05 - تبصرہ از ناعمہ آصف

السلام علیکم

بے حد خوشی کا مقام تھا کہ ایک عرصے کے فیصلہ کُن اور ان تھک مرحلے کے بعد بالآخر ون اردو کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا۔ سب اتنی محنت سے اتنا وقت نکال کر پڑھا ہے تو اس پر تبصرہ تو پھر حق بنتا ہے ناں۔
تو سوچا جب میگ والے کہہ بھی رہے ہیں کہ تبصرہ کریں تو کیوں نہ ہم بھی اپنے نادر خیالات لکھنے، پڑھنے والوں تک پہنچا دیں۔ میگزین میں شامل کردہ تحاریر لکھنے والوں کے لیے یہ تبصرے خوشگوار ثابت ہوں یا نہیں وہ میری گارنٹی نہیں ہے۔ تو چلیں تبصرے کا آغاز کرتے ہیں۔
سر ورق بہت خوبصورت تھا ،سجا سجا سا۔ پہلا ہی تاثر بہت شاندار رہا۔
پھر ٹیم بھائی کا میسج، ان کے بعد یاز بھائی اور مونا جی کا میسج پڑھا۔ کچھ شکریہ قبول کیا اور کچھ شکریہ دل نے ان سب کا ادا کیا۔ اور اگلے صفحے پر چھلانگ لگا دی۔
خسرو بھائی کی تحریر کردہ حمد باری تعالٰی اور نعت رسول مقبول صہ پڑھیں، دل کو بہت سکون ملا، بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ انہیں داد دیتے ہوئے اگلا صفحہ پلٹا، اگلے صفحے پر زبیر احمد ظہیر بھائی کا کالم تھا۔ لکھنے والے کا نام پڑھ کر ذہن پر کافی زور ڈالا کہ یہ کون سے ممبر بھائی ہیں کبھی سائٹ پر ان کا تذکرہ سُنا نہ کہیں انہیں ایکٹو دیکھا۔ لیکن خیر تحریر کیونکہ وطن عزیز سے متعلق تھی اس لیے قدرتی جوش و جذبے کے ساتھ تحریر پڑھی۔ بہت خوبصورت انداز میں زبیر بھائی نے ملک عزیر کے حساس پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اور توجہ دلائی کہ اب کے وقت میں ضرورت کس بات کی ہے۔
پھر میرا پسندیدہ صفحہ یعنی شاعری کا صفحہ آیا۔ ابو حسن بھائی کی شاعری پڑھ کر بہت اچھا لگا اور رائزنگ مون کی مختصر سی نظم بھی بہت پیاری تھی۔ نوید ظفر کیانی بھائی کی سری نگر سے متعلق نظم بھی بہت خوب تھی۔ اور خسرو بھائی کی سال نو کا تو کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر ایک بہت خوبصورت نظم انوکھا ملن پڑھی بہت ہی عمدہ پیغام کو وش نے اپنے خوبصورت لفظوں میں پرویا تھا۔ کتنا اچھا میسج دیا کہ ختم تو سب کچھ اور سب کو ہونا ہے کیوں نہ اپنے وقت آخر سے پہلے ہم اپنے ذمے کہ کچھ کام نبٹا جائیں۔
پھر باری آئی مزاحیہ شاعری کی مصباح کی شاعری کی ابتداء پڑھ کر دل نے بے اختیار کہا۔

ایسی شاعری کیا پڑھنی جس کی سمجھ نہ لگے
پھر بھی پڑھے بغیر آگے گزر جانا،اچھا نہیں لگتا

ہمت کر کے مصباح کی لکھی شاندار شاعری بھی پڑھ ڈالی۔ اور عتیق بھائی اپنے انداز میں نظر آئے مجھے دونوں مزاحیہ شاعری کے نمونوں نے بہت ہنسایا۔ پھر آصف شہزاد بھائی کی لاجواب شاعری پڑھی۔

اس کے بعد باری آئی ناولز کی۔ حرا قریشی کا پہلا ناول مٹی کا قرض پڑھا۔ جس نے سیدھا جا کر دل پر اثر کیا۔ ناول بہت شاندار تھا اور اس کا اینڈ مجھے بہت پسند آیا۔ پھر ساحرہ سس کا افسانہ پڑھا مومی انگلیاں۔ ویسے اس کہانی پر ساحرہ کا نام نہ بھی لکھا جاتا تو یقیناً کہانی پڑھنے پر معلوم ہو جاتا کہ اس کی رائٹر ساحرہ ہے۔ ساحرہ سس کو ایک مشورہ اور ایک ریکوئیسٹ کہ معاشرے میں اور بہت سے پہلو بھی قابل توجہ ہیں۔ عورت کی مظلومیت کو چھوڑ کر ان پر بھی روشنی ڈالیں کیونکہ لکھنے کی قابلیت تو آپ میں کمال کی ہے مگر سوچ کو آپ نے محدود کر رکھا ہے۔

اس کے بعد وش صاحبہ کا افسانہ بارش اور تُم پڑھا۔ بہت بہت خوبصورت لکھا تھا وش۔ مجھے سب سے زیادہ پسند آیا۔ میں نے یہ افسانہ دو سے بھی زیادہ مرتبہ پڑھا۔ بارش کے متعلق جتنی بھی باتیں پڑھیں انہیں پڑھ کر ایسا احساس ہوا کہ جیسے منظر آنکھوں کے بالکل سامنے ہو۔ بہت ہی خوب وش۔ لکھتی رہئیے۔

