02 - تبصرہ از درِ نایاب

ماہنامہ ون اردو شمارہ اول

ون اردو کی سائبر دنیا میں پیدائش کے صرف تین سال بعد ماہنامہ ون اردو جو ہمارے سامنے موجود ہے، کا جاری ہونا ون اردو کی اتنی کم مدت میں کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ یہ میگزین ون اردو کے سب چھوٹے، بڑے، سینئر اور جونیئر ممبران کی ون اردو اور اردو زبان سے محبت کا ثبوت ہے جو انہوں نے میگزین کی ڈیزائننگ، پبلشنگ اور رائٹنگ کے ذریعے پیش کیا۔

سرورق دیکھ کر خوشی ہوئی۔ باوجود پروفیشنل نہ ہونے کہ یہ صرف اور صرف ون اردو ڈیزائننگ ٹیم کی بہنیں حرفِ دعا اور ہوشربا کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور آئندہ امید ہے کہ یہ بہتر سے ہوتا ہوا بہترین کا روپ بھر لے گا۔ انڈیکس پیچ کی خوبصورتی اور بیک گراونڈ کلر نے میگزین کے اوور آل لک پر چاند تارے لگادیئے۔

سب سے پہلے ٹیم بھائی کا پیغام اپنے مخصوص انداز میں اقبال کے شعر کی روشنی میں دیا گیا۔ اس کے بعد آغاز سفر میں یازغل بھائی نے میگزین کے سلسلے میں کی جانے والی ٹیم کی محنت اور مشکلات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مدیر اعلیٰ مونا کا پیغام بھی مختصر مگر جامع تھا۔ مگر برداشت کہنے کی نوبت کیوں آئی جب کہ سب نے ہی شوق سے پڑھا۔

عمران بھائی کے اعلیٰ ذوقِ شاعری کا ثبوت انہوں نے ون اردو کے ابھرتے شاعروں کو میگزین میں اکٹھا کر کے دیا۔ خسرو بھائی کی حمد و نعت، ابوحسن بھائی کی سچی اور اصلاحی شاعری، آصف شہزاد کی شاعرانہ شاعری، عتیق بھائی اور مصباح کی مزاحیہ شاعری اور مختلف نظمیں سب ہی صرف اور صرف ون اردو کے شاعری سے ذوق رکھنے والے ممبران کے قلم کا کارنامہ ہیں۔

سیاسیات میں زبیر احمد ظہیر کا کالم کہیں سے بھی ایک امیچور کالم نہیں تھا۔ سادگی اور روانی سے آپ نے دوسرے ترقی پذیر ملکوں کی قیادت کا پاکستانی قیادت سے موازنہ کیا۔ پاکستان میں لیڈرشپ اور بڑھتی آبادی کو کیپٹل بناکر اکانومی کو کیسے بڑھانا جیسے مسئلوں کو نا صرف واضع کیا بلکہ ایک جامع حل بھی پیش کیا۔

"مٹی کا قرض"، "مومی انگلیاں"، "بارش اور تم" اور "ضرورت ہے" یہ ون اردو کی ابھرتی ہوئی افسانہ نگار بہنوں حرا، ساحرہ، اور وش کے شہ پارے ہیں۔ چونکہ یہ بہنیں فورم پر بھی اپنی تحریروں کے جادو جگاتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے الفاظ میں پختگی اور روانی نظر آتی ہے۔ سب نے ہی الگ الگ موضوع چنے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان میں ہمارے آس پاس کی دنیا کے حقیقی رنگ نظر آتے ہیں۔

مزاحیہ تحاریر میں جرار بھائی اور سلمان بھائی کے فن پاروں نے دل ودماغ ترو تازہ کر دیئے۔ جرار کی تحریر ایک مکمل گھرانے کی عکاسی کرتی ہے جہاں بڑے چھوٹے اپنی باتوں کی پھلجڑیوں سے ماحول کو گل وگلزار بنائے رکھتے ہیں۔ یہ نئے دور کے رائٹر ہیں جو ہلکے پھلکے انداز میں گہری باتیں کرتے ہیں اور مزاح کے ذریعے آپس میں محبت، امن اور درگزر کا درس دیتے ہیں۔

