003 - وہ نیچی نگاہوں سے مجھے

وہ نیچی نگاہوں سے مجھے دیکھتا گیا
تھا قرض مرا اُس کے لیے واجب الادا

یوں رنج و غم سے زیست نے دامن کو بھردیا
خندہ لبی، تجھے میں ترستا ہی رہ گیا

پژمردہ ہر کلی ہے چمن بھی اُداس ہے
گلشن کا حال فرقہ پرستوں نے کیا کِیا

سودا سلف میں کرنے لگے مول تول وہ
حالات نے بچوں کو بھی کیا کیا سکھا دیا

تسخیرٍ کائنات کو نکلا ہے یہ بشر
تسخیرٍ قلب کی تو ادا سیکھ لے ذرا

ہوتی نہ کیوں فراق کی راتوں میں روشنی
مدھم سی لو لیے تمام شب یہ دل جلا

شانے جُھکے ہوئے ہیں، جبیں بھی شکن زدہ
ہم مفلسوں کو وقت نے تحفہ حسیں دیا

رب جانے کب رکے گا یہ فیشن کا کاروبار
گھٹتا گیا لباس، سمٹتی گئی حیا

اشکال بدلتے ہیں عناصر کے جہاں میں
کیسی حیات و موت، شعورٍ فنا، بقا

ہستی کی حقیقت کا اب ادراک ہوا ہے
جانے کو ہے حیات، قضا دے رہی صدا

دو گز کے بھی حقدار بنوگے نصیب سے
میلوں زمیں پہ قبضہ فقط نام کا رہا

کچھ ظرف جداگانہ زمانے میں بشر سے
آتش ملے الم تو رہے شاکرٍ خدا