15 - افسانچہ از نیسمہ

آج پھر۔ ۔ ۔ ۔آج پھر نہیں ہے وہ،
وہ جس کے بناء میرا دن نہیں نکلتا ہے۔ صبح اٹھنے کے بعد سب سے پہلے اسے دیکھتی ہوں۔ جب تک اسے دیکھ نہ لوں میری آنکھیں نہیں کھلتی اور نہ ہی کسی کام میں دل لگتا ہے۔ اسکے بغیر میں بولائی بولائی پھرتی ہوں۔ وہ جو میرے دل کا چین آنکھوں کا نور ہے۔ میرا دوست، میرا ساتھی، جس کے دم سے میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ اور میری زندگی میں خوشیاں ہیں۔ جسے دیکھ کہ میں ساری پریشانیاں بھول جاتی ہوں، جسے دیکھنے کو میں ہر پل بے چین رہتی ہوں۔
پر آج۔ ۔ ۔آج مجھے سارا دن اسکے بغیر گزارنا پڑے گا۔ پرکیسے گزرے گا یہ سارا دن، اور یہ شام۔ ۔ ۔ شام کیوں نہیں ہو رہی آخر، کب شام ہو گی کب میں اسے دیکھ پاؤں گی، آج تو دن بھی جلدی نہیں گزر رہا ہے۔ میں جب اسکے ساتھ ہوتی ہوں تو وقت کیسے پر لگا کر بھاگ جاتا ہے اور میرے کتنے کام رہ جاتے ہیں، لیکن آج تو لگتا ہے وقت جیسے رک سا گیا ہے۔
میں سارا دن بھی اسکے ساتھ گزار دوں تو کبھی بور نہیں ہوتی، کبھی یہاں تو کبھی وہاں گھومتی رہتی ہوں، ہر وقت بھی اسکے ساتھ رہوں تو کبھی دل نہیں بھرا"بس تھوڑی دیر اور، تھوڑی دیر اور" کہہ کہہ کر کتنا ہی وقت اسکے ساتھ گزار دیتی ہوں۔
اوہ پلیز پیارے اللہ میاں جی جلدی سے شام ہو جائے اور بھائی D.S.L کا کارڈ لائے اور میں اپنے پیارے ون اردو کو دیکھ سکوں، جسکے بغیر مجھے ہر چیز سونی سونی لگتی ہے۔