سلمان نے غالب چچا کی شاعری کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے ہی شعروں کو جواب انٹرویو کے طور پر اور آخر میں اپنے کمنٹ کا تڑکا لگا کر تمام شاعروں کے سینوں پر مونگ دلنے کا کام خوبصورتی سے انجام دیا۔

عامر بھائی کا احوال یونیورسٹی بہت ہی خوب ہے۔ یہ تحریر یونیورسٹی کے نئے نئے طالب علم کی ایکسائٹمنٹ کی ہوبہو عکاسی کرتی ہے۔ یہ چونکہ ان کی اپنی کہانی ہے لہٰذا ہر ہر جملے یونیورسٹی کے طالبعلم بننے اور وہاں پر گزرے پہلے دن کی خوشی جھلکتی ہے۔

فوزان اور کاظمی بھائی کی تحریروں کو اگر میگزین کی جان کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ فوزان نے امریکہ کے کچھ علاقوں میں رہنے والے برصغیر کے لوگوں کے کڑوے کڑوے سچ نہایت کھول کر بیان کئے۔ دیار غیر میں کمانے اور رہنے کی صعوبتوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ دور کے ڈھول سہانے۔ جب کہ کاظمی بھائی کا کالم ان کی بچپن کی یادوں اور اباجی کی تربیت کا آئینہ ہے۔ کالم کی خاص بات کم سنی میں ذمہ داری کو قبول کرنا اور اسے خوش اسلوبی سے نبھانا ہے۔

سفرنامہ چونکہ میں نے خود لکھا ہے اس لئے کمنٹ چہ معنی دارد۔
کمپیوٹرز میں احمد لون بھائی نے دلچسپ ٹپس اور ٹرکس مع خاکے پیش کئے اور کمپیوٹر میں موجود کاٹھ کباڑ کو صاف کرنے کے لئے سوفٹ وئر کا تعارف کروایا۔ امید ہے کہ آئندہ بھی نئے نئے سوفٹ وئر کے بارے میں شئر کرتے رہیں گے۔

ون اردو کی کوئن آف کچن ساحرہ کے باذوق کھانے بمعہ تصویروں نے مکمل میگزین کا رنگ دیا۔ یہ رنگ برنگے کھانے ان کے اپنے ہاتھوں سے بنے اور ان کے اپنے ہی باورچی خانے کی پیداوار ہیں۔

گو بچوں کا سیکشن معلوماتی اور دلچسپی لئے ہوئے ہے مگر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا اس ماہنامے کے قاری بچے بھی ہیں یا ہوں گے??

اسلامی شخصیات کے بارے میں مفصل تحریر ایک اچھا قدم ہے۔ ہر ماہنامے میں معلومات کے علاوہ کسی ایک اسلامی شخصیت کی زندگی پر تحریر بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ میمونہ نے ام حبیبہ زوجہ رسول ص کی زندگی کے مختلف ادوار کو بہت خوبصورتی سے تحریر کیا۔

فلمی شخصیات میں پاکستانی فلم لیجنڈ رنگیلا کی زندگی اور کیریر کے بارے میں دلپسند بھائی نے کچھ ایسے پہلو اجاگر کئے جس کے بارے میں بہت کم لوگوں کی واقفیت تھی۔ امید ہے آئندہ بھی ایسے موضوع لاتے رہیں گے۔

دیگر مضامین میں شہد کے فوائد، حوریہ اور مینا کے گھریلو بیوٹی ٹپس، عمیرہ احمد کے ناول پر مبنی ڈرامہ پر مون کا تنقیدی تبصرہ اور سجدہ کے ناول اور مووی ریویو بھی اچھے رہے۔

پہلے شمارے نے اچھا امپریشن ڈالا اور امید ہے کہ یہ بہتری کے راستے سے ہوتا ہوا جلد ہی بہترین کے صف میں شامل ہوگا۔ یہ ہم سب کا ماہنامہ ہے اور ہماری ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے اسے اور خوبصورت اور خوب سیرت بنانے کے لئے آپ کی قیمتی رائے اور مشورں کی ضرورت ہے۔ سو دیر نا کریں اور اپنی تحریروں کی نوک پلک سنوار کر جلدی سے میگزین انتظامیہ کو روانہ کریں۔