002 - نعت ﷺ از خسرو

فاتحِ زمانہ

گر آج کوئی صاحبِ ایمان و یقیں ہے
احسانِ رسالت سے جھکی اُس کی جبیں ہے

کیونکر نہ ہو صد رشکِ جناں گنبدِ خضرا
جو صاحب ِ لولاک ہے وہ اس کا مکیں ہے

دنیا میں نبی یوں تو بہت آئے ہیں لیکن
محبوب ِ خدا اُن سے بڑا کوئی نہیں ہے

مجھ سے ہو ادا مدحتِ سرکارِ مدینہ ؟
بس میں نہیں میرے ، نہیں ، واللہ نہیں ہے

وہ جن کا ثنا خواں ہو خدا خود ہی ازل سے
اوصاف لکھوں ان کے ، یہ مقدور نہیں ہے

اللہ رے کیا شان ہے اس شاہِ امم کی
فاتح ہے زمانے کا مگر فرش نشیں ہے

پرواز ہے آقا کی وہاں سے بہت آگے
جس راہ پہ سوزاں پرِ جبریلِ امیں ہے

وہ "واسطۂ عقد" ہیں نبیوں کی لڑی میں
ہے ان کی مثال ایسی کہ خاتم میں نگیں ہے

وہ جن کی سخاوت سے نہ لوٹا کوئی محروم
اک حرفِ "نہیں" بارگہِ آقا میں نہیں ہے

روشن ہے یونہی فیضِ نبوت سے زمانہ
جس طرح کہ خورشید سے روشن یہ زمیں ہے

اصحابِ پیمبر کی عجب شان ہے یارو
ہر ایک ستارہ یہاں خورشید ِ مبیں ہے

بوبکر و عمر ، حیدر و عثماں کی خلافت
ہر دور میں منہاجِِ نبوت کی امیں ہے

جس دل میں نہ ہو حبِّ نبی ، قدرِصحابہ
وہ دل تو اسیرِ رہِ شیطانِ لعیں ہے

مجھ کو درِ آقا سے ہے اس درجہ تعلق
دن رات مرے فکر کی پرواز وہیں ہے

گر تھام لے دامن تو فرید اپنے نبی کا
دنیا کی تو کیا بات ہے عقبیٰ بھی حسیں ہے