گھر کے کاموں اور کھانا پکانے میں گزرتا تھا۔ رات میں دونوں اپنا اپنا لیپ ٹاپ لے کر اکثر ہی ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے۔

ویک اینڈ نئے گھر کے لئے شاپنگ میں گزر جاتا۔ آج کل دونوں ہی ایک کمرے کو آفس کے طور پر سیٹ کرنے میں لگے ہوئے تھے۔

ویک اینڈ پر سٹور میں گھومتے گھومتے دونوں مخالف سمت سے آ کر ایک ہی ڈیسک کے پاس جا رکے اور پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ہر چیز میں ایک سا ذوق رکھنے پر عائشہ خود کو خوش قسمت سمجھتی اور اللہ کا شکر ادا کرتی۔

اس کی کئی دوستیں شادی سے پہلے اس "فریش فرام دا بوٹ " سے شادی نہ کرنے کا مشورہ دے چکی تھیں جن پر اس نے توجہ نہیں دی تھیں۔ دونوں نے ایک ہی یونیورسٹی سے آگے پیچھے پی ایچ ڈی کی تھی اور اس نے ان چار سالوں میں اسے بہت قریب سے دیکھا تھا۔

********************

لیپ ٹاپ پر کام کرتے کرتے عائشہ نے گردن موڑ کر حارث کی طرف دیکھا۔ حارث کو احساس بھی نہیں ہوا کہ عائشہ اسے غور سے دیکھ رہی ہے۔

" کبھی کبھی یہ مجھ سے اتنا دور کیوں لگتا ہے؟" اس نے خود سے سوال کیا۔

" میرا وہم ہے شاید۔۔۔۔۔" ا س نے سر کو جھٹکا۔

********************

"یار میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ تم اتنی گھریلو ہو گی۔" حارث نے اسکے ہاتھ سے ڈونگا لیتے ہوئے کہا۔

"اور شادی تو آپ نے مجھے جانے پہچانے بغیر کرلی تھی جیسے۔۔۔۔چار سال باقاعدہ جائزہ لیا تھا آپ نے۔" عائشہ نے انگریزی میں جواب دیا۔

"کبھی اردو بھی بول لیا کرو۔۔۔۔ " حارث نے ایک دم اسے ٹوکا۔

" آں۔۔۔ہاں۔۔۔۔ سوری" اس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں جملہ دہرایا۔

حارث بے ساختہ ہنس پڑا۔ عائشہ نے پہلے اسے گھور کر دیکھا اور پھر خود بھی ہنس پڑی۔

" ویسے وہ تو تم مجھے قابو کرنے کے لئے کھانے پکاتی تھیں۔"

"اتنی خوش فہمی۔۔۔۔۔" دونوں ہی ہنس پڑے۔

"زندگی خوبصورت ہے!" دونوں نے اپنی اپنی جگہ سوچا۔

******************

"حارث بہت چپ چپ ہیں آپ۔"

"نہیں تو ۔۔۔" اس نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا۔

حارث کی خاموشی کو وہ بہت دنوں سے نوٹ کر رہی تھی۔ مگر وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ویسے بھی وہ کم گو ہی تھا مگر اب تو جیسے وہ ہر وقت خیالوں میں ہی رہتا۔

عائشہ کو شک کرنے کی عادت نہیں تھی مگر اب اس کو لگتا تھا کہ اسے کچھ کرنا ہی پڑے گا۔ اسی چکر میں ایک دن وہ اچانک حارث کے دفتر پہنچ گئی۔ دفتر میں اس کو لنچ کے درمیان اپنی ادھیڑ عمر کی سیکرٹری سے سر کھپاتے دیکھ کر کچھ مایوسی ہی ہوئی جبکہ حارث اس کو دیکھ کر کھل اٹھا۔

اس دن دونوں نے لنچ ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں کیا۔ بظاہر عائشہ کی پریشانی دور ہو جانی چاہئے تھی، مگر ایسا نہیں ہوا۔

***********************

عائشہ کافی لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو حارث اکیلا بیٹھا لیپ ٹاپ سامنے رکھے قہقہے لگا رہا تھا۔

" کیا ہوا؟"
"کچھ نہیں۔۔۔!" اس نے جلدی سے ونڈو ریڈیوس کردی۔

"آپ اپنا کام کریں۔۔۔ میں تو بس یہ کافی دینے آئی تھی" عائشہ نے بدمزگی سے کافی اسکے سامنے رکھی اور اپنا لیپ ٹاپ نکال کر باہر نکل گئی۔

******************

"امجد کی طرف چلیں گے۔۔۔۔۔" عائشہ نے ناشتہ میز پر رکھتے ہوئے حارث سے پوچھا۔

"نہیں یار۔۔۔۔" حارث نے مختصر جواب دیا۔

"پہلے تو آپ روز اسکی طرف جانے کو تیار رہتے تھے۔ اب کیا ہوا؟" عائشہ کا لہجہ کچھ طنزیہ تھا۔

