04 - تبصرہ از وش

ون اُردو میگزین جنوری 2010 کی سیر

ایک لمبے عرصے بعد ون اُردو کے بانی اور ممبران کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچا اور بالآخر ون اُردو کی میگ ٹیم کے تعاون اور ممبران کے شوق و جذبے سے ون اُردو اپنا پہلا شمارہ شائع کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تو آئیں کیوں نہ آپ سب کو اپنے ساتھ "ون اُردو میگ (جنوری) کی سیر" ہی کروا دوں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں سرورق کی۔ سرورق کے لیے نیلے رنگ کا انتخاب کیا گیا۔ کہتے ہیں آنکھوں کے لیے سب سے اچھا رنگ نیلا ہی ہوتا ہے۔ اسے دیکھ کر ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے تو نیلا سرورق دیکھ کر ہی پہلا احساس بڑا cool تھا۔

سرورق پر کُل آٹھ سیکشنز بنائے گئے جن میں ممبران کی سب سے زیادہ دلچسپی رہتی ہے۔
تو آئیں ذرا ان تمام سیکشنز کی تھوڑی سیر ہی ہو جائے۔
تو جناب سُرمئی رنگ کی رُوکھی سُوکھی سی فہرست کو عبور کر ہم پہنچے ٹیم جی کی اوپپنگ تقریر پر۔ اُس تقریر کو پڑھ کر واقعی لگا کہ ہاں جی اب آئے نا کسی میگزین کی اوپننگ تحریر پر۔ شروعات میں ہی اتنی عُقابی باتیں ہو گئیں کہ ہم نے سوچا ابھی آگے کیا کیا ہو گا؟ تو پہنچے اگلے صفحے پر۔ وہاں ایک اور تقریر تیار تھی۔ یہ سوچ کر کہ کسی نے محنت اور وقت لگا کر لکھی ہے ہم نے پڑھ ہی ڈالی۔ اُسے پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ ساری تقریر بجائے اس کے کہ میں نے یہ کیا وہ کیا اور میں یہ یہ کر دوں گا۔ ۔ ۔ منتظم جی نے تمام ممبران اور سیکشن کو آرڈینیٹرز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہوا تھا۔ ہم اُنہیں بھی سراہتے ہوئے آگے بڑھے کہ چلو سب ہو گئے اب جلدی جلدی کچھ شاعری یا افسانوی تحریریں پڑھتے ہیں لیکن۔ ۔ ۔ منظرِ عام پر آ گئی ایک اور تقریر۔ یہ تو ہم بُھول ہی گئے تھے کہ مُدیرہ جی کو بھی تقریر کرنے کا پورا پورا حق ہوتا ہے۔ پھر جی کڑا کر کے اپنی پیاری مُدیرہ کا پیارا سا پیغام پڑھنے لگے۔ اُن کا پیغام پڑھ کر تو ہم جذباتی ہی ہو چلے تھے۔ ۔ ۔ تمام پیغام شُکریہ اور معذرت کے جذبات کے گِرد گھوم رہا تھا۔ ہم نے بھی اس موثر پیغام کے جلد ختم ہو جانے پر شُکریہ ادا کیا اور آگے بڑھ گئے۔

