13 - رشتہ از سلمان سلو

لوگ ملتے ہیں بچھڑ جانے کے لیے
تو پھر ملتے کیوں ہیں
پُھول کھلتے ہیں مُرجھانے کے لیے
تو پھر کھلتے کیوں ہیں

میرا اور تمہارا محبت سے بڑھ کر ایک عظیم رشتہ ہے۔اے میری منزل میں نے تمہیں قریب سے نہیں دیکھا مگر مجھے تمہارا انتظار ہے کہ ایک نہ ایک دن تم مجھے کسی بھی روپ میں ضرور ملو گی۔کبھی کبھی زندگی کے میلوں میں مجھے تمہاری ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ایک محبت کرنے والے،ہر بات کا خیال رکھنے والے انسان کی صورت میں اُس کے پیچھے بھاگتا ہوں مگر تھوڑی دور چل کر سب کچھ سراب سا لگتا ہے۔
مجھے اب بھی انتظار ہے۔اب بھی ایک انجانی سی آواز آتی ہے۔دنیا میں سب سے مختلف اور سب سے جدا میری منزل میری طرف آرہی ہے۔
میں نے تمہارے اور اپنے رشتے کی تشبیہ کائنات کی ہر چیز میں ڈھونڈنی چاہی۔میں نے روشنی کو دیکھا مگر اس کے سفر میں رات کے اندھیرے۔تمہاری ذات میں اندھیرا کہاں؟۔۔میں نے دریا کو دیکھا لیکن وہ بھی تھک کر سمندر کی ذات میں گُم ہوجاتا ہے۔ہمارا رشتہ کسی کا مختاج تو نہیں۔۔میں نے پُھول اور خوشبو کے تعلق پہ سوچا۔۔پھول تو مُرجھا کر خوشبو کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ہمارے رشتے میں جدائی کہاں؟۔۔میں نے سبزہ ذاروں پر نگاہ دوڑائی مگر خزاں کے موسم نے مجھے مایوس کردیا۔پھر میں نا امید ہوگیا کہ شاید ہمارے رشتے کی تشبیہ کائنات میں نہیں۔۔۔۔
اچانک میری نظر اندھیری رات میں مسکراتے چاند پر پڑی جو ہنستا ہے۔نظر آتا ہے۔۔۔گھلتا ہے۔۔بڑھتا ہے۔یہ پھر بھی فنا نہیں ہوتا ہاں یہی ہے ہمارے درمیان عظیم رشتے کی زندہ مثال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر بیج میں اماوس کیوں آجاتی ہے؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