حارث نے چونک کر اسے دیکھا پھر کندھے اچکا کر چائے بنانے لگا۔

"شام کو کچھ مصروفیت ہے بس اس لئے۔۔۔۔" اس نے تھوڑے توقف کے بعد جواب دیا۔

" ہاں پتا ہے مجھے آپ کی مصروفیت کا۔۔۔۔" یہ کہہ کر وہ کار کی چابی اٹھا کر پرس کندھے پر ڈال کر باہر نکل گئی۔

حارث نے حیرانی سے اسے جاتے دیکھا اور پھر شام کے متعلق سوچنے لگا۔

"ڈیڈ لائن بھی قریب ہی ہے۔"

******************

وہ خاموشی سے اسکے پاس سے اٹھی اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔ آفس میں آکر اس نے ٹیبل لیمپ جلایا اور دروازے کو اندر سے لاک کر لیا۔

حارث کا کمپیوٹر آن کرنے کے بعد وہ انٹرنیٹ پر لاگ آن ہوئی۔ ہسٹری چیک کرتے ہوئے اسے ایک ہی ویب سائٹ کی تلاش تھی۔ اس نے اس پر کلک کیا۔ اب لاگ آن ہونے کا مسئلہ تھا۔ حارث اور اسکے سب پاسورڈ ایک سے تھے۔ اس نے ان میں سے کسی کو ٹرائی کرنے کا سوچا۔

ہر پاس ورڈ ریجیکٹ ہوگیا۔ اب میسیج آ رہا تھا کہ آپ پانچ میں سے چار بار ٹرائی کر چکے ہیں۔

"اف اگر اب بھی نا ہوا تو پھر شاید ایک دو گھنٹے انتظار کرنا پڑے یا پھر اکاؤنٹ ہی نا لاک ہو جائے۔" ایک دم اسکے ذہن میں ایک خیال آیا۔

اس نے پاس ورڈ کی جگہ میں اپنا نام لکھ دیا۔ اب وہ لاگ آن ہو چکی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔

"ماما مجھے اسی دن کے لئے کہتی تھیں کہ سیکھ لو، مگر تب میری مت ماری ہوئی تھی۔۔۔" اس نے بے بسی سے لنکس پر کلک کرتے ہوئے سوچا۔

ہر لنک میں کہیں نا کہیں اسے حارث کا نام تھینکس کے خانے میں نظر آ رہا تھا۔ پھر ایک جگہ اسے حارث کی پوسٹ نظر آئی۔ لفظ عربی کی طرح تھے مگر وہ جانتی تھی کہ یہ اردو ہے۔ کوشش کے باوجود بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

"میں اس کا پروفائل چیک کرتی ہوں۔" اس نے سوچا۔

"ہونہہ۔۔۔ پروفائل میں شادی کا خانہ تو ہے نہیں۔۔۔" اس نے جل کر سوچا۔

" اور یہ دیکھو۔۔۔۔ فرینڈز میں اتنی ساری لڑکیاں۔۔۔۔اور ماما کہتی تھیں کہ تم یہاں انٹرنیٹ پر کسی قسم کے اکاؤنٹ نہیں بناؤ گی۔۔۔۔ پاکستانی مرد ایسی باتیں پسند نہیں کرتے۔۔۔۔ اور خود کو دیکھو۔۔۔۔۔"۔ غصے کے مارے اسکی آنکھوں میں پانی آ گیا۔

آخری چیز جو اس نے چیک کی وہ پرائیویٹ میسیجز تھے۔

"لڑکیوں کے نام پیغام و سلام۔۔۔۔ شاید ہی کوئی میسج کسی مرد کی طرف سے ہو۔۔۔۔"جن کے نام وہ نہیں پڑھ پا رہی تھی، ان کے پروفائل میں فی میل کا ہی امیج تھا۔

"تو ان کے ساتھ قہقہے لگائے جاتے ہیں۔" اس نے زور سے لیپ ٹاپ کو بند کیا۔

کچھ دیر وہ سوچتی رہی اور پھر اس نے ایک کام کیا۔

******************

صبح اٹھتے ہی اس نے ماما کو فون کیا۔

"آج تو تم نے جلدی اٹھا دیا" حارث تولیے سے بال رگڑتے ہوئے باتھ روم سے نکلا۔

"ہاں بس مجھے جلدی نکلنا تھا تو سوچا پھر آپ کو ناشتہ کون دے گا۔" عائشہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔

حارث نے حیران ہوتے ہوئے بند دروازے کو دیکھا۔ ناشتہ تو وہ اکثر دونوں کیلئے خود ہی بنا لیتا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ عائشہ کا خراب موڈ دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کیا گڑبڑ ہے۔ نہ ہی وہ اس کی سالگرہ بھولا تھا اور اینیورسری تو ابھی بڑی دور تھی۔