اگلے صفحے کے بارے میں کیا کیا کہیں۔ سب سے پہلے تو صفحہ کی خُوبصورتی نے بہت مُتاثر کیا۔ بارڈرز پر لگے اُن مُبارک اسموں کے بعد اُس صفحے کی جو شان تھی وہ بیان سے باہر ہے۔ اور حمد اور نعت کی خُوبصورتی کو بیان کر پائیں وہ طاقت رب العزت اگر اس قلم کو دے دے تو دُنیا اور آخرت سنور جائیں حمد اور نعتوں کی تعریف لکھ لکھ کے۔ اب ہمارا خیال تھا کہ آگے مزید شاعری ہی پڑھنے کو ملے گی لیکن پھر ایک بار دھچکا لگا کہ ایک اور اتنی بڑی تحریر۔ ۔ ۔ لیکن پھر کسی کی بھی محنت ضائع نہ ہونے پائے یہی سوچ کر ہم نے یہ صفحہ بھی پڑھ ہی ڈالا۔ جتنے اَن منے دل کے ساتھ پڑھا ۔ ۔ ۔ پڑھ کر دل زبیر احمد ظہیر جی کا اُتنا ہی شُکر گُزار ہوا کہ اُنہوں نے قوم کی ترقی کو لے کر ایک حساس موضوع پر بڑی روانی اور مہارت سے لکھا۔ پاکستان کے ہر پہلو کو موضوع میں لانے کی کوشش کی۔ ہماری قیادت سے لے کر قومی کارکنوں کی اہمیت۔ ۔ دہشت گردی، دھاندلی اور کرپشن سے لے کر معیشت کی بہتری کی بات کی گئی۔ دوسری قوموں کی مثالیں دے کر اپنے قاری کو یہ احسہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہاس دلانے کی کوشش کی کہ

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اور یہ صرف ایک کوشش ہی نہیں۔ پڑھ کر یہ احساس ہوا کہ واقعی وہ اس کوشش میں قدرے کامیاب بھی رہے۔ پھر وطن کے جذبے کو دل میں لیے ہم آگے بڑھ گئے۔ ۔ اگلے صفحے پر ابو حسن جی کی آنکھیں کھول دینے والی شاعری۔ ۔ ۔ اُس کو پڑھ کر دونوں ہی آنکھیں کُھل جاتی ہیں۔ پہلے تو وہ آنکھیں تو چہرے پر ہیں۔ ۔۔ کیونکہ بڑی قابلِ غور شاعری ہے جی، کہیں کہیں تو شعر کو دو اور پھر تین بار پڑھ کر سمجھنے میں کامیابی و کامرانی ہوئی۔ لیکن کچھ کچھ شعر سادہ اور بڑے خُوب کہے جن میں سے ایک یہ شعر تو ہمیں بہت ہی پسند آیا
تم اُجالے کے مسافر ہو تمھیں کیا معلوم
کیسے کٹتی ہے کوئی رات سحر سے پہلے

اس صفحے پر ابو حسن جی کی دونوں بہترین غزلیں اور خاص طور پر آخری شعر پڑھنے کہ اچانک خیال آیا کہ دونوں ہی غزلوں کے آخری اشعار میں لفظ ‘آتش‘ مُشترک ہے تو کہیں ابو حسن جی کا نام آتش ہی تو نہیں؟ اسی صفحے میں ایک نُکڑ میں لگی چھوٹی سی معصوم سی رائزنگ مون کی شاعری پر بھی نظر پڑی اور پڑھ کر سوچا کہ چار موسموں کے لیے پانچ لائنیں؟ کیا یہ کُھلا تضاد نہیں؟ موسموں کے اس تضاد اور تعریف کو لیے اگلے صفحے میں جھانکا۔ اگلے صفحے میں نوید ظفر کیانی جی کی نظم سری نگر اور خُسرو جی کی سالِ نو ایک بار پھر سوچوں کا در وا کر دیا۔ بہت عُمدہ سوچ اور شاعری لکھنے کے فن کی عکاسی کرتیں یہ نظمیں پڑھ کر ہم تھوڑے سنجیدہ ہو گئے اور تھک بھی گئے۔ ۔ ۔ کیوں نہ تھکتے جی۔ ۔ ۔شاعری پڑھ کر لطافت کے احساس کو محسوس کرنے کی بجائے دماغ نے اُس کو سمجھ سمجھ کر پڑھنے میں ہی ساری کوششیں صرف کر دیں۔ اب سوچا کہ شاعری کو پھلانگ کر ہی آگے بڑھ جائیں تو یک دم نظر ایک پھول اور اُس میں مقید ستارے کی تصویر پر پڑی اور ساتھ ہی ایک سکون کا سانس لیا کہ چلو کسی کو تو شاعری سیکشن میں شاعرانہ باتیں کرنے کا خیال آیا۔ اوراس کے ساتھ ہی ہم نے خوشی خوشی وش جی کی ایک چھوٹی سی نظم "انوکھا ملن" بھی پڑھ ڈالی۔ ستاروں، پھولوں،خوشبوؤں اور ہواؤں کی باتیں کرتی اس نظم کو پڑھ کر تھوڑی ہمت بندھی اور اِس انوکھے ملن کی خوشی میں خوش ہوتے ہم آگے بڑھ گئے۔ آگے مصباح جی اور عتیق الرحمٰن جی کہ گھریلو قسم کی مزاحیہ شاعری پڑھ کر دل بڑا مزاحیہ مزاحیہ ہو گیا۔ اور دونوں مزاحیہ شاعروں کا اتفاق دیکھ کر شوہروں کی قسمت پہ بڑا رشک آیا کہ شوہر حضرات شاعر تو شاعر ، شاعرہ جی کے تذکروں میں بھی چھائے ہوئے ہیں۔

