005 - نظم۔۔ سال نو خسرو

آئے جہاں میں اِس طرح ہر سال، سالِ نو
بغض و عناد کو کرے پامال، سالِ نو

کیا کم ہیں سالہائے گذشتہ کی آفتیں
کیا گل کھلائے دیکھئے اِمسال، سالِ نو

مجھ کو دعائیں دیتے ہیں میرے سبھی بزرگ
آئے تری حیات میں سو سال، سالِ نو

انسانیت کے درد کا درماں کوئی تو ہو
ہر فرد ہو جہان کا خوشحال، سالِ نو

ہر سو بہارِ نو کا جہاں میں عروج ہو
پھیلے ضیائے نیّرِ اقبال، سالِ نو

عراق کے بعد کوچۂ دارالسلام میں
آئے نہ تازہ پھر کوئی بھونچال سالِ نو

مغلوب شر پسند عناصر ہوں گر فرید
بہتر نہ کیوں جہاں کے ہوں احوال سالِ نو