001 - غزل از ابو حسن

قلبِ صادق ہو دعاؤں میں اثر سے پہلے
آبیاری کی ضرورت ہے ثمر سے پہلے

شب کے ماروں نے شبِ غم پہ قناعت کرلی
کردیئے گل سبھی انوارِ سحر سے پہلے

ایک پل میں کہاں طوفان، نوح کا آتا ہے
آگہی ہوتی ہے ہر زیر و زبر سے پہلے

کچھ تھی تقدیر میری، کچھ تھا مرا شوقٍ سفر
ورنہ تھے راہ میں ساحل بھی بھنور سے پہلے

ظلمتِ شب سے نہیں نُور کی بارش ہوگی
خود کی اصلاح کرو پندِ دِگر سے پہلے

جانے کس کس کو ہو مہتاب کا دھوکا دیکھیں
کاش آئیں وہ سرِبام، قمر سے پہلے

تم اُجالے کے مسافر ہو تمہیں کیا معلوم
کیسے کٹتی ہے کوئی رات سحر سے پہلے

تجھ کو دیکھا نہیں آتش نے، گو یقیں ہے اُس کو
تھی تیری ذات یہاں جن و بشر سے پہلے