تو جی یوں ہنستے روتے شاعری سیکشن کا ہوا خاتمہ۔

اس کے بعد ہوا دلپسند سیکشن کا آغاز۔ یعنی کہ ناولز اور افسانوں کا۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں پہلے ہی ناولٹ کی۔ مٹی کا قرض ایک ایسی کہانی ہے جو ہر اُس انسان کے دل کے بہت قریب ہو گی جو اپنے وطن اور اپنے وطن کے فوجی جوانوں سے بہت محبت رکھتا ہے۔ ہمارے فوجی جوان ہمارے بھائی ہیں ہمارے محافظ ہیں۔ اور آج ہمارے یہی بھائی خانہ جنگی کا شکار ہو رہے ہیں۔

پہلے تو ماوٴں بہنوں کو پھر بھی صبر آ جاتا تھا کہ اُن کے بیٹے کسی غیر کسی دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔ ۔ اور وہ فخر محسوس کرتی تھیں لیکن اب تو یہ سوچ کر ہی کسی طور چین نہیں پڑتا کہ اُن کا ایک بیٹا اپنے ہی کسی بھائی کے ہاتھوں شہید ہو گیا۔
اس سب کو اس کہانی میں بہت ہی خُوبی سے بتایا حرا آپ نے۔
اس کہانی میں جو چیز سب سے ہٹ کر ہے وہ یہ کہ یہ عام روایتی کہانیوں سے بالکل ہٹ کر ہے جس میں شروع ہلکا پُھلکا ہوتا ہے اور آگے جاتے جاتے حالات اچھے سے بُرے اور پھر بدتر ہو جاتے ہیں اور بنتا ہے ایک ٹریجک اینڈ۔ لیکن اس کہانی میں شروعات ہی بہت ٹریجک رہی۔ ۔ ۔ مصنف نے بڑے بے دردی سے قاری کو کسی بھی ٹریجیڈی کے لیے تیار کیئے بغیر ہی اُسے ایک دُکھی شروعات دے دی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ایک دن گڑبڑا جاتے ہو کہ یہ کیا۔ ۔ ۔ اور تحریر اتنی جامع ہے کہ آپ چاہ کر بھی کہانی کو ادھورا نہیں چھوڑ پاتے۔
اور سب سے اچھی بات کہ یہ کہانی بتدریج ایک ہیپی اینڈنگ کی طرف لے جاتی ہے اور جو کہانی پڑھتے ہی آنسو گرانا شروع ہو گئے تھے وہ بالآخر ایک مُسکراہٹ اور ریلیف کے ساتھ اس کہانی کو ختم کر دیتے ہیں۔
اس طرح کی کہانیوں کے بڑے فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ رو کر آپ کا کتھارسس ہو جاتا ہے ۔ ۔ دوسرا آپ اپنے معاشرے میں ہونے والے حادثات کو خود پر محسوس کر کے اس کے لیے کچھ کرنے کا عزم پاتے ہو۔ ۔ اور ٹینشن والی ان سب باتوں کے بعد ہیپی اینڈ پڑھ کر ہلکا پھلکا بھی محسوس کرتے ہو۔
بہت ہی اچھا ناولٹ ہے حرا۔ ۔ ۔ لکھتی رہیں اور ہمیں یونہی رُلاتی اور ہنساتی رہیں۔ خوش رہیں۔

اس کے بعد باری آتی ہے موم کی اُنگلیوں۔ ۔ ۔اوہ۔ ۔ میرا مطلب ہے مومی اُنگلیوں کی۔ اب تو جس کہانی میں عورت شوہر کے عتابوں کا نشانہ بن رہی ہوں وہ پڑھ کر پہلا خیال ساحرہ جی کا ہی آتا ہے۔ ۔ ۔ جی اس میں بھی دکھایا ہے کہ کیسے ایک عورت ایک عرصے تک ایک اپنے شوہر کی بے اعتنائی سہنے کے بعد بھی اُس کو معاف کر دیتی ہے۔ یہ ہوتی ہے ایک عورت کی عظمت اور اُس کا ظرف۔ لکھتی رہیں۔

اتنی برفیلی کہانی پڑھنے کے بعد نظر ایک بارشیلی سی تصویر اور اُس کے ٹائٹل پر پڑی۔ دل ٹھنڈ کے مارے ایک بار کانپ اُٹھا۔ ہم نے سوچا خُدایا خیر ہو یہ ون اُردو دُنیا کے کس خطے میں پایا جاتا ہے جہاں برف باری ہی ہوتی رہتی ہے۔ ۔ ۔ پھر دل نے سر زمین کے لیے چمکتے دمکتے سُورجیلی زندگی کی دُعا کی اور آگے بڑھ کر وش جی کا "بارش اور تُم "بھی پڑھ ڈالا۔ لکھنے والے نے بارش کے لیے اپنے جذبات کو بڑے ہی جذباتی انداز میں لکھا ہے۔ پڑھ کر اچھا لگا لیکن پھر ایک خیال یہ بھی آیا کہ لگتا ہے مصنف نے خود کو سزا دی ہے کہ "انوکھا ملن"میں بارش کا ذکر آخر رہ کیوں گیا تو اس تحریر میں اتنے دُکھ کے ساتھ بارش کو بھی بیان کر دیا۔ لیکن جو بھی کیا ہے۔ ۔ ۔ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

پھر اس بارش میں بھیگتے بھیگتے ہم نے اپنا سفر آگے بڑھایا اور اگلا صفحہ دیکھ کر ہی رُک گئے۔ ۔ ۔ ضرورت ہے ۔ ۔ ۔؟ یوں لگا کہ ضرورتِ رشتہ کا اشتہار ہو۔ پھر مصنف کا نام دیکھا تو دل تھام لیا۔ ایک ہائے نکلی دل سے۔ ۔ ۔ کہ ابھی تو صبح اتنا روئے انہی مصنفہ کی کہانی پڑھ کر اب ایک اور؟ بڑا دل باغی ہوا نہیں ۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ لیکن ہم نے بڑا سمجھا بُجھا کر اُس کو پڑھنے پر راضی کر ہی لیا۔ اور یہ پڑھ کر تو ہمیں لگا کہ اس کا نام ضرورت ہے جگہ ۔ ۔ ۔ ضرورت نہیں ہے۔ ۔ ۔ ہونا چاہیے تھا۔ اللہ معافی سب لڑکیاں بیچاری ساسوں کے نہ ہونے کے پیچھے پڑی رہیں۔ اللہ تعالٰی ہدایت دے ایسی لڑکیوں کو۔ اور حرا جی نے ایک اور حقیقت کو بڑے ہی ہلکے پھلکے لیکن مارنے مرانے والے انداز میں بیان کیا۔ ویل ڈن۔

اس کے بعد آگے جس ٹائٹل پر نظر پڑی تو پہلے تو ہم مُسکرا اُٹھے یہ دیکھ کر کہ ٰمُسکراہٹیں آپ کے نامٰ لیکن جیسے ہی مصنف کے نام پر نظر پڑی تو سوچا لو جی فورم کے انسان کیا کم پڑ گئے تھے جو اب بُھوت بھی لکھنے لکھانے پہ آ گئے۔ خیر جی پھر بھی کہانی چھپی تھی تو پڑھنی تو تھی ہی تو لیا اللہ کا نام اور ہو گئے شروع۔ کہانی کے شروع ہوتے ہی ایک عجیب پریشانی کی صُورتحال تھی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مچھلی بازار میں آئے ہیں یا چوزوں کے ڈربے میں؟ بھئی اپنی طرف سے تو ہم کہانی پڑھنے آئے تھے۔

پھر کہانی کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ صورتحال اور پیچیدہ ہوتی گئی۔ یہ سمجھنا مشکل تھا کہ یہ کہانی کسی انسان نے لکھی ہے یا بُھوت نے؟ کہانی میں ہر دو لائنوں بعد ایک بُھوتانہ ٰہاہاہاہاٰ دِکھتا۔ اوروں کا تو رب جانے ہم نے دل بڑی مشکلوں سے سنبھال کر کہانی پڑھنے کا سلسلہ آ گے بڑھایا تو ادراک ہوا کہانی میں امریکہ پلٹ کے لیے بڑی جگہ ہے۔ جی جی اب لوکل لوگوں کو کون پوچھتا ہے جی۔ ۔ ۔ اور اس کہانی میں موٹی موٹی امریکی آنٹیوں کا حال پڑھ کر دل کیا کہ اُن کو ون اُردو کے کچن کارنر میں ڈائٹ تھریڈ کا راستہ دکھا دوں کہ وہاں وہ بھی اپنی امریکی سکھیوں کے ساتھ سمارٹ ہونے کا قصد کر لیں۔
خیر جی کہانی ختم کر کے تو جی چاہا کہ شُکرانے کے نفل پڑھیں آخر کار ٰساتویں آسمانٰ والی بوتل پیتے پلاتے اور لیڈیز کے پرس میں انڈے ٹھکانے لگتے لگاتے یہ مُسکراہٹوں والی شادی ہنستے ہنساتے اپنے اختتام کو پہنچی اور ہم بھی ہنستے مُسکراتے آگے بڑھ گئے۔
یُوں ہی ہنستے مُسکراتے ہم آگے بڑھ گئے تو آگے ایک نیا نویلا یونی گوئنگ بچہ (عامر جہاں) ہاتھ میں پمفلٹس پکڑ کر بانٹ رہا۔ ہم نے سوچا جانے کیا خبر چھاپ دی پنجاب کی یونیورسٹی کی تو ہم نے بھی ایک پمفلٹ لے کر پڑھ ڈالا۔ تو اُس میں بچے نے اپنے پہلے دن کا حال احوال لکھ کر بیان کیا۔ ہم نے اُس کی معصومیت کو دیکھتے ہوئے وہ پڑھنے کو لے تو لیا ۔ ۔ لیکن اُس کی طوالت دیکھ کر جو سر گُھوما اُس کے کیا ہی کہنے۔ لیکن پھر ہمت کر کے پڑھ ہی ڈالا وہ دن۔ اچھے یاد گار دن ہوتے ہیں جنہیں لفظوں میں تحریر کر کے ہم ہمیشہ کے لیے ایک کبھی مدہم نہ ہونے والی یاد بنا کر رکھ لیتے ہیں۔ یہ بھی ایسی ہی ہلکی پُھلکی تحریر تھی۔ جسے پڑھ کر کئی بار ہنسی آئی اور اچھا لگا پڑھ کر۔ ۔ ۔لیکن یہ تحریر ختم بڑی مُشکل سے ہوئی۔ اس کی طوالت لگتا ہے یونی کے حدود اربع کے لحاظ سے ہی رکھی گئی۔ اس تحریر نے کچھ تھکا سا دیا لیکن پھر بھی سفر ابھی نامکمل تھا سو ہم آگےبڑھ گئے۔

آگے نظر پڑی سنجیدہ تحریر۔ ۔ ۔ تھوڑے سے قدم ڈگمگائے۔ ۔ ۔کہ سنجیدہ ہی ہے نا۔ ۔ رنجیدہ تو نہیں؟ پھر نام دیکھا اُم فوزان تو وہ ایک اشتہار یاد آ گیا۔ "نام ہی کافی ہے" تو بس کیا تھا جی۔ ۔ ۔ ۔ فٹافٹ بسم اللہ کی۔ تحریر کا شروعات ہی دلچسپ تھا۔ پاکستان سے باہر رہ کر پاکستان کے بارے میں بات کرنا یا سُننا کتنا اچھا لگتا ہے اس سے پردیسی بخوبی واقف ہوں گے۔ جُوں جُوں ہم آگے بڑھ رہے تھے تحریر دلچسپ کے ساتھ ساتھ واقعی سنجیدہ موڑ پر آ گئی۔ کبھی کبھی کچھ حقیقتیں بالکل واضح ہوتی ہیں پھر بھی ہم اُن سے نظر چُرا لیتے ہیں۔ یُوں لگا کہ اس تحریر کے ذریعے آمنہ جی نے ایک آئینہ رُوبرو رکھ دیا ہو۔ اور اپنے ہی عکس سے ہم نظر نہ ملا پا رہے ہوں۔ بہترین تحریر ہے۔ ۔ جو نہ صرف ایک جگہ کو بیان کر رہی ہے بلکہ جگہیں کیسے انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں اسے بھی بخوبی بیان کیا۔
تحریر ختم ہوئی اور موڈ ذرا۔ ۔ ۔بلکہ کافی سنجیدہ ہو چُکا تھا۔
لیکن زندگی کب رُکتی ہے؟ ہمیں بھی یہ سفر مُکمل کرنا تھا۔ سو آگے بڑھ گئے۔ آگے کاظمی پا جی کی تحریر "پاء جی" پر ہی نظر پڑی۔ سوچا ایک پاء دوسرے پاء کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔ ۔ تو پڑھ کر دیکھا۔ انسان کی ذات کی تعمیر کو بتدریج بہت ہی مؤثر انداز میں تحریر کیا ہے۔ وہ بھی ایک دلچسپ پیرائے میں۔ کہ پڑھنے والا تو کہانی سمجھ کر پڑھ لے لیکن اُس کی ذات کو اُس کا تعمیری فائدہ پہنچے۔ ویلڈن سر جی۔

اس کے بعد شروع ہوا ایک نیا سفر۔ دُرنایاب کے ساتھ ہم نکلے "میکومی کی سیر" کو۔ سب سے پہلے تو اس کا حدود اربع معلوم کیا۔ پھر جو ہم وہاں واقع "نیشنل پارک" میں گُھسے تو تمام جانوروں سے ہیلو ہائے کرنے کے بعد ہی نجات ملی۔ بہت ہی معلوماتی سفر نامہ رہا نایاب۔ جانوروں پر ریسرچ بھی خُوب کی ہے۔ سفرنامے کے اختتام پر لگا جیسے واقعی کسی پارک میں نکل آئے ہوں۔ خوش رہیں۔

اس کے بعد اچانک ہی ہم سائنسی دُنیا میں پہنچ گئے۔ یوں لگا کوئی پری آئی اُس نے اپنی جادو کی چھڑی گُھمائی ۔ ۔ ۔ہم غائب ہوئے اور جب آنکھ کُھلی تھی تو سائنسی دُنیا میں کھڑے تھے۔ بہت ہی خُوب سیکشن ہے جی۔ خاص طور پر بچوں کے لیے جو کمپیوٹر کو ایز اے سبجیکٹ پڑھ رہے ہیں۔ اور جو نہیں بھی پڑھ رہے اور صرف استعمال کرتے ہیں اُنہیں بھی اس سیکشن کی سیر ضرور کروائیں۔ یقیناً وہ کچھ نیا اور بہتر سیکھیں گے۔ تصاویر کے ساتھ بات کو سمجھانے کے انداز نے اُس کا طریقہ نہایت ہی آسان اور سادہ کر دیا ہے۔ شُکریہ

یہ پڑھائی کی باتیں پڑھ پڑھ کر تو اب بُھوک ستانے لگی تھی۔ دل میں ایک خواہش جاگی کہ ون اُردو میگ کی اس لمبی ہائی وے پر کاش کوئی ڈھابہ مل جائے ۔ ۔ ۔ یہی سوچتے ہم آگے بڑھ رہے تھے کہ گھی میں پانی پڑنے کی آواز آئی اور ہم نے جو پلٹ کر دیکھا تو واقعہ ایک ڈھابہ "ماہر آ کا ڈھابہ" دکھا۔ خوشی کے مارے ہم سے بولنا محال ہو گیا۔ لیکن بالآخر ہم وہاں پہنچے اور سب سے پہلے پانی شانی پیا۔ تھوڑا سکون ہوا تو نام پر تفتیش ہوئی کہ یہ کیا کسی ماہر کُک کو بُلا رہے ہیں کہ ماہر آ؟ یا کچھ اور۔ ۔ ۔ تو پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ جس ماہر کو بُلایا جا رہا ہے اُس کے لیے کھانا بنانے میں نہیں بلکہ کھانا کھانے میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہاں بننے والی ڈشیں اپنی مثال آپ ہی ہیں۔ اور کیوں کہ اُنہیں کسی ماہر کے علاوہ کوئی بنا نہیں سکتا تو کوئی کھا بھی نہیں سکتا۔ خیر بڑا جی کڑا کیا ۔ ۔ ۔ خود کو ماہر ظاہر کرنے کی ہر کوشش کی۔ تب کہیں جا کر کھانے کا دیدار ہوا۔ اور کھانا بھی آرڈر پر نہیں ملتا ۔ ۔ ۔ بلکہ فِکس مینیو ہی ہے۔ خیر اس حالت میں تو جو ملے وہی نعمت لگتا ہے۔ ۔ تو جناب ہم نے ماہر آ ساحرہ کی بنی ہوئی "فِش کی پلاؤ بریانی"، "چپلی کباب" کھایا اور شُکرانے کے پوائنٹ اداکیے تو اُنہوں نے خوش ہو کر ہمیں "چنے کی دال کا حلوہ" بھی پیش کر دیا۔ تمام کھانا ہی نہایت لذیذ تھا۔ ۔ بس آزمائش شرط ہے۔

اب جب کھا پی کر فریش ہوئے تو خیال آیا کہ کب سے سفر پر نکلے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ اور حال بے حال ہے جس کی طرف توجہ ہی نہ ہونے ہائی۔ تو جی ساتھ ہی "حوریہ اور مینا کا بیوٹی کلینک" موجو تھا۔ سوچا من چاہی جگہ کا دیدار تو اب ہوا۔ تو بس جی گُھس گئے اُن کے کلینک میں اور اپنے حُسن کو اُنکی ٹپس سے چار چاند لگوا کر جو باہر نکلے تو سُورج شرما کر چُھپ گیا۔ ۔ ۔ شام کا وقت تھا، اور ہم تیار شیار بھی خُوب تھے۔ سوچا کیوں نہ ایسے اچھے حُلیے میں بچوں سے مل آئیں ۔ ۔ اس طرح اُن کے ڈرنے کے چانسسز تو نہیں نا۔ ورنہ اگر فورم کے بے بیز ڈر گئے تو ہم تو گئے کام سے۔