"لگتا ہے اس مسئلے پر بھی کوئی تھریڈ بنانا پڑے گا۔" اس نے سر ہلا کر سوچا۔

" مگر یار دھیان سے۔۔۔۔ٹھیک ٹھاک کھنچائی ہوگی۔۔۔۔یہ آپا دھپیاں تو ہوتی ہی اسی انتظار میں ہیں کہ مجھ جیسا کوئی نیا مرغا پھنسے اور وہ اسکے مزاج ٹھکانے لگائیں۔" اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور تیار ہونے لگا۔

****************

"السلام علیکم" اس نے دروازہ کھولتے ہوئے ماں کو سلام کیا۔

"وعلیکم السلام، اتنی صبح کیوں بلایا ۔۔۔خیریت تو ہے۔" ماما نے حیرانی سے اسکی پریشان شکل کی طرف دیکھا۔

"حارث کہاں ہے۔"

"ماما آپ اتنے سوال نہ کریں، بس جلدی سے میرے ساتھ آئیں ۔" وہ انہیں لے کر لائبریری میں آ گئی۔

"مجھے بتائیں کہ یہ کیا لکھا ہوا ہے۔" اس نے انہیں بیٹھنے کا کہتے ہوئے حارث کے لیپ ٹاپ کی سکرین کی طرف اشارہ کیا۔

ماما نے ایک نظر اسکے پریشان چہرے کی طرف ڈالی اور دوسری لیپ ٹاپ پر۔۔۔۔ان کے چہرے پر حیرانی نمایاں تھی۔ اور پھروہ سکرین پر لکھی تحریر پڑھنے لگیں۔

ماما جیسے جیسے تحریر پڑھ رہی تھیں، ان کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا۔ پھر ایک دم انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔

"کیا ہوا ماما، کیا ہوا۔۔۔۔۔" اسکی پریشانی قابل دید تھی۔

"اسی دن کے لئے کہتی تھی کہ اردو سیکھ لو۔۔۔۔"

" مگر مجھے بتائیں تو سہی یہ ساحرہ، فوزان، مصباح، سمارا، وش، ہیں کون۔۔۔۔ آپ کو پتا ہے یہ حارث ان کے ساتھ بیٹھ کرقہقہے لگاتا ہے۔۔۔۔"

"ہاں لگاتا ہے۔۔۔۔" ماما نے اسکی بات کاٹ دی۔ "اتنی ناسمجھ تو تم کبھی نہ تھیں۔۔۔۔ لوگ چیٹ تو کرہی لیتے ہیں، مگر یہاں تو حساب ہی دوسرا ہے۔ کوئی اسے بھائی کہتی ہے اور کوئی لالا، کوئی اسے بیٹا کہتی ہے اور کوئی مُنا۔۔۔۔وہ خود کسی کو آپا کہہ رہا ہے اور کسی کو سس، کوئی اسے اپنی ماں جیسی لگتی ہے اور کوئی نانی جیسی۔۔۔۔" ماما اسکا کھلا منہ دیکھ کر ایک دم چپ کر گئیں۔

پھر آہستہ سے بولیں " وہ پاکستان کو مس کرتا ہے بیٹا۔۔۔۔وہ اردوبولنے کو مس کرتا ہے۔۔۔۔وہ اپنے ماں باپ ، نانا نانی بہن کو مس کرتا ہے تو یہاں آ جاتا ہے۔"

" سب لوگ ایسے نہیں ہوتے جو اپنی مٹی سے تعلق توڑ دیں۔ کچھ لوگ حارث جیسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی جڑوں کو سینچتے رہتے ہیں۔"

"آپ صحیح کہہ رہی ہیں ماما" پیچھے سے حارث کی آواز آئی۔

عائشہ کا چہرہ ایک دم سفید ہو گیا۔

*****************
" میں آپ کی "ون اردو" کی ان دو درجن بہنوں سے نہیں نبٹ سکتی۔" عائشہ نے رومن اردو میں پوسٹ کرتے ہوئے اعلان کیا۔

"تو پھر اردو میں لکھو نا۔۔۔۔" حارث نے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

" ہاں اردو میں لکھنے سے کیا وہ میری بہنیں بن جائیں گی۔۔۔۔ میری اصل نند تو کچھ کہتی نہیں مگر یہ میری "ون اُردو " والی نندیں۔۔۔۔ اللہ ان سے بچائے۔"

"آج تو میں ان سب کو گرون کرتی مگر شاید سالگرہ کی خوشی میں گرون ہی غائب ہو گیا ہے۔۔۔۔" وہ خود کلامی کرتی ہوئی تیز تیز ٹائپ کرنے لگی۔

اور حارث نے اطمینان سے سوچا کہ" وطن چاہے دور ہے مگر دل سے دور نہیں۔۔۔۔زبان کا تعلق دنیا کا سب سے مضبوط تعلق ہے۔۔۔۔جب تک ہم اور ہماری آئندہ نسلیں اپنی زبان سے تعلق نبھائیں گی، ہمارے دل آپس میں جڑے رہیں گے۔"