001 - حمد باری تعالیٰ از خسرو

فضا رنگین ہے ، دلکش سماں ہے
تجلی کا تری دریا رواں ہے

زمیں سے آسماں تک ذرہ ذرہ
تری توصیف میں رطب اللساں ہے

بہ ہر منظر تری جلوہ نمائی
نہاں ہو کر بھی تو ہر سو عیاں ہے

نہیں مخفی ہے تجھ سے کوئی گوشہ
شہود و غیب سب تجھ پر عیاں ہے

تری ہر شے پہ ہے فرمانروائی
تُو ہی سارے جہاں کا حکمراں ہے

تری قدرت کا ہے ادنیٰ کرشمہ
کہاں انسان تھا ، پہنچا کہاں ہے

نہیں موقوف کچھ ان محفلوں پر
کہ بزمِ حمد تو سارا جہاں ہے

مہہ و خورشید میں پرتو ہے تیرا
ترے ہی نور سے روشن جہاں ہے

فریدِ بے نوا اور حمد گوئی؟
نہ منہ ایسا ، نہ اس قابل زباں ہے