ترقی عجلت میں نہیں ہوا کرتی تحریر زبیر احمد ظہیر

کیا قیادت کا فقدان ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ یہ سوال موجودہ حالات کے تناظر میں بھلا معلوم ہوتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہ نہیں پاکستان کو قیادت کا فقدان کبھی نہیں رہا بلکہ قیادت کی بہتات ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس تمہید کی تفصیل یہ کہ دنیا بھر میں دو طرح کی قومیں ہوتی ہیں ایک وہ قوم ہوتی ہے جس میں کارکنوں کا ہجوم ہوتا ہے اور قیادت کا فقدان ہوتا ہے اور دوسری قوم وہ ہوتی ہے جس میں کارکنوں کی جنس نایاب ہوتی ہے اور قیادت کا ہجوم ہوتا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ جس قوم میں قیادت کا افراط ہے وہ قوم ترقی جلدی کرے گی مگر ایسا نہیں۔ عمل کی اس دنیا کا سچ یہ ہے کہ وہ قوم ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس قوم کی ساری قیادت کارکن بننے کا تہیہ نہ کرلے اور جس قوم میں کارکنوں کا ہجوم ہے اور قیادت کا بحران ہے بظاہر یہ قوم قابل رحم لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ قوم قابل رحم نہیں ہوتی کیونکہ ترقی کا دارومدار قیادت پر نہیں کارکنوں پر ہوتا ہے۔
کارکنوں کی قوم کسی بھی وقت قیادت چن سکتی ہے اور جس قوم میں قیادت جنگل کی خود رو کھمبیوں کی طرح اُگ آئے اس قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ کیونکہ قیادت سے بھری قوم کو کام کے لیے کارکن نہیں ملا کرتے۔ قیادت سے بھر پور قوم میں قومی اتفاق رائے کبھی پیدا ہوہی نہیں سکتا ہے۔ پاکستان کی مثال لیجئے اس کی قیادت خود رو گھاس کی طرح اگ آئی ہے۔ یونین کونسل سے لے کر قومی اسمبلی تک 17کروڑ نفوس کا یہ ملک قیادت کی بہتات کی عمدہ مثال ہے اور اتفاق رائے آپ کو اس قوم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔ اب آپ ذرا ترقی کرنے والی اقوام کا جائزہ لیجئے۔ پہلی مثال کے طور پر ملائیشیا کو ہی دیکھ لیں۔ اس نے کم وقت میں ترقی کی اور تیس سال میں یہ ملک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بن گیا۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ سارا کریڈٹ مہاتیر محمد کا ہے، مگر عقل عام کہتی ہے ایک شخص اتنا بڑا کا م نہیں کرسکتا۔ اگر ملائی قوم انکا ساتھ نہ دیتی تو مہاتیر محمد کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ ملائیشن قوم کارکنوں کا ہجوم تھی، ایک کارکن نکلا اس نے دیگر کارکنوں کو ساتھ ملایا اور کارکنوں کی اس قوم نے کالاباغ جیسا کوئی مسئلہ کھڑا کیے بغیر ترقی کر لی۔ اگر ملائشیین قوم بھی قیادت کا ہجوم ہوتی تو وہ مہاتیر محمد کو ملک دشمن ثابت کروا دیتی! دوسری مثال چین کی ہے۔ یہ بھی کارکنوں کا ملک ہے جس میں وزیر اعظم تک سائیکل پر وزیر اعظم ہاؤس آیا کرتے تھے۔ ان کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کارکنوں کی قوم سے قیادت کے لیے نکلنے والے کارکن تھے جو آخر تک کارکن ہی رہے ۔انڈیا کی مثال لے لیں۔ آزادی کے بعد اس قوم نے کارکنوں کی قوم بن کر دکھلایا اور مہاتما گاندھی آخر تک کارکن رہے۔ ان تمام مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ترقی کارکنوں کے ہاتھوں انجام پاتی ہے نہ کہ قیادت کے ہجوم سے۔ قیادت کے ہجوم والی قوم ہمیشہ اختلافات کا شکار رہتی ہے اور کبھی بھی قومی اتفاق رائے پر جم نہیں سکتی۔ چونکہ ترقی جلدی نہیں ہوا کرتی، یہ بتدریج ہوتی ہے۔ اس لیے قیادت بھی ایسی ہونی چاہیے جو پس منظر میں رہ کر کام کرنا جانتی ہو۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مغرب سے ادھارکی طرح مانگ کر لی گئی ہماری جمہوری مدت کی کمی میں سیاسی قیادت کو کم وقت میں زیادہ کریڈٹ لینے کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ اس لیے اس مرض میں مبتلا سیاسی قیادت دکھلاوے کا ڈھونگ رچا کر کام چلاتی ہے۔ آپ اگر غور کریں تو اب تک کی ساری جمہوری حکومتوں کے تمام کاموں میں آپ کو دکھلاوے کے جلوے کی جھلک دکھلائی دے گی یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت پچھلی حکومت کا رونا رو رہی ہوتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ یہ مسائل اسے وراثت میں ملے ہیں۔ مثال کے طور پر پرویز مشر ف اور شوکت عزیز کو ہی دیکھ لیں۔ ان کے زمانے میں معیشت ہمیشہ بلندی پر رہی مگر جب یہ حکومت چلی گئی تو معلوم ہوا دہشت گردی کے نام پر جو کچھ ملا تھا وہ بھی کھایا اور ترقی کے بجائے قرضوں کی دلدل میں دھنسا کر چل دئیے۔ آپ غور کریں کہ پرویز مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور میں ایک میگا واٹ بجلی پیدا نہیں کی مگر کہنے کو وہ ملک میں دودھ اور شہدکی ندیاں رواں کر کے گئے تھے۔ میاں نواز شریف کی قرض اتارو اور ملک سنوارو مہم بھی رائے عامہ کی خوشنودی بٹورنے کے حربے کے سوا کچھ نہ تھی ۔ اس وقت چین واحد ملک ہے جس کی معیشت کے سہارے یورپ اور امریکا کی معیشت کھڑی ہے۔ چین کو اگر دیکھا جائے تو آبادی سوا ارب سے زائد ہے۔ اگرپاکستان کی آبادی اتنی ہوتی تو پاکستان نے رو دھو کر ساری دنیا سر پر اٹھا لی ہوتی اور اپنی ساری خرابیوں کا سبب آبادی کو قرار دیا ہوتا۔ اب بھی کچھ عقل عام سے عاری سیاسی بیوپاری یہ رونا روتے ہوئے نہیں تھکتے کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے غذائی اور توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ دنیا میں چین کا یہ رونا کسی نے نہ سنا ہوگا کہ چونکہ اس کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ ہے تو اس لیے اسے امداد دی جائے۔ اگر چین آج بھی آبادی کا رونا رونا شروع کر دے تو ساری دنیا اس کے آبادی والے عذر کو قبول کر لے گی مگرایسا کبھی نہیں ہوا اس کی وجہ بتانے سے قبل ہم یہ بتاتے چلیں کہ کل تک ہم یہ کہتے رہے ہیں کہ عالمی کساد بازاری، عالمی قوت خرید میں کمی اور عالمی غذائی بحران کے اس دور میں چین اگر ڈیڑ ھ ارب آبادی کو پیٹ بھر کر کھانا دے رہا ہے تو بڑی بات ہے مگر اس سے زیادہ بڑی بات تو یہ ہے کہ چین نے اپنی کمزوری اور ناکامی کو کامیابی اور طاقت کا ذریعہ بنا لیا ہے اور دنیا کے اڑھائی سو ممالک میں آج اس کی مضبوط معیشت کا راز بھی یہی ہے۔ ایک پاکستان ہے کہ اس نے اپنی ہر ناکامی کا رونا آبادی کو بنا لیا ہے۔ چین اگر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتا تو آج دنیا کا سب سے قحط زدہ ملک ہوتا۔ مگر چین نے اپنی کمزوری کو کامیابی کا سبب بنا کر جس دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے، وہ کارکنوں کی قوم میں تو ممکن ہے قیادت کے ہجوم میں ممکن نہیں۔
چین نے اپنی زیادہ آبادی کو بڑی انڈسٹری سمجھا، جہاں دنیا کی ہر کمپنی کو خریدار مل سکتا ہے۔ اور ہوا بھی ایسا ہی آج دنیا کی ہر بڑی کمپنی چین میں موجود ہے۔ چین نے اپنی آبادی کو سستی لیبر میں تبدیل کیا اور سستی لیبر دنیا کی ہر کمپنی کی ضرورت بن گئی۔ لہٰذا چین دنیاکی ضرورت بن گیا۔ یہ اس لیے کہ چین کارکنوں کا ملک ہے اور اس کی قیادت بھی کارکن ہے۔ چین سے یہ گر سیکھ کر آج بھارت نے بھی اپنی دوسرے نمبر کی آبادی پر ماتم کرنا بند کردیا۔ سوا ارب کی آبادی کی وجہ سے خریدار اور سستی لیبر کی وجہ سے بھارت میں آج دنیا کی ہر بڑی کمپنی ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہے اور بھارت میں مصنوعات کی کھپت کے وسیع مواقع کی وجہ سے اس کی معیشت ترقی کر رہی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ پاکستان کا مسئلہ قیادت کا بحران نہیں کارکنوں کا بحران ہے اور جس ملک میں کارکنوں کابحران ہو، وہاں پس منظر میں رہ کر قیادت کرنے والا کوئی نہیں ملا کرتا۔ اور یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ ترقی جلدبازی میں نہیں کی جاتی۔ پاکستانی قیادت اس اصول کو پچھلے 60 برسوں سے ناکام بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے اوریہ دنیا کا سچ ہے کہ حقائق بدلا نہیں کرتے۔ انہیں بدلنے والے بدل جایا کرتے ہیں چنانچہ پاکستان میں حکومتوں کی آمدروفت جاری ہے۔