تو جی بچوں کی دُنیا میں جب داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہی ساحرہ آپا کو بچوں کو لیکچر دیتا پایا۔ لیکن کیا انداز تھا بچوں کو سبق سکھانے کا۔ ۔ ۔ کہانیوں سے بچے تو بچے بڑے بھی بہت سبق حاصل کرتے ہیں۔ سو ہم نے بھی ساحرہ آپا کی کہانی سُننے کے بعد سبق حاصل کیا کہ "محنت میں ہی عظمت ہوتی ہے،" اور آگے بڑھ گئے۔ بچوں کی دُنیا میں انسان کو ڈھیروں رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہم نے بھی وہاں بہت سے رنگ دیکھے۔ کہیں نُقطوں کو جوڑ کر تصویر بنائی تو کہیں "یازغل بھائی کے کوئز" سُنے اور سراہے۔ بچوں کو تعلیم دینے کا بہترین طریقہ اُن میں کامپیٹیشن اور شوق پیدا کرنا۔ یہ کام سوالات سے زیادہ اور کون کر سکتا ہے؟ آگے کہیں تصویر میں رنگ بھرے تو کہیں تصویر میں راستے تلاش کریں۔ راستہ تلاش کرنا ضرور سکھانا چاہیئے بچوں کو تاکہ زندگی میں اُنہیں اپنی راہ تلاش کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

اس کے بعد میمونہ کرن کا لکھا "ام المومنین حضرت رملہ بنت ابو سفیان" آرٹیکل پڑھ کر اپنے علم میں ڈھیروں اضافہ کیا اور دل میں میمونہ کے لیے اتنا اچھا آرٹیکل شیئر کرنے پر شُکرگزار ہو کر آگے بڑھ گئے۔

اس سے آگے سب کا "من پسند" سیکشن "دل پسند" بھائی کی تحریر کے ساتھ شروع ہوا۔ جی بالکل۔ ۔ تو میگ والوں کا بالآخر ہماری اینٹرٹینمنٹ کا خیال بھی آ ہی گیا۔ تو ہم جلد از جلد جا کر نشستوں پر براجمان ہو گئے۔ پہلے تو دل پسند بھائی نے اُردو فلم اندسٹری کے ایک لیجینڈ کو اپنا ٹریبیوٹ پیش کیا اُس پر ایک عدد مفصل اور معلوماتی آرٹیکل لکھ کر۔ پاکستان فلم اندسٹری کے بارے میں کافی کچھ پتہ چلا اس کو پڑھ کر۔ اس کے بعد اگلے شو کا انتطار کرنے لگ گئے۔ تو جی سب سے پہلے نام آیا شو کا "میری ذات ذرہٴ بے نشاں" تو ہم بڑے خوش ہوئے کہ بڑا پسند ہے یہ ناول ہمیں۔ پھر پریزینٹر کا نام آیا "مُون" تو ساتھ ہی دل تھام لیا۔ لگا کہ اب ہمارے من پسند ناول کی ہونے ہے پٹائی۔ لیکن پڑھ کر جب یہ پتہ چلا کہ تبصرہ ناول پر نہیں ڈرامے اور اُس کے کرداروں پر ہے تو تب ہم ایک بار پھر پُرسکون ہو کر بیٹھے۔ اچھی کھچائی ہوئی تمام ایکٹرز کی ۔ ۔ ۔ جسے انجوائے کرتے کرتے ہم پہنچے اگلے سیٹ پر جہاں سجدہ سحر جی "ٹوائی لائٹ سیریز ناولز اینڈ موویز" کی کہانی سُنانے میں مگن تھیں۔ ہم نے بھی اپنے سیٹ سنبھال لی اور وہ سیریز جسے لوگ کئی کئی مہینوں میں مکمل کرتے ہیں اس کی کہانی ہم نے چند منٹوں میں ہی جان لی اور اپنی امیجینیشن کے پردے پر دیکھ بھی لی۔ اس نائٹ شو کے ساتھ ہی ہمارے "ون اُردو میگ" کے سفر نامے کا بھی اختتام ہوا۔ اب ہمارا گھر جا کر آرام کرنے کا وقت ہوا جاتا ہے اور آپ سب جنہوں نے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیا وہ یہ ضرور بتائیں کہ ہمارے ساتھ اُن کا یہ سفر کیسا گُزرا۔
پھر کسی اور تحریر میں لفظوں کے ہیر پھیر اور سوچوں کے غُبار کے ساتھ حاضر ہوں گے تب تک اس تحریر کی لکھاری "وش" کو دیں اجازت۔ خوش رہیں۔ فی امان اللہ۔