حرا قریشی کا لکھا ضرورت ہے نے بہت ہنسایا۔ ساسوں کا وہ نقشہ کھینچا کہ اگر کوئی ساس پڑھ لیتی تو یقیناً ہانڈی پر بیٹھنے سے انکار کر دیتی۔ دم چاولوں کو آتا نہ آتا۔ ساس کا نکل ضرور جاتا۔ بہت ہی خوب لکھا حرا سس۔ اور بھی لکھتی رہیں۔
مسکراہٹیں آپ کے نام نے واقعی بہت سی مسکراہٹیں دیں۔ اس کہانی کا ٹائٹل پڑھ کر اگر مسکراہٹ نہ آتی لبوں پر تو رائٹر کا نام دیکھ کر تو یقیناً آ جاتی۔ رائٹر کانام پڑھ کر دل میں خیال آیا کہ چلو جی اب کوئی نئی شرارت پیش ہونے جا رہی ہے۔ اور وہی ہوا بھی۔ کسی کو نہیں چھوڑا جرار بھائی نے حسب عادت۔ اور جو چوٹ امریکہ والوں پر کی ہے۔ اس کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔ پوری ہی کہانی میں کہیں بھی مزاح کم نہیں دکھا۔ بہت ہی خوب لکھا۔
پھر مرزا جی کا جو حال سلمان بھائی نے کیا وہ بھی کمال تھا۔ مرزا صاحب کی روح کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور تڑپی ہو گی۔ پھر عامر جہان بھائی کا یونیورسٹی کا پہلا دن پڑھا۔ اپنے یونیورسٹی کے بیتے دنوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ بہت اچھے طریقے سے اپنی فیلنگز کو بیان کیا گیا۔

امریکہ کا پہلا تاثر ،آمنہ سس نے بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔ بہت حقیقی باتیں بیان کیں۔ پاکستان سے اعلٰی تعلیم یافتہ فرد بھی وائٹ کالر جاب کےخواب آنکھوں میں سجائے اپنے ملک سے آتا ہے مگر یہاں آ کر اسے خود کو گھر خاندان کو پالنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ رزق حلال کمانے کی خاطر کیا کیا کام کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر واقعی خواہشیں کہیں بہت پیچھے اور ضرورتیں آگے بڑھ جاتی ہیں۔ اور انسان کی زندگی کا مقصد ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے پیسہ کمانا ہی بن کر رہ جاتا ہے۔ بہت خوب۔ کاظمی انکل کی تحریر بھی خوب رہی۔ اور نایاب سس کے سفر نامے نے بھی اچھا خاصا محظوظ کیا۔

پھر آئی کمپیوٹر اور سائنس کی دنیا۔ اس کی کچھ خاص سمجھ تو نہیں تھی۔ لیکن پڑھ کر بہت سی چیزوں کے بارے میں معلوم ہوا۔

علم میں اضافہ کرنے کے بعد خواتین سیکشن کی جانب قدم بڑھائے۔ شہد کے استعمال کے حوالے سے بہت سی معلومات حاصل کیں۔ اور یقیناً اس کا بہت فائدہ ہوا۔ پھر ساحرہ کے بنائے ہوئے چپلی کباب اور چنے کی دال اور فش کی پلاؤ بریانی کی تراکیب پڑھتے ہی دل میں قصد کر لیا کہ پہلی ہی فرصت میں ان پر ہاتھ صاف کیا جائے۔ جو دیکھنے میں اتنی خوش شکل لگ رہی ہیں وہ یقیناً ذائقے میں بھی کمال کی ہوں گی۔

مینا اور حوریہ بیوٹی پارلر میں ایک سے بڑھ کر ایک کمال کی ٹپس تھیں۔ کافی ٹپس کو نوٹ کیا اور آزمائش شرط کے مقولے پر عمل کر کے آگے کا رخ کیا۔

بچوں کی دنیا میں پہلی کہانی ساحرہ کی پڑھی محنت کا پھل۔ بہت خوبصورت انداز میں پیغام پہنچایا جس سے صرف بچے ہی نہیں بلکہ یقیناً بڑے بھی مستفید ہوئے۔ پھر یاز غل بھائی یہاں بھی کوئز کھیلتے نظر آئے۔ گو کہ وہ کوئز چلڈرن کوئز تھا مگر میں نے بھی اس میں سے بہت سے ممالک کے نام تلاش کیے۔ اور ایک بہت اچھی ایکٹوٹی کے بعد ابیل کی فراہم کردہ معلومات سے مستفید ہوئی۔

میمونہ کرن سس کی ام المومنین حضرت رملہ بنت ابو سفیان سے متعلق تحریر پڑھی۔ اور بہت اچھی شیئرنگ پر دل سے شکریہ ادا کیا۔

دلپسند بھائی کا فلمی دنیا سے متعلق آرٹیکل پڑھا۔ اور بہت سی نئی باتیں جانیں۔ مون سس نے پسندیدہ ڈرامے اور ناول پر جو تبصرہ کیا اسے دل پر پتھر رکھ کر پڑھا۔ آخر کار ناول پسند تھا اور اس پر مبنی ڈرامہ بھی۔ لیکن تبصرہ بہرحال اچھا لگا اور کافی ٹھیک بھی۔ سجدہ سحر نے ٹوائی لائٹ کا ریوو پیش کیا۔ فلم تو نہیں دیکھی تھی۔ البتہ ریوو پڑھ کر اچھا لگا۔

سب ہی کی شاندار کوششیں سراہے جانے کے قابل ہیں۔ پہلے شمارے میں سب کی بہترین کاوشیں سامنے آئیں۔ جتنا لکھنے والوں کو لکھ کر اچھا لگا اتنا ہی پڑھنے والوں کو پڑھ کر اچھا لگا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ اب اجازت اس امید کے ساتھ کہ اگلا شمارہ اس سے زیادہ دلچسپ اور بہترین ہو گا۔ ان شاءاللہ۔

اللہ